شائع ستمبر 12, 2018 11:32am

بچوں کے بارے میں چونکا دینے والی تحقیق

ویب ڈیسک

اگر تو آپ کو لگتا ہے کہ آپ کے بچے کسی بندر کی طرح اچھل کود کرتے ہیں تو جان لیں کہ سائنسدان بھی آپ کے اس خیال سے اتفاق کرتے ہیں بلکہ انہوں نے تو ننھے فرشتوں کو ننھے گوریلا قرار دے دیا ہے۔

جی ہاں ایک سے 2 سال کے بچے اور ان کی جسمانی حرکات 96 فیصد تک چیمپنزی اور گوریلا سے ملتی ہیں۔

یہ دعویٰ اسکاٹ لینڈ میں ہونے والی ایک تحقیق میں سامنے آیا۔

اسکاٹ لینڈ یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ ایک سے دو سال کی عمر بچوں کی نشوونما کے لیے بہت ضروری ہے اور اس دوران ان کی حرکات و انداز گوریلوں اور چیمپنزی جیسی ہوتی ہے جیسی یہ جانور روزمرہ کے دوران ایک دوسرے سے رابطوں کے لیے کرتے ہیں۔

یہ اپنی طرز کی پہلی تحقیق ہے جس میں انسانوں اور بندروں کی مختلف اقسام کے درمیان مماثلت کا جائزہ لیا گیا۔

اس مقصد کے لیے یوگنڈا کے جنگلات میں چیمپنزیوں کی ویڈیوز بنائی گئیں جبکہ 13 چھوٹے بچوں کو اپنے ساتھیوں سے رابطے کرتے ہوئے کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کیا گیا۔

محققین کا کہنا تھا کہ انسانوں اور چیمپنزی ہی ایسی مخلوقات ہیں جن کے پاس کمیونیکشن کا سسٹم موجود ہے جس کی مدد سے وہ ایک دوسرے کو پیغامات بھیجتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسی نظریے کے تحت ہم نے تحقیق میں جانا کہ بچے بھی درحقیقت چھوٹے گوریلے ہوتے ہیں۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ گوریلا یا چیمنزی وغیرہ ایک دوسرے سے رابطے کے لیے 80 سے زائد مختلف اشارے استعمال کرتے ہیں اور حیران کن طور پر ان میں سے اکثر اشارے بچوں میں عام ہوتے ہیں۔

مجموعی طور پر گوریلوں اور بچوں میں 96 فیصد تک اشارے ایک جیسے ہوتے ہیں۔

اس تحقیق کے نتائج جریدے جرنل اینیمل Cognition میں شائع ہوئے۔

Read Comments