پاکستان

موجودہ حکومت، اسرائیل کے ناجائز قبضے کو تسلیم کرنے کی جانب گامزن ہے، فضل الرحمٰن

ہم کشمیریوں اور فلسطینیوں کی جدوجہد آزادی سے وفا نہیں کررہے، حکومت کا مذہب اور تہذیب سے کوئی تعلق نہیں، سربراہ جے یو آئی

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ ’حکمران، اسرائیل کے ناجائز قبضے کو تسلیم کرنے کی طرف بڑھ رہے ہیں، ہمارا دفتر خارجہ فلسطینیوں کے حق کے خلاف قراردادیں پاس کروارہا ہے‘۔

پشاور میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ ہم کشمیریوں اور فلسطینیوں کی جدوجہد آزادی سے وفا نہیں کررہے، جس طرح کے حکمران آج مسلط کردیے گئے ہیں ان کا مذہب اور تہذیب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان رواں ہفتے 'امن معاہدہ' ہوا تھا جس کے تحت دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات بحال ہوجائیں گے۔

مزیدپڑھیں: ایف اے ٹی ایف سے متعلق قانون سازی کیلئے دباؤڈالنے والوں میں بھارت بھی شامل ہے، فضل **الرحمٰن**

معاہدے کے مطابق اسرائیل مقبوضہ مغربی کنارے کے حصوں کے یکطرفہ الحاق کے اپنے منصوے کو مؤخر کردے گا۔

مشرق وسطیٰ میں حالیہ پیش رفت پر اسلام آباد سے دفتر خارجہ کا بھی بیان سامنے آیا تھا کہ ’متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان معاہدے کے دور رس اثرات ہوں گے‘۔

علاوہ ازیں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ مجھے ایک زمانے میں کہا گیا تھا کہ پشتون بیلٹ میں مذہب کی جڑیں گہری ہیں اور انہیں کمزور کرنے کے لیے اس سے بہتر (موجودہ حکمراں) جماعت جیسی کوئی اور پارٹی نہیں ہوسکتی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ہزاروں نیب کو استعمال کرے لیکن ہمیں کوئی خوف نہیں ہے، اس وقت ہمیں بے نیاز ہو کر میدان میں لڑنا ہے، ملک کو بچانا ہے تو حکمرانوں کو بے دخل کرنا ہوگا۔

مقبوضہ کشمیر سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے وادی کو اپنے ملک کا حصہ بنا لیا لیکن ہم پسپائی کی طرف چلے گئے۔

انہوں نے کہا کہ ’آج ہم یہ سوچ رہے ہیں کہ مظفر آباد کیسے بچانا ہے، فلسطینی اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں اور ہم مصلحتوں کا شکار ہیں‘۔

جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے کہا کہ ہماری جماعت ایک سیاسی جماعت ہے جس کی 100 سالہ طویل تاریخ ہے، وطن عزیز کی آزادی اور ملت اسلامیہ کی رہنمائی کے لیے اس قافلے کا آغاز 1919 میں ہوا تھا اور آج پاکستان کی بڑی اور معتبر سیاسی قوت تسلیم کی جاتی ہے۔

مزیدپڑھیں: اسلام آباد ہائیکورٹ نے حافظ حمداللہ شہریت کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر مقتدر قوتیں ہمارے سامنے رکاوٹ نہ بنیں تو میں دعوے کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ جے یو آئی (ف) پاکستان کی بڑی سیاسی جماعت ہوگی۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ تاریخ کی سب سے بڑی دھاندلی 2018 کے انتخابات میں ہوئی، دھاندلی جمہوریت کے اوپر شب خون ہے اور جس طرح جے یو آئی نے دھاندلی کو چیلنج کیا، کوئی دوسری سیاسی جماعت اس کا مقابلہ نہیں کرسکی۔

انہوں نے کہا اگر ہم 14 اگست مناتے ہیں تو آزادی محض ناچ گانوں یا بازاروں میں منچلوں کی گشت کا نام نہیں ہوتا۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ کہ قوم اور آنے والی نسلوں کو محسوس ہونا چاہیے کہ انگریز کا زمانہ وہ تھا اور اسلام کا زمانہ یہ ہے، جب تک ہم اس فرق اور امتیاز کو سامنے نہیں لاتے اس وقت تک حقیقی آزادی کے دعویدار نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے 1973 کے آئین میں واضح ہے کہ تمام قوانین قرآن و سنت کے مطابق بننیں گے لیکن 2020 تک ایک قانون سازی بھی قرآن و سنت کے مطابق نہیں ہوئی۔

مزیدپڑھیں: فضل الرحمٰن کی آصف زرداری اور بلاول سے ملاقات، سیاسی امور میں ساتھ چلنے پر اتفاق

واضح رہے کہ اس سے قبل مولانا فضل الرحمٰن نے کہا تھا کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) سے متعلق قانون سازی کے لیے پاکستان پر دباؤ ڈالنے والے گروپ میں بھارت بھی شامل ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا تھا کہ جمعیت علمائے اسلام اور اس کے علاوہ دوسری جماعتوں کو بھی شکایت ہے کہ انہیں مشاورت سے دور رکھا گیا۔

چین میں دنیا کے پہلے 2 نشستوں والے اسٹیلتھ لڑاکا طیارے کی تیاری

گلگت بلتستان میں سیاحوں کا رش، 5 فیصد سے بھی کم کے پاس کورونا کی رپورٹ ہونے کا انکشاف

شادی کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے کم کارڈیشین اور کانیے ویسٹ متحد