فضل الرحمٰن کی آصف زرداری اور بلاول سے ملاقات، سیاسی امور میں ساتھ چلنے پر اتفاق

اپ ڈیٹ 10 جولائ 2020

ای میل

مولانا فضل الرحمٰن نے سابق صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو سے بلاول ہاؤس میں ملاقات کی — فوٹو: پی پی میڈیا سیل
مولانا فضل الرحمٰن نے سابق صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو سے بلاول ہاؤس میں ملاقات کی — فوٹو: پی پی میڈیا سیل

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمٰن اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی قیادت نے سیاسی امور میں ساتھ چلنے پر اتفاق کیا ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے سابق صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو سے بلاول ہاؤس میں ملاقات کی۔

ملاقات میں اہم سیاسی امور پر گفتگو ہوئی اور پاکستان پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام نے ملکی سالمیت اور بقا کی خاطر سیاسی امور میں ساتھ چلنے پر اتفاق کیا۔

تینوں رہنماؤں نے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ اور 18ویں آئینی ترمیم پر غیر لچکدار موقف اپنانے پر ایک بار پھر اتفاق کیا۔

آصف علی زرداری نے کہا کہ عوام دشمن بجٹ اور این ایف سی ایوارڈ سے متعلق کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: ایک مطالبہ ہے، شفاف انتخابات ہوں اور ریاستی ادارے مداخلت نہ کریں، فضل الرحمٰن

انہوں نے کہا کہ میں نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ عمران خان حکومت چلانے کے اہل نہیں، گزشتہ برس ٹِڈی دَل کے حملوں سے متعلق پارلیمان میں حکومت کو خبردار کیا تھا لیکن حکومت نے اپنی ضد اور انا کی وجہ سے ٹِڈی دَل کے حملوں سے متعلق میرے خدشات کو سنجیدہ نہیں لیا، اگر ٹِڈی دَل کے حملوں کی فوری روک تھام نہ کی گئی تو ملک میں خوراک کا بحران پیدا ہوجائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے بحران کے دنوں میں عمران خان کی نااہلی کھل کر سامنے آچکی ہے، جبکہ عوام امید کی نظروں سے ملک کی اپوزیشن جماعتوں کی جانب دیکھ رہے ہیں کہ وہ سلیکٹڈ حکومت سے انہیں نجات دلائیں۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت نے ملکی معیشت کو دیوار سے لگادیا ہے، پاکستان کی تاریخ میں کبھی معیشت کی منفی شرح نمو نہیں ہوئی، اگر معیشت کو بچانا ہے تو سب نے مل کر سلیکٹڈ حکمرانوں کا مقابلہ کرنا ہوگا۔

اس موقع پر بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان اور عمران خان ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے، عمران خان کے دورِ حکومت میں ملک میں سب سے زیادہ کرپشن میں اضافہ ہوا جبکہ وہ نیب کو استعمال کرکے اپوزیشن جماعتوں کے سیاست دانوں سے انتقام لے رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: موجودہ حکومت 6 ماہ میں چلی جائے گی، بلاول کا دعویٰ

انہوں نے کہا کہ دو سال ہوگئے ہیں، عمران خان نے کوئی ایک ایسا کام نہیں کیا جو عوامی مفاد میں ہو، جبکہ ملک کی تمام اپوزیشن جماعتیں سلیکٹڈ حکومت کے خلاف ایک پیچ پر ہیں۔

ملاقات میں مولانا فضل الرحمٰن نے سابق صدر کی صحت سے متعلق بھی دریافت کیا۔