ایف اے ٹی ایف سے متعلق قانون سازی کیلئے دباؤڈالنے والوں میں بھارت بھی شامل ہے، فضل الرحمٰن

اپ ڈیٹ 14 اگست 2020

ای میل

مولانا فضل الرحمٰن اسلام آباد میں پریس کانفرنس کر رہے تھے—فوٹو:ڈان
مولانا فضل الرحمٰن اسلام آباد میں پریس کانفرنس کر رہے تھے—فوٹو:ڈان

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) سے متعلق قانون سازی کے لیے پاکستان پر دباؤ ڈالنے والے گروپ میں بھارت بھی شامل ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام اور اس کے علاوہ دوسری جماعتوں کو بھی شکایت ہے کہ انہیں مشاورت سے دور رکھا گیا۔

مزید پڑھیں:قومی اسمبلی میں انسداد دہشت گردی ترمیمی بل 2020 منظور

حکومت کے رویے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ جمہوری اصولوں کی خلاف ورزی ہے، جمہوریت نام ہی مشاورت کا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اظہار رائے حق میں بھی ہوسکتی ہے اور مخالفت میں بھی کی جاسکتی ہے لیکن مسئلے کو نہ تو سمجھنے کی مہلت دی جاتی ہے اور انہیں غیرضروری عجلت سوار ہوتی ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ جب آپ مشاورت کے لیے اجلاس بلاتے ہیں تو ان جماعتوں کو مشاورت کے دائرے سے باہر رکھتے ہیں جو موجودہ حکومت کی بدنیتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے صورت حال کا بیٹھ کرسنجیدگی سے جائزہ لیا اور ایف اے ٹی ایف کے دباؤ اور ان کے شرائط کے تحت کی گئی قانون سازی پر ایک اعلامیہ تیار کیا۔

مولانافضل الرحمٰن نے ایف اے ٹی ایف سے متعلق اپنی جماعت کے اجلاس میں قانون سازی پر تیار کیا گیا اعلامیہ پڑھ کرسنایا۔

'قانون سازی سے اظہار رائے کا حق چھین لیا گیا'

ان کا کہنا تھا کہ 'اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عمل درآمد کے لیے رکن ممالک کو پابند کرنا اس میں رکاؤٹ ڈالنے والے لوگوں، اداروں اور ان کے افراد کو واجب سزا قرار دینے کے لیے قانون سازی سے قوموں کی اظہار رائے کی آزادی کا حق چھین لیا گیا ہے'۔

انہوں نے کہا کہ 'پاکستان کا حق تھا کہ وہ اقوام متحدہ کوآمادہ کرتے کہ بھارت کو کشمیر سے متعلق 1948 اور 1949 کی قرار دادوں پر عمل درآمد کے لیے پابندبنایا جائے'۔

یہ بھی پڑھیں:ایف اے ٹی ایف سے متعلق 6 بلز پر حکومت، اپوزیشن میں اتفاق

حکومت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'کشمیر کے حوالے سے روز اول سے بڑادعویٰ موجود ہے لیکن آج بین الاقوامی اداروں کی فوری ضرورت کی خاطر منظور کی گئی قراردادوں پر پاکستان میں فوری قانون سازی کے لیے تیار ہوجاتے ہیں'۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ 'ایک لمحے کے لیے ہم نے ان کے سامنے اس بات پر اصرار نہیں کیا کہ وہ کشمیر کے حوالے سے 1948 اور1949 کی قراردادوں پرعمل کرے اور ہندوستان کو اس کا پابند بنائے'۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہاکہ 'اس سارے قضیے کا افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ ایف اے ٹی ایف کی شرائط کے تحت قانون سازی کے عمل میں پاکستان پر دباؤ ڈالنے والوں میں بھارت بھی شامل ہے'۔

حکومت کو مخاطب کرکے انہوں نے کہا کہ 'اپنی قوم کو آپ کیا پیغام دینا چاہتے ہیں، جو قانون سازی ہورہی ہے اور جس کے لیے بین الاقوامی طور پر پاکستان پر دباؤ ڈالا جارہا ہے اور اس گروپ میں بھارت شامل ہے اور اسی کے دباؤ میں ہم یہ سب کچھ کررہے ہیں'۔

مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ 'ہماری سفارت کاری کہاں گئی، ہماری وہ صلاحیت کہاں گئی، جس کے ذریعے ہم عالمی برادری اور عالمی فورمز کو اس طرف متوجہ کرسکیں کہ وہ بھارت کو بھی کشمیر پر قراردادوں پرعمل کے لیے پابند کرے'۔

انہوں نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ 'مستقبل میں اگر اقوام متحدہ کشمیر پر کوئی نئی قرارداد منظور کرنے میں کامیاب ہوتی ہے اور آزادی کشمیر کے لیے لڑنے والوں کو دہشت گرد قرار دیا جاتا ہے اور ہمارے قومی اثاثوں یا قومی مفادات کے خلاف کوئی قرارداد منظور ہوتی ہے یا کوشش ہوتی ہے تو کیا ہمارے ان قوانین کا اطلاق ان حریت پسندوں پر بھی ہوگا'۔

مزید پڑھیں: ایف اے ٹی ایف سے متعلق دو حکومتی بل قومی اسمبلی کی کمیٹی سے منظور

ان کا کہنا تھا کہ 'اس بارے میں موجودہ قوانین میں کوئی گنجائش نہیں رکھی گئی ہے، بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کے آگے ہمارے حکمرانوں نے گھٹنے ٹیک دیے ہیں'۔

'پاکستان کا بازو مروڑ کر قانون سازی کروائی جارہی ہے'

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے اجلاس میں تیار کردہ اعلامیہ پڑھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 'اس کے خطرناک پہلووں سے قوم کو آگاہ کرنا چاہیے، یہ کہنا کہ ہم نے ملک کو بچالیا اور مشکل سے نکال لیا بلکہ آپ نے ملک کے مستقبل کو تاریکی کی طرف دھکیل دیا ہے اور ملک کی آزادی کو داؤ پر لگادیا ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'نااہل اور سلیکٹڈ حکومت میں ایسے گمبھیر مسائل سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں ہے، ملک کو اس قدرمعاشی طور پر کمزور کردیا گیا ہے کہ ایف اے ٹی ایف پر قانون سازی کے لیے مجبور کیا گیا'۔

انہوں نے کہا کہ 'پاکستان کا بازو مروڑ کر قانون سازی کروائی جارہی ہے، پھر ناکام خارجہ پالیسی اور کمزور لابنگ کی حکومتی ناکامی کو لے کر قوم کو تسلی دی جاتی ہے کہ ہم نے ملک کو بلیک لسٹ سے بچالیا ہے'۔

مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھاکہ 'سیاسی طور پر جب ہمارے اعصاب مضبوط تھے تو ماضی میں کبھی ایف اے ٹی ایف پاکستان کو اپنی شرائط پر مجبور نہ کرسکا'۔

یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی میں شور شرابے کے دوران ایف اے ٹی ایف سے متعلق 2 بلز منظور

ایف اے ٹی ایف سے متعلق قانونی سازی پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 'یہ کوئی پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ ہم گرے لسٹ میں ہیں، پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ ہمیں بلیک لسٹ میں ڈالنے کے دباؤ میں رکھاجارہا ہے بلکہ ہم پہلے بھی گرے لسٹ میں گئے'۔

'2015 میں جمہوری حکومت نے ملک کو بلیک لسٹ سے نکالا'

انہوں نے کہا کہ 'پیپلزپارٹی کی حکومت کے آخری حصے میں ہم بلیک لسٹ میں گئے تھے لیکن نئی جمہوری حکومت آئی، اس نے ملک کو واپس گرے لسٹ پھر وائٹ قراردلایا'۔

مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ 'ہم 2018 تک وائٹ لسٹ میں تھے لیکن جب سے ان نااہلوں کے حوالے ملک ہوا ہے اس کے بعد ہم واپس گرے لسٹ میں گئے ہیں اورہمیں کہا جارہا ہے کہ اگر آپ نے عمل نہ کیا تو اکتوبرتک بلیک لسٹ میں ڈالیں گے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ کی حکومتوں کو اس طرح کی قانون سازی کے لیے کیوں مجبور نہ کیا جاسکا، اسی لیے ایسی حکومت کو ملک پر مسلط کیا گیا ہے'۔

انہوں نے کہا کہ 'ماضی میں بھی پاکستان گرے لسٹ میں ہونے کے باوجود اس قانون سازی کے لیے مجبور نہ کیا جاسکا بلکہ 2015 میں جمہوری حکمران ملک کو بلیک لسٹ سے وائٹ لسٹ میں لے آئے،ایشیا پیسفک گروپ کی پابندیوں کا بھی مقابلہ کیا گیااور ان کو بھی پاکستان سے پابندیاں اٹھانے پر مجبور کیا گیا'۔

حکومتی اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'کشمیر، بلوچستان اور افغانستان میں بھارت کی مداخلت کو ہمیشہ نظر انداز کیا گیا جو ہماری سفارت کاری کی ناکامی کامنہ بولتاثبوت ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہم زبانی باتیں کرتے ہیں کہ بھارت بلوچستان میں مداخلت کرتا ہے، کشمیر میں انسانی حقوق پامال کررہا ہے اور ناجائز قبضہ جمایا ہوا ہے، افغانستان میں پاکستان کی مخالفت میں بھارت کا کردار ہے اوروہاں پر اس کے کردار پر تو ہم مکمل طور پر سفارت کاری کے میدان میں ناکام ہوچکے ہیں'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'حال ہی میں پاکستان نے بھارت کے 4 شہریوں کی دہشت گردی کا اقوام متحدہ میں متعدد بار کیس دائر کیا مگر ہم ٹھوس ثبوت دینے میں ناکام رہے اور پاکستان کو سبکی کا سامنا کرناپڑا، یہ اس حکومت کی کارکردگی ہے'۔

مزید پڑھیں: قومی اسمبلی میں آج انسداد دہشت گردی (ترمیمی) بل 2020 پر بحث ہوگی

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ 'یہ امر قابل ذکر ہے کہ حکومت نے اس قانون سازی میں اپوزیشن سےنہ تو مشاورت کی اور نہ ہی مشاورت کے مرحلے میں شامل رہے بلکہ حکومت کی اکثریت کے بل بوتے پر اور بین الاقوامی دباؤ پر پارلیمانی روایات کو مکمل طور پر نظرانداز اور روندا جو قابل مذمت ہے'۔

انہوں نے کہا کہ 'اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اپوزیشن کی دو بڑی جماعتوں نے سوچا کہ بہتری کے لیے اپنی ترامیم دیں لیکن ان ترامیم کو بھی قبول نہیں کیا گیا'۔

سعودی عرب کے حوالے سے بیان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 'سعودی عرب ہر قسم کے حالات میں ہمارےساتھ کھڑا رہا، اس حکومت نے آج سعودی عرب کا بھی ناراض کردیا، سی پیک جو پاکستان کی ترقی کی علامت تھا، اس پر چین کو ناراض کردیا'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'آج جو قانون سازی ہورہی ہے، وہ پاکستان کے نظام میں قومی کی غلامی کی علامت بن سکتا ہے'۔