Dawn News Television

اپ ڈیٹ 24 اگست 2021 10:51am

اے ڈی بی اور یورپی یونین کی افغانستان سے شہریوں کے انخلا کیلئے پاکستان سے درخواست

|

یورپی یونین (ای یو) اور ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے افغانستان سے ان کے ملازمین کو نکالنے کے لیے پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائن (پی آئی اے) سےمدد طلب کرلی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق یورپین یونین کی سفیر اینڈولا کامینار نے پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹیو افسر (سی ای او) ارشد ملک اور وفاقی وزیر ہوابازی غلام سرور خان کو خط لکھا، جس میں انہوں نے پاکستان کو انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر کابل میں پھنسے ہوئے یورپین یونین کے وفد کے ممبران اور ان سے منسلک افراد کو نکالنے کے لیے خصوصی پروازیں فراہم کرنے کی درخواست کی۔

انہوں نےخط میں 420 افراد کو افغانستان سے نکالنے کے حوالے سے آگاہ کیا ہے جبکہ فہرست میں موجود251 افراد ان کی اولین ترجیح ہیں۔

اینڈرولا کامینار نے کہا کہ انہوں نے یورپین یونین کے رکن ممالک سے وعدہ کیا تھا کہ یورپین یونین ان افراد کو ان کی منزل تک پہنچائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: پی آئی اے نے کابل کیلئے اپنی پروازیں معطل کردیں

انہوں نے کہا کہ اس مرحلے پر وہ کابل ائیر پورٹ سے اسلام آباد ائیر پورٹ تک پرواز کا مطالبہ کریں گے تاکہ یورپی یونین کی جانب سے بھیجے گئے دوسرے طیارے میں وہ براہ راست یورپ کا سفر کرسکیں۔

اینڈرولا کامینار نے پاکستا نی حکام سے کہا ہے کہ مسافر ہوائی جہاز سے اترنے کے بعد کچھ دن اسلام آباد میں ہی قیام کریں گے۔

ایشیائی ترقیاتی بینک نے بھی اپنے عملے کو کابل سے نکالنے کے لیے پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹیو افسر کو خط لکھا ہے۔

خط میں لکھا گیا کہ افغانستان میں پھنسے 290 افراد کو نکالا جائے گا جن میں اے ڈی بی کے عملے کے 162 ارکان اور ان کے اہل خانہ شامل ہیں، دیگر افراد میں افغانستان اور اور فلپائن کے شہری بھی ہیں۔

مزید پڑھیں: کابل ایئرپورٹ پر افراتفری کے دوران مزید 7 افغان باشندے ہلاک ہوگئے، برطانوی فوج

اے ڈی بی کے ڈائریکٹربرائے وسطی و مغربی ایشیا یونگن زوہوکو نے اے ڈی بی کے عملے اور ان کے اہل خانہ کو کابل سے نکال کر اسلام آباد پہنچانے کے لیے پی آئی اے کے سی ای او سے چارٹرڈ پروازوں کی درخواست کی ہے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ ان درخواستوں کے پیش نظر پی آئی اے نے تین پروازیں بھیجنے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے،جو غیر ملکی شہریوں اور اہل خانہ کو کابل سے لے کر آئیں گی۔

Read Comments