صارفین کا ڈیٹا صرف لائسنس یافتہ آپریٹرز کے پاس ہوتا ہے، مبینہ ڈیٹا لیکس کی خبروں پر پی ٹی اے کی وضاحت
پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی نے مبینہ ڈیٹا لیک کی خبروں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ صارفین کا ڈیٹا پی ٹی اے کے پاس موجود نہیں ہوتا، یہ ڈیٹا صرف لائسنس یافتہ آپریٹرز کے پاس ہوتا ہے۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے میڈیا میں آنے والی ان خبروں کا نوٹس لیا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ صارفین کا ذاتی ڈیٹا آن لائن دستیاب ہے۔
پی ٹی اےنے اپنی پریس ریلیز میں واضح کیا ہے کہ صارفین کا ڈیٹا پی ٹی اے کے پاس موجود نہیں ہوتا اور نہ ہی پی ٹی اے اس کو مینیج کرتا ہے، یہ ڈیٹا صرف لائسنس یافتہ آپریٹرز کے پاس ہوتا ہے۔
یہ معلومات بظاہر مختلف ذرائع سے جمع کی گئی ہیں، تاہم پی ٹی اے کے جانب سے کیے گئے آڈٹس میں لائسنس یافتہ سیکٹر کے اندر کسی خلاف ورزی کے شواہد سامنے نہیں آئے۔
پی ٹی اے کی جانب سے غیر قانونی مواد کے خلاف جاری کریک ڈاؤن میں اب تک 1372 ویب سائٹس، ایپس اور سوشل میڈیا پیجز بلاک کیے جا چکے ہیں جو ذاتی ڈیٹا کی فروخت یا شیئرنگ میں ملوث تھے۔
پی ٹی اے کے مطابق اس حوالے سے وزارتِ داخلہ نے ایک تحقیقاتی کمیٹی بھی تشکیل دی ہے جو معاملے کی مزید چھان بین کر رہی ہے ۔
خیال رہے کہ میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ تمام سم ہولڈرز کا ڈیٹا، بشمول وزیر داخلہ محسن نقوی، ( آن لائن) فروخت کیا جارہا ہے، جس میں موبائل لوکیشن کی معلومات 500 روپے، کال اور ڈیٹا ریکارڈز دو ہزار روپے، اور بیرون ملک سفر کی تفصیلات پانچ ہزار روپے میں دستیاب ہیں۔
چند ماہ قبل پاکستان کی نیشنل سائبر ایمرجنسی ریسپانس ٹیم (PKCERT) نے ایک ایڈوائزری جاری کی تھی جس میں خبردار کیا گیا تھا کہ پاکستان میں 18 کروڑ سے زائد انٹرنیٹ صارفین کے لاگ اِن کریڈینشلز ( معلومات) اور پاس ورڈز ایک عالمی ڈیٹا بریچ میں چوری کر لیے گئے ہیں، اور عوام سے فوری حفاظتی اقدامات کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق PKCERT نے اس عالمی بریچ کی نشاندہی کی تھی، جس میں ایک عوامی رسائی کے قابل، بغیر انکرپٹ کی ہوئی فائل شامل تھی، جس میں 18 کروڑ 40 لاکھ سے زائد منفرد اکاؤنٹ کریڈینشلز موجود تھے۔
آج اس معاملے پر ردِعمل دیتے ہوئے پی ٹی اے نے کہا ہے کہ اس نے سبسکرائبر ڈیٹا کے مبینہ طور پر آن لائن دستیاب ہونے سے متعلق میڈیا رپورٹس کا نوٹس لے لیا ہے۔