پاکستان

ڈسپلن کی خلاف ورزی پر پنجاب یونیورسٹی کے 37 طلبہ پر بھاری جرمانہ

ڈسپلن کی خلاف ورزی پر متخلف شعبہ جات کے 37 طلبہ پر 20 ہزار روپے فی کس جرمانہ عائد کیا گیا ہے، ترجمان

پنجاب یونیورسٹی نے ڈسپلن کی خلاف ورزی پر 37 طلبہ پر بھاری جرمانہ کردیا۔

پنجاب یونیورسٹی کے ترجمان کے مطابق ڈسپلن کی خلاف ورزی پر متخلف شعبہ جات کے 37 طلبہ پر 20 ہزار روپے فی کس جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔

ترجمان کے مطابق طالب علم محمد عماد اختر، محمدعمارخان، حاجی ذین سرفراز، عاطف نواز، محمد سمیع اللہ، محمد فاروق، اور شعیب عامر فخری پر جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔

ترجمان پنجاب یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ طالب علم حنین عارف، انصار علی، محمد سالار احمد، حماد علی، سمیع اللہ، شمریزممتاز، ذین شوکت، انورکمال، محمد انیس، عثمان احمدکوبھی جرمانہ کیا گیا ہے۔

جن طلبہ پر جرمانہ کیا گیا ہے ان میں غضنفرعلی ریحان، محمد حامدرضا اور غلام مرتضیٰ بھی شامل ہیں جبکہ ڈسپلنری کمیٹی نےسیف اللہ، محمد سلیمان، شہزاد اور محمد وہاب خورشیدکی معافی قبول کرلی ہے۔

ترجمان کے مطابق انتظامیہ نے شعبہ سوشل ورک کے طالبعلم محمد فاروق کارزلٹ روک لیا ہے جبکہ شعبہ فلسفہ کےمحمداسرار پریونیورسٹی احاطےمیں داخل ہونے پرپابندی لگا دی ہے۔

خیال رہے کہ رواں سال اپریل میں پنجاب یونیورسٹی کی انتظامیہ نے ہاسٹلز میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے خلاف آپریشن کیا تھا جس کے نتیجے میں سیکڑوں غیرقانونی قابضین کو نکال دیا گیا تھا۔

ترجمان کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ نے ہاسٹلز سے محروم مارننگ کے 300 طلبہ کو ہاسٹلز الاٹ کر دیے تھے جبکہ ہاسٹل سے محروم دور دراز علاقوں سے وابستہ 300 مزید مارننگ کے طلبہ کو ہاسٹل دیں گے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ہاسٹلز پر قابض غیرقانونی افراد یونیورسٹی میں نقض امن کا باعث تھے، غیر قانونی قابضین کے کمروں سے آپریشن کے دوران شراب اور آئس برآمد ہوئی تھی۔