وزیراعظم کا پیپلزپارٹی اور (ن) لیگ میں بڑھتے اختلافات کا نوٹس، وطن پہنچتے ہی بریفنگ لی
پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) میں بڑھتے اختلافات پر صدر مملکت آصف علی زرداری کے بعد وزیراعظم نے بھی نوٹس لے لیا ہے اور شہبازشریف نے پارٹی کے سینئر رہنماؤں کو آج طلب کرلیا۔
وزیراعظم میاں شہباز شریف نے وطن واپس پہنچتے ہی معاملے پر ابتدائی بریفنگ لی۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنماؤں کو آج طلب کرلیا ہے۔
وفاقی کابینہ کے سینئر اراکین کا اجلاس وزیر اعظم ہاؤس میں ہوگا، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی اجلاس میں شرکت کریں گے، محسن نقوی وزیراعظم سے علیحدہ ملاقات بھی کریں گے اور وزیر اعظم کو صدر آصف زرداری کا پیغام پہنچائیں گے۔
(ن) لیگ کے سینئر رہنما وزیراعظم کو پیپلز پارٹی کے ساتھ کشیدگی ختم کرنے کی کوششوں سے آگاہ کریں گے جبکہ وزیراعظم کو پیپلز پارٹی کے مطالبات سے بھی آگاہ کیا جائے گا۔
وزیراعظم کی طرف سے آج کے اجلاس کے بعد پیپلز پارٹی کی قیادت سے بھی رابطے کا امکان ہے، پیپلز پارٹی کو پنجاب حکومت کے وزرا کے بیانات پر تحفظات ہیں، پیپلز پارٹی نے وزیر اعلیٰ مریم نواز کی معافی کا مطالبہ کر رکھا ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) کی اکثریت اس مطالبے کو غیر ضروری قرار دے رہی ہے۔
واضح رہے کہ وزیرداخلہ محسن نقوی نے گزشتہ روز کراچی میں صدر مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات کی تھی جس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال اور خصوصاً سندھ اور پنجاب حکومت کے درمیان پائے جانے والے تناؤ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔
صدرِ مملکت نے وزیرِ داخلہ کو موجودہ سیاسی حالات میں کردار ادا کرنے کی ہدایت کی تھی جب کہ دونوں رہنماؤں نے اتحادی جماعتوں کے درمیان رابطوں کو مزید مؤثر بنانے پر بھی اتفاق کیا تھا۔
ذرائع نے بتایا تھا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان جاری مکالمے کی جنگ کو ختم کرنے کے لیے مذاکراتی ماحول پیدا کیا جا رہا ہے۔
اس سے ایک روز قبل صدر مملکت آصف علی زرداری نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ٹیلی فونک رابطہ کیا تھا جس میں سندھ اور پنجاب حکومتوں کے درمیان کشیدگی پر بات چیت کی گئی تھی۔
واضح رہے کہ پیر 6 اکتوبر کو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے پریس کانفرنس کے دوران دعویٰ کیا تھا کہ پنجاب حکومت ہماری آڑ میں وزیراعظم کو نشانہ بنارہی ہے اور ایسا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ پیپلزپارٹی وفاقی حکومت کوسپورٹ نہ کرے۔
اس کے جواب میں وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا تھا کہ آپ اتنے بچے ہیں پنجاب حکومت آپ کو وفاق کے خلاف سازش کرنے کی طرف دھکیل رہی ہے اور آپ اس کا حصہ نہیں بن رہے ہیں، انہوں نے سوال کیا کہ آپ کو پنجاب کے سیلاب متاثرین پر سیاست کرنے کے لیے وزیراعظم نے کہا تھا؟
25 ستمبر کو بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ سیلاب متاثرین کی مدد کو انا کا مسئلہ کیوں بنا لیا گیا، اپنی انا کی وجہ سے یا پتا نہیں کیوں یہ فیصلہ کیا گیا، وفاق کو اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنا چاہیے اور سیلاب متاثرین کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے مدد فراہم کریں۔
سابق وزیر خارجہ نے مزید کہا تھا کہ سیلاب کے بعد وفاقی کو عالمی مدد مانگنی چاہیے تھی، اگر آج آپ 100 روپے خرچ کررہے ہیں تو آپ کے پاس 200 روپے خرچ کرنے کے لیے ہوتے، اگر عالمی دنیا آپ کے ساتھ ہوتی تو آپ 100 کی مدد کررہے ہیں تو 200 متاثرین کی مدد کرپاتے۔
اس پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے جواب دیا تھا کہ مجھے عوام کی خدمت کے لیے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں اور ہر چیز کا علاج صرف بینظیر انکم سپورٹ پروگرام نہیں ہے اور بھیک مانگنے کا سلسلہ اب ختم ہونا چاہیے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر آپ سندھ میں کوئی کام کریں تو مجھے خوشی ہوتی ہے لیکن کچھ کرلو نا، پنجاب میں میٹرو بنی، اورنج لائن اور موٹروے بنیں، سڑکوں کا جال بچھایا، اس پر آپ کو کیا اعتراض ہے؟