عابد خان کو بجلی کے جھٹکے لگائے گئے اور مردانہ صلاحیت سے محروم کرنے کی دھمکیاں دی گئیں—فوٹو:اے ایف پی

مقبوضہ کشمیر میں سیاہ رات کی کہانی: 'تاریک کمرے میں بجلی کے جھٹکے لگائے گئے'

تشدد کا مقصد مقبوضہ خطے میں خوف کا ماحول پیدا کرنا ہے، لوگوں کو احتجاج سے دور رکھنے کے لیے دباؤ ہے، سرکاری عہدیدار
اپ ڈیٹ ستمبر 19, 2019 10:49am

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے 5 اگست کو متنازع خطے کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد سیاسی قیادت سمیت سیکڑوں افراد کو گرفتار کیا جن میں سے ایک عابد خان بھی ہیں جنہوں نے دردناک کہانی سے دنیا کو آگاہ کردیا اور یہ صرف ایک کہانی نہیں بلکہ درجنوں ایسی کہانیاں ہیں جو تاحال لفظوں میں پروئی نہیں جاسکیں۔

مقبوضہ کشمیر کے صرف ایک حصے میں بھارتی فوج کے تشدد کا نشانہ بننے والے درجنوں افراد میں سے ایک عابد خان نے خبر ایجنسی اے ایف پی کو اپنی روداد سنائی جس دوران ان کے ہاتھ کانپ رہے تھے اور انہوں نے کہا کہ رات کے دوسرے پہر فوجی آئے تھے۔

مقامی افراد کا کہنا تھا کہ تشدد کا نشانہ بنانے کا مقصد بھارتی حکومت کی جانب سے 5 اگست کو طویل عرصے سے خون میں نہلائے ہوئے ہمالیائی خطے کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد خوف کا ماحول پیدا کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:عوام کو ہائی کورٹ تک رسائی نہیں تو خود سری نگر کا دورہ کروں گا، بھارتی چیف جسٹس

ضلع شوپیاں کے گاؤں ہیرپورا سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ عابد خان نے کہا کہ انہیں 14 اگست کو بھائی کے ساتھ گھسیٹ کر گھر نکالا گیا اور آنکھوں پر پٹی باندھی گئی، جو مشکلات کا شکار تھے۔

بازووں، ٹانگوں اور کولہے پر قابض فوج کے لگائے گئے زخموں کے نشانات دکھاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'انہوں نے باہر نکال کر راستے میں ہی میرے بھائی کو بجلی کے جھٹکے لگائے اور میں نے انہیں درد سے چلاتے ہوئے سنا'۔

عابد خان نے اپنے جسم میں بھارتی فوجیوں کی جانب سے لگائے گئے زخموں کے نشانات دکھائے—فوٹو:اے ایف پی
عابد خان نے اپنے جسم میں بھارتی فوجیوں کی جانب سے لگائے گئے زخموں کے نشانات دکھائے—فوٹو:اے ایف پی

انہوں نے کہا کہ چھوگام آرمی کیمپ کے قریب فوجیوں نے میرے کپڑے اتار دیے، ہاتھ اور پاؤں باندھ کر مجھے بے یار و مددگار چھوڑ دیا اور پھر سلاخوں سے تشدد کیا۔

بھارتی فوجیوں کے مظالم کی داستان یہی ختم نہیں ہوتی جس کو جاری رکھتے ہوئے عابد خان کہتے ہیں کہ کیمپ کے میجر نے انہیں ریاض نائیکو کی حزب اللہ کی جانب سے پیش کش اور شمولیت کے الزامات لگائے۔

مزید پڑھیں:مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ 'متنازع قانون' کے تحت گرفتار

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور ان کے جبری قبضے سے آزادی کے لیے کئی گروپ مسلح جدوجہد میں بھی مصروف ہیں اور 1989 میں شروع ہونے والی اس تحریک میں اب تک ہزاروں کشمیری شہید ہو چکے ہیں جو بھارتی فوج کی جعلی کارروائیوں کا نشانہ بنے ہیں۔

عابد خان نے بھارتی میجر کے الزامات کے حوالے سے کہنا تھا کہ 'میں مسلسل دہراتا رہا کہ یہ سچ نہیں ہے جس کے بعد انہوں میں میرے جسم پر بجلی کے جھٹکے دیے، میرے مخصوص اعضا پر بجلی کے جھٹکے دیے اور زخمی کردیا اور ان میں سے ایک نے کہا کہ میں آپ کو مردانہ صلاحیت سے محروم کردوں گا'۔

بھارتی فوجیوں نے عابد خان کو مردانہ صلاحیت سے محروم کرنے کی دھمکیاں دیں—فوٹو: اے ایف پی
بھارتی فوجیوں نے عابد خان کو مردانہ صلاحیت سے محروم کرنے کی دھمکیاں دیں—فوٹو: اے ایف پی

ان کا کہنا تھا جب وہ سیاہ رات ختم ہوئی اور صبح ہوئی تو مجھے رہا کردیا گیا لیکن میں بمشکل کھڑا ہوپاتا تھا، مجھے 10 دن تک متلی ہوتی رہی اور 20 دن بعد میں نے چلنا پھرنا شروع کیا۔

بھارتی فوج کے مظالم سہنے والے 26 سالہ کشمیری نے کہا کہ 'میں معمول کے مطابق کھانا نہیں کھا سکتا، میں اپنی بیوی کے کمرے میں سونے کے لیے نہیں جاسکتا، اس طرح کا ظلم سہنے سے تو بہتر تھا میں گولی سے مرجاتا'۔

بھارت کے جھوٹے دعوے

نئی دہلی سرکار کا گزشتہ ماہ سے شروع ہونے والے لاک ڈاؤن، موبائل اور انٹرنیٹ سروس کو منقطع کرنے کے حوالے سے دعویٰ ہے کہ اس کا مقصد دہشت گردوں سے بچانا ہے تاکہ عوام مشکلات کا شکار نہ ہوں۔

یہ بھی پڑھیں:مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی فائرنگ سے 3 نوجوان شہید

مقبوضہ کشمیر میں بھاتی فوج کے ترجمان کرنل راجیش کالیا کے ایک بیان کے مطابق بھارت کی قومی سلامتی کونسل کے مشیر نے فوج کی جانب سے کسی قسم کے مظالم کی خبروں کو مسترد کردیا ہے۔

اے ایف پی کو کرنل راجیش کالیا نے بتایا کہ 'تمام انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں انتہائی پیشہ ورانہ اور عوام دوست انداز میں کی جاتی ہیں اور فوج کے شہریوں کے ساتھ تشدد آمیز رویے کے الزامات مکمل طور پر بے بنیاد ہیں'۔

ضلع شوپیاں میں عابد خان اور ان کے بھائی ہی نہیں بلکہ درجنوں درد بھری کہانیاں ہیں—فوٹو:اے ایف پی
ضلع شوپیاں میں عابد خان اور ان کے بھائی ہی نہیں بلکہ درجنوں درد بھری کہانیاں ہیں—فوٹو:اے ایف پی

دوسری جانب ہیرپورا کے عوام تو وقتاً فوقتاً بھارتی فوج کے کیمپ سے کشمیریوں کی چیخوں کو سن رہے ہیں۔

ہیرپورا سے تعلق رکھنے والے تین افراد نے اس حوالے سے بتایا کہ ان پر بھی تشدد کیا گیا تھا، صرف یہی نہیں بلکہ ضلع شوپیاں کے اس گاؤں کے دو درجن سے زائد نوجوانوں کی اسی سے ملتی جلتی دردناک کہانیاں ہیں۔

مزید پڑھیں:بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی، صدارتی فرمان جاری

قابض بھارتی فوج کے مظالم افراد کی فہرست تیار کرنے والے ایک شہری کا کہنا تھا کہ 'فوج ہر گاؤں کے دو یا تین نوجوانوں کو مثال بنا رہی ہے'۔

مقبوضہ کشمیر میں گھروں میں چھاپے مارنا، شناختی کارڈ اور موبائل لے لینا اور نوجوانوں کو واپسی کے لیے کیمپ میں جا کر رپورٹ کرنے کی ہدایات دینا تو فوج کا معمول ہے۔

اے ایف پی کو اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر 21 سالہ نوجوان نے اپنے زخموں کی تصاویر دکھائیں اور کہا کہ میں نے 27 اگست سے اب تک پنہو کیمپ میں تین مرتبہ رپورٹ کی ہے اور ہر مرتبہ زیادتی کی جاتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک فوجی افسر نے ان پر الزام لگایا کہ آپ کشمیری جنگجووں کو کھانا فراہم کرتے ہیں اور معلومات کے عوض پیسے کی پیش کش کی جبکہ دوسری مرتبہ سابق ہم جماعت لڑکے سے متعلق پوچھا جو اب جنگجو بن چکے ہیں۔

اپنے بازوں میں تشدد کے نشنات دکھاتے ہوئے نوجوان کا کہنا تھا کہ 'انہوں نے تاریک کمرے کے اندر دو گھنٹوں تک بجلی کے جھٹکے دیے'۔

عابد رہائی کے 20 دن بعد چلنے پھرنے کے قابل ہوا اور 10 تک مسلسل متلی ہوتی رہی—فوٹو:اے ایف پی
عابد رہائی کے 20 دن بعد چلنے پھرنے کے قابل ہوا اور 10 تک مسلسل متلی ہوتی رہی—فوٹو:اے ایف پی

تشدد کی ایک اور کہانی

گگلورا گاؤں سے تعلق رکھنے والے 21 سالہ عبید خان کا کہنا تھا کہ وہ 26 اگست کو اسی فوجی کیمپ سے اپنا شناختی کارڈ واپس لینے گئے تھے۔

بھارتی فوجیوں کے رویے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ '8 فوجیوں نے سلاخوں سے مجھے بہت دیر تک مارا اور مجھے چھوڑنے سے پہلے انہوں نے مجھے کہا کہ آپ اپنے گاؤں میں سیکورٹی فورسز پر پتھراؤ کرنے والے افراد کے ناموں کے ساتھ واپس آئیں'۔

یہ بھی پڑھیں:'5 اگست کے بعد سے مقبوضہ کشمیر میں 722 احتجاجی مظاہرے ہوئے'

پنجورا گاؤں کے مقامی عہدیدار سجاد حیدر خان کا کہنا تھا کہ میں نے پولیس اور فوج کی جانب سے صرف شوپیاں سے گرفتار کیے گئے ایک ہزار 800 افراد کی فہرست دیکھی ہے۔

ضلع شوپیاں جنوبی کشمیر کے چار اضلاع میں سے ایک ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آستینوں پر 'کمانڈو' کی پٹیاں سجائے اور رائفلز اٹھائے ہوئے پانچ فوجی شوپیاں ٹاؤن میں ان کے گھر سے تھوڑے سے فاصلے پر گھر گھر جارہے تھے اور رہائشیوں سے ان کی تفصیلات اکھٹی کررہے تھے۔

عابد خان نے بھرائی ہوئی آواز اور کانپتے ہاتھوں کے ساتھ اپنی کہانی سنائی—فوٹو:اے ایف پی
عابد خان نے بھرائی ہوئی آواز اور کانپتے ہاتھوں کے ساتھ اپنی کہانی سنائی—فوٹو:اے ایف پی

سرکاری عہدیدار سجاد حیدر خان نے کہا کہ 'میں اپنی دبی ہوئی مخلصانہ آواز میں جو کچھ کہہ سکتا ہوں وہ یہ ہے کہ لوگوں کو احتجاج سے دور رکھنے کے لیے دباؤ ہے'، اور یہی کام ہورہا ہے!

مقبوضہ ریاست کے علاقے پنجورا کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ '5 اگست سے اب تک فوجیوں پر کوئی پتھراؤ نہیں ہوا'۔