عوام کو ہائی کورٹ تک رسائی نہیں تو خود سری نگر کا دورہ کروں گا، بھارتی چیف جسٹس

اپ ڈیٹ 16 ستمبر 2019

ای میل

سپریم کورٹ نے مقبوضہ وادی میں تعلیمی سرگرمیاں اور کشمیریوں کو صحت کی سہولتوں تک رسائی یقینی بنانے کی بھی ہدایت کردی — اے ایف پی/فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے مقبوضہ وادی میں تعلیمی سرگرمیاں اور کشمیریوں کو صحت کی سہولتوں تک رسائی یقینی بنانے کی بھی ہدایت کردی — اے ایف پی/فائل فوٹو

بھارتی چیف جسٹس رنجن گوگوئی کا کہنا ہے کہ وہ خود مقبوضہ کشمیر کے شہر سری نگر جاکر دیکھیں گے کہ وہاں عوام کی ہائی کورٹ تک رسائی ہے کہ نہیں۔

بھارتی نیوز ویب سائٹ انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے یہ ریمارکس چائلڈ رائٹس ایکٹوسٹ اناکشی گنگولی اور پروفیسر شانتا سنہا کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے دیے۔

درخواست گزاروں کے وکیلوں کا کہنا تھا کہ مہینے بھر سے جاری حکومت کے لاک ڈاؤن سے خطے میں عوام کو مقبوضہ جموں و کشمیر ہائی کورٹ تک رسائی حاصل نہیں ہورہی ہے۔

یہ درخواست مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاؤن پر سول سوسائٹی کے اراکین کی جانب سے دائر کی گئی کئی درخواستوں میں سے تھی۔

بھارتی حکومت نے گزشتہ ماہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت واپس لینے سے قبل وادی میں کرفیو نافذ کردیا تھا۔

دوران سماعت چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ 'اگر آپ کہہ رہے ہیں کہ ہائی کورٹ تک رسائی مشکل ہوگئی ہے تو یہ نہایت سنجیدہ بیان ہے، کیا ہائی کورٹ جانے میں آپ کو کوئی روک رہا ہے؟ اور کیوں؟'۔

وکیل کے مطابق 'خطے میں شٹ ڈاؤن عوام کو عدالت جانے سے روک رہا ہے'۔

مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ 'متنازع قانون' کے تحت گرفتار

بھارتی چیف جسٹس نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہا کہ 'یہ نہایت سنجیدہ معاملہ ہے، اگر عوام کو ہائی کورٹ تک رسائی نہیں تو میں خود سری نگر کا دورہ کروں گا'۔

بعد ازاں انہوں نے وکیلوں کو خبر دار کیا کہ اگر رپورٹ اس کے برعکس ہوئی تو وہ اس کے نتائج بھگتنے کے لیے تیار ہوجائیں۔

سپریم کورٹ نے وفاق سے مقبوضہ کشمیر میں معمولات زندگی بحال کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کا بھی کہا۔

انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق عدالت نے تنازع کے شکار علاقے کی بحالی کے حوالے سے کوئی احکامات جاری کرنے سے انکار کیا اور کہا کہ 'بحالی بتدریج کی جائے گی جس میں قومی مفاد کو مدنظر رکھا جائے گا'۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ 'ہم کوئی احکامات جاری نہیں کر رہے، ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ قومی سلامتی کو مد نظر رکھتے ہوئے تمام سہولیات بحال کی جانی چاہئیں، ہم کسی کو بھی اس سے مستثنیٰ نہیں کرسکتے'۔

علاوہ ازیں سپریم کورٹ نے اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد کو مقبوضہ کشمیر جانے کی اجازت دے دی ہے۔

بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے کہا کہ غلام نبی آزاد سری نگر، اننتناگ، بارہ مولا اور جموں جا سکتے ہیں اور وہاں عوام سے مل جل سکتے ہیں انہیں ریلیاں نکالنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

واضح رہے کہ بھارت کی جانب سے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آئین کے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے بعد سے درجنوں کشمیری سیاست دان اور رہنماؤں کو گرفتار یا نظربند کردیا تھا، اس کے علاوہ مقبوضہ وادی میں کرفیو نافذ ہے اور انٹرنیٹ، موبائل سمیت تمام مواصلاتی نظام معطل ہے۔

یہی نہیں بلکہ اس سے قبل بھارتی انتظامیہ نے مقبوضہ کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کو نظر بند اور بعد ازاں گرفتار کرلیا تھا جو 40 روز سے زائد گزرنے کے باوجود تاحال زیرحراست ہیں۔

اس کے علاوہ مقبوضہ کشمیر کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق وادی کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے اب تک 4 ہزار افراد کو حراست میں لیا جاچکا ہے۔

تاہم ان سب پابندیوں کے باوجود مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ 6 ہفتوں میں بھارتی حکومت کے خلاف یومیہ اوسطاً 20 احتجاجی مظاہرے کیے جارہے ہیں۔