مساجد میں نماز کے اجتماعات پر پابندی سے متعلق حکومت تذبذب کا شکار

حکام وبا کی روک تھام کے لیے غیر معمولی اقدامات اٹھانے کے باوجود اس معاملے پر اب تک ایک واضح موقف اختیار نہیں کرسکے۔

اپ ڈیٹ 25 مارچ 2020 02:19pm

وزارت مذہبی امور اور اسلامی نظریاتی کونسل (سی آئی آئی) جمعرات سے علمائے کرام کے ساتھ اس حوالے سے مشاورت کا آغاز کرے گی کہ کیا نوول کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے جہاں ملک میں لاک ڈاؤن کردیا گیا ہے وہاں نماز گھروں میں ادا کی جاسکتی ہے؟

ایک جانب وائرس سے لڑتے تقریباً تمام مسلمان ممالک نے کسی استثنٰی کے بغیر مساجد میں نماز کی جماعت پر پابندی عائد کردی ہے وہیں پاکستان میں حکام ملک میں صحت کے نظام اور معیشت کے لیے خطرہ بننے والی اس وبا کی روک تھام کے لیے غیر معمولی اقدامات اٹھانے کے باوجود اس معاملے پر اب تک ایک واضح راہ اختیار نہیں کرسکے۔

اس حوالے سے ڈان نیوز ٹی وی سے بات کرتے ہوئے اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر قبلہ ایاز نے بتایا کہ اس معاملے پر پرسوں سے ویڈیو لنک کے ذریعے مشاورت کا آغاز ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ مساجد کو بند کرنے کا نہیں گھروں میں نماز کی ادائیگی کا ہے، اس معاملے پر علما سے مشاورت کی جائے گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس معاملے پر فوری اتفاق رائے مشکل ہوگا اور خدشہ ظاہر کیا کہ ’مشاورت کا سلسلہ طویل ہوگا‘۔

ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہا کہ کونسل اور وزارت مذہبی امور دونوں اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ لینے سے قبل ملک کے علما کو اعتماد لینے پر متفق ہیں۔

ذیل میں ڈان نے مساجد کی بندش اور پاکستان بھر میں نماز کے بڑے اجتماعات کے حوالے سے زمینی صورتحال کا جائزہ لیا ہے۔

سندھ

سندھ حکومت جس نے سب سے پہلے صوبے میں ایک تفصیلی نوٹیفکیشن کے ذریعے مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان کیا تھا، نماز کے اجتماعات کے حوالے سے کوئی واضح اور ٹھوس ہدایات نہیں دی گئیں تاہم حکومت نے یہ ضرور کہا کہ اجتماعات سے گریز کیا جائے۔

سندھ میں لاک ڈاؤن کے پہلے دن ڈان ڈاٹ کام نے کراچی کے مختلف رپورٹرز اور شہریوں سے پوچھا کہ کیا ان کے علاقوں میں مساجد میں نماز پنجگانہ کے اجتماعات ہورہے ہیں، جس کے جواب میں موصول ہونے والی رپورٹس سے یہ بات سامنے آئی کہ نمازوں کے اجتماعات بند کرنے کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

اس ضمن میں جب وزیراعلیٰ سندھ کے ترجمان رشید چیمہ سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’عوام کو خود ان معاملات کو سمجھنا چاہیئے، ہر چیز کی ہدایات دینے کی ضرورت نہیں ہوتی، انہیں کہا گیا ہے کہ مساجد جانے میں احتیاط برتنے کی ضرورت ہے‘۔

خیبرپختونخوا

خیبرپختونخوا میں جہاں اسکولز اور بین الشہر ٹرانسپورٹ بند ہے، ایک نوٹیفکیشن جاری کیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ صفائی کو یقینی بنانے کے لیے مساجد سے جائے نماز ہٹادی جائیں۔

اس کے علاوہ ایک علیحدہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ نماز جمعہ 2 جماعتوں میں ادا کی جائے تا کہ عوام کے درمیان رابطے کو کم سے کم کیا جاسکے۔

اس بارے میں پشاور کے اسسٹنٹ کمنشر سارا رحمٰن نے کہا کہ ’تبلیغی مراکز اور مدارس بند ہیں تاہم شہر میں مساجد کھلی ہیں‘۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر اطلاعات اجمل وزیر نے کہا کہ صوبائی حکومت اس وقت مساجد کو بند کرنے پر غور نہیں کررہی۔

انہوں نے بتایا کہ ’میں نے ذاتی طور پر تمام مسالک کے مذہبی رہنماؤں کے ساتھ ملاقات کی جنہوں نے اس بات کی یقین دہانی کروائی کہ جاری کردہ ہدایات (جائے نماز، قالینوں کو ہٹانے اور نماز جمعہ 2 جماعتوں میں ادا کرنے) پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔

دوسری جانب پشاور سے ایک نمائندے کا کہنا تھا کہ مساجد سے قالین اور جائے نماز ہٹانے کے باوجود شہر کے کچھ علاقوں میں روزانہ ہر نماز کے بڑے اجتماعات ہورہے ہیں۔

ڈان ڈاٹ کام کی ٹیم کے ایک رکن نے بتایا کہ ’مساجد میں لوگوں کی تعداد میں پہلے سے زیادہ اضافہ ہوا ہے، شہر میں اس آزمائشی وقت میں جزوی لاک ڈاؤن ہونے کی وجہ سے زیادہ تر افراد گھروں پر ہیں اور ان کی فطرت انہیں خدا کی مدد حاصل کرنے کے لیے مساجد میں جا کر عبادت کرنے پر آمادہ کرتی ہے‘۔

اسی طرح ضلع شانگلہ سے بھی اسی قسم کی رپورٹس موصول ہوئی جہاں اسسٹنٹ کمشنر بشام خرم نے کہا کہ ’یہاں مساجد کھلی ہیں البتہ تبلیغی مراکز بند ہیں‘۔

دوسری جانب ڈپٹی کمشنر سوات ثاقب رضا نے کہا کہ ’سوات کے تبلیغی مرکز میں کام روک دیا گیا ہے اور تمام بڑے تبلیغی مراکز کو بند کردیا گیا ہے، مساجد کھلی ہوئی ہے لیکن عوام کو گھروں پر نماز ادا کرنے کا مشورہ دیا جارہا ہے‘۔

آزاد کشمیر

آزاد کشمیر سے ایک فرد نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ ’تمام مساجد معمول کے مطابق فعال ہیں تاہم بہت سے عقیدت مند گھروں پر نماز کی ادائیگی کو ترجیح دے رہے ہیں‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جن علاقوں میں وہ گئے وہاں متعدد مساجد سے قالین اور جائے نماز ہٹادی گئیں ہیں۔

پنجاب

دریں اثنا پنجاب میں بھی مساجد معمول کے مطابق اپنے افعال جاری رکھے ہوئے ہیں حالانکہ وہاں رائیونڈ اجتماع میں شرکت کرنے والے کم از کم 3 غیر ملکیوں میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

ان میں سے 2 کیسز غزہ کی پٹی کے ابتدائی 2 کورونا کیسز ہیں۔

اسلام آباد

وفاقی دارالحکومت میں انتظامیہ کو بارہ کہو کے علاقے میں ایک مسجد میں موجود 2 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہونے کے بعد یونین کونسل کو جزوی طور پر سیل کرنا پڑا۔

تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ جو 2 افراد اس وبا سے متاثر ہوئے انہوں نے رائیونڈ اجتماع میں شرکت کی تھی کہ نہیں البتہ اجتماع میں شرکت کرنے والوں یا شرکت کرنے والوں کے رابطے میں آنے والے مزید 6 افراد میں کورونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آیا۔

دیگر اسلامی ممالک میں صورتحال

سعودی عرب میں پنجگانہ نماز کے ساتھ ساتھ پورے ملک میں نمازِ جمعہ کے اجتماعات پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے تاہم مکہ مکرمہ میں مسجد الحرام اور مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کو اس پابندی سے استثنیٰ ہے۔

اسی طرح ترکی میں اعلیٰ مذہبی حکام بھی نماز جمعہ کے روایتی اجتماع کے ساتھ ساتھ مساجد میں نماز کے جماعت پر پابندی لگا چکے ہیں لیکن جو افراد اکیلے نماز ادا کرنا چاہیں ان کے لیے مساجد کھلی رہیں گی۔

کویت میں جہاں نماز کے اجتماع پر پابندی ہے وہاں اذان میں تبدیلی کر کے لوگوں کو گھروں میں نماز کی ہدایت کی جارہی ہے اور مساجد سے اذان دیتے ہوئے حی علی الصلواۃ (یعنی نماز کی طرف آؤ) کے بجائے الصلوٰۃ فی بیوتکم کے الفاظ استعمال کیے جارہے ہیں۔

اذان میں اس تبدیلی کی روایت صحیح بخاری سے ملتی ہے جس میں عبداللہ بن الحارث سے مروی حدیث کا مفہوم ہے کہ نبی ﷺ نے شدید بارشوں کی صورت میں اس تبدیلی کی اجازت دی تھی۔

ایران اور مسلمانوں کے دیگر مراکز نے بھی مزاروں اور مقدس مساجد میں سرگرمیاں معطل کردی ہیں تا کہ کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکا جاسکے۔

تاہم پاکستان میں گزشتہ 2 ہفتوں سے صدر مملکت عارف علوی یہ تجویز دے رہے ہیں اگر کسی کی طبیعت ٹھیک نہیں تو وہ گھر میں نماز ادا کرے جبکہ دارالافتا پاکستان، پاکستان علما کونسل اور وفاق المساجد، مدارسِ پاکستان نے متفقہ طور پر عوام کو کہا ہے کہ شریعت کے مطابق کورونا وائرس کے خلاف حکومت کی بتائی گئی احتیاطی تدابیر پر عمل کیا جائے۔