سعودی عرب: مساجد میں نمازوں کی ادائیگی پر پابندی عائد

18 مارچ 2020

ای میل

سعودی حکومت کی جانب سے یہ فیصلہ ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے اقدام کے طور پر کیا گیا ہے — فائل فوٹو
سعودی حکومت کی جانب سے یہ فیصلہ ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے اقدام کے طور پر کیا گیا ہے — فائل فوٹو

سعودی عرب میں مسجد الحرام اور مسجد نبویﷺ کے علاوہ تمام مساجد میں جمعہ اور پانچوں وقت کی نمازوں پر پابندی عائد کردی گئی۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی 'اے ایف پی' نے سعودی پریس ایجنسی کے حوالے سے کہا کہ 'کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خطرے کے پیش نظر تمام مساجد پنجگانہ اور جمعہ کی نمازوں کے لیے عارضی طور پر بند رہیں گی۔'

سعودی پریس ایجنسی کی رپورٹ میں سینئر علما کی کونسل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ تمام مساجد سے نمازوں کے لیے اذان دی جائے گی لیکن وہاں نماز کی ادائیگی نہیں ہوگی۔

تاہم اس فیصلے کا اطلاق مکہ مکرمہ کی مسجد الحرام اور مدینہ منورہ کی مسجد نبوی پر نہیں ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس سے تحفظ پر پھیلنے والے ابہام اور ان کی حقیقت

سعودی حکومت کی جانب سے یہ فیصلہ ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے اقدام کے طور پر کیا گیا ہے۔

سعودی عرب میں اب تک کورونا وائرس کے 171 کیسز سامنے آچکے ہیں، تاہم اس سے اب تک کوئی ہلاک نہیں ہوا ہے۔

سلطنت میں پہلے ہی سینما، مالز اور ریسٹورنٹس بند کیے جاچکے ہیں، پروازیں بھی معطل کردی گئی ہیں جبکہ عمرے کی ادائیگی پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔

خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے چھ رکن ممالک میں اب تک ایک ہزار سے زائد کورونا وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے۔

پیر کے روز بحرین کی وزارت صحت کے بیان میں کہا گیا تھا کہ کورونا وائرس سے خاتون ہلاک ہوئیں، یہ جی سی سی ممالک میں وائرس ے پہلی ہلاکت تھی۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس کے خلاف مسلم ممالک کے اقدامات

واضح رہے کہ کورونا وائرس سے دنیا بھر میں ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 7 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ ایک لاکھ 85 ہزار سے زائد افراد اس سے متاثر ہو چکے ہیں۔

کورونا وائرس کا آغاز چین کے شہر ووہان سے ہوا تھا اور چین میں وائرس کے نتیجے میں 3 ہزار 200 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے لیکن اب چین سے باہر ہلاکتوں کی تعداد 3ہزار 900 سے تجاوز کر چکی ہے۔