Dawn News Television Logo

سالنامہ: عوام کے لیے معاشی لحاظ سے ایک اور مشکل سال

2021ء کو وزیراعظم عمران خان کے بیانات کی روشنی میں دیکھیں تو یہ ترقی اور خوشحالی کا سال ہونا چاہیے تھا مگر حالات ہمارے سامنے ہیں۔
اپ ڈیٹ 22 دسمبر 2021 02:28pm

کراچی میں سردیاں تو کم ہی آتی ہیں مگر موسم کے ساتھ جب جیب بھی ٹھنڈی ہو تو سردی زیادہ ہی لگتی ہے۔ دسمبر کا بڑا حصہ گزر چکا ہے اور میں معیشت کا سالنامہ لکھنے کی تگ و دو کررہا ہوں۔ مگر اس سرد موسم میں جیسے الفاظ بھی نوکِ قلم پر آکر جم گئے ہیں۔

معیشت کا جو حال 3 سال پہلے تھا وہ اب پہلے سے کئی گنا زیادہ خراب ہوچلا ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ ایک نیا معاشی مسئلہ سر اٹھائے کھڑا ہوتا ہے مگر حکومت اب بھی تمام مسائل سے لاپرواہ دکھائی دے رہی ہے۔ جس معاشی اعشاریے کو اٹھا کر دیکھیے، منفی ہی نظر آتا ہے۔

بعض الفاظ اور جملے ایسے ہوتے ہیں کہ جو اگر منہ سے کبھی نکل جائیں تو روزِ آخر تک پیچھا نہیں چھوڑتے۔ معیشت کے بارے میں عمران خان نے بطور اپوزیشن لیڈر جو بھی تنقید کی تھی اور اس وقت کی حکومت کے جس جس عمل کو غلط قرار دیا تھا، ان کی بازگشت اب انہیں بطور وزیرِاعظم سننے کو مل رہی ہے۔ نہ صرف ان کی کارکردگی غیر اطمینان بخش ہے بلکہ ان کی کابینہ میں شامل وزرا کے بیانات تو عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کا کام کرتے ہیں۔

مثلاً وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے ادویات کی قیتموں کے حوالے سے حال ہی میں یہ بیان دیا کہ 'اگر 3 روپے قیمت ہے اور 7 روپے ہو گئی تو کیا قیامت آگئی؟' ایسے بیانات حکومت میں بیٹھے افراد اور پالیسی سازوں کی عوام سے لاتعلقی اور بے حسی کو ظاہر کرتے ہیں۔

موجودہ حکومت کی جانب سے شوکت ترین کو وزیرِ خزانہ بنانے کے بعد معیشت کو توسیع پسندانہ خطوط پر استوار کیا گیا تھا۔ کسی حد تک شوکت ترین نے معیشت کو وسعت دینے اور کھپت میں اضافہ کرکے ترقی کے اہداف حاصل کرنے کی پالیسی اپنائی تھی مگر روپے کی قدر میں شروع ہونے والی گراوٹ اور نومبر میں بنیادی شرحِ سود میں 1.5 فیصد کے اضافے نے معیشت کا رخ ترقی سے معیشت کو مستحکم بنانے اور کرنٹ اکاؤنٹ میں پیدا ہونے والے رسک کو کم کرنے کی طرف موڑ دیا۔

افراطِ زر یا مہنگائی

چلیں بات شروع کرتے ہیں مہنگائی سے جس کا شور ہر طرف ہے۔ ریاست کے اپنے اداروں کے اعداد و شمار اس کی گواہی دیتے ہیں۔ عمران خان جب اپوزیشن میں تھے تو کہتے تھے کہ جب مہنگائی بڑھے تو سمجھو کہ وزیرِاعظم چور ہے۔ اب ان کی حکومت میں مہنگائی کی شرح اس قدر بڑھ گئی ہے کہ عوام کی چیخیں نکل گئی ہیں۔

یہ مہنگائی غریب طبقے کو معاشی لحاظ سے بُری طرح متاثر کرتی ہے جس کے نتیجے میں اس کی قوتِ خرید بھی تیزی سے کم ہوجاتی ہے۔ اسی طرح چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار بھی اس کی زد میں آتے ہیں کیونکہ ان کے پاس نہ تو کسی ملٹی نیشنل کمپنی جیسا نیٹ ورک ہوتا ہے، نہ سپلائی چین اور نہ ہی فنانسنگ کی کوئی سہولت میسر ہوتی ہے، لہٰذا مہنگائی کے باعث متعدد چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار معیشت سے نکل جاتے ہیں اور بڑی کمپنیاں باقی رہ جاتی ہیں جس کی وجہ سے ان کے منافعے میں بھی تیزی سے اضافہ ہوتا ہے۔

اس کے علاوہ اسٹیٹ بینک کا اپنے 'بینک مانیٹری پالیسی بیان' میں کہنا ہے کہ بجلی کے نرخوں میں اضافہ، ایندھن، مکان کے کرائے، دودھ اور خوردنی تیل کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ رواں مالی سال کے دوران مہنگائی کی شرح 9 سے 11 فیصد رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

مالی سال 2018ء میں جب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے اقتدار سنبھالا تو اس وقت مہنگائی کی عمومی شرح (جنرل انفلیشن ریٹ) 4.2 فیصد تھی۔ غذائی اجناس کی قیمتوں میں اضافے کی شرح 3.8 فیصد اور نان فوڈ انفلیشن 4.4 فیصد تھی۔

پی ٹی آئی حکومت کے قیام کے بعد مالی سال 2019ء میں مہنگائی کی شرح 6.8 فیصد رہی جس میں غذائی اجناس کی قیمتوں میں اضافہ 4.8 فیصد تک رہا۔ بعدازاں مالی سال 2020ء میں مجموعی مہنگائی کی شرح 10.7 فیصد رہی اور دیہی علاقوں میں فوڈ انفلیشن 13.6 فیصد رہا۔ 30 جون 2021ء کو ختم ہونے والے مالی سال میں مجموعی مہنگائی کی شرح 8.9 فیصد رہی جبکہ دیہی علاقوں میں فوڈ انفلیشن 13.1 فیصد تک دیکھا گیا۔ سال 2021ء کا جائزہ لیا جائے تو اس میں انفلیشن جنوری کے علاوہ کسی بھی مہینے میں 8 فیصد سے کم نہ رہا جبکہ اپریل میں 11.1 فیصد، مئی میں 10.9 فیصد اور نومبر میں 11.5 فیصد رہا۔ مگر سال بھر میں فوڈ انفلیشن دوہری ہندسے یا 10 فیصد سے زائد ہی رہا۔

مذکورہ بالا اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ مہنگائی عوام کی برداشت سے باہر ہوگئی ہے۔ پاکستان زرعی ملک ہونے کے باوجود کھانے پینے کی اشیا (اجناس) کا ایک بڑا درآمدی مرکز بھی بن گیا ہے۔ مثلاً موجودہ حکومت چینی اور آٹے کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے ان کو درآمد کررہی ہے مگر اس سے کوئی فرق نہیں پڑ رہا۔ آٹے کی قیمت دگنی ہوگئی ہے اور آٹے کی قیمت 40 روپے سے بڑھ کر 80، 85 روپے فی کلو گرام تک پہنچ چکی ہے۔ اسی طرح سے چینی کا دام بھی 65 روپے سے بڑھ کر 150 روپے فی کلو گرام تک پہنچ گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزیرِاعظم نے تاریخی عوامی ریلیف پیکیج کا اعلان تو کیا ہے مگر اس سے استفادہ کرنے کے لیے پہلے اچھا سا موبائل خریدنا ہوگا۔

مہنگائی غریب طبقے کو معاشی لحاظ سے بُری طرح متاثر کرتی ہے—— فائل فوٹو: ڈان
مہنگائی غریب طبقے کو معاشی لحاظ سے بُری طرح متاثر کرتی ہے—— فائل فوٹو: ڈان

ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں مہنگائی کی دو بڑی وجوہات ہیں، ان میں سے پہلی وجہ عالمی منڈی میں اجناس کی قیمتوں میں اضافہ ہے اور دوسری وجہ روپے کی قدر میں تیزی سے ہونے والی گراوٹ ہے۔

روپے کی ناقدری

روپے کی قدر کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ قدر میں کمی سے ملک پر غیر ملکی قرضوں کا بوجھ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ عمران خان برسرِ اقتدار آئے تو روپے کی قدر 120 روپے فی امریکی ڈالر تھی۔ گزشتہ 40 ماہ کے دوران روپے کی قدر میں 30.5 فیصد کی کمی دیکھی گئی ہے۔ 1971ء میں جب ملک دولخت ہوا تھا، اس وقت تاریخ میں سب سے بڑی گراوٹ دیکھنے کو ملی تھی، اور اس کے بعد موجودہ حکومت میں اس قدر بڑی گرواٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ روپے کی قدر میں کمی صرف اور صرف آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے کے لیے کی گئی ہے اور اس کا معیشت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

روپے کی قدر میں 30.5 فیصد کمی سے مہنگائی میں براہِ راست اتنا ہی زیادہ اضافہ ہوا ہے کیونکہ پاکستان جہاں پہلے ہی بڑے پیمانے پر اجناس اور ایندھن درآمد کرتا تھا وہاں عمران خان کے دورِ حکومت میں چینی اور آٹا بھی بڑے پیمانے پر درآمد کرنے لگا ہے۔

روپے کے مقابلے میں اگر دیگر کرنسیوں کا جائزہ لیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ بھارتی روپے کی قدر 2018ء میں 70.09 روپے فی ڈالر جبکہ 2021ء میں 74.57 روپے فی ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔ اسی طرح 2018ء میں بنگلادیشی ٹکے کی قدر 85.76 ٹکہ فی ڈالر تھی اور اس وقت بنگلادیشی ٹکے کی قدر 85.9 ٹکہ فی ڈالر ہے۔ اس خطے کے ان 2 ملکوں کی کرنسیوں کا جائزہ لینے پر اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستانی روپے نے دیگر کرنسیوں کے مقابلے میں بُری کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔

گزشتہ 20 برسوں میں روپے کی قدر میں آنے والے اُتار چڑھاؤ کا جائزہ لیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ شوکت عزیز جب وزیرِاعظم تھے اس وقت ایک ڈالر تقریباً 60 روپے کا تھا۔ 2008ء میں جب پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی حکومت قائم ہوئی اس وقت پاکستان طویل عرصے بعد آئی ایم ایف پروگرام کا حصہ بنا اور ایک ڈالر 80 روپے کا ہوگیا اور پی پی پی حکومت میں ایک ڈالر 89.5 روپے کا رہا۔

2013ء میں مسلم لیگ (ن) کی جانب سے حکمرانی کی باگ ڈور سنبھالنے سے قبل قائم عبوری حکومت میں روپے کی قدر 107.5 روپے فی ڈالر تک گرچکی تھی۔ جون 2014ء میں سابق وزیرِ خزانہ اسحٰق ڈار روپے کی قدر کو واپس 98 روپے فی ڈالر تک لے آئے تاہم 2014ء میں ایک ڈالر 105 روپے کا ہوگیا۔ نواز شریف کو نااہل قرار دیے جانے سے ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا ہوا اور مفتاح اسمٰعیل کے وزیرِ خزانہ بننے کے بعد روپے کی قدر 118 روپے فی ڈالر تک پہنچ گئی۔ سابق گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر شمشاد اختر بطور نگران وزیرِ خزانہ روپے کی قدر کو کم کرتے ہوئے 128 روپے تک لے گئی تھیں مگر سب سے زیادہ گراوٹ موجودہ حکومت کے دور میں دیکھی گئی ہے، اور روپے کی قدر 57 روپے تک کم ہوئی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ روپے کی قدر میں کمی سے ملک پر غیر ملکی قرضوں کا بوجھ کئی گنا بڑھ جاتا ہے—رائٹرز
کہا جاتا ہے کہ روپے کی قدر میں کمی سے ملک پر غیر ملکی قرضوں کا بوجھ کئی گنا بڑھ جاتا ہے—رائٹرز

موجودہ مشیرِ خزانہ شوکت ترین یہ اعتراف تو کرتے ہیں کہ روپے کی قدر میں سٹے بازی کی جارہی ہے مگر اس کے باوجود اسٹیٹ بینک اور وفاقی حکومت اس سٹے بازی کے خلاف اقدامات اٹھانے سے قاصر نظر آتی ہیں۔ اسٹیٹ بینک نے شوکت ترین کے اس بیان کو زیادہ اہمیت نہیں دی۔

شوکت ترین کے مطابق روپے کی قدر 164 روپے فی ڈالر کے قریب ہونی چاہیے، سٹے باز ڈالر پر ایک بڑی رقم یعنی 10 سے 15 روپے لے جارہے ہیں۔ تاہم نہ اسٹیٹ بینک اور نہ ہی وزارتِ خزانہ اب تک ان سٹے بازوں کا پتا لگا پائی ہے اور نہ ہی ان کے خلاف کوئی کارروائی ہوئی ہے۔ کہیں ادویات، چینی اور آٹے کے بحران کے ساتھ ساتھ روپے کی ناقدری کے ذمہ دار بھی حکومت کا حصہ تو نہیں ہیں؟

اسٹاک مارکیٹ

اسٹاک مارکیٹ کی صورتحال بھی متاثرکن نہیں اور مسلسل گراوٹ کی وجہ سے عوام سرمایہ کاری پر زیادہ منافع حاصل نہیں کرسکے۔

جنوری 2019ء میں کراچی اسٹاک ایکسچینج (کے ایس ای) 100 انڈیکس 37795 پوائنٹس کی سطح پر رہا جبکہ اگست میں انڈیکس 28764 پوائنٹس کی سطح پر آگیا تھا۔ تاہم جنوری 2020ء تک اسٹاک مارکیٹ کی صورتحال سنبھل گئی اور انڈیکس 43218 پوائنٹس کی سطح تک اوپر گیا مگر یہ تیزی زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی اور انڈیکس میں تیزی سے گراوٹ ہوئی اور مارچ 2020ء میں انڈیکس 27228 پوائنٹس کے ساتھ موجودہ حکومت کے دور میں اپنی کم ترین سطح پر دیکھا گیا۔

بعدازاں انڈیکس میں تیزی سے اضافہ ہونا شروع ہوا اور 15 جون 2021ء کو انڈیکس موجودہ حکومت کے دور میں اپنی بلند ترین سطح یعنی 48623 تک پہنچ گیا۔ یاد رہے کہ (24 مارچ 2017ء کو) 52318 پوائنٹس کے ساتھ گزشتہ حکومت نے اپنے دور کی بلند ترین سطح حاصل کی تھی، چنانچہ موجودہ حکومت کے دور کی بلند ترین سطح بھی اب تک گزشتہ حکومت کے دور کی بلند ترین سطح سے تقریباً 4 ہزار پوائنٹس کی کمی کا شکار رہی ہے۔

جیسے جیسے دسمبر کا مہینہ گزر رہا ہے، ویسے ویسے اسٹاک ایکسچینج رواں حاصل ہونے والے اضافے کو کھوتی چلی جارہی ہے۔ دسمبر 13 کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں 519 پوائنٹس کا خسارہ ہوا جس کے بعد مارکیٹ 9 ماہ قبل والی حالت کی طرف لوٹ گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق ٹیکسوں میں مجوزہ اضافے، روپے کی قدر میں مسلسل کمی اور اسٹیٹ بینک کی جانب سے بنیادی شرحِ سود میں متوقع اضافے کی وجہ سے اسٹاک ایکسچینج گراوٹ کا شکار ہے۔

جیسے جیسے دسمبر کا مہینہ گزر رہا ہے، ویسے ویسے اسٹاک ایکسچینج رواں حاصل ہونے والے اضافے کو کھوتی چلی جارہی ہے— فائل فوٹو:اے ایف پی
جیسے جیسے دسمبر کا مہینہ گزر رہا ہے، ویسے ویسے اسٹاک ایکسچینج رواں حاصل ہونے والے اضافے کو کھوتی چلی جارہی ہے— فائل فوٹو:اے ایف پی

کمپنیوں کی رجسٹریشن کے حوالے سے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے لیے مالی سال 2021ءبہت خوش آئند رہا۔ رواں سال 32 کمپنیوں نے اسٹاک ایکسچینج کے ذریعے 80 ارب روپے کا سرمایہ حاصل کیا۔ ان میں وہ 8 نئی کمپنیاں بھی شامل ہیں جنہوں نے اسٹاک مارکیٹ میں اندراج کروا کر 20 ارب 17 کروڑ روپے کا سرمایہ اکٹھا کیا۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کمپنیوں کی رجسٹریشن کے لیے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن نے گروتھ انٹرپرائز مارکیٹ بورڈ (جس کو 'جیم بورڈ' بھی کہا جاتا ہے) متعارف کروایا ہے۔ اس کے ذریعے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار، نئی قائم ہونے والی کمپنیوں اور اسٹارٹ اپس کے لیے اسٹاک ایکسچینج کے دروازے کھل گئے ہیں۔ اب تک جیم بورڈ کے ذریعے دو کمپنیوں کی لسٹنگ ہوچکی ہے۔

اس کے علاوہ کمپنیوں کو حصص کی اوّلین عوامی فروخت کے بجائے اسٹاک ایکسچینج میں براہِ راست لسٹنگ کی سہولت بھی اسی سال متعارف کروائی گئی۔ جو کمپنیاں براہِ راست لسٹنگ سے اسٹاک ایکسچینج میں اپنا اندراج کروائیں گی انہیں 2 سال کے اندر اندر پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے قواعد پر عمل کے حوالے سے چھوٹ ہوگی۔

ہمارے پڑوسی اور حریف ملک بھارت کی اسٹاک ایکسچینج کی کیپیٹلائزیشن 3 ہزار ارب ڈالر سے بھی تجاوز کرچکی ہے اور اس میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ مگر پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں گراوٹ روپے کی قدر میں گراوٹ کی وجہ سے بُری طرح متاثر ہوئی اور اسٹاک مارکیٹ کے انڈیکس کو کم ترین سطح سے اوپر آنے کے باوجود اس کی کیپیٹلائزیشن ڈالر میں کم ترین سطح پر آگئی۔

اسٹاک ایکسچینج کے مینیجنگ ڈائریکٹر فرخ ایچ خان کا کہنا ہے کہ ’روپے کی قدر میں کمی سے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی کیپٹیلائزیشن پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ مارکیٹ کیپیٹلائزیشن جو 100 ارب ڈالر سے زائد ہوچکی تھی وہ کم ہوکر لگ بھگ 45 ارب تک پہنچ گئی ہے‘۔

مانیٹری پالیسی

مانیٹری پالیسی کو سخت اور نرم کرنے کے عوام پر براہِ راست اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ جب روپے کی قدر کم ہو یا بین الاقوامی سطح پر خصوصاً ان اشیا کی قیمت میں اضافہ ہو جو پاکستان درآمد کرتا ہے تو دونوں صورتوں میں افراطِ زر پیدا ہوتا ہے۔ یعنی مقامی سطح پر قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ مانیٹری پالیسی کمیٹی کے گزشتہ اجلاس میں بنیادی شرح سود میں ڈھائی فیصد کا اضافہ کیا گیا۔ اس امر کے پیچھے بنیادی مقصد بڑھتے ہوئے انفلیشن یعنی عام استعمال کی اشیا کی قیمتوں کو قابو میں رکھنا اور بڑھتے ہوئے کرنٹ اکاؤنٹ کے خسارے کو کنٹرول کرنا ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ دراصل بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے کی وجہ سے ہے۔

اسٹیٹ بینک کی جانب سے بنیادی شرحِ سود میں کیے جانے والے اضافے سے صنعتی پیداوار متاثر ہوگی کیونکہ اس عمل سے خام مال کی قیمت بڑھنے کا امکان ہے۔ دوسری جانب زراعت کی پیداوار میں کسی قسم کی کمی ہونے کی توقع نہیں ہے۔ چنانچہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی ترقی کے اہداف پر منفی اثرات مرتب نہیں ہوں گے اور ممکنہ طور پر جی ڈی پی کے 4 سے 5 فیصد کے ہدف کو حاصل کیا جاسکے گا۔

مانیٹری پالیسی کو سخت اور نرم کرنے کے براہِ راست اثرات عوام پر پڑتے ہیں——وکی میڈیا کامنز
مانیٹری پالیسی کو سخت اور نرم کرنے کے براہِ راست اثرات عوام پر پڑتے ہیں——وکی میڈیا کامنز

کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ

بڑھتا ہوا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ پالیسی سازوں کے لیے باعثِ تشویش بنا ہوا ہے۔ مالی سال کے ابتدائی 4 ماہ میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 5 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا اور اکتوبر میں ایک ارب 66 کروڑ ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔ اس کی بڑی وجہ عالمی سطح پر اجناس اور خدمات کی درآمدات میں اضافہ ہے۔ اس اضافے کا بوجھ پاکستان روپے کی قدر پر بھی پڑا ہے۔

مالیات اور ٹیکس

حکومت کا مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے 0.8 فیصد کے برابر پہنچ گیا ہے جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے 1.1 فیصد کے برابر تھا۔ شرح سود میں اضافے کے بعد مالیاتی خسارے میں مزید اضافہ متوقع ہے کیونکہ قرضوں پر واپسی کی رقم بڑھ جائے گی۔

حکومتی ٹیکسوں کی وصولی کی صورتحال حوصلہ افزا نظر آرہی ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ٹیکسوں کی وصولی نئے مالی سال میں ہدف سے 36.5 فیصد زائد رہی ہے۔ پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی اور نان ٹیکس محاصل میں 22.6 فیصد کی کمی کے باوجود یہ اضافہ دیکھا گیا۔

حکومت موجودہ مالی سال کا نظرثانی شدہ بجٹ پیش کرنے جارہی ہے، اس دوران جون کے بجٹ میں رکھے گئے ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی اور ٹیکسوں کی چھوٹ ختم کرنے کے لیے بل پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔ اس منی بجٹ یا نظرثانی شدہ تخمینے میں 200 ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ اور 50 ارب روپے کے حکومتی اخراجات میں کٹوتی کی جائے گی اور مختلف شعبہ جات میں دی جانے والی ٹیکس چھوٹ کو ختم کرتے ہوئے 700 ارب روپے کے اضافی محصولات جمع کرنے کی قانون سازی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ انکم ٹیکس سلیب میں بھی تبدیلی کی جائے گی۔

اس منی بجٹ میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر پر عائد انکم ٹیکس کی شرح کو بڑھایا جائے گا اور اس کا اطلاق 20 سے بڑھا کر 40 شہروں پر کیا جائے گا۔ ساتھ ہی ساتھ سیلز ٹیکس کی مد میں 350 ارب روپے اضافی جمع کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے، اس مقصد سے روزمرہ استعمال کی خوراک، اجناس اور اشیا پر سیلز ٹیکس کی شرح 17 فیصد کی جائے گی اور فون کالز پر ٹیکس میں 50 فیصد کا اضافہ کیا جائے گا۔

اطلاعات کے مطابق دودھ، بیکری مصنوعات، گوشت اور مرغی، سونے، موٹرسائیکل، برقی گاڑیوں اور موبائل فونز کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوگا جس سے مہنگائی کا طوفان آسکتا ہے۔

آئی ایم ایف پروگرام کی واپسی

پاکستان کی عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے اسٹاف کی سطح پر پروگرام کی بحالی سے متعلق مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں اور آئی ایم ایف کے بورڈ سے اس کی حتمی منظوری ملنے کا انتظار کیا جارہا ہے۔ مگر بورڈ میں جانے سے پہلے پاکستان کو معاشی سطح پر اقدامات کرنے ہوں گے، جن میں اسٹیٹ بینک کی خودمختاری کے قانون کی پارلیمنٹ سے منظوری، بجلی گیس اور دیگر یوٹیلٹی کے نرخوں میں اضافہ، مالیاتی اور ادارہ جاتی اصلاحات و دیگر ایسے اقدامات شامل ہیں جو بورڈ کے اجلاس سے پہلے مکمل کرنے ہوں گے۔ اس کے بعد ہی آئی ایم ایف کا بورڈ پاکستان کے لیے ایک ارب 6 کروڑ ڈالر کی قسط منظور کرے گا۔ اس طرح پاکستان کو ملنے والے فنڈز کی مجموعی رقم 3.027 ارب ڈالر ہوجائے گی۔ تاہم پاکستان کو غیر ملکی قرضوں کی واپسی کے حوالے سے بھی اقدامات کرنے ہوں گے۔

آئی ایم ایف کے بورڈ میں جانے سے پہلے پاکستان کو معاشی سطح پر اقدامات کرنے ہوں گے—فائل فوٹو:اے ایف پی
آئی ایم ایف کے بورڈ میں جانے سے پہلے پاکستان کو معاشی سطح پر اقدامات کرنے ہوں گے—فائل فوٹو:اے ایف پی

آئی ایم ایف نے ملکی جی ڈی پی کی ترقی کی شرح 4 فیصد تک رہنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ اس کے علاوہ آئی ایم ایف نے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے لیے دباؤ بھی ڈالا ہے اور سرکلر ڈیٹ کو ختم کرنے کے لیے سرکلر ڈیٹ مینجمنٹ پلان پر عمل کیا جائے تاکہ توانائی کی سپلائی چین کو ابھارا جائے۔

پاک چین اقتصادی راہداری

پاک چین اقتصادی راہداری یا سی پیک سے جڑے منصوبے موجودہ حکومت کے قیام سے ہی سست رفتاری کا شکار ہے۔ یا یوں کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ پاکستان نے اس بڑے منصوبے کو بیک برنر پر ڈال دیا ہے۔ گزشتہ 3 برسوں میں گوادر ایئر پورٹ کے علاوہ سی پیک سے جڑے کسی بڑے منصوبے کا سنگِ بنیاد نہیں رکھا جاسکا ہے۔ 51.3 ارب روپے کی لاگت سے بننے والے اس ایئرپورٹ کے لیے پاکستان 18.1 ارب روپے جبکہ بقیہ 33.8 ارب روپے چین فراہم کرے گا۔

اسد عمر کے مطابق سی پیک میں اب تک 29 ارب ڈالر کے منصوبوں پر سرمایہ کاری ہوئی ہے جس میں زیادہ تر سرمایہ کاری توانائی اور انفرااسٹرکچر کے شعبوں میں کی گئی۔ گزشتہ ماہ وزیرِ اعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالزاق داؤد کا کہنا تھا کہ ہم سی پیک کا نیا مرحلہ شروع کررہے ہیں جس میں زراعت کا شعبہ اوّلین ترجیح ہوگی۔ مگر اس حوالے سے کن شعبہ جات میں تعاون کیا جائے گا؟ وہ یہ بتانے سے قاصر رہے۔

اپریل میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق سی پیک کے تحت اب تک بجلی کے 5320 میگا واٹ کے منصوبے لگائے جاچکے ہیں۔ جس کے نتیجے میں پاکستان میں ٹرانسمیشن کی صلاحیت سے زائد بجلی دستیاب ہوگئی ہے لہٰذا اس کی گنجائش کی ادائیگیوں اور پاور پلانٹس کے قرضوں کی واپسی کے لیے پاکستان اپنے اندر صلاحیت ہی پیدا نہیں کرسکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے چین کے ساتھ بجلی پلانٹس کی ادائیگیوں کے حوالے سے بات چیت شروع کردی ہے۔ اکتوبر 26 کو یہ بھی کہا گیا کہ اس حوالے سے پاکستان نے چینی بینکوں اور کمپنیوں سے بات کرنے کے بجائے براہِ راست چینی حکومت سے بات چیت کا فیصلہ کیا ہے۔

ملکی قرضوں کا حجم

موجودہ مالی سال کے دوران 22 مئی تک روپے کی قدر میں ڈالر کے مقابلے میں بہتری نے ملکی قرضوں کے حجم پر مثبت اثرات مرتب کیے تھے اور وہ 87.6 فیصد سے کم ہوکر جی ڈی پی کے 83.5 فیصد حصے کے برابر تک کم ہوگئے تھے۔ مگر مالی سال کے آغاز پر روپے کی قدر میں تیزی سے گراوٹ سے یہ فائدہ تقریباً زائل ہوچکا ہے بلکہ روپے کی قدر تاریخ کی نئی کم ترین سطح پر پہنچنے کی وجہ سے قرضوں کا حجم 87.6 فیصد سے بھی تجاوز کرچکا ہے۔ اب اسٹیٹ بینک کی جانب سے بنیادی شرح سود میں 2.5 فیصد اضافے کے بعد پالیسی ریٹ 9.75 ہونے سے قرضوں پر سود میں بھی اسی شرح سے اضافہ ہوگا۔

اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2021ء میں ملک کے مجموعی قرضے 47829 ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں۔ جس میں ملکی قرضہ 26265 ارب روپے، بیرونی قرضہ 12432 ارب روپے، آئی ایم ایف کا قرضہ 1161 ارب روپے کی سطح پر آگیا تھا۔ حکومت نے مقامی سطح پر بڑے پیمانے پر قرضے لیے جس سے سرکاری قرض میں مقامی کرنسی میں 86 فیصد اضافہ ہوا۔

بیرونی قرض میں 10.8 فیصد کی شرح سے اضافہ ہوا ہے اور یہ 86 ارب 40 کروڑ ڈالر کی سطح پر پہنچ گیا تھا۔ اپریل 2021ء میں پاکستان نے 2 ارب 50 لاکھ ڈالر کے یورو بانڈ کا اجرا کیا اور 2.1 گنا زیادہ پیشکش موصول ہوئی۔ یہ پاکستان کی طرف سے جاری ہونے والا قرض کا سب سے بڑا بانڈ تھا۔

مالی سال 2021ء میں حکومت نے 6.9 ارب ڈالر کا قرض واپس کیا جبکہ 2020ء میں 9 ارب ڈالر کا قرض واپس کیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ غیر ملکی قرض پر 1.5 ارب ڈالر کا سود بھی ادا کیا گیا تھا۔

پاکستان کو اس سال 23 ارب ڈالر کے غیر ملکی زرِمبادلہ ذخائر کی ضرورت ہے (جو پاکستان کے مجموعی بیرونی قرض کے 38 فیصد حصے کے برابر ہے) تاکہ وہ اپنی غیر ملکی ادائیگیوں کو جاری رکھ سکے۔ اس مقصد سے پاکستان 12 ارب ڈالر ترسیلاتِ زر جبکہ بقیہ تقریباً 11 ارب ڈالر بیرونی مارکیٹ سے حاصل کرنے کا خواہشمند ہے۔ مگر اس قرض سے پہلے پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کے پروگرام کی منظوری ضروری ہے۔ آئی ایم ایف سے منظوری ملنے کے بعد پاکستان اپنی زرِمبادلہ کی طلب کو پہلے سستے قرضے فراہم کرنے والے اداروں مثلاً عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور دیگر مالیاتی اداروں سے رجوع کرے گا۔

اس کے علاوہ پاکستان تقریباً 3 ارب 50 کروڑ ڈالر کے مساوی سکوک اور پانڈا بانڈز یورپی اور چینی مارکیٹ میں جاری کرے گا۔ پاکستان پہلے یورپی مارکیٹ میں سکوک جاری کرے گا جس کے چند ماہ بعد چینی مارکیٹ میں پانڈا بانڈز جاری کرے گا۔ اس سے قبل رواں سال کے آغاز پر پاکستان 3 ارب 50 کروڑ ڈالر کے یورو بانڈز جاری کرچکا ہے۔ یاد رہے کہ واپڈا نے بھی براہِ راست عالمی منڈی سے 50 کروڑ ڈالر کا گرین بانڈ جاری کیا تھا۔

مگر یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ پاکستان کی قرض واپس کرنے کی صلاحیت پر عالمی ریٹنگ ایجنسیاں کیا کہتی ہیں۔ پاکستان سرمایہ کاری سے متعلق درجہ بندی میں چھٹے درجے سے بھی نیچے ہے جس کی وجہ سے اس کو عالمی منڈی میں زائد شرح سود پر قرض لینا ہوگا۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس

عالمی سطح پر مالیاتی نظام کو دستاویزی صورت دینے اور اس میں شفافیت پیدا کرنے کے لیے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) قائم کی گئی ہے اور پاکستان اس کے ایشیا پیسفک گروپ کا ممبر ہے۔

ایف اے ٹی ایف اپنے ہر رکن ملک کو منی لانڈرنگ، دہشتگردی کی مالی معاونت اور مالیاتی نظام میں خامیوں کو دُور کرنے کے حوالے سے چند نکات پر عملدرآمد کے لیے کہتا ہے۔ جو رکن ملک تمام نکات پر عمل کرتے ہیں انہیں سفید فہرست کا حصہ بنایا جاتا ہے جبکہ جن ملکوں کے نظام میں کسی حد تک کمی ہو تو ان کا نام گرے لسٹ میں درج کردیا جاتا ہے۔ 2018ء میں پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ڈال دیا گیا تھا۔

جب پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ کا حصہ بنا تو موجودہ وزیرِاعظم نے اس وقت کی حکومت پر کڑی تنقید کی مگر وزیرِاعظم بننے کے 3 سال بعد بھی پاکستان وہیں کھڑا ہے جہاں 2018ء میں تھا یعنی تاحال گرے لسٹ میں شامل ہے۔

ایف اے ٹی ایف کے ایکشن پلان کے کُل 34 نکات تھے۔ جن میں سے باقی رہ جانے والے 7 نکات میں سے 4 نکات پر پاکستان مقررہ ٹائم لائن سے قبل عمل درآمد کرنے میں کامیاب رہا، بقیہ 3 نکات پر کام جاری ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان نے ترمیم شدہ میوچل لیگل اسسٹنٹ ایکٹ پاس کرلیا ہے۔ اینٹی منی لانڈرنگ اور انسدادِ دہشتگردی فنانسنگ کے حوالے سے غیر بینکاری مالیاتی اداروں کی نگرانی، بینیفیشل اونرشپ کی معلومات کی فراہمی میں شفافیت پر کام مکمل ہوگیا ہے۔ 2021ء کے ایکشن پلان میں منی لانڈرنگ مقدمات کے حوالے سے پیشرفت اور اقوامِ متحدہ کی دہشتگردوں سے متعلق فہرست میں شامل افراد کے اثاثوں کی ضبطگی بھی شامل ہے۔


موجودہ حکومت نے پاکستان میں معاشی اصلاحات کے لیے دستیاب وقت کو گنوادیا ہے۔ حکومت کو اقتدار میں آئے 3 سال ہوگئے ہیں مگر تاحال عوام معیشت میں بہتری، تنخواہوں میں اضافے، علاج کی بہتر سہولیات اور مہنگائی میں کمی کے خواب ہی دیکھ رہے ہیں۔

2021ء کو وزیرِاعظم عمران خان کے بیانات کی روشنی میں دیکھیں تو یہ ترقی اور خوشحالی کا سال ہونا چاہیے تھا مگر وہ عوام کو ایک مؤثر ریلیف دینے میں بھی ناکام نظر آرہے ہیں۔ موجودہ معاشی منظرنامے کو مدِنظر رکھیں تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان آئندہ سال یعنی 2022ء میں بھی ایسی ہی معاشی صورتحال کا شکار رہ سکتا ہے۔


راجہ کامران شعبہ صحافت سے 2000ء سے وابستہ ہیں۔ اس وقت نیو ٹی وی میں بطور سینئر رپورٹر فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ آپ پرنٹ، الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا میں کام کا تجربہ رکھتے ہیں۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔