پاکستان

سزائے موت کے 50 قیدیوں کی رحم کی اپیل مسترد، رپورٹ

صدر نے دہشت گردی کے مقدمات میں سزا یافتہ قیدیوں کی اپیلیں مسترد کی ہیں، کسی بھی وقت پھانسی دی جا سکتی ہے، بی بی سی۔

اسلام آباد: صدر مملکت ممنون حسین نے دہشت گردی کے مقدمات میں سزا یافتہ 50 سے زائد قیدیوں کی رحم کی اپیلیں مسترد کر دی ہیں ۔

برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی کے مطابق ان مجرموں کو کسی بھی وقت تختہ دار پر لٹکا دیا جائے گا۔

ڈاکٹر عثمان اور ارشد مہربان کو پھانسی دیدی گئی

واضح رہے کہ پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر ہونے والے حملے کے بعد اب تک 6 افراد کو پھانسی دی جا چکی ہے۔

برطانوی ادارے کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ پھانسی کے عمل کو تیز کرنے کے لیے بلیک وارنٹ جاری ہونے کے بعد سزائے موت دیے جانے کی مدت کو 14 دنوں سے کم کر کے 3دن تک محدود کر دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں : فیصل آباد میں مزید 4 مجرموں کو پھانسی دے دی گئی

ان کا کہنا ہے کہ اگر ان دنوں میں انہیں پھانسی نہیں دی گئی تو حکومت کو نیا بلیک وارنٹ جاری کرنا ہوگا۔

یاد رہے کہ وفاٍقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان 500 افراد کو پھانسی دیئے جانے کا امکان ظاہر کر چکے ہیں

وزیرداخلہ کا بیان : مزید 500 دہشت گردوں کو پھانسی دیں گے، چوہدری نثار

دوسری جانب ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی پاکستان میں سزائے موت کی بحالی پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور ایک بیان میں عالمی تنظیم نے پاکستان میں مزید 500 مجرموں کو پھانسی دینےکی اطلاعات کو پریشان کن قرار دیا۔