ای میل

قلعہ کوٹ ڈجی: جو ناقابل تسخیر تھا

سندھ میں اب چند ہی ایسے کوٹ اور قلعے رہ گئے ہیں جنہیں دیکھ کر شاندار ماضی کو تو یاد کیا جاسکتا ہے مگر ان کا حال قابل رشک نہیں۔ ایسا لگتا کہ گزرتے ہوئے وقت کے گھوڑے کی ٹاپوں تلے اب وہ روندے جا رہے ہیں۔ ایسا ہی ایک تاریخی قلعہ کوٹ ڈجی کا ہے جو خیرپور میرس شہر سے جنوب کی جانب بیس سے پچیس کلومیٹر دور قومی شاہراہ پر ایک چھوٹی سی پہاڑی پہ واقع ہے۔

آپ جیسے ہی قلعے کے احاطے میں داخل ہوتے ہیں تو قد آدم دیواریں اور قلعے کے برج دکھائی دیتے ہیں۔ مگر آج وہاں نہ تو کوئی بادشاہ تخت نشیں ہے نہ کوئی رانی حرم میں ہے اور نہ ہی کوئی شاہی ملازم جو بادشاہ کے ایک اشارے کے منتظر رہتے تھے۔

قلعہ کوٹ ڈجی — تصویر اختر حفیظ
قلعہ کوٹ ڈجی — تصویر اختر حفیظ

قلعہ کوٹ ڈجی — تصویر اختر حفیظ
قلعہ کوٹ ڈجی — تصویر اختر حفیظ

قلعے کا برج — تصویر اختر حفیظ
قلعے کا برج — تصویر اختر حفیظ

کوٹ ڈجی کا قلعہ ایک مضبوط دفاعی قلعہ ہے، جسے مکمل طور پر اس طرز پر تعمیر کروایا گیا تھا کہ کوئی اگر اسے فتح کرنے بھی آئے تو اس کے لیے انتہائی دشواریوں کا سامنا ہو۔

اسی لیے ہی شاہی دروازے پر یہ عبارت تحریر کی گئی تھی

قلعه احمدآباد پر سنگ است دل دشمنان ازو تنگ است

کوٹ ڈجی کے قلعے پر آویزاں کی گئی تختی پر اس کی تعمیر کا سال 1795 لکھا ہوا ہے جبکہ چند کتابوں میں تعمیر کا سال 1797 بھی ملتا ہے۔ مگر تعمیر ہونے کی ابتدا 1785 میں ہوئی تھی۔ قلعے کو اس وقت کے حکمران میر سہراب خان تالپور نے تعمیر کرواتا تھا۔ میر سہراب خان خیرپور حکومت کے بانی تھے۔

قلعہ کوٹ ڈجی — تصویر اختر حفیظ
قلعہ کوٹ ڈجی — تصویر اختر حفیظ

قلعے کی ایک فصیل — تصویر اختر حفیظ
قلعے کی ایک فصیل — تصویر اختر حفیظ

ہالانی کی جنگ کے بعد کلہوڑا خاندان کی حکومت کا خاتمہ ہوا۔ اس جنگ میں میر سہراب نے اہم کردار ادا کیا اور سندھ کے فاتح قرار پائے تھے۔ مگر انہوں نے کسی کا ماتحت رہنے کی بجائے اپنا تخت خیرپور میں تعمیر کروانے کا فیصلہ کیا۔ جس کے بعد میر فتح علی خان نے 1793 میں خیرپور کی خودمختیار حکومت کو تسلیم کیا۔ جبکہ خیرپور ریاست 1954 میں پاکستان میں شامل ہوئی تھی۔

قلعے کی تعمیر میں ان مزدورں کا خون پسینہ شامل ہے جو کسی زمانے میں تھر، جودھ پور اور جیسلمیر میں آنے والے قحط سے شدید متاثر ہوئے تھے۔ جب اس قلعے کی تعمیر کا فیصلا کیا گیا تو ان لوگوں کو وہاں مزدوری پر لگا دیا گیا اور انہیں اجرت میں ایک جوار (جو) کی روٹی دی جاتی تھی۔

دوسرے دروازے کی جانب جاتی ہوئی سیڑھیاں — اختر حفیظ
دوسرے دروازے کی جانب جاتی ہوئی سیڑھیاں — اختر حفیظ

کوٹ ڈجی کا دوسرا دروازہ — تصویر اختر حفیظ
کوٹ ڈجی کا دوسرا دروازہ — تصویر اختر حفیظ

کوٹ ڈجی کا تیسرا دروازہ — تصویر اختر حفیظ
کوٹ ڈجی کا تیسرا دروازہ — تصویر اختر حفیظ

قلعے کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد اس کا نام احمد آباد رکھا گیا، جو کہ بعد میں تبدیل ہو کر کوٹ ڈجی بن گیا تھا۔ مگر اسی مقام پر کھدائی کے وقت چند ایسے بھی آثار ملے ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ کوٹ ڈجی سے بھی قبل کے ہیں اور وہ پانچ ہزار برس پرانے ہیں۔

قلعے میں داخل ہونے کے لیے ایک شاہی دروازہ ہے جس میں بڑی بڑی نوکدار کیلیں گڑی ہیں تاکہ کوئی حملہ کرنے آئے تو وہ ان کیلوں سے ٹکرا جائے۔ دروازوں کے اس طرز کی وجہ ہاتھیوں کے حملے سے قلعے کو محفوظ بنانا تھا۔ شاہی دروازے کے علاوہ اس قلعے میں دو اور بھی دروازے اسی طرز پر بنائے گئے ہیں۔

قلعہ کوٹ ڈجی کا ایک بیرونی منظر — تصویر اختر حفیظ
قلعہ کوٹ ڈجی کا ایک بیرونی منظر — تصویر اختر حفیظ

قلعہ کوٹ ڈجی کی وہ جگہ جہاں کبھی تالاب تھا — تصویر اختر حفیظ
قلعہ کوٹ ڈجی کی وہ جگہ جہاں کبھی تالاب تھا — تصویر اختر حفیظ

جیسے جیسے آپ قلعے میں آگے بڑھتے جاتے ہیں اس کے اونچائی بڑھنے لگتی ہے اور آپ کے سامنے مختلف سیڑھیاں، جیل خانے، تالاب، حرم، تخت اور غلام گردش نمودار ہونے لگتے ہیں۔

میں جیسے ہی مرکزی دروازے میں داخل ہوا تو میری نظر اس کوئیں پر پڑی جو اس زمانے میں زیر استعمال تھا مگر اب یہ کنواں ناقابل استعمال ہے۔ جابجا بکھری ہوئی اینٹیں قلعے کی خستہ حالی کی گواہی دے رہی تھیں۔جو کہ اب اس قلعے کی فصیلوں سے اکھڑ رہی ہیں۔

قلعہ کوٹ ڈجی کا نقشہ — کتاب:سندھ جا کوٹ ائیں قلعا- اشتیاق انصاری
قلعہ کوٹ ڈجی کا نقشہ — کتاب:سندھ جا کوٹ ائیں قلعا- اشتیاق انصاری

سپاہیوں کی رہائش گاہ — تصویر اختر حفیظ
سپاہیوں کی رہائش گاہ — تصویر اختر حفیظ

یہاں پر کل 50 برج ہیں جو قلعے کی خوبصورتی کو اور بھی نمایاں کر دیتے ہیں۔ کہیں کہیں سے فصیلیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، جنہیں دوبارہ تعمیر کیا گیا ہے۔ اگر قلعے کے نقشے کو دیکھا جائے تو یہ ایک ترشول نما قلعہ ہے اور اپنے حساب سے یہ کافی وسیع بھی ہے۔

اُس زمانے میں تعمیر ہونے والے اکثر قلعوں میں ایک ہی قسم کی اینٹ استعمال کی جاتی تھی۔ جسے ریت اور چونے سے جوڑا جاتا تھا۔ کوٹ ڈجی میں بھی اسی قسم کا مٹیریل استعمال کیا گیا ہے۔ تیسرے دروازے کو عبور کرنے کے بعد تالاب نظر آتا ہے جسے شاہی خاندان استعمال کیا کرتا تھا۔

قلعہ کوٹ ڈجی میں موجود کنواں — تصویر اختر حفیظ
قلعہ کوٹ ڈجی میں موجود کنواں — تصویر اختر حفیظ

سندھی زبان کے مشہور محقق اشتیاق انصاری اپنی کتاب “سندھ جا کوٹ ائیں قلعہ” میں اس تالاب کے بارے میں لکھتے ہیں کہ “چند محققین کا خیال ہے کہ یہ حوض نما گڑھا پینے کے پانی کا تلاب ہے۔

اس کی گہرائی 12 فٹ اور لمبائی 37 فٹ جبکہ چوڑائی 22 فٹ ہے۔ کسی زمانے میں اسے ڈھانپنے کے لیے چھت بھی تھی۔ اس کے کنارے میدان سے چند فٹ اوپر ہیں، کناروں کی دونوں جانب شہتیر رکھنے کے نشانات ہیں اور اندر تالاب میں شہتیر رکھنے کے لیے چار کنبھے ہیں جو کہ قلعے کے اندر رہنے والوں کے لیے پانی پہنچانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔”

یہاں شاہی رہائش گاہ بھی اوپر والے حصے میں تھی اور اس کے علاوہ بارود خانے، سپاہیوں کے رہنے کا بندوبست اور قید خانے بھی زیادہ تر اوپر والے حصے میں ہی ہیں۔ بارود خانے کے آثار اب بھی نظر آتے ہیں جبکہ جیل کی کال کوٹھڑیاں بھی موجود ہیں۔

شاہی خاندان کی رہائش گاہ — تصویر اختر حفیظ
شاہی خاندان کی رہائش گاہ — تصویر اختر حفیظ

بارود خانہ، قلعہ کوٹ ڈجی — تصویر اختر حفیظ
بارود خانہ، قلعہ کوٹ ڈجی — تصویر اختر حفیظ

قلعے کی دیواروں کو دفاعی حکمت عملی کو مد نظر رکھ کر تیار کیا گیا تھا کیونکہ بظاہر ایک نظر آنے والی دیوار در حقیقت دو دیواریں ہیں۔ ایک دیوار جو قلعے کی بیرونی دیوار ہے اور درمیان میں خالی جگہ چھوڑ کر دوسری دیوار تعمیر کی گئی ہے تاکہ اس کا دفاع اور بھی مضبوط رہے۔

قلعے کے تمام برج پر توپیں نصب کی گئی تھیں جو کہ کسی بھی حملہ آور کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی تھیں۔ اس کے علاوہ قلعے میں قائم مورچوں پر ہر وقت سپاہی نگرانی کرتے تھے۔

توپ نصب کرنے والی جگہ — تصویر اختر حفیظ
توپ نصب کرنے والی جگہ — تصویر اختر حفیظ

آج ان توپوں میں سے ایک بھی توپ وہاں موجود نہیں ہے بلکہ ان تمام توپوں کو پنجاب منتقل کیا گیا ہے۔ حالانکہ کسی بھی قدیم آثار سے ملنے والی تمام اشیاء کو اسی علاقے میں رکھنا لازمی ہوتا ہے۔ اگر یہ تمام اشیاء کسی میوزیم کی شکل میں کوٹ ڈجی میں ہی رکھی جاتیں تو قدر بہتر تھا۔ مگر ہمارے اداروں کی عدم دلچسپی کے باعث یہ ممکن نہ ہو سکا۔

قلعے کی تخت گاہ جسے “بادشاہی چھتری” بھی کہا جاتا ہے وہ سفید اینٹوں سے تعمیر کی گئی ہے۔ جہاں خاص مواقع پر بادشادہ سلامت اپنی رعایا سے مخاطب ہوتے تھے۔ وہاں پر اہم اعلانات بھی کیے جاتے تھے۔ یہ جگہ انتہائی خوبصورتی سے تعمیر کی گئی ہے۔ اس تخت میں کل 12 ستون ہیں، مگر اس کی چھت کو دیکھ کر لگا کہ اس کی اصلی چھت بہت پہلے ہی گر چکی ہو گی اور اسے دوبارہ تعمیر کیا گیا ہے کیونکہ چھت میں لوہے کے سریوں کا استعمال کیا گیا تھا جو باقی حصہ میں نظر نہیں آتا۔

تخت کی جانب جانے والا راستہ — اختر حفیظ
تخت کی جانب جانے والا راستہ — اختر حفیظ

تخت گاہ، قلعہ کوٹ ڈجی — تصویر اختر حفیظ
تخت گاہ، قلعہ کوٹ ڈجی — تصویر اختر حفیظ

اس کے بعد تھوڑے ہی فاصلے پر شاہی خاندان کی رہائشی کمرے اور باورچی خانہ ہے۔ جس کی دیواریں قلعے کی تمام دیواروں سے مختلف ہیں۔ دیواروں میں چراغ رکھنے کی جگہ بھی بنائی گئی ہے جو شاید سورج ڈھلتے ہی روشن ہو جاتے ہوں گے۔

مگر ان دیواروں پر زیادہ نقش و نگاری نظر نہیں آتی، سادہ سی دیواریں ہیں اور ہوا کے گزر کے لیے بنائے گئے محرابی شکل کے دروازے ہیں جو اس حصے کو کافی ٹھنڈا بھی رکھتے ہیں۔ عقب میں موجود شاہی باورچی خانہ ہے، جس کے ستون اب بھی موجود ہیں۔

شاہی باورچی خانہ، قلعہ کوٹ ڈجی — تصویر اختر حفیظ
شاہی باورچی خانہ، قلعہ کوٹ ڈجی — تصویر اختر حفیظ

قلعے کے کسی بھی اونچے مقام پہ کھڑے ہو کر دیکھا جائے تو آپ کو ہرے بھرے کھیت اور کجھور کے باغات نظر آجائیں گے، مگر اس دور میں بنی عمارتیں ہی آپ کی توجہ کا مرکز رہتی ہیں۔ جوکہ آج بھی کوٹ ڈجی شہر کی زینت بنی ہوئی ہیں۔

1843 میں جب انگریزوں نے سندھ فتح کیا تب برطانوی فوج نے اس قلعے میں رہائش اختیار کی تھی۔ یہی وہ سال تھا جب سندھ کے حکمرانوں کا سورج غروب اور انگریزوں کی حکمرانی کا سورج طلوع ہوا۔ وہ حکمران جنہیں لگا کی سندھ کے قلعے ناقابل تسخیر ہیں وہ فتح ہو گئے، اس کے بعد نہ ان کے تخت رہے اور نہ تاج۔

کوٹ ڈجی کا قلعہ سندھ کی شاندار تاریخ کی ایک علامت ہے مگر کیا ہمارا شعبہ آثار قدیمہ کا اس بکھرتے اور ٹوٹتے قلعے کو بچا سکے گا۔ جہاں اب ویرانہ بستا ہے اور ایک ایسی تاریخ دفن ہے جس کا ذکر اب صرف کتابوں تک محدود ہے۔

حولا جات: سندھ جا کوٹ ائیں قلعا- اشتیاق انصاری- سندھیکا اکیڈمی کراچی۔


اختر حفیظ سندھی زبان کے افسانہ نگار اور صحافی ہیں، اور ایک سندھی روزنامے میں کام کر ریے ہیں۔ ان سے ان کے ای میل ایڈریس [email protected] پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دیے گئے تبصروں سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے.