Email


پاکستانی نوجوان کا صحرا میں قائم پرائیوٹ میوزیم

اختر حفیظ

سندھ میں دو بڑے صحرائی علاقے ہیں جن میں ایک تھر اور دوسرا اچھڑو تھر یعنی سفید تھر ہے۔ اس بیابان کو یہ نام اس کی سفید رنگ مائل ریت کی وجہ سے ملا۔ اس ریگستان کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہاں بڑی تعداد میں ریت کی دلدلیں پائی جاتی ہیں۔

اچھڑو تھر جہاں ایک جانب ریت کے ٹیلوں سے بھرا ہے وہاں نمک سے بھری جھلیں اور میٹھے پانی کے کئی جوھڑ بھی ہیں۔ اچھڑو تھر ضلع سانگھڑ کے تعلقہ کھپرو کے قریب واقع ہے۔

ریت پر بنے ٹیڑھے میڑھے راستے اور پگڈنڈیاں ریت ہی بناتی ہے او ریت ہی مٹا دیتی ہے۔ نہ تو یہاں اتنے پکے راستے ہیں اور نہ ہی یہاں کوئی عام گاڑی چلائی جا سکتی ہے۔ اس لیے فور وہیل ہی اس سفر میں بہتر سواری ہے۔

اسی ریگستان کے ایک گاؤں، بانکو چانیہوں میں ایک ایسا میوزیم قائم ہے۔ منفرد اور گزرے زمانے کی قدیم بیش قیمتی اور ثقافتی ساز و سامان دیکھنے کا شوق رکھنے والے حضرات میوزیم کا رخ کرتے ہیں۔ یہ میوزیم ایک نوجوان محمد عطا چانیہوں نے قائم کیا ہے۔ واقعی وہاں نایاب چیزوں کی ایک منفرد کلیشن موجود ہے۔

میوزیم کا داخلی دروازہ — تصویر اختر حفیظ
میوزیم کا داخلی دروازہ — تصویر اختر حفیظ

پرانی گھنٹیاں — تصویر اختر حفیظ
پرانی گھنٹیاں — تصویر اختر حفیظ

کنواں چلانے کی چرخی — تصویر اختر حفیظ
کنواں چلانے کی چرخی — تصویر اختر حفیظ

عطا چانیہوں، میوزیم کے مالک — تصویر اختر حفیظ
عطا چانیہوں، میوزیم کے مالک — تصویر اختر حفیظ

تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ میوزیم کا تصور امرا اور مالدار طبقے سے ابھرا، طبقہ بالا کے چند افراد اپنے ہاں قدیم، منفرد اور کسی نہ کسی لحاظ سے نایاب خصوصیات کی حامل چیزوں کو جمع کرنا شروع کیا اور ان کے نزدیک یہ شوق تھا تو جنون بھی اور باعث فخر و وقار بھی۔

جدید میوزیم کی موجودہ شکل انگلینڈ سے آئی، جہاں 1759 میں ایک میوزیم قائم کیا گیا؛ جسے محض اعلیٰ طبقے کے لوگوں کے لیے کھولا جاتا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس طرح کے میوزیم پوری دنیا میں قائم ہونے لگے۔ اس وقت دنیا کا سب سے بڑا میوزیم فرانس کے شہر پیرس میں قائم ہے، جو 1793 میں قائم کیا گیا تھا۔

مگر مجھے عطا چانہیوں کا میوزیم دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ وہ ایک ایسے ورثے کی دیکھ بھال کر رہے ہیں جسے ہم میں سے بہت سے لوگ غیر ضروری سمجھتے ہیں۔

“ آپ کو یہ خیال کب آیا کہ قدیم نوادرات کو جمع کر کے ایک نجی میوزیم تیار کیا جائے اور ان میں ایسی نایاب چیزیں رکھی جائیں” میں نے پوچھا۔

“میں کچھ عرصے سے ایک خواب دیکھتا تھا کہ میں کسی قدیم عمارت میں گھوم رہا ہوں، وہ ایک بڑی سی عمارت ہے اور میں مسلسل اس میں چلتا رہتا تھا۔ اس خواب سے میرا تعلق کافی وقت سے جڑا رہا۔ اور شاید اس خواب کی تعبیر یہی میوزیم ہی ہے جسے آج لوگ دور دور سے دیکھنے آتے ہیں۔ یہ میوزیم میں نے 2009 میں قائم کیا، جس میں سب سے پہلی چیز گراموفون تھی”۔

سوت کاتنے کا چرخہ — تصویر اختر حفیظ
سوت کاتنے کا چرخہ — تصویر اختر حفیظ

تھری انداز کی ایک جھوپڑی — تصویر اختر حفیظ
تھری انداز کی ایک جھوپڑی — تصویر اختر حفیظ

انگریز دور کا پستول — تصویر اختر حفیظ
انگریز دور کا پستول — تصویر اختر حفیظ

ایک قدیم مورتی — تصویر اختر حفیظ
ایک قدیم مورتی — تصویر اختر حفیظ

اس میوزیم میں جو چیز سب سے زیادہ دیکھنے کو ملتی ہے وہ گراموفون کے پرانے ریکارڈز ہیں۔ جن کی تعداد اس میوزیم میں پانچ ہزار ہے۔

عطا بتاتے ہیں کہ، “مجھے موسیقی سے بے حد دلچسپی ہے اس لیے آپ کو یہاں ریکارڈ بہت نظر آئیں گے، ان ریکارڈز کے کلیکشن میں سندھی، اردو، انگریزی، بلوچی اور دیگر زبانوں کے ریکارڈ موجود ہیں”۔

عطا چانیہوں اپنی صبح کی شروعات شاہ عبداللطیف کے کلام سے کرتے ہیں۔ یہ ان کے روز کا معمول ہے کہ وہ اپنے دن کی ابتدا شاہ عبداللطیف کے اشعار پڑھ کر کرتے ہیں، ان کا ماننا ہے کہ جب بھی وہ شاہ سائیں کا کلام پڑھتے ہیں تو ایک ایسے جذبے کا احساس ہوتا ہے جو کہ آپ کو ہمت اور حوصلہ فراہم کرتا ہے۔

اس میوزیم میں آڈیو گرام ،قدیم ریڈیو، مختلف ہتھیار، سازوں کی کئی اقسام، طمنچے، تلواریں، خنجر، چوپڑ، نوٹن (سندھ کا ایک قدیم کھیل) حر تحریک کی بندوقیں، ٹائیپ رائٹر، بیل گاڑیاں، پرانے زمانے کے زرعی اوزار اور دیگر چیزیں موجود ہیں۔

انہوں نے یہ میوزیم اپنی ہی بیٹھک کے دو کمروں میں قائم کیا ہے۔ مگر اب وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میوزیم میں اتنی چیزیں شامل ہو گئی ہیں کہ جگہ اب تنگ ہوتی جا رہی ہے۔

سندھ کا ایک مقامی ساز — تصویر اختر حفیظ
سندھ کا ایک مقامی ساز — تصویر اختر حفیظ

انگریز دور کا آئس باکس — تصویر اختر حفیظ
انگریز دور کا آئس باکس — تصویر اختر حفیظ

اوائل دور کا ریڈیو — تصویر اختر حفیظ
اوائل دور کا ریڈیو — تصویر اختر حفیظ

ایک قدیم بیل گاڑی — تصویر اختر حفیظ
ایک قدیم بیل گاڑی — تصویر اختر حفیظ

عطا پرعزم ہیں اور کہتے ہیں کہ، “میں اس میوزیم کو مزید وسیع کرنا چاہتا ہوں اس لیے اب دیگر اشیاء کے لیے مجھے مزید ایک کمرہ درکار ہے اور میں مستقبل قریب میں یہ کام بھی کر لوں گا”۔

وہ مجھے میوزیم میں رکھی تمام اشیاء کے بارے میں بتانے لگے۔ ایک آئس باکس جوکہ انگریزوں کے زمانے کا ہے، اس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ انہوں نے 40 ہزار میں خریدا تھا۔

“یہ تو بہت مہنگا خریدا ہے آپ نے؟"

“ہاں بالکل مگر میں جب بھی کوئی نایاب چیز دیکھتا ہوں تو اس کی قیمت کی پرواہ نہیں کرتا بلکہ اسے خرید لیتا ہوں، کیونکہ مجھے خوشی محسوس ہوتی ہے کہ میری خرید کی ہوئی چیزیں میرے میوزیم کا حصہ بن رہی ہیں، ایک مرتبہ میں نے ایک ڈھال خریدی تھی جوکہ لگ بھگ 2 لاکھ روپے میں پڑی مگر وہ ڈھال ایک دوست لے گیا”۔

کئی دہائیوں پرانی ایک جیپ — تصویر اختر حفیظ
کئی دہائیوں پرانی ایک جیپ — تصویر اختر حفیظ

قدیم بیل گاڑی — تصویر اختر حفیظ
قدیم بیل گاڑی — تصویر اختر حفیظ

بگھی — تصویر اختر حفیظ
بگھی — تصویر اختر حفیظ

قدیم سلائی مشین — تصویر اختر حفیظ
قدیم سلائی مشین — تصویر اختر حفیظ

انہیں اس میوزیم کو قائم کرنے کے لیے ابتدا میں تو دقت ہوئی مگر جیسے جیسے میوزیم میں قدیم چیزیں شامل ہوتی گئیں ویسے ویسے یہ میوزیم لوگوں کی نگاہوں کا مرکز بنتا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پہلے انہیں ایسی نادر و نایاب چیزوں کی تلاش کے لیے مختلف جگہوں کا رخ کرنا پڑتا تھا مگر اب لوگ خود ہی انہیں ایسی اشیاء دے جاتے ہیں۔ کئی اشیاء تو ایسی بھی ہیں جنہیں وہ کوڑے سے اٹھا کر لائے ہیں، جوکہ لوگوں نے بیکار سمجھ کر پھینگ دی تھیں۔ میوزیم کی دیواروں پر لٹکی ہوئی حر تحریک میں استعمال ہونے والی بندوقیں بھی انہیں ناکارہ حالت میں ملی تھیں، ان کی مرمت کے بعد اس میوزیم میں شامل کیا گیا ہے۔ ایسے بھی کئی نوادرات ہیں جو لوگ خود آ کر ان کے حوالے کر کے گئے ہیں۔

گو کہ یہ ایک چھوٹا سا میوزیم ہے مگر جس طرح وہاں پر رکھی چیزوں کی حفاظت کی جاتی ہے وہ قابل تعریف ہے۔ یہ عطا چانیہوں کا ہی ذوق ہے کہ انہوں نے ایک ریگستان میں لوگوں کو تفریح کا سامان میسر کیا ہے۔

پرانے ساز — تصویر اختر حفیظ
پرانے ساز — تصویر اختر حفیظ

دیوار پر آویزاں حر تحریک میں استعمال ہونے والی ایک بندوق  — تصویر اختر حفیظ
دیوار پر آویزاں حر تحریک میں استعمال ہونے والی ایک بندوق — تصویر اختر حفیظ

دیوار پر آویزاں حر تحریک میں استعمال ہونے والی ایک بندوق — تصویر اختر حفیظ
دیوار پر آویزاں حر تحریک میں استعمال ہونے والی ایک بندوق — تصویر اختر حفیظ

چوپار (لوڈو کی ایک قسم) کا کھیل  — تصویر اختر حفیظ
چوپار (لوڈو کی ایک قسم) کا کھیل — تصویر اختر حفیظ

جب میں نے ان سے دریافت کیا کہ کوئی ایسی بات جو کہ آپ کو ناگوار لگتی ہو، جب لوگ یہاں آپ کے میوزیم کو دیکھنے آتے ہیں، تو انہوں نے کہا۔

“مجھے اس وقت ناگوار لگتا ہے جب لوگ میری جمع کی ہوئی چیزوں کو لاپرواہی سے دیکھتے ہیں اور ان کے ہاتھوں سے یہ نوادرات ٹوٹ جاتے ہیں۔ میں نے بہت محنت سے یہ سب تیار کیا ہے۔ میں کسی کو منع نہیں کر سکتا کہ وہ میرے میوزیم کو نہ دیکھیں بلکہ مجھے بہت خوشی ہوتی ہے مگر ان لوگوں کو اتنا احساس ضرور ہونا چاہیے کہ میرے میوزیم میں رکھی ہوئی چیزیں آسانی سے میسر نہیں ہوئی اور نہ ہی یہ چیزیں بار بار مل سکتی ہیں۔”

عطا چانیہوں اب تک کئی ممالک کی سیر بھی کر چکے ہیں اور دنیا کے بہت سے عجائب گھروں کو دیکھ چکے ہیں۔ یہ ان کی ذاتی دلچسپی ہے کہ ان کا میوزیم اب بھی قائم ہے اور اسے مزید وسیع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

گراموفون کے قدیم ریکارڈز — تصویر اختر حفیظ
گراموفون کے قدیم ریکارڈز — تصویر اختر حفیظ

عمارت سازی کے پرانے اوزار — تصویر اختر حفیظ
عمارت سازی کے پرانے اوزار — تصویر اختر حفیظ

ٹائپ رائٹر — تصویر اختر حفیظ
ٹائپ رائٹر — تصویر اختر حفیظ

بیل گاڑی کا ایک نمونہ — تصویر اختر حفیظ
بیل گاڑی کا ایک نمونہ — تصویر اختر حفیظ

ان کا نہ تو سرکاری سطح پر یہ مطالبہ ہے کہ وہ اس میوزیم کی ذمہ داری اٹھائے اور نہ ہی کسی امداد کے طلبگار ہیں۔ وہ اس میوزیم کو ہمیشہ قائم رکھنا چاہتے ہیں اور ایسی نادر اشیاء جو کہ لوگوں کے لیے فضول ہیں، انہیں اپنے میوزیم کی زینت بنانا چاہتے ہیں۔

مجھے عطا چانیہوں سے مل کر اس بات کا احساس ہوا کہ جو لوگ اپنے خوابوں سے کبھی تعلق ترک نہیں کرتے وہ کچھ بھی کرسکتے ہیں۔ ان کے لیے سب سے اہم وہی خواب ہوتے ہیں، جن کی تعبیر کے لیے وہ بہت کچھ کر گزرتے ہیں۔

اچھڑو تھر میں قائم یہ میوزیم ایک ایسی جگہ بن چکا ہے جسے دیکھنے کی خواہش ہر اس شخص کو ہے جو اس ریگستان میں چند لمحے گزارنے آتا ہے۔ اب یہ جگہ اس صحرا کی سب سے اہم ترین جگہ بن چکی ہے۔ جس میں تاریخ اور صدیوں کے ورثے کو اس طرح محفوظ کیا گیا کہ انہیں دیکھ کر ایک منفرد تسکین حاصل ہوتی ہے۔ بلاشبہ اچھڑو تھر کے درمیان وہ ایک بیش قیمتی خزانے سے کم نہیں۔


اختر حفیظ سندھی زبان کے افسانہ نگار اور صحافی ہیں، اور ایک سندھی روزنامے میں کام کر ریے ہیں۔ ان سے ان کے ای میل ایڈریس [email protected] پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔