پاکستان کس طرح قیمتی پانی ضائع کرتا ہے

28 اگست 2018

ای میل

پاکستان خشک سالی سے صرف 7 سال کی دوری پر

سید محمد ابوبکر

اگر پاکستان نے جلد ہی اپنی راہیں درست نہ کیں تو 2025 میں یہ 'آبی تناؤ' کے شکار ملک سے 'آبی قلت' کا شکار ملک بن جائے گا۔

پانی ختم ہونے کی وارننگز اقوامِ متحدہ ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) اور پاکستان کونسل آف ریسرچ اِن واٹر ریسورسز (پی سی آر ڈبلیو آر) نے علیحدہ علیحدہ طور پر جاری کر رکھی ہیں۔ خطرے کی گھنٹیاں جب بننے لگیں تو پاکستان کے چیف جسٹس نے دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم بنانے کے لیے مہم کا آغاز کیا۔ اپنی افتتاحی تقریر میں وزیرِ اعظم عمران خان نے بھی ان کے منصوبے کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

مگر ظاہر ہے کہ یہ سوالیہ نشان ہے کہ آیا ایک ڈیم پاکستان کے پانی کے مسائل کا حل ہے یا نہیں۔

حقائق پر غور کریں: 1951ء میں پاکستان کو فی کس دستیاب 5260 مکعب میٹر پانی 2016ء میں 1000 مکعب میٹر رہ گیا۔ 2025ء تک یہ صرف 860 مکعب میٹر رہ جانے کا امکان ہے۔ پی سی آر ڈبلیو آر کے مطابق پاکستان 'آبی تناؤ' کی لکیر 1990ء میں عبور کر گیا تھا جبکہ 'آبی قلت' کی لکیر یہ 2005ء میں عبور کرچکا ہے۔

دریائے سندھ کے سسٹم میں سالانہ 134.8 ملین ایکڑ فٹ پانی آتا ہے۔ بارشوں کی سالانہ اوسط 100 ملی میٹر سے بھی کم سے لے کر 750 ملی میٹر تک ہے۔ سطح پر موجود پانی میں 41 فیصد گلیشیئرز کے پگھلنے، 22 فیصد برف پگھلنے اور 27 فیصد بارشوں کی وجہ سے آتا ہے۔

زیرِ زمین پانی کی بات کریں تو فی الوقت پاکستان 50 ملین ایکڑ فٹ پانی زیرِ زمین موجود ذخیروں سے حاصل کر رہا ہے، جو کہ پہلے ہی پائیدار حد سے زیادہ ہے۔ 1960ء میں طے پانے والے سندھ طاس معاہدے نے پاکستان کو کینال ہیڈ ورکس پر پانی کی دستیابی ڈیموں کے ذریعے 104 ملین ایکڑ فٹ تک بہتر بنانے کی اجازت دی مگر یہ صلاحیت بھی سسٹم میں ریت بھر جانے کی وجہ سے کم ہوچکی ہے۔

پاکستان کے آبی مسائل کو معیار اور مقدار کے مسائل میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ ہمارے سسٹم میں گزشتہ چند دہائیوں میں آنے والا پانی زیادہ تبدیل نہیں ہوا ہے مگر آبادی میں اضافے کی بلند شرح کی وجہ سے طلب میں اضافہ ہوا ہے۔ موجودہ ذخائر کی صلاحیتِ ذخیرہ کم ہو رہی ہے اور اس صورتحال میں یہ بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات پوری نہیں کرسکتی۔

اس دوران صارف تک پہنچنے والا پانی بھی راستے میں ہونے والے زیاں کی وجہ سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہماری واٹر مینیجمنٹ پالیسیاں بھی انتہائی غیر مؤثر ہیں۔ اس کی ایک مثال ہے کہ کس طرح آبپاشی کے لیے تازہ پانی استعمال کیا جاتا ہے۔ جو فصلیں ہم اگاتے ہیں، مثلاً چاول اور گنّا، اور جس طرح ہم ان فصلوں کی آبیاری کرتے ہیں، دونوں ہی پائیدار نہیں ہیں۔

قیامت صرف 7 سال دور ہے، مگر پاکستان کو پہلی قومی آبی پالیسی (این ڈبلیو پی) بنانے میں 70 سال سے زائد لگے جسے اس سال اپریل میں منظور کیا گیا ہے۔ پالیسی میں ابھی بھی کافی مسائل موجود ہیں مگر کم از کم یہ وہ اصول ضرور متعین کرتی ہے جن پر عمل کرنا چاہیے۔ مگر کچھ صورتوں میں یہ صرف تجاویز کا مجموعہ ہے۔ پانی زندگی، معاشرے اور معیشت کی بنیاد ہے، اس لیے بحران میں کئی کردار شامل ہیں اور کئی حل ایک دوسرے سے مربوط ہونے ہوں گے۔ چنانچہ ہر سطح پر ازِ سر نو غور و خوض کی اشد ضرورت ہے۔

وزارتِ خزانہ کے تیار کردہ اقتصادی سروے آف پاکستان 2018ء-2017ء میں ہماری معیشت کی گزشتہ سال کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ اس کا اعلان ہے کہ زرعی شعبے میں 3.5 فیصد کے ترقیاتی ہدف کے برعکس 3.81 فیصد کی ’بے مثال‘ ترقی ریکارڈ کی گئی ہے۔ بلند آبی ضروریات والی فصلوں چاول (8.65 فیصد ترقی) اور گنّے (7.45 فیصد ترقی)، دونوں ہی نے 18ء-2017ء کے لیے اپنے ترقیاتی ہدف عبور کیے ہیں۔

بلند آبی ضروریات والی فصلوں سے حاصل ہونے والی خوش حالی کی وجہ سے کسانوں نے زیادہ چاول اور گنّے کی پیداوار کو ترجیح دی ہے۔

اقتصادی سروے میں نشاندہی کی گئی ہے کہ جہاں گزشتہ سال میں چاول 2724 ہزار ہیکٹر پر کاشت کیا گیا تھا، وہاں رواں سال اس کی کاشت 2899 ہزار ہیکٹر پر ہوئی۔ سروے کے مطابق ’بلند مقامی قیمتوں اور زرعی مواد پر سبسڈیز کی دستیابی اور بہتر مشوروں اور برآمدات میں اضافے‘ کی وجہ سے زیادہ زمین پر چاول اگایا گیا۔ اس 6.4 فیصد کے اضافے کی وجہ سے پاکستان میں اس سال 7442 ہزار ٹن چاول اگایا گیا جو گزشتہ سال 6849 ہزار ٹن تھا۔

سروے میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ گنّا 1313 ہزار ہیکٹر پر کاشت گیا تھا جو گزشتہ سال 1218 ہزار ہیکٹر تھا۔ سروے کے مطابق ’بہتر اقتصادی فوائد اور گزشتہ سال شوگر ملوں کی جانب سے بروقت ادائیگیوں کی وجہ سے کسانوں کی مزید زمین زیرِ کاشت لانے کے لیے حوصلہ افزائی ہوئی۔‘ اس 7.8 فیصد کے اضافے کی وجہ سے پیداوار میں 7.4 فیصد اضافہ ہوا، یعنی 75.482 ملین ٹن سے بڑھ کر یہ 81.102 ملین ٹن ہوگئی۔

مگر تصویر کا ایک اور رخ بھی ہے۔

ان فصلوں کو اگانے کے لیے زیادہ پانی چاہیے ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر گنّے کو 1500 سے 2500 ملی میٹر بارش (یا دیگر ذرائع سے پانی) کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ یہ نشونما پاسکے۔ دوسرے الفاظ میں کہیں تو ایک کلو گنّا اگانے کے لیے 1500 سے 3000 لیٹر پانی استعمال ہوتا ہے۔ اسی طرح 0.45 کلو فی مکعب میٹر کے اعتبار سے پاکستان میں چاول کی آبی بارآوری ایشیائی ممالک میں اوسطاً فی کلو ایک مکعب میٹر پانی سے 55 فیصد کم ہے۔ یعنی دیگر ممالک ایک کلو پانی سے ہم سے 55 فیصد زیادہ چاول پیدا کرتے ہیں۔

چوں کہ کئی لوگوں کا روزگار زیادہ سے زیادہ چاول اور گنّا اگانے سے جڑا ہوا ہے، اس لیے یہ فصلیں مقبول رہیں گی اور پانی کے زیاں کو روکنے یا آبپاشی کے مؤثر طریقوں کے حوالے سے آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے یہ زیاں جاری رہے گا۔

پالیسی بمقابلہ حقائق

چنانچہ یہ لازم ہے کہ ایسا ملک جو آبی قلت کے دہانے پر کھڑا ہے، اسے بلند آبی ضروریات والی فصلوں کی کاشت کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔ اس کا عملی مطلب کسانوں کو یہ یقین دلانا ہے کہ اگر وہ دوسری فصلیں اگائیں گے تو انہیں معاشی نقصان کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

قومی آبی پالیسی میں اعتراف کیا گیا ہے کہ آبپاشی پر منحصر زراعت ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور ملکی آبی وسائل کا 95 فیصد اس میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ملک بھر میں موجود تقریباً 10 لاکھ ٹیوب ویل زراعت کے لیے 55 ملین ایکڑ فٹ زیرِ زمین پانی نکالتے ہیں جو نہروں سے دستیاب پانی سے 20 فیصد زیادہ ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ زرعی شعبہ کس قدر پانی استعمال کرتا ہے۔ یہ سب ناپائیدار ہے۔

دوسری جانب جہاں دیہی شعبے میں پانی کا زبردست زیاں ہوتا ہے، وہاں شہروں میں پینے کا پانی فراہم کرنا بھی ایک چیلنج بن چکا ہے۔ قومی آبی پالیسی کا ایک نسبتاً قابلِ حصول ہدف تمام افراد تک صاف اور محفوظ پینے کے پانی اور نکاسی آب کی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے پالیسی نے پانی کی شہری انتظام کاری بہتر بنانے اور پانی کے شہری نرخوں پر نظرِ ثانی پر بھی زور دیا ہے۔ اس کے علاوہ اس نے بقایاجات کی وصولی، سسٹم لاسز کم کرنے، صنعتی فضلے کی ٹریٹمنٹ اور ہر کسی تک پانی کی پائیدار فراہمی پر بھی زور دیا ہے۔

مگر پھر بھی یہ زرعی شعبہ ہے جس کے پانی کے استعمال کا خردبینی جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ اب تک ایسا لگتا ہے کہ پالیسی کا ان لوگوں کی مالی مجبوریوں سے کوئی تعلق نہیں جن کا روزگار زرعی شعبے سے وابستہ ہے۔

پاکستان واٹر پارٹنرشپ (پی ڈبلیو پی) کے ڈائریکٹر ڈاکٹر پرویز امیر کا ماننا ہے کہ پالیسیاں عوام کے لیے بنائی اور نافذ کی جاتی ہیں، اس لیے ان پر ہونے والی بحثوں میں سول سوسائٹی کو شامل کیا جانا ضروری تھا۔

ڈاکٹر امیر کے مطابق ’بلوچستان پہلے ہی اپنی آبی پالیسی بنا چکا ہے جبکہ پنجاب اور سندھ اس کام میں مصروفِ عمل ہیں۔ لیکن صوبائی آبی پالیسیوں کا ہم آہنگ ہونا نہایت ضروری ہے اور کسی بھی صورت میں انہیں قومی آبی پالیسی سے متصادم نہیں ہونا چاہیے۔‘

ان کے مطابق پانی کی وفاقی وزارت کمزور ہے اور واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) کو مضبوط کرنے کی فوری ضرورت ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’پرانے گھوڑوں میں جان ڈالنے کی کوشش کرنے کے بجائے بہتر آپشن ایک نیا ادارہ قائم کرنا ہے جس میں صرف انجینیئر نہیں بلکہ مختلف النوع ماہرین موجود ہوں۔‘

پی ڈبلیو پی کے سربراہ توجہ دلاتے ہوئے کہتے ہیں کہ آبی پالیسی اس اہم ترین سوال کا جواب نہیں دیتی کہ آبی وسائل آئیں گے کہاں سے۔ سی پیک ایک آپشن ہے۔ چینی پہلے ہی آبی قلت کے شکار گوادر میں اپنے انجینیئروں کو پینے کا پانی فراہم کرنے کے لیے پلانٹ چلا رہے ہیں۔ مگر کیا ایسے اقدامات کا وسیع تر استعمال ہوگا؟

ڈاکٹر امیر کہتے ہیں کہ ’سی پیک کے ذریعے سرمایہ کاریوں میں اضافہ ہوگا اور یہ سوال کہ سی پیک کس طرح آبی ضروریات سے ہم آہنگ ہوگا، اس پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ہمیں طلب اور رسد کی معلومات ہونی چاہیئں۔‘

ساؤتھ پنجاب فاریسٹ کمپنی (ایس پی ایف سی) کے سی ای او طاہر رشید بھی تمام صوبوں، بشمول کشمیر اور گلگت بلتستان میں اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی عدم موجودگی کا رونا روتے ہیں۔ ان کے مطابق آبی پالیسی کو قومی، علاقائی اور بین الاقوامی معاہدوں، مثلاً پاکستان کے وژن 2025 اور پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جی) سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔

رشید کہتے ہیں کہ ’واٹر شیڈز کی مربوط انتظام کاری کو فروغ دیا جانا چاہیے جس میں بالائی علاقوں میں موجود واٹر شیڈز کی ماحولیاتی بقاء بھی شامل ہے۔ ایسا پڑوسی ممالک کے ساتھ سرحدوں کے اطراف موجود آبی ذخائر کی مشترکہ واٹر شیڈ مینیجمنٹ کے امکانات تلاش کرکے کیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ قومی آبی پالیسی صدیوں آبی انتظام کاری کی صدیوں پرانی روایتی دانش اور رودھ کوئی سسٹم، سیلابہ اور کاریز کے استعمال کی بحالی کے حوالے سے بھی خاموش ہے۔ اس کے علاوہ اسے سرحدوں کے اطراف آبی آلودگی کے پہلو کو بھی مدِنظر رکھنا چاہیے جس پر سندھ طاس معاہدہ تک خاموش ہے۔‘

سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ پالیسی انسٹیٹیوٹ (ایس ڈی پی آئی) کے بانی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر طارق بنوری، جو کہ ماحولیات کے سینئر ماہر ہیں اور فی الوقت ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے چیئرمین ہیں، اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستان غیر مؤثر استعمال اور برائے نام ری سائیکلنگ کے ذریعے اپنے آبی وسائل ضائع کر رہا ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا قومی آبی پالیسی اس قیمتی وسیلے کے بے دریغ زیاں کا مسئلہ حل کرسکے گی تو ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے نظام غیر مؤثر ہیں۔ قومی آبی پالیسی پانی سے متعلق کافی سارے مسائل کا احاطہ کرتی ہے مگر اس میں وہ تفصیلات موجود نہیں جو اس پالیسی کو نافذ العمل لانے میں مددگار ثابت ہوں۔ اس کے اسٹریٹجک اور آپریشنل پہلو ابھی تک تیار نہیں کیے گئے ہیں۔ ماحول کی بقاء میں پانی کے کردار کو بھی اس پالیسی میں تسلیم نہیں کیا گیا ہے۔‘

کراچی کے پوش علاقے کلفٹن کے رہائشی پینے کے پانی کی عدم فراہمی اور ٹینکر مافیا کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ فوٹو شٹراسٹاک
کراچی کے پوش علاقے کلفٹن کے رہائشی پینے کے پانی کی عدم فراہمی اور ٹینکر مافیا کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ فوٹو شٹراسٹاک

بنوری بتاتے ہیں کہ آبادی میں اضافے نے فی کس پانی کی دستیابی گھٹانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ دریا کے نچلے علاقوں میں موجود آبادی کو اپنا جائز حصہ نہیں مل سکے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’موجودہ آبی نظام پہلے آئیے پہلے پائیے کی بنیاد پر قائم ہے اور یہ کار آمد نہیں ہے۔ آبی پالیسی اسے تسلیم کرتی ہے مگر اس کی تفصیلات پر ابھی تک کام نہیں کیا گیا ہے۔‘

سینئر آبی ماہر اور لیڈرشپ فار انوائرمنٹ اینڈ ڈیولپمنٹ (لیڈ) پاکستان کے سی ای او علی توقیر شیخ پانی کو صوبائی مسئلہ قرار دیتے ہیں اور ایک ایسے قومی فریم ورک کی تیاری پر زور دیتے ہیں جو صوبوں کے لیے راہنما کے طور پر کام کرے۔

شیخ کہتے ہیں کہ ’آبی پالیسی ایک اختیارات فراہم کرنے والی دستاویز ہے جس سے قومی سطح پر آبی اداروں کے قیام کی راہ ہموار ہوگی، اور جب تک اداروں کو خود مختار اور خود کفیل نہیں بنایا جاتا، تب تک ہم متوقع نتائج حاصل نہیں کر سکیں گے۔‘

علی وفاقی حکومت پر زور دیتے ہیں کہ وہ فوراً آبی پالیسی پر صوبوں کے تحفظات دور کرے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پالیسی فریم ورک ایک طویل عرصے سے منتظر قدم اٹھانے میں مدد دے گا۔

علی مختصراً کہتے ہیں کہ ’پالیسی شعبہ جاتی منصوبوں کی طلبگار ہے اور جب تک اہم محکموں میں یہ منصوبے تیار نہیں ہوتے، تب تک معاملات آگے نہیں بڑھیں گے۔ سب سے پہلے تو نفاذ کا ایک مجموعی منصوبہ ہونا چاہیے، اس کے بعد زرعی، موسمیاتی، توانائی اور دیگر شعبوں کے لیے نفاذ کے شعبہ جاتی منصوبے تیار کیے جانے چاہیئں۔‘

جہاں ماہرین نے پالیسی کو درست سمت میں ایک قدم قرار دیا ہے، وہاں انہوں نے ان چند اقدامات پر بھی روشنی ڈالی ہے جو اسے مزید جامع بنا سکتے ہیں اور ممکنہ خلیج پُر کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ اب جبکہ پالیسی منظور کرلی گئی ہے تو اگر حکومت قوم کے سر پر کھڑے اس سنگین مسئلے کے حل کے لیے سنجیدہ ہے تو اسے پالیسی کا اس کی روح کے مطابق نفاذ کرنے کے لیے جارحانہ انداز میں کام کرنا چاہیے۔


سید محمد ابوبکر ماحولیاتی صحافی ہیں جو موسمیاتی تبدیلیوں، پانی، جنگلات کے سکڑنے، غذائی تحفظ اور پائیدار ترقی کے بارے میں لکھتے ہیں۔ انہیں ٹوئٹر پر فالو کریں: [email protected]

قومی آبی پالیسی کے تفصیلی خدوخال

سید محمد ابوبکر

قومی آبی پالیسی آبی وسائل کی مربوط انتظام کاری (آئی ڈبلیو آر ایم) کے گرد گھومتی ہے اور اس میں اسٹریٹجک انداز میں کچھ اصولوں کو ترجیح دی گئی ہے جس میں آبی وسائل کا تحفظ اور انہیں مزید مؤثر بنانا، بارشوں کے بدلتے ہوئے رجحانات سے نمٹنے کی کوشش، پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ، سمندری پانی کا استعمال اور دیگر اہم شعبے شامل ہیں۔

اس کے علاوہ پالیسی میں پانی کے مختلف استعمال کو ترجیح دی گئی ہے جس میں سب سے پہلا پینے اور صفائی کے لیے ہے، جس کے بعد آبپاشی، زمین کو قابلِ زراعت بنانا، گلہ بانی، فشریز، جنگلی حیات، پن بجلی، صنعت و کان کنی، ماحولیات، دریائی نظام، ویٹ لینڈز، آبی حیات، جنگلات اور تفریح کا نمبر آتا ہے۔

قومی آبی پالیسی آبی وسائل کی منصوبہ بندی اور موجودہ وسائل اپ گریڈ کرنے کے اقدامات، آبی وسائل کی ترقی، ماحولیاتی تبدیلیوں کے آبی وسائل پر اثرات کے تفصیلی جائزے، آبی قلت کے شکار علاقوں میں ترجیحی بنیادوں پر آبی انفراسٹرکچر کی تعمیر، کم ترقی یافتہ علاقوں کے لیے منصوبوں کو خصوصی ترجیح اور آبی شعبے سے متعلق منصوبوں پر علمدرآمد کے لیے (عوام کو) معاوضے کی ادائیگی کے لیے مربوط منصوبہ بندی کے اصول اپنانے پر بھی زور دیتی ہے۔

پالیسی ریور بیسن کی ماحولیات برقرار رکھنے، جنگلات کے فروغ، قومی ویٹ لینڈ مینیجمنٹ پلان، آبی ذخائر کی ترقی اور سیم و تھور سے نمٹنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت پر بھی زور دیتی ہے۔

نئے ڈیموں اور زیرِ سطح ڈیموں کی تعمیر اور سیلابوں کے دوران زیرِ زمین پانی کو ریچارج کرنے کے ساتھ ساتھ پانی کی بچت پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔

سب سے اہم بات یہ کہ پالیسی نے موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا جائزہ پیش کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ بے مثال موسمیاتی تبدیلیوں سے موسموں کی ایسی شدت پیدا ہوسکتی ہے جس سے ملکی آبی وسائل پر اثر پڑے گا۔ اس حوالے سے پالیسی موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کم کرنے اور اسے قومی پالیسی برائے موسمیاتی تبدیلی 2012ء سے مربوط کرنے پر زور دیتی ہے۔

پڑوسی ممالک کے ساتھ پانی کی معقول تقسیم یقینی بنانے کے لیے پالیسی واٹرشیڈز کی مشترکہ انتظام کاری اور سرحدوں کے اطراف موجود آبی ذخائر کی شراکت کے حوالے سے مکینزم کی تیاری پر زور دیتی ہے۔ اس میں مغربی دریاؤں کے بالائی علاقوں (ہندوستان) میں ترقی کے زیریں علاقوں (پاکستان) پر اثرات کا جائزہ لینے کے لیے تحقیق اور ماحولیات کے لیے ضروری بہاؤ برقرار رکھنا یقینی بنانا شامل ہے۔

زرعی شعبے کے لیے پالیسی 'فی قطرہ زیادہ پیداوار' کا تصور اپنانے پر زور دیتی ہے جس کے ساتھ ساتھ آبپاشی کے مؤثر طریقہ کار کا نفاذ اور فلڈ اری گیشن (زمینوں میں پانی چھوڑ دینے) پر ملک بھر میں پابندی کی قانون سازی پر بھی زور دیتی ہے۔ اس کے علاوہ پالیسی پانی کی بچت کے لیے زرعی شعبے میں اصلاحات پر بھی زور دیتی ہے۔ اس کے علاوہ اس میں نمک برداشت کرسکنے والی فصلوں کے لیے کم معیاری زمینی پانی کے استعمال، غیر خوردنی فصلوں کی کاشت کے لیے ٹریٹ شدہ سیوریج کے پانی کے استعمال اور پانی کے نرخوں کو حقیقت پسند بنیادوں پر استوار کرنا شامل ہے تاکہ طویل مدتی پائیداری یقینی بنانے کے لیے آپریشن اور مینٹینینس کے اخراجات پورے کیے جاسکیں۔

نوجوان اسکول کے پائپ سے اپنے گھر کے لیے پانی حاصل کر رہے ہیں۔ فوٹو شٹراسٹاک
نوجوان اسکول کے پائپ سے اپنے گھر کے لیے پانی حاصل کر رہے ہیں۔ فوٹو شٹراسٹاک

بارانی زراعت کے لیے پالیسی زیادہ سے زیادہ نمی کی بچت اور بارانی پانی اکھٹا کرنے، کم گہرائی پر پانی کی موجودگی والے علاقوں میں سولر پمپنگ، بارانی زراعت پر منحصر علاقوں میں بارانی پانی اکھٹا کرنے والے تالابوں اور چھوٹے ڈیموں کی تعمیر اور کم پانی میں زیادہ پیداوار دینے والی فصلوں کو فروغ دینے پر بھی زور دیتی ہے تاکہ نظام پائیدار رہے۔

پن بجلی کی تیز تر ترقی کو بھی قومی آبی پالیسی کے تحت بلند ترجیحی مقصد قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ وہ پانی جو زرعی زمینوں کو فراہم کرنے کے دوران ضائع ہوجاتا ہے، اس کے واپس حصول کے لیے پالیسی 2030ء-2018ء کے لیے کچھ اہداف کی تجویز دیتی ہے جن میں دیگر ڈیموں کے ساتھ ساتھ دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر اور واٹر کورسز پختہ کرنا شامل ہے، جس سے 134.8 ملین ایکڑ فٹ دریائی پانی میں سے ضائع ہونے والے 46 ملین ایکڑ فٹ پانی کا 33 فیصد تک بچایا جاسکے گا۔ پالیسی مختلف اقدامات کے ذریعے پانی کی بچت میں کم از کم 30 فیصد اضافہ لانے کی تجویز دیتی ہے۔

سر پر منڈلاتے آبی بحران سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) میں آبی شعبے کے لیے مزید فنڈز رکھے جانے چاہیئں۔ یہ بات قابلِ غور رہے کہ سال 18ء-2017ء میں وفاقی پی ایس ڈی پی میں کل بجٹ کا صرف 3.7 فیصد یعنی 36.75 ارب روپے آبی شعبے کے لیے رکھے جو 2 دہائیوں میں کم ترین ہے۔

قومی آبی پالیسی صلاحیتیں بڑھانے کے پہلو کا جامع انداز میں احاطہ کرتے ہوئے آبی وسائل کی مربوط انتظام کاری، پانی سے متعلق تمام سرکاری اداروں و تنظیموں کی صلاحیتیں بڑھانے اور مختلف سطحوں پر نئے اداروں کے قیام پر توجہ دیتی ہے۔

اس کے علاوہ پالیسی قومی آبی کونسل (این ڈبلیو پی) کو مضبوط کرنے اور اپنانے، وزیرِ اعظم پاکستان کو اس کا چیئرمین بنانے اور اس میں مختلف وزارتوں کے وزیروں اور حکام کے ساتھ ساتھ نجی شعبے کے ماہرین اور دیگر افراد کی شمولیت کی بھی تجویز دیتی ہے۔

اس کے علاوہ قومی آبی پالیسی پن بجلی کے پراجیکٹس کی منصوبہ بندی، ڈیزائننگ، فزیبلٹی تیار کرنے اور ان پر عملدرآمد کرنے کے لیے واپڈا کی صلاحیتوں میں اضافے اور اسے اپ گریڈ کرنے پر بھی زور دیتی ہے۔ قومی آبی پالیسی میں تجویز دی گئی ہے کہ ہر صوبے میں گراؤنڈ واٹر اتھارٹیز قائم کی جائیں جو زیرِ زمین پانی کی بچت میں مدد دیں گی۔

قومی آبی پالیسی صنعتوں میں پانی کے مؤثر استعمال کا مطالبہ کرتی ہے جب کہ زیرِ زمین پانی کی بچت پر شدید زور دیا گیا ہے، جس کے لیے دیگر اقدامات کے ساتھ ساتھ زیرِ زمین پانی کی مانیٹرنگ، بجٹ کی تیاری، پائیدار انداز میں پانی نکالنا اور بے دریغ انداز میں پانی نکالے جانے سے روکنا شامل ہے۔ پالیسی کھلے لفظوں میں اعادہ کرتی ہے کہ آئینِ پاکستان نے صوبوں کے اپنی اپنی حدود میں آنے والے دریاؤں پر حق کو تسلیم کیا ہے اور یہ کہ ہر سرکاری و نجی (ادارے یا فرد) کو اسے استعمال کرنے کا حق حاصل ہے۔ پالیسی کے مطابق ہر سطح پر شراکت داروں سے مشورے اور ان کی شرکت یقنی بنائی جانی چاہیے اور مقامی آبادیوں کی شرکت کو بھی فروغ دینا چاہیے۔ قومی آبی پالیسی پائیدار انفراسٹرکچر کی تعمیر اور اس کی باقاعدہ مینٹینینس پر زور دیتی ہے تاکہ آبی وسائل کی بچت کی جا سکے۔

پانی سے متعلق خطرات کم کرنے کے لیے قومی آبی پالیسی میں فلڈ مینیجمنٹ یعنی سیلابی انتظام کاری کو بھی مناسب ترجیح دی گئی ہے جس میں سیلابوں سے تحفظ کے منصوبوں کی تیاری، زمین کے پائیدار استعمال، کچے کے علاقوں کی نقاشی تاکہ سیلاب کے خطرے کی زد میں آنے والے علاقوں میں مستقل آبادکاری نہ ہوسکے، سیلابی خطرے میں کمی، سیلاب سے تحفظ کی مزید سہولیات کی تعمیر، پہاڑی ریلوں کی انتظام کاری، مقامی سطح پر سیلاب سے تحفظ کے اقدامات، شہری سیلابوں کی انتظام کاری، کچے کے علاقوں سے تجاوزات کا خاتمہ، قحط سے نمٹنا، سیم اور سمندر کے آگے بڑھنے سے نمٹنا، پانی کی معیاری انتظام کاری، معلومات کی فراہمی، میڈیا کے ذریعے عوام میں آگاہی پھیلانا، نصاب میں پانی کی بچت کا پیغام شامل کرنا اور تحقیق و ترقی شامل ہیں۔

پالیسی یقینی بناتی ہے کہ فراہمی آب کے اخراجات وصول کیے جاسکیں اور ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنے کے لیے جو بھی ماحولیاتی ضروریات ہوں، انہیں مفت پانی فراہم کیا جائے۔

چوں کہ ملکی آبادی میں انتہائی تیزی سے اضافہ ہوا ہے، اس لیے پانی کی طلب میں بھی زبردست اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، چنانچہ پالیسی ان دونوں اضافوں سے نمٹنے کے لیے مناسب اقدامات پر زور دیتی ہے۔


سید محمد ابوبکر ماحولیاتی صحافی ہیں جو موسمیاتی تبدیلیوں، پانی، جنگلات کے سکڑنے، غذائی تحفظ اور پائیدار ترقی کے بارے میں لکھتے ہیں۔ انہیں ٹوئٹر پر فالو کریں: [email protected]

کچھ بارانی پانی اکھٹا کرنے کے بارے میں

شاناز رمزی

خطرے کی تمام علامتیں یہاں موجود ہیں: جب جون کے آخری ہفتے میں پنجاب کے دارالخلافہ لاہور میں شدید بارشیں ہوئیں تو لاہور کے انفراسٹرکچر کی حدود کا امتحان ہوگیا جس میں یہ کئی جگہ ناکام بھی ہوا۔ زیادہ تر بارانی پانی ضائع ہوگیا کیوں کہ لاہور (اور ملک کے دیگر شہروں میں) نکاسی آب کے سسٹم جیسے وجود ہی نہیں رکھتے۔ کوئی بھی پانی نہ گھریلو نہ عوامی استعمال کے لیے بچایا جاسکا۔ کیا ایک قوم کے طور پر ہم پانی کے مجرمانہ زیاں میں ملوث نہیں جبکہ استعمال کے لیے بھی مناسب پانی موجود نہیں؟

اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کے مطابق اگلے 7 سالوں میں پاکستان کے خشک ہوجانے کا امکان موجود ہے۔ آبادی میں اضافے کی وجہ سے پانی کی طلب میں مسلسل اضافے کو مدِ نظر رکھیں، تو یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ پانی کا معیار گر رہا ہے، فراہمی اور انفراسٹرکچر کی مینٹیننس کے اخراجات بڑھ رہے ہیں اور زیرِ زمین پانی زیادہ نکالا جا رہا ہے جبکہ ریچارج کم ہو رہا ہے۔

اس حوالے سے کوئی شک نہیں کہ پانی کی کمی کے مسئلے سے جنگی بنیادوں پر نمٹنا ہوگا اور اس کا ایک طریقہ بارانی پانی جمع کرنا ہے۔ درحقیقت بارانی پانی اکھٹا کرنا اب قدرتی ذخائر یا ٹینکوں میں بارش کا پانی اکھٹا کرنے کا اب ایک مؤثر طریقہ مانا جاتا ہے اور اس کا سب سے آسان طریقہ چھتوں پر یہ کرنا ہے۔ یہ کام شہری کسی سرکاری مدد کے بغیر خود بھی کرسکتے ہیں۔

جہاں بھی بارش ہو، وہاں بارانی پانی کے بہاؤ کو روک کر اسے کسی ذخیرے کی جانب موڑ دیا جاتا ہے۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ شہری علاقوں میں 30 سے 45 فیصد پانی دھلائی، باغبانی، گاڑیوں کی صفائی اور متمول علاقوں میں 20 فیصد تک پانی فلش کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور یہ تمام ضروریات باآسانی بارش کے پانی سے پوری کی جاسکتی ہیں۔ جمع شدہ بارانی پانی پودے اگانے اور زمین کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

جو کرنے کی ضرورت ہے وہ یہ کہ اگر چھت سے پرنالہ سیمنٹ کے فرش پر گرتا ہے تو اس پرنالے کو ایک ڈرم سے جوڑ دیا جائے جہاں پانی جمع ہوسکے۔ اس ڈرم کے ساتھ ایک اور پائپ منسلک ہو جو پانی کو یا تو باغ میں موجود پانی کے گڑھے تک پہنچا دے، یا پھر اگر باغ نہ ہو تو اسٹوریج کے لیے بنائے گئے ٹینک میں پہنچا دے۔

ماہرِ تعمیرات و بچت یاسمین لاری کے مطابق ایک سے دو میٹر چوڑے اور دو سے تین میٹر گہرے گڑھے 100 مربع میٹر چھت والے گھروں کی ضروریات پورا کرنے کے لیے کافی ہوتے ہیں۔ پینے لائق پانی اکھٹا کرنے کے لیے ان گڑھوں کی بنیاد میں 5 سے 20 سینٹی میٹر سائز کے پتھروں کی سطح ہونی چاہیے، جس کے بعد پانچ سے 10 ملی میٹر کنرک اور ڈیڑھ سے دو ملی میٹر بجری اس کے اوپر موجود ہو۔ اس سے بارانی پانی فلٹر ہوجائے گا۔ چھوٹی چھتوں کے لیے گڑھے اینٹوں کے ٹکڑوں سے بھرے جاسکتے ہیں۔ اس کے اوپر ایک باریک جالی رکھی جا سکتی ہے تاکہ پتے، کیڑے، مٹی اور دیگر چیزیں اس میں نہ گر سکیں۔

اگر ٹینک کو گھریلو ضروریات کے لیے بھرا جا رہا ہے تو اس میں ایک نلکا لگایا جا سکتا ہے جس سے پانی براہِ راست باغ کو دیا جا سکتا ہے یا گاڑیوں کی دھلائی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ دیگر گھریلو استعمال مثلاً فلش کرنے کے لیے ایک علیحدہ پائپ لگانا ہوگا۔ ان معاملات میں جہاں گھر یا عمارتیں ابھی بھی زیرِ تعمیر ہیں، وہاں ان ٹینکوں کو عمارت کے منصوبے میں شامل کیا جانا چاہیے کیوں کہ یہ وقت کی ضرورت ہے۔

کم بارش کے ساتھ بھی بارانی پانی اکھٹا کرنے سے پینے لائق پانی اکھٹا کیا جا سکتا ہے اور دیگر ضروریات مثلاً گھر کے اندر پودوں کو دینے، زراعت اور زیرِ زمین پانی کی سطح برقرار رکھنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

جیسا کہ پہلے بتایا گیا، بارش کا پانی اکھٹا کرنے کا دہرا فائدہ یہ بھی ہے کہ اس سے شہری سیلابوں کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ عام طور پر پاکستان میں چھتوں سے گرنے والا پانی سڑکوں اور دیگر سخت سطحوں سے بہنے والے پانی سے مل جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ سڑکیں اور گلیاں ڈوب جاتی ہیں جبکہ برساتی نالے (جو کہ پہلے ہی ملبے اور کچرے سے بھرے ہوتے ہیں) ابل پڑتے ہیں۔ اگر انہیں صاف کیا بھی گیا ہو، تب بھی وہ چھتوں، راستوں اور دیگر سخت سطحوں سے بہنے والے پانی کی بے انتہا مقدار کو سنبھال نہیں سکتے۔

اس کا مطلب ہے کہ راستوں اور فرش سے بہنے والے پانی کو بھی بچانا چاہیے۔ سیلابوں کو روکنے کے لیے گلیوں اور سڑکوں کے پانی کو نکاسی آب کے نظام میں داخل نہیں ہونے دینا چاہیے۔ اس کے بجائے ایسے اقدامات کرنے چاہیئں جن کے ذریعے پانی اسٹوریج ٹینکوں، انگریزی حرف 'v' کی شکل کی خندقوں، غیر استعمال شدہ گڑھوں اور ٹیوب ویلوں میں جمع کیا جا سکے۔

شاید بارانی پانی اکھٹا کرنے کا تصور ابھی پاکستان میں نیا ہے۔ مگر کئی ممالک میں بارانی پانی اکھٹا کرنا لازمی ہے، خاص طور پر تمام نئی تعمیرات میں۔ وسطی امریکا کے ممالک میں قانون کے تحت تمام تعمیرات میں ایسا اسٹوریج ٹینک ہونا ضروری ہے جو چھت کے فی مربع میٹر کے حساب سے کم از کم 400 لیٹر پانی جمع کرنے کی سکت رکھتا ہو۔

شاید یہی پاکستان کا مستقبل بھی ہے جہاں شہری سیلابوں سے ہونے والی تباہی نہ صرف تعمیرات کے استحکام کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ زندگی کا پہیہ بھی جام کر دیتی ہے۔


لکھاری فری لانس صحافی ہیں۔ انہیں ٹوئٹر پر فالو کریں: [email protected]

انگلش میں پڑھیں۔


یہ مضمون ڈان اخبار کے سنڈے میگزین میں 26 اگست 2018 کو شائع ہوا۔