ای میل

ایشیا کپ میں پاک بھارت معرکہ: کس کا پلڑہ بھاری؟

محسن حدید

پاکستان بمقابلہ انڈیا کرکٹ میچ، کھیل کی تاریخ میں مسابقت کا ایسا نظارہ بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے، اور ایک دن بعد یعنی 19 ستمبر کو بھی ایسا ہی ایک دن آنے کو ہے۔ میدان اس مرتبہ دبئی کا ہوگا اور یہ دونوں ٹیمیں پہلی مرتبہ اس میدان میں آمنے سامنے ہوں گے۔

عربستان میں ہندوستان بمقابلہ پاکستان

دبئی اور متحدہ عرب امارات گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان کا ہوم گراؤنڈ ہے۔ انڈیا 12 سال کے طویل وقفے کے بعد یہاں کھیلنے آیا ہے۔ آخری مرتبہ عرب امارات میں دونوں ممالک 2006ء میں آمنے سامنے آئے تھے۔ یہ 2 میچز پر مشتمل سیریز تھی جو ایک ایک سے برابر رہی تھی۔ ایشیا کپ میں گو کہ انڈیا نے زیادہ ٹائٹل جیت رکھے ہیں جس سے بندہ سوچتا ہے کہ پاکستان اس کپ میں بہت بُرا پرفارم کرتا آیا ہے۔ ٹرافی جیتنے کی حد تک تو یہ بات سچ ہے لیکن باہمی مقابلوں کا ریکارڈ اس کے برعکس ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان ایشیا کپ مقابلوں میں اب تک 12 میچز ہوچکے ہیں جن میں سے ایک معطل شدہ ون ڈے ہے، سو منعقد شدہ 11 میچز میں دونوں ٹیمیں ایک دوسرے کو 5، 5 بار شکست دے چکی ہیں جبکہ ایک میچ بارش کی وجہ سے بے نتیجہ رہا ہے۔ لہٰذا ان نتائج کو دیکھنے کے بعد یہ کہا جاسکتا ہے کہ دونوں ٹیموں نے کافی متوازن کھیل پیش کیا ہے۔

پاکستان اور بھارت کا میچ 19 ستمبر کو ہوگا جس کا شائقین کو بہت شدت سے انتظار ہے— فوٹو: اے پی
پاکستان اور بھارت کا میچ 19 ستمبر کو ہوگا جس کا شائقین کو بہت شدت سے انتظار ہے— فوٹو: اے پی

متحدہ عرب امارات میں پاکستان کا پلہ ہمیشہ سے بھاری رہا ہے۔ پاکستان اور انڈیا یہاں 26 مرتبہ آمنے سامنے آچکے ہیں جس میں سے 19 بار فتح پاکستان کا مقدر بنی ہے۔ انڈیا صرف 7 بار فتحیاب ہوسکا ہے۔ ان میدانوں میں پاکستان کی برتری بہت ہی واضح ہے۔

ٹنڈولکر کے بعد کوہلی فیکٹر

کبھی شائقین اور ٹیم مینجمنٹ سوچا کرتے تھے کہ آج کے میچ میں ٹنڈولکر کو کیسے پکڑنا ہے؟ سارا سارا گھروں، گلیوں اور ٹی وی پر یہی بحث و مباحثے نظر آتے تھے۔ ایک دن آیا ٹنڈولکر ریٹائر ہوگئے لیکن اپنا جانشین چھوڑ گئے، جتنی فکر پاکستانیوں کو ٹنڈولکر کی ہوتی تھی اس سے کم از کم 2 گنا فکر اب کوہلی کی ہوتی ہے۔ جس کسی نے بھی ’نیندیں حرام کرنے‘ والا محاورہ ایجاد کیا ہوگا اس کا سامنا یقیناً کسی ’کوہلی‘ سے ہوا ہوگا۔

دونوں ممالک کے درمیان جو آخری 5 میچ کھیلے گئے ہیں ان میں انڈیا نے 3 جیتے ہیں اور ان تینوں میچز میں کوہلی اکیلے ہی کافی تھے۔ دونوں میچز میں جب ہم انہیں جلد پکڑنے میں کامیاب ہوئے، فتح ہمارے حصے میں آئی۔ اس بار ہماری خوش قسمتی یہ ہے کہ ویرات کوہلی بھارتی ٹیم کا حصہ نہیں ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ بہت سارا دباؤ ہمارے کیمپ سے ہٹ چکا ہے۔

اگرچہ جیت اور ہار کا فیصلہ میدان میں ہوتا ہے لیکن نفسیاتی محاذ پر سکون بھی اس میں ایک اہم ترین نکتہ ہے۔ خوش قسمتی سے اس بار ہمیں یہ نفسیاتی برتری حاصل ہے۔ مزید خوشی کی بات یہ ہے کہ ٹنڈولکر کے ساتھ ساتھ راہول ڈریوڈ کا متبادل بھی اب انڈیا کو میسر نہیں۔ جی ہاں انڈیا کے ایک اور بہترین بلے باز اجنکیا رہانے جو گھر سے باہر مزید اچھا کھیل پیش کرتے ہیں وہ بھی اس ٹیم کا حصہ نہیں ہیں۔

کیا انڈیا ایک کمزور ٹیم ہے؟

اس سوال کا جواب ’نہیں‘ ہے کیونکہ کوہلی اور رہانے کی عدم موجودگی کے باوجود بھی یہ ایک بہترین ون ڈے یونٹ ہے۔ بہترین ہتھیاروں سے لیس اور محدود اوورز کے کامیاب ترین کھلاڑی اس ٹیم کا حصہ ہیں۔

روہت شرما سورماؤں کے سپہ سالار

روہت شرما اس بار کپتانی کر رہے ہیں۔ ہٹ مین کے نام سے مشہور روہت شرما کی سب سے بڑی خوبی لمبی اننگز کھیلنا ہے۔ اگر کہا جائے کہ شرما اپنی محدودات سمجھتے ہیں تو بالکل غلط نہیں ہوگا۔ روہت شرما میں آپ کو بیک وقت 80ء کی دہائی کا ایک کمپوزڈ بلے باز بھی ملے گا اور جدید دور کا برق رفتار بلے باز بھی۔

روہت شرما—تصویر بشکریہ اے ایف پی
روہت شرما—تصویر بشکریہ اے ایف پی

روہت کو آپ اننگز کے شروع میں قابو کرسکتے ہیں کیونکہ ان کے کھیل میں ایک خامی ہے۔ اننگز کے آغاز میں وہ قدموں کا بہت کم استعمال کرتے ہیں اپنی اچھی نظر اور ہاتھوں کے بہترین استعمال سے وہ باؤلر پر حاوی ہوتے ہیں۔ اننگز کے آغاز میں وہ کبھی غیر ضروری شاٹ نہیں مارتے بلکہ بُری گیند کا انتظار کرتے ہیں اسی لیے اس تکنیکی خامی کے باوجود بھی لمبی اننگز کھیل جانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔

تاہم وقت کے ساتھ وہ لے پکڑ لیتے ہیں۔ جیسے جیسے اننگز آگے بڑھتی جاتی ہے روہت کا اسٹرائیک ریٹ بھی بہتر ہوتا جاتا ہے اس میں ان کی فٹنس کا بھی کمال ہے۔ جتنی لمبی وہ اننگز کھیلیں گے اتنی ہی آسانی سے وہ گیند کو گراؤنڈ سے باہر پھینکیں گے۔ لمبی اننگز کھیلنے کے باوجود بھی وہ اپنی وکٹ کی قدر کم نہیں گنتے۔ ہٹنگ کرتے ہوئے بھی کسی قسم کی جلد بازی اور غیر معیاری پن ان کی بلے بازی سے نہیں جھلکتا۔

آپ کو کبھی نہیں لگے گا کہ وہ سلاگ کر رہے ہیں۔ بہت آرام سے پراپر کرکٹنگ شاٹس کے ذریعے جیسے گیند کو اٹھا کر باہر پھینک دیتے ہیں۔ یہ انہی کا خاصا ہے۔ اسی لیے تو ایک روزہ کرکٹ میں وہ 3 ڈبل سنچریوں کے مالک ہیں۔ تاہم یو اے ای میں کھیلنے کا انہیں کبھی موقع نہیں ملا اور پاکستان کے خلاف بھی وہ کبھی بڑی اننگز کھیلنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔

شیکھر دھون شاہینوں کے سامنے ٹک پائیں گے؟

روہت شرما کے ساتھ انڈیا کے دوسرے خطرناک بلے باز شیکھر دھون ہیں۔ دھون ان کے بالکل برعکس ہیں۔ شروع سے مخالف پر حاوی ہوجانے کی خواہش۔ نئے گیند پر وہ بالکل کلبلاہٹ کا شکار نہیں ہوتے، فُٹ ورک ان کا دلچسپ ہے، انہیں دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے باؤلر کی طرف پیش قدمی کر رہے ہوں۔

روہت شرما کے ساتھ انڈیا کے دوسرے خطرناک بلے باز شیکھر دھون ہیں—تصویر بشکریہ اے ایف پی
روہت شرما کے ساتھ انڈیا کے دوسرے خطرناک بلے باز شیکھر دھون ہیں—تصویر بشکریہ اے ایف پی

بعض اوقات تو جیسے وہ تن کر سیدھے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ ان کی اس خوبی کی وجہ سے باؤلر کی لائن اور لینتھ دونوں کو بگاڑنے میں وہ اکثر کامیاب ہوجاتے ہیں۔ تاہم پاکستان کے پاس ان کے لیے کافی اچھے آپشن موجود ہیں۔

پاکستان کے تیز گیند بازوں کے سامنے ایسا کرنا قطعاً آسان نہیں ہوگا۔ انڈیا کے ٹاپ آرڈر اور مڈل آرڈر میں کوالٹی کا بہت بڑا فرق ہے اور موجودہ مڈل آرڈر تو کافی ناتجربہ کار بھی ہے سوائے دھونی کے سارے لڑکے یا تو نئے ہیں یا پھر ٹیم کا مستقل حصہ نہیں ہیں۔

دھونی پر قسمت کی دیوی برہم

دھونی خود بھی اپنے کیریئر کے خراب دور سے گزر رہے ہیں۔ پرفارم کرنے کا دباؤ ان پر دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔

دھونی اور ویرات کوہلی—تصویر اے پی
دھونی اور ویرات کوہلی—تصویر اے پی

بہت سارے لوگ اس حق میں ہیں کہ انہیں نئے لڑکوں کے لیے جگہ خالی کردینی چاہیے۔ تاہم دھونی ایشیا کپ میں ہمیشہ عمدہ کھیل پیش کرتے آئے ہیں۔ ایشیا کپ میں ان کا بیٹنگ کا اوسط 95 ہے۔ پاکستان کو کرنا یہ ہے کہ ٹاپ آرڈر کو جلد پکڑنا ہے اسی میں ہماری بچت ہے۔

بھارتی باؤلنگ اٹیک کتنا خطرناک؟

اس بار بھارتی ٹیم کی باؤلنگ بھی نسبتاً مضبوط ہے۔ بھوبینشور کمار کے ساتھ فاسٹ باؤلنگ میں جسپریت بمراہ ہیں۔ محدود اوورز میں یہ دونوں بلاشبہ بہت اچھا کھیل پیش کرتے ہیں۔ اگر پچ میں ذرا سی بھی مدد ہو تو ان کا کھیل مزید نکھر آتا ہے۔

بمراہ کا باؤلنگ ایکشن انہیں ایک خطرناک باؤلر بناتا ہے کیونکہ ان کا نان باؤلنگ ہینڈ ایک طرح سے ساکت رہتا ہے جس سے بلے باز دھوکہ کھا جاتا ہے۔ عام حالات میں بلے باز باؤلنگ ہینڈ سے پہلے نان باؤلنگ ہینڈ کی حرکت دیکھ کر تیار ہوچکا ہوتا ہے۔

جسپریت بمراہ—تصویر اے ایف پی
جسپریت بمراہ—تصویر اے ایف پی

بمراہ کے معاملے میں ایسا نہیں ہے اور ان کا نان باؤلنگ ہینڈ چونکہ بہت معمولی حرکت کرتا ہے اس لیے بیٹسمین کو تیاری کا وہ قیمتی وقت بالکل میسر نہیں ہوتا۔ اسی وجہ سے بمراہ اپنی اصلی رفتار سے نسبتاً تیز باؤلر لگتے ہیں۔ ساتھ میں اچھا سوئنگ انہیں مزید مشکل باؤلر بنا دیتا ہے۔

فاسٹ باؤلنگ کے ساتھ ساتھ اسپن ڈیپارٹمنٹ بھی کافی مضبوط دکھائی دیتا ہے۔ کلدیپ یادیو پر بہت سی نظریں جمی ہوں گی۔ یہ وہ لڑکا ہے جس نے ایشون اور جڈیجا جیسے اہم مہروں کی جگہ لی ہے۔ کلدیپ یادیو نے اپنے چھوٹے سے کیریئر میں بہت عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، تاہم ان کا سامنا زیادہ تر آسٹریلیا، انگلینڈ اور جنوبی افریقہ سے ہوا ہے جو اسپن کے مقابل کافی کمزور ٹیمیں ہیں۔ اصل امتحان اب ہوگا کہ جب اچھے اسپن باؤلرز کو کھیلنے والے ایشیائی بلے بازوں کے سامنے گیند بازی ہوگی۔

تُو شاہین ہے!

قومی ٹیم کے پاس یہ سنہری موقع ہے کہ وہ کوہلی کی غیر موجودگی میں انڈیا کو ڈھا سکے۔ پاکستان کا ٹاپ آرڈر بہت دلچسپ ہے، جس میں شعلہ فشاں فخر زمان شامل ہیں اور ان سے بھارتی کھلاڑی بھی اب خوب واقف ہیں۔

فخر کا فائدہ

فخر دلیر ہیں۔ بعض اوقات وہ گیند کی پچ تک نہیں پہنچ پاتے تاہم شاٹ کمال کھیل جاتے ہیں۔ اصل میں وہ جب شاٹ کے لیے جاتے ہیں تو پورا جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے شروع کے اوورز میں وہ اچھے رنز بٹور جاتے ہیں۔ شاٹ بال ان کی کمزوری ہے، بھارتی باؤلرز نے اس پر کافی کام کیا ہوگا۔

فخر زمان کا اصل مسئلہ غیر ضروری طور پر شاٹ بال کو پُل یا ہُک کرنے کی عادت ہے۔ اسی وجہ سے وہ یہ شاٹ کھیلتے ہوئے مشکل کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اگر یہی شاٹ وہ اپنی سہولت کے مطابق کھیلیں تو نتیجہ بہت بہتر نکل سکتا ہے۔ روہت شرما بھی پُل شاٹ کے بہت شوقین ہیں تاہم وہ گیند کو مکمل پرکھ کر اسٹروک کے لیے جاتے ہیں۔ یہ چیز فخر کو سیکھنا ہوگی۔

فخر زمان —فائل فوٹو: اے ایف پی
فخر زمان —فائل فوٹو: اے ایف پی

چمپیئنز ٹرافی میں انڈیا نے ان پر کچھ زیادہ منصوبہ بندی کرلی تھی جو بیک فائر کرگئی۔ امید ہے اس بار دونوں طرف سے اچھے پینترے آزمائے جائیں گے۔ امام الحق کی عمدہ پرفارمنس نے جہاں احمد شہزاد جیسوں سے ہماری جان چھڑائی ہے وہیں انضمام کا سر بھی فخر سے بلند کردیا ہے۔ ان کی سب سے بڑی خوبی ڈٹے رہنا ہے۔

آپ انہیں اظہر علی کا ینگ ورژن کہہ سکتے ہیں تاہم ان کے پاس محدود اوورز کے لیے اظہر علی سے زیادہ بہتر شاٹس موجود ہیں۔ ان کی خوش قسمتی کہ فخر زمان رن ریٹ کا پریشر نہیں بننے دیتے جس کی وجہ سے وہ سہولت سے اپنا کام دکھا جاتے ہیں۔ تاہم انہیں شاٹ رینج بڑھانا ہوگی لمبے شاٹس سیکھنا ہوں گے۔

بابر اعظم عظیم ہے تُو

بابر اعظم جیسا کمال ون ڈاؤن بلے باز مل جانا قومی ٹیم کی خوش قسمتی ہے۔ ہانک کانگ کے خلاف انہیں ہاتھ کھولنے کا زیادہ موقع نہیں ملا تاہم جس طرح کی بھارتی باؤلنگ ہے امید ہے وہ اس سے انصاف کرسکیں گے۔ شعیب ملک کا کمال بھی یہ ہے کہ وہ ہمیشہ انڈیا کی باؤلنگ کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اس بار مڈل آرڈر کا بوجھ وہ اٹھا رہے ہیں اور گزشتہ 2 سے 3 برسوں سے سینئر کھلاڑی جیسا کردار بہترین انداز میں ادا کر رہے ہیں۔ جہاں ضرورت ہو تیز بھی کھیلتے ہیں اور اننگز کو سنبھالا بھی دیتے ہیں۔

بابر اعظم جیسا کمال ون ڈاؤن بلے باز مل جانا پاکستان کی خوش قسمتی ہے—تصویر اے ایف پی
بابر اعظم جیسا کمال ون ڈاؤن بلے باز مل جانا پاکستان کی خوش قسمتی ہے—تصویر اے ایف پی

یقینی طور پر موجودہ دونوں ٹیموں میں اگر موازنہ کیا جائے تو پاکستانی ٹیم میں دھونی والا کام شعیب ملک کر رہے ہیں۔ آج کل فارم میں بھی ہیں اس لیے پاکستان کو یہ بہت بڑا ایڈوانٹیج ہے۔

محمد آصف کی آتش

عمر اکمل کے جانے کے بعد پاکستان کے لیے نمبر 6 پر ایک اچھا بلے باز درکار تھا جو ہیٹنگ بخوبی کرسکے اور پاکستان سُپر لیگ کے طفیل ہمیں وہ لڑکا محمد آصف کی شکل میں مل چکا ہے۔ امید ہے آصف انڈیا کے خلاف اپنا پہلا میچ یادگار بناسکیں گے۔

عبدالرزاق کے بعد ہمیں محدود اوورز کے لیے ایک اچھا فاسٹ باؤلنگ آل راؤنڈر نہیں مل سکا جو تیز رنز بھی بنا سکے۔ ٹیم کے توازن میں یہ بہت بڑا بگاڑ تھا۔ فہیم اشرف کی صورت میں ہمیں ایک بہترین آل راؤنڈر مل چکا ہے گو کہ انہیں عبدالرزاق یا اظہر محمود کے لیول تک پہنچنے کے لیے ابھی بہت محنت درکار ہے تاہم ٹیم کا توازن ان سے بن چکا ہے۔

شاداب تُو شاد رہے

شاداب خان نے کم عمری میں جس طرح خود کو ایک ذمہ دار ٹیم مین کے طور پر منوایا ہے ایسا بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے۔

شاداب خان—تصویر بشکریہ اے ایف پی
شاداب خان—تصویر بشکریہ اے ایف پی

ان میں دھونی والی روح ہے جب بیٹنگ کے لیے آتے ہیں تو ڈٹے رہتے ہیں۔ کبھی ہار نا ماننے والا رویہ اس لڑکے کو آج یہاں تک لے آیا ہے۔ شاداب ایک بہادر لڑاکا ہے جو اپنی قابلیت سے ہمیشہ بڑھ کر داد شجاعت دیتا ہے۔ اگر وہ ایک بلے باز ہوتے تو یقیناً مائیکل بیون کے لیول تک پہنچتے۔

پاکستانی باؤلنگ اٹیک کا آمیزہ

باؤلنگ پاکستان کی ہمیشہ سے پہچان رہی ہے۔ فاسٹ باؤلنگ میں محمد عامر، حسن علی اور عثمان شنواری جیسے 3 مکمل فاسٹ باؤلرز انڈیا کے خلاف کھیلیں گے تو منظر دیدنی ہوگا۔ محمد عامر کو وکٹ نا ملنے پر بہت تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ میرے خیال سے یہ بے جا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ وہ وکٹ نہیں نکال پارہے تاہم وہ رنز روک رہے ہیں۔

پاکستانی فاسٹ باؤلر شاہین آفریدی اور آل راؤنڈر فہیم اشرف پریکٹس سیشن کے دور: فوٹو: اے ایف پی
پاکستانی فاسٹ باؤلر شاہین آفریدی اور آل راؤنڈر فہیم اشرف پریکٹس سیشن کے دور: فوٹو: اے ایف پی

گزشتہ روز ماہر شماریات اسرار احمد ہاشمی نے ایک دلچسپ شماریہ نکالا کہ 2015ء کے ورلڈ کپ کے بعد عامر کا اکانومی ریٹ پاکستانی باؤلرز میں سب سے کم ہے۔ اوورآل ان کا فی اوور رن ریٹ 5ویں نمبر پر بہترین ہے۔ مطلب وہ پریشر بناتے ہیں جس کی وجہ سے اکثر دوسرے اینڈ سے باؤلر وکٹ نکالنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ میرے خیال میں موجودہ پاکستانی ٹیم میں ان کی جگہ بنتی ہے۔ انہیں کھلانا چاہیے۔ ویسے بھی وہ بڑے میچ کے کھلاڑی ہیں۔ چیمپیئنز ٹرافی فائنل ہمیں جتوا چکے ہیں۔

عثمان شنواری، ایک سرپرائز پیکج

عثمان شنواری خود کو ملنے والے دوسرے موقعے سے بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ انڈیا کے لیے وہ ایک سرپرائز پیکج ثابت ہوں گے۔ جنید خان اور شاہین شاہ آفریدی جیسے لڑکے آپ کی بینچ اسٹرینتھ ہوں تو کوالٹی کا اندازہ کرنا قطعاً مشکل نہیں۔

باؤلنگ پاکستان کی ہمیشہ سے پہچان رہی ہے—تصویر بشکریہ اے ایف پی
باؤلنگ پاکستان کی ہمیشہ سے پہچان رہی ہے—تصویر بشکریہ اے ایف پی

الحمدللہ ہم میدان میں ایک مکمل پیکج اتار سکتے ہیں۔ ایک اسپنر، 3 بہترین فاسٹ باؤلرز اور فہیم اشرف، اگر پچ مددگار ہوئی تو اضافی اسپنر شعیب ملک موجود ہوں گے۔

شاہینوں کی چاق و چوبند فیلڈنگ

اس بار ایک اور اہم چیز جو پاکستان کو فائدہ دے گی وہ دن بدن بہتر ہوتی ہوئی ہماری فیلڈنگ ہے۔ پاکستان نے گزشتہ کچھ عرصے میں اپنی فیلڈنگ جتنی بہتر کی ہے وہ بہت خوش کُن ہے۔

اچھی فیلڈنگ سے آپ کو بہت سے فوائد ملتے ہیں، ایک تو رنز رکنے کی وجہ سے متوقع ٹارگٹ میں کمی۔ دوسرا مخالف بلے باز کی فرسٹریشن جو اکثر وکٹ ملنے کی صورت میں منتج ہوتی ہے۔ باؤلر بد دل نہیں ہوتا۔ مخالف ٹیم کا ردھم ٹوٹ جاتا ہے۔ تیسرا ٹیم میں فِیل گُڈ فیکٹر پروان چڑھتا ہے۔

سرفراز کی کپتانی کتنی کمال؟

سرفراز کی کپتانی میں 180 زاویے کا اُتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے۔ ایک دن وہ بہترین کپتان نظر آتے ہیں تو دوسرے دن بدترین، فرسٹریٹڈ روپ میں نظر آتے ہیں۔ غلطیاں کرنے پر آئیں تو غلطیاں بھی مسلسل کرتے ہیں اور اچھے فیصلے بھی مسلسل کرتے ہی چلے جاتے ہیں۔

سرفراز کی کپتانی میں 180 زاویے کا اُتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے—اے ایف پی
سرفراز کی کپتانی میں 180 زاویے کا اُتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے—اے ایف پی

اچھے یا بُرے دن کی عملی تفسیر ان کی کپتانی سے بہتر نہیں ہوسکتی۔ اس سلسلے میں چیمپیئنز ٹرافی میں کھیلا گیا پاکستان انڈیا کا پہلا میچ اور فائنل میچ بہترین مثالیں ہیں۔ امید ہے کہ کل کے میچ میں ہمیں جذباتی نہیں بلکہ ٹھنڈا سرفرازاحمد نظر آئے گا۔

پاکستان کو اس میچ میں معمولی برتری حاصل ہے اور اگر سب کچھ نارمل طریقے سے ہوا تو پاکستان یہ میچ باآسانی جیت سکتا ہے۔ تاہم کرکٹ، خاص کر محدود اوورز کی کرکٹ میں ایک اچھا اسپیل یا ایک شاندار اننگز مخالف ٹیم کو نیست و نابود کرسکتی ہے۔ 100 شاندار اوورز دنیائے کرکٹ کے کروڑوں چاہنے والوں کا انتظار کر رہے ہیں۔


محسن حدید کرکٹ سے جنون کی حد تک لگاؤ رکھتے ہیں اور مختلف اخبارات اور ویب سائٹ کے لیے لکھتے ہیں۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔