ای میل

سعودی عرب میں پاکستان کی پہچان نعیم سندھی

پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کی تاریخ کئی دہائیوں پر مبنی ہے اور دونوں کے درمیان نہ صرف اسٹریٹجک، اقتصادی، سماجی اور برادرانہ تعلقات ہیں بلکہ دونوں ممالک کے ثقافتی تعلقات بھی اپنی مثال آپ ہیں۔

پاکستان اور سعودی عرب کو ثقافتی لحاظ سے بھی اسلامی دنیا میں منفرد پہچان حاصل ہے۔

جہاں سعودی عرب کی ثقافت عرب دنیا اور مشرق وسطیٰ میں سب سے منفرد ہے، وہیں پاکستان کی ثقافت اور موسیقی بھی برصغیر و جنوبی ایشیا میں ایک الگ مقام رکھتی ہے۔

پاکستان اور سعودی عرب کی ثقافت میں اگرچہ بہت ساری چیزیں مشترکہ نہیں ہیں، تاہم دونوں کی ثقافت، موسیقی اور تاریخ میں کچھ یکسانیت پائی جاتی ہے۔

دونوں ممالک کی نہ صرف ثقافت کو کلاسیکی اہمیت حاصل ہے بلکہ دونوں ممالک کی موسیقی اور شاعری بھی ایک قدیم شاہکار ہے۔

جس طرح سعودی عرب کے رقص ’العرضہ‘ کو عرب دنیا میں خصوصی اہمیت حاصل ہے، اسی طرح ہی پاکستان کے صوبہ سندھ کے رقص ’ہوجمالو‘ کو بھی خطے میں نمایاں مقام حاصل ہے۔

نعیم سندھی سعودی عرب کے شہر جدہ میں پیدا ہوئے—فوٹو: نعیم سندھی
نعیم سندھی سعودی عرب کے شہر جدہ میں پیدا ہوئے—فوٹو: نعیم سندھی

اگرچہ ’العرضہ‘ اور ’ہوجمالو‘ کا آپس میں کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی دونوں کی دھنوں میں کوئی ساز مشترک ہے اور نہ ہی یہ رقص ایک دوسرے کی طرح کیے جاتے ہیں، تاہم پھر بھی دونوں کی تاریخ اور اہمیت ایک جیسی ہی نمایاں اور قدیم ہے۔

اور دونوں ممالک کی اسی تاریخی ثقافت کو مزید ایک دوسرے کے قریب لانے کے لیے جہاں دونوں ممالک ریاستی سطح پر بھی کوشاں ہیں، وہیں سعودی عرب میں مقیم پاکستانی نژاد گلوکار نعیم سندھی بھی اس تعاون کو بڑھانے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔

نعیم سندھی گزشتہ کئی سال سے سعودی عرب میں گلوکاری کے ذریعے نہ صرف اپنے صوبہ سندھ بلکہ پاکستان کے چاروں صوبوں کی موسیقی کے ساتھ ساتھ عرب موسیقی کو بھی پیش کرکے ایک نمایاں مقام بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔

23 سالہ نعیم سندھی اس وقت سعودی عرب کے ساحلی اور پر رونق شہر جدہ میں رہتے ہیں اور وہیں ان کی پیدائش ہوئی تھی۔

نعیم سندھی کے والدین کا تعلق صوبہ سندھ کے ضلع جامشورو کے شہر سن سے ہے اور وہ پچاس سال قبل روزگار کے سلسلے میں سعودی عرب منتقل ہوگئے تھے۔

اس سے زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ نعیم سندھی کی والدہ بھی سعودی عرب میں ہی پیدا ہوئیں، تاہم ان کے خاندان نے وہاں کی شہریت نہیں لی۔

شہریت نہ لینے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر نعیم کا کہنا تھا کہ دراصل ان کے دادا نہیں چاہتے تھے کہ ان کی نسلیں اپنے وطن کو بھلا کر سعودی عرب کے ہوکر رہ جائیں، اس وجہ سے نہ تو ان کے والدین نے شہریت لی اور نہ ہی انہوں نے کبھی اس حوالے سے سوچا۔

سعودی عرب میں تعلیم اور تربیت لینے والے نعیم سندھی نے اگرچہ باضابطہ طور پر نہ تو سندھی زبان کی تعلیم حاصل کی ہے اور نہ ہی انہوں نے اردو، پنجابی، سرائیکی اور بلوچی زبان کو باقاعدگی سے پڑھا ہے، لیکن پھر بھی وہ روانی سے یہ زبانیں بول لیتے ہیں۔

پاکستان کی بڑی زبانوں کے ساتھ نعیم سندھی کو عربی زبان پر بھی عبور حاصل ہے، وہ گلوکاری کے ساتھ عربی زبان میں وائس اوور کا فری لانس کام بھی کرتے ہیں۔

نعیم سندھی کے آباؤ اجداد کا تعلق صوبہ سندھ کے سن شہر سے ہے—فوٹو: نعیم سندھی
نعیم سندھی کے آباؤ اجداد کا تعلق صوبہ سندھ کے سن شہر سے ہے—فوٹو: نعیم سندھی

چوں کہ انہوں نے تعلیم و تربیت بھی سعودی عرب میں حاصل کی، اس وجہ سے ابتدائی طور پر ان کی دلچسپی بھی صرف عربی میوزک میں ہی تھی، تاہم انہیں بڑھتی عمر نے احساس دلایا کہ اپنی مادری زبان اور اپنے ملک کی ثقافت ہی انسان کو منفرد شناخت فراہم کرتی ہے۔

نعیم سندھی نے بتایا کہ ابتدائی طور پر انہیں عربی ہپ ہاپ میوزک میں دلچسپی تھی اور انہوں نے اس پر کافی عبور بھی حاصل کرلیا تھا۔

نعیم سندھی کے مطابق انہیں بچپن میں ہی میوزک سے دلچسپی ہوگئی تھی اور انہوں نے محض 11 برس کی عمر میں ہپ ہاپ کی تربیت لینا شروع کی جو بعد میں ایک ایسے شوق میں بدل گئی جس کا اندازہ خود انہیں بھی نہیں تھا۔

جیسے جیسے نعیم سندھی کی عمر بڑھتی گئی ان کی میوزک میں دلچسپی بھی بڑھتی گئی اور ان کی توجہ عربی ہپ ہاپ سے ہٹ کرپاکستانی موسیقی کی طرف ہوگئی اور انہوں نے کسی خاص استاد کے بغیر ہی پاکستان کی مختلف زبانوں میں گلوکاری کی شروعات کردی۔

اور اب وہ عربی سمیت اردو، سندھی، پنجابی اور بلوچی سمیت دیگر زبانوں میں گاتے ہیں۔

نعیم سندھی نے بتایا کہ انہوں نے ابتدائی طور پر سعودی عرب میں چلنے والے پاکستانی اسکولوں میں انگریزی میڈیم میں تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں انہوں نے عربی اسکولوں میں تعلیم حاصل کی۔

ان کے مطابق انہوں نے جس طرح باقاعدگی سے اردو، سندھی، پنجابی، بلوچی اور سرائیکی زبان کی تعلیم حاصل نہیں کی اسی طرح انہوں نے گلوکاری کی بھی کسی سے خصوصی تربیت نہیں لی۔

سعودی عرب میں پیدا ہونے، رہنے، پلنے، انگریزی اور عربی میں تعلیم حاصل کرنے کے باوجود کس طرح مادری زبان سندھی اور قومی زبان اردو بول لیتے ہیں اور کس طرح ان زبانوں سمیت دیگر پاکستانی زبانوں میں گلوکاری کر لیتے ہیں کہ جواب میں ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے وطن اور وہاں کی ثقافت، زبانوں اور موسیقی سے لگاؤ تھا۔

نعیم سندھی کا کہنا تھا کہ انہیں سندھی سمیت دیگر پاکستانی زبانیں سیکھنے اور ان میں گلوکاری کرنے میں جدید ٹیکنالوجی اور خصوصی طور پر انٹرنیٹ نے بڑی مدد فراہم کی اور انہیں فخر ہے کہ وہ اپنے آبائی ملک کی زبانوں اور ثقافت کو نہیں بھولے۔

اگرچہ موسیقی کی جانب نعیم سندھی محض 11 برس کی عمر میں ہی راغب ہوگئے تھے، تاہم انہوں نے بطور پروفیشنل گلوکاری کا آغاز 2015 میں کیا اور اب تک درجنوں گانوں کو گا چکے ہیں۔

نعیم سندھی کو سعودی میں گلوکاری کرتے کبھی کوئی مشکل پیش نہیں آئی—فوٹو: نعیم سندھی
نعیم سندھی کو سعودی میں گلوکاری کرتے کبھی کوئی مشکل پیش نہیں آئی—فوٹو: نعیم سندھی

نعیم سندھی اس وقت تک جدہ اور ریاض سمیت سعودی عرب کے 9 مختلف شہروں میں مختلف تقریبات کے دوران اپنے فن کا مظاہرہ کر چکے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ان کی سب سے منفرد بات یہ ہے کہ وہ نہ صرف عربی اور سندھی بلکہ اردو، بلوچی، پنجابی اور سرائکی میں گاتے ہیں بلکہ وہ خطے کی دیگر زبانوں پر بھی گلوکاری کرتے ہیں، تاہم دیگر زبانوں پر انہیں تاحال عبور حاصل نہیں۔

نعیم سندھی سعودی عرب میں مقیم نہ صرف پاکستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی جانب سے منعقد کی جانے والی تقریبات میں گاتے ہیں بلکہ وہ مقامی عرب افراد کی تقریبات میں بھی فن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ جب وہ عربی لباس پہن کر سندھی یا اردو میں گاتے ہیں تو سب سے زیادہ ان زبانوں کے بولنے والے افراد خوش ہوتے ہیں اور جب وہ پاکستانی ثقافتی لباس پہن کر عربی میں گاتے ہیں تو وہاں کے مقامی افراد کی خوشی دیدنی ہوتی ہے۔

اگرچہ سعودی عرب میں پاکستانی ڈرامے اور فلمیں پہلے سے ہی مقبول ہیں اور وہاں کے مقامی افراد میں ماہرہ خان اور فواد خان جیسے اداکار بھی مقبول ہیں۔

تاہم نعیم سندھی کی صورت میں مقامی افراد کو ایک ایسا گلوکار مل چکا ہے جو بیک وقت دونوں ممالک کی ثقافتوں اور زبانوں کی تشہیر کرتا ہے۔

ڈان نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں نعیم سندھی نے بتایا کہ وہ مستقبل میں ایک ایسا گانا تیار کرنے کی منصوبہ بندی بنا رہے ہیں، جو بیک وقت عربی، اردو، سندھی اور پنجابی سمیت پاکستان کی دیگر زبانوں پر مبنی ہو، تاہم یہ گانا کب تک تیار ہوگا، اس حوالے سے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔

سعودی عرب کے بدلتے ہوئے سماج کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ اب وہاں کے حالات کافی بہتر ہو چکے ہیں، تاہم وہ اس وقت سے گلوکاری سے منسلک ہیں جب سعودی معاشرہ اتنا روشن خیال نہیں ہوا تھا، لیکن پھر بھی انہیں کبھی کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔

نعیم سندھی نے سعودی عرب میں کی جانے والی حالیہ معاشی و ثقافتی اصلاحات کو مجموعی طور پر وہاں کے لیے بہتر قرار دیا، تاہم ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ماضی کے مقابلے اب غیر سعودی باشندوں کو بھاری ٹیکس ادا کرنے پڑتے ہیں، جس وجہ سے وہ معاشی طور پر پہلے جیسے مضبوط نہیں۔

نعیم سندھی کا کہنا تھا کہ تبدیلی وقت کی اہم ضرورت ہے اور یہ سعودی عرب سمیت ہر جگہ دیکھنے میں آئی ہے۔

ان کے مطابق تبدیلی صرف ممالک اور معاشروں تک محدود نہیں رہی اسے موسیقی کی دنیا میں بھی دیکھا گیا ہے کیوں کہ اب عالمی سطح پر مشہور گلوکار بھی میوزک ایلبم ریلیز نہیں کرتے۔

نعیم سندھی نے بتایا کہ اب لوگ ایک ہی گلوکار کے بیک وقت 10 گانے سننے کے لیے تیار نہیں ہوتے، اس وجہ سے معروف گلوکاروں نے بھی میوزک ایلبم ریلیز کرنا چھوڑ دیے ہیں۔

نعیم سندھی کے مطابق انہوں نے بھی آج تک میوزک ایلبم ریلیز نہیں کیا اور نہ ہی مستقبل قریب میں وہ میوزک ایلبم ریلیز کرنے کا اردہ رکھتے ہیں۔

ان کے خیال میں اب سنگل گانوں کا وقت ہے اور سوشل میڈیا کے اس دور میں کسی بھی گلوکار کو اس کا ایک ہی گانا راتوں رات سپر اسٹار بنا سکتا ہے۔

نعیم سندھی کو اگرچہ سعودی عرب میں رہتے ہوئے اپنی پسند کے موسیقار ملنے میں مشکل درپیش ہے، تاہم وہ اپنے گانوں کی موسیقی بھی خود تیار کرلیتے ہیں اور جب کبھی کسی مشکل میں پھنس جاتے ہیں تو چند عرب موسیقاروں سمیت پاکستانی موسیقاروں سے مدد لیتے ہیں۔

نعیم سندھی مستقبل میں عربی، اردو، سندھی، بلوچی، پنجابی و سرائکی زبان کا مشترکہ گانا ریلیز کرنا چاہتے ہیں—فوٹو: نعیم سندھی
نعیم سندھی مستقبل میں عربی، اردو، سندھی، بلوچی، پنجابی و سرائکی زبان کا مشترکہ گانا ریلیز کرنا چاہتے ہیں—فوٹو: نعیم سندھی

سعودی عرب میں پاکستان کی پہچان بن جانے والے نعیم سندھی نے بتایا کہ انہیں یہاں رہتے ہوئے کبھی کوئی پریشانی نہیں ہوئی، تاہم انہیں ایک مشکل درپیش ہے۔

انہوں نے اپنی مشکل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں افسوس ہے کہ وہ معروف پاکستانی گانوں کو ماڈلنگ کے انداز میں پیش نہیں کرپاتے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ اگرچہ انہوں نے باضابطہ طور پر کسی خاتون ماڈل کو گانوں میں کاسٹ کرنے کا نہیں سوچا، تاہم انہیں اندازا ہے کہ اس حوالے سے یہاں کچھ مشکلات پیش آ سکتی ہیں اور پھر ان کے مالی حالات بھی اتنے اچھے نہیں کہ وہ کسی سرمایہ کاری کے بغیر گانوں پر اتنی رقم خرچ کریں۔

نعیم سندھی کے مطابق چوں کہ ابھی انہیں پروفیشنل گلوکاری کرتے ہوئے محض 3 سال ہی ہوئے ہیں، اس لیے ان کی کمائی اتنی اچھی نہیں ہوتی کہ وہ اپنی کمائی کو گانوں کی ماڈلنگ پر خرچ کرسکیں۔

تاہم انہوں نے امید ظاہر کی مستقبل میں وہ سعودی عرب میں رہتے ہوئے نہ صرف پاکستانی بلکہ عرب گانوں میں بھی ماڈلنگ کو دکھا سکیں گے اور وہ مقامی خواتین ماڈلز بھی ڈھونڈنے میں کامیاب ہو سکیں گے۔