ای میل

سندھ میں ہر 96 ہزار افراد کیلئے ایک سرکاری ایمبولینس

سندھ حکومت کے تحت نئی ایمبولینس سروس بھی شروع کی گئی مگر اس میں بھی گاڑیوں کی تعداد بہت کم ہے—فوٹو: ٹوئٹر
سندھ حکومت کے تحت نئی ایمبولینس سروس بھی شروع کی گئی مگر اس میں بھی گاڑیوں کی تعداد بہت کم ہے—فوٹو: ٹوئٹر

ساگر سہندڑو

شوکت علی کا تعلق صوبہ سندھ کے دور دراز ضلع شکارپور کے ایک پسماندہ گاؤں سے ہے جو گردوں کے کینسر میں مبتلا اپنی 45 سالہ اہلیہ کو علاج کے لیے مفت یا انتہائی کم کرائے پر دستیاب ایمبولینس کے ذریعے دارالحکومت کراچی لانا چاہتے تھے۔

مگر سرکاری ایمبولینس نہ ہونے اور نجی ایمبولینسز کے کرائے زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنی بیمار اہلیہ کو ٹرین کے ذریعے گاؤں سے 530 کلومیٹر دور کراچی لے آئے جہاں انہوں نے اپنی اہلیہ کو ’سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹ‘ (ایس آئی یو ٹی) میں داخل کروایا۔

شوکت علی نے اپنی انتہائی بیمار اہلیہ کو ٹرین میں لے کر آنے والی تکلیف کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اگر ان کے پاس پیسے ہوتے تو وہ اپنی بیوی کو نجی ایمبولینس میں کراچی لے کر آتے۔

ان کے مطابق ٹرین میں مریضہ کو لے کر آنے کی وجہ سے جہاں ان کی بیوی کی تکلیف میں اضافہ ہوا وہیں وہ انہیں بروقت علاج کے لیے ہسپتال پہنچانے میں بھی ناکام رہے۔

اب اگرچہ شوکت علی کی بیوی ایس آئی یو ٹی میں زیر علاج ہے مگر ڈاکٹرز نے انہیں بتا رکھا ہے کہ ان کی اہلیہ کا کینسر پھیل چکا ہے جس وجہ سے وہ جسمانی طور پر بھی بہت کمزور ہوگئی ہیں اور اس حالت میں ان کا آپریشن بھی نہیں کیا جاسکتا۔

شوکت علی نے اپنے آنسو پونچھتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹرز نے انہیں بتادیا ہے کہ وہ ذہنی طور پر کسی بھی ناخوشگوار واقعے کے لیے تیار رہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ انہیں ایک بار پھر اس بات کی فکر ہے کہ کسی ناگہانی کی صورت میں وہ اپنی بیوی کو 530 کلو میٹر دور کیسے لے کر جائیں گے؟

ایمبولینسز کی کمی اور ان کے کم کرائے پر دستیاب نہ ہونے کا شکوہ کرنے والے شوکت علی اکیلے شخص نہیں ہیں بلکہ یہ سندھ کے دور دراز علاقوں کے لاکھوں افراد کا مسئلہ ہے۔

شوکت علی کے مطابق انہیں معلوم ہے کہ کراچی ان کے گاؤں سے بہت دور ہے اور حکومت 530 کلو میٹر تک مفت ایمبولینس سروس فراہم نہیں کر سکتی تاہم حکومت کم کرائے پر یہ سہولت فراہم کر سکتی ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ شکارپور سے کراچی تو دور کی بات ہے انہیں اپنی اہلیہ کو شکارپور سے سکھر تک لے جانے میں بھی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا اور وہ اپنی اہلیہ کو کبھی موٹر سائیکل، کبھی چنگچی رکشہ تو کبھی پبلک ٹرانسپورٹ میں علاج کے لیے لے جاتے تھے۔

شوکت علی کی اہلیہ ایس آئی یو ٹی میں زیر علاج ہے
شوکت علی کی اہلیہ ایس آئی یو ٹی میں زیر علاج ہے

ان کے مطابق شکارپور سے سکھر 50 کلو میٹر کے فاصلے تک بھی سرکاری ایمبولینس سروس میسر نہیں ہے اور تو اور وہاں شہر میں ہی ایک سے دوسری جگہ مریض کو منتقل کرنے کے لیے بھی سرکاری ایمبولینس دستیاب نہیں ہوتی۔

شوکت علی اس بات سے بے خبر ہیں کہ سندھ بھر میں کتنی سرکاری ایمبولینسز موجود ہیں تاہم انہوں نے بتایا کہ سکھر جیسے شہر میں مناسب کرائے پر ایدھی ایمبولینس کی سہولت میسر ہے۔

شوکت علی نے بتایا کہ ان کی ماہانہ آمدن لگ بھگ 25 ہزار روپے ہے اور وہ نجی ایمبولینس کا خرچ برداشت کرنے سے قاصر تھے اس لیے وہ اپنی مریض اہلیہ کو ٹرین میں کراچی لے کر آئے۔

شوکت علی کی طرح جیکب آباد سے تعلق رکھنے والے بانھو خان نے بھی سرکاری ایمبولینس کی عدم دستیابی کی شکایت کی اور بتایا کہ وہ اپنے 16 سالہ بیٹے کو علاج کے لیے کراچی نجی گاڑی میں لے کر آئے۔

ان کے مطابق اگرچہ ان کی آمدنی بھی بہت اچھی نہیں ہے مگر وہ بیٹے کی صحت یابی کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں اور وہ نہیں چاہتے تھے کہ کراچی پہنچتے پہنچتے ان کے بیٹے کی طبعیت مزید بگڑ جائے اس لیے انہوں نے 30 ہزار روپے کرایہ ادا کرکے ایمبولینس کی طرح کی ایک گاڑی میں بیٹے کو کراچی منتقل کیا اور بعد ازاں ایک نجی ہسپتال میں داخل کرایا۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ اگرچہ انہیں کراچی پہنچنے میں بہت زیادہ وقت نہیں لگا مگر ایمبولینس کے بجائے دوسری عام گاڑی میں بیٹے کو علاج کے لیے منتقل کرتے وقت انہیں کچھ پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا اور اگر ایمبولینس ہوتی تو ان کے بیٹے کو ہنگامی طبی امداد وہیں پر دی جا سکتی تھی۔

شوکت علی اس بات پر مطمئن ہیں کہ ان کی اہلیہ کا بہتر علاج ایس آئی یو ٹی میں مفت ہو رہا ہے
شوکت علی اس بات پر مطمئن ہیں کہ ان کی اہلیہ کا بہتر علاج ایس آئی یو ٹی میں مفت ہو رہا ہے

ایمبولینس کی کمی یا ان کی کم کرائے پر عدم دستیابی صرف شکارپور کے شوکت علی اور جیکب آباد کے بانھو خان کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ مسئلہ لاکھوں سندھ واسیوں کو درپیش ہے کیوں کہ صوبے میں سرکاری ایمبولینسز کی تعداد انتہائی کم ہے۔

سندھ کا شمار آبادی کے لحاظ سے پاکستان کے دوسرے بڑے صوبے میں ہوتا ہے مگر یہاں سرکاری ایمبولینسز کی تعداد انتہائی کم ہے۔

محکمہ صحت سندھ کے مطابق صوبے بھر میں 669 سرکاری ایمبولینسز موجود ہیں جن میں سے بھی 168 خراب ہیں اور یوں تقریباً سندھ کے 96 ہزار افراد کے لیے محض ایک سرکاری ایمبولینس دستیاب ہے۔

سال 2017 میں کی جانے والی مردم شماری کے مطابق صوبہ سندھ کی آبادی 4 کروڑ 78 لاکھ 86 ہزار51 تھی جس میں گزشتہ 3 سال کے دوران نمایاں اضافہ ہوا اور آبادی بڑھ کر 5 کروڑ سے زائد ہوگئی۔

سندھ کے مؤقر اخبار روزنامہ کاوش میں کچھ دن قبل ایک رپورٹ شائع ہونے کے بعد جب ڈان نے محکمہ صحت سندھ سے رابطہ کیا تو حکام نے اس بات کی تصدیق کی کہ دسمبر 2019 تک صوبے بھر میں سرکاری ایمبولینسز کی تعداد 669 تھی جس میں سے بھی 168 گاڑیاں خراب تھیں۔

محکمہ صحت سندھ کی جانب سے ڈان کو فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ ایمبولینسز شمالی سندھ کے ضلع شکارپور میں 39 فراہم کی گئی ہیں جن میں سے 15 ایمبولینسز خراب ہیں۔

صوبے بھر میں موجود سرکاری ایمبولینسزمیں سے بھی صرف کراچی اور حیدرآباد کی کچھ سرکاری ایمبولینسز مریضوں کے کام آتی ہیں جب کہ باقی دیگر اضلاع میں حالات اس کے برعکس ہیں۔

رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ ضلع میرپورخاص کو 33، خیرپور کو 32، بے نظیر آباد کو 30، تھرپارکر کو 29، ضلع حیدرآباد کو 22، دادو کو 21، بدین کو 19، عمر کوٹ کو 19، سجاول کو 10، جامشورو کو 10، ٹھٹہ کو 17، مٹیاری کو 27، ٹنڈو محمد خان کو 12، سکھر کو 16، گھوٹکی کو 17، لاڑکانہ کو 26، جیکب آباد کو 8، قمبر شہدادکوٹ کو 15 سانگھڑ کو 21، نوشہروفیروز کو 25، کراچی کے ضلع ملیر کو 10 اور ضلع غربی کو ایک ایمبولینس فراہم کی گئی تھی۔

مذکورہ اضلاع کو فراہم کی گئی ایمبولینسز میں سے بھی مجموعی طور 168 ایمبولینسز کافی وقت سے خراب پڑی ہیں اور سب سے زیادہ ایمبولینسز قحط سالی کے شکار ضلع تھرپارکر میں خراب ہیں۔

تھرپارکر کی 29 سے 26 ایمبولینسز ناکارہ ہیں جب کہ دوسرے نمبر پر نوشہروفیروز ضلع ہے جہاں کی 25 سے 12 ایمبولینسز خراب ہیں، تیسرے نمبر پر شکارپور ہے جہاں کی 39 میں سے 15 ایمبولینسز خراب ہیں۔

رپورٹ میں اعتراف کیا گیا ہے کہ آبادی کے لحاظ سے صوبے کے سب سے بڑے ڈویژن اور ملکی معیشت کے حب کراچی کے 4 اضلاع کو ایک بھی سرکاری ایمبولیس فراہم نہیں کی گئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کراچی ڈویژن کے ضلع شرقی، جنوبی، وسطی اور کورنگی کو ایک بھی سرکاری ایمبولینس فراہم نہیں کی گئی۔

تاہم رپورٹ کے مطابق اگرچہ کراچی ڈویژن کے 4 اضلاع کو ایک بھی سرکاری ایمبولینس فراہم نہیں کی گئی لیکن پھر بھی کراچی میں سب سے زیادہ سرکاری ایمبولینسز فراہم کی گئی ہیں۔

کراچی کے ضلع ملیر اور غربی کی 11 ایمبولینسز سمیت سول ہسپتال، جنرل ہسپتال لیاری، سروسز ہسپتال، ایس جی ایچ ہسپتال ابراہیم حیدری، سندھ گورنمنٹ ہسپتال کورنگی، سندھ قطر ہسپتال، سندھ گورنمنٹ ہسپتال لیاقت آباد، چلڈرن ہسپتال ناظم آباد، سندھ گورنمنٹ ہسپتال نیوکراچی، سندھ گورنمٹ ہسپتال نیوسعود آباد اور اربن ہیلتھ سینٹر نارتھ کراچی کو بھی علیحدہ ایمبولینسز فراہم کی گئی ہیں۔

مجموعی طور پر کراچی کی ضلعی حکومتوں، ہسپتالوں اور صحت کے مراکز کو 67 ایمبولینسز فراہم کی گئی ہیں اور یہ تعداد سب سے زیادہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق سندھ کے دیگر شہروں کے ہسپتالوں کو بھی علیحدہ ایمبولینسز فراہم کی گئی ہیں اور سب سے زیادہ جامشورو کے لیاقت میڈیکل یونیورسٹی ہسپتال کو 30 ایمبولینسز فراہم کی گئی ہیں اور دوسرے نمبر پر لاڑکانہ کا چانڈکا میڈیکل ہسپتال ہے جسے 23 ایمبولینسز فراہم کی گئی ہیں۔

رپورٹ میں اس بات کا بھی اعتراف کیا گیا ہے کہ صوبے بھر کی 669 ایمبولینسز میں سے صرف 501 ایمبولینسز فعال ہیں اور اگر مذکورہ ایمبولینسز کی تعداد کو صوبے کی مجموعی آبادی 4 کروڑ 78 لاکھ 86 ہزار51 میں تقسیم کیا جائے تو تقریبا ہر 96 ہزار افراد کے حصے میں ایک ایمبولینس آئے گی۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ صوبہ سندھ میں سرکاری ایمبولینسز کے علاوہ نجی فلاحی تنظیموں کی ایمبولینسز اور سندھ حکومت کے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) کے منصوبے کے تحت بھی ایمبولینسز خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

سندھ میں صوبائی حکومت اور فلاحی تنظیم امن فاؤنڈیشن کی پارٹنرشپ کے تحت بھی لائیف سیونگ (زندگی بچانے والی) ایمبولینسز چل رہی ہیں تاہم ایسی ایمبولینسز کا دائرہ کار صرف دارالحکومت اور ضلع ٹھٹہ اور سجاول تک ہی محدود ہے۔

امن فاؤنڈیشن اور سندھ حکومت کے تعاون سے سندھ ریسکیو اینڈ میڈیکل سروسز کے نام سے تقریباً 2 کروڑ آبادی والے شہر کراچی میں صرف 60 زندگی بچانے والی ایمبولینسز چل رہی ہیں۔

سندھ حکومت اور امن فاؤیڈیشن مشترکہ طور پر اکتوبر 2019 تک کراچی میں صرف 60 ایمبولینسز چلا رہے تھے—فوٹو: امن فاؤنڈیشن
سندھ حکومت اور امن فاؤیڈیشن مشترکہ طور پر اکتوبر 2019 تک کراچی میں صرف 60 ایمبولینسز چلا رہے تھے—فوٹو: امن فاؤنڈیشن

امن فاؤنڈیشن کے مطابق سندھ حکومت کے ساتھ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت کراچی کے علاوہ ضلع ٹھٹہ اور سجاول میں بھی سندھ پیپلز ایمبولینس سروس کے ذریعے 25 جان بچانی والی ایمبولینسز سروس فراہم کر رہی ہیں۔

علاوہ ازیں کراچی سمیت صوبے کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں ایدھی فاؤنڈیشن اور چھیپا ویلفیئر کی ایمبولینسز بھی خدمات سر انجام دے رہی ہیں، صوبے میں سب سے زیادہ دنیا کی سب سے بڑی ایمبولینس سروس کا درجہ رکھنے والی تنظیم ایدھی فاؤنڈیشن کی ایمبولینسز چلتی ہیں۔

ایدھی فاؤنڈیشن کی سب سے زیادہ ایمبولینسز بھی صوبے کے سب سے بڑے شہر اور دارالحکومت کراچی میں چلتی ہیں تاہم ایدھی فاؤنڈیشن کی تقریبا ہر شہر میں سروس موجود ہے اور کم سے کم ہر شہر میں ایک موبائل ضرور ہے۔

اسی طرح چھیپا فاؤنڈیشن اور الخدمت فاؤنڈیشن کی ایمبولینسز بھی صوبے کے کئی شہروں میں سروس فراہم کرتی ہیں جب کہ خدمت خلف فاؤنڈیشن (کے کے ایف) سمیت دیگر فلاحی و سماجی تنظیموں کی ایمبولینسز بھی کراچی سمیت صوبے کے دیگر شہروں میں سروس فراہم کرتی ہیں۔

سندھ بھر میں سرکاری ایمبولینسز کے حوالے سے کاوش نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ سندھ کے 15 ہزار کی آبادی رکھنے والے قصبوں اور شہروں کو بھی ایمبولینسز سے محروم رکھا گیا ہے اور دور دراز کے لوگ گدھا گاڑی، بیل گاڑی، چنگچی رکشہ، موٹر سائیکل اور ٹریکٹر ٹرالر جیسی سواریوں پر مریضوں کو ہسپتال لاتے ہیں۔

رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ سرکاری ایمبولینسز کو چلانے کی مد میں ضلع اور تعلقہ ہسپتال انتظامیہ کو پیٹرول سمیت دیگر اخراجات بھی ملتے ہیں تاہم اس باوجود عام افراد کو ایمبولینس سروس کی سہولت فراہم نہیں کی جاتی۔

رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ سندھ کے کئی بنیادی صحت مراکز اور رورل ہیلتھ سینٹرز بھی ایمبولینسز کی سہولت سے محروم ہیں

سندھ میں ایدھی فاؤنڈیشن کی دوسری فلاحی تنطیموں کے مقابلے زیادہ ایمبولینسز ہیں—فائل فوٹو: فیس بک
سندھ میں ایدھی فاؤنڈیشن کی دوسری فلاحی تنطیموں کے مقابلے زیادہ ایمبولینسز ہیں—فائل فوٹو: فیس بک