ای میل

خلاسے نظر آنے والے 7 انسانی اسٹرکچر

7 انسانی اسٹرکچر جو خلاسے بھی نظر آتے ہیں



ہمارا سیارہ ایک بہت بڑی جگہ ہے اور کئی ہزار سال سے انسان اسے بڑے اور شاندار تعمیرات سے بھر رہے ہیں جیسے عظیم الجثہ اہرام، بلند و بالا دیواریں ، گنجان آباد شہر اور بہت کچھ۔

مگر زمین کی سطح سے لگ بھگ 250 میل اوپر واقع انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن (آئی ایس ایس) سے ہمارا یہ بڑا سیارہ کافی چھوٹا نظر آتا ہے، یہاں موجود گھر، سڑکیں اور عمارات نظروں سے اوجھل ہوجاتیں، یہاں تک کہ عظیم الشان تعمیرات بھی ایک نیلے، سفید اور سبز رنگ کی دھند میں گم ہوجاتے ہیں۔

مگر پھر بھی کچھ اسٹرکچر ایسے ہیں جو زمین سے باہر خلا میں ڈھائی سو میل کے فاصلے سے بھی نظر آتے ہیں جن میں سے کچھ نیچے دیئے گئے ہیں۔

گیزہ کے عظیم اہرام

فوٹو بشکریہ ناسا
فوٹو بشکریہ ناسا

کیا آپ کو تصویر کے مرکز مین 2 چھوٹے سے تکونی سائے نظر آرہے ہیں؟ یہسائے درحقیقت انسانوں کی تعمیر کردہ چند ذہن گھمادینے والی عمارات میں سے ایک ہیں اور یہ مصر میں دریافت ہونے والے اہراموں میں سب سے زیادہ معروف ہیں ، یہ ہیں گیزہ کے اہرام۔ ان تینوں میں سب سے بڑا لگ بھگ 500 فٹ طویل ہے مگر خلاءسے یہ مصری صحرا میں ایک ننھے نشان جیسا ہی نظر آتا ہے۔

رات کو شہروں کی روشنیاں

فوٹو بشکریہ ناسا
فوٹو بشکریہ ناسا

رات کے وقت شہروں کو جگمگانی والی روشنیاں بے شک ستاروں کو آسمان سے غائب کررہی ہوں، مگر خلا سے دیکھا جائے تو بیشتر شہروں کی یہ مصنوعی روشنیاں اپنی کہکشاں بنائے نظر آتی ہیں، جن سے ان کے ارگرد کا علاقہ منور ہورہا ہوتا ہے۔

کیننیکوٹ کاپر مائن

فوٹو بشکریہ ناسا
فوٹو بشکریہ ناسا

امریکی ریاست یوٹاہ کے علاقے سالٹ لیک سٹی کے جنوب میں واقع یہ کان دنیا کی چند بڑی کھلی کانوں میں سے ایک ہے۔ یہ ڈھائی میل کے رقبے پر پھیلی ہوئی ہے اور 4 ہزار فٹ گہری ہے، یہاں سب سے پہلے کان کنی کا آغاز 19 ویں صدی کے آخر میں ہوا۔

پل

فوٹو بشکریہ ناسا
فوٹو بشکریہ ناسا

انسان زمانہ قدیم سے پلوں کو تعیر کررہے ہیں اور ہر دور میں ان میں بہتری ہی آئی ہے۔ ان میں کچھ انجنیئرنگ کا شاہکار بھی ہیں، ایسے عظیم الجثہ برج پانیوں کے اوپر سے گزر کر آمد و رفت کو ممکن بناتے ہیں، یہاں موجود تصویر آئی ایس ایس جانے والے ایک خلاباز نے لی تھی جو کہ امریکا کے بے ایریا کی ہے۔

دبئی کے پام آئی لینڈز

فوٹو بشکریہ ناسا
فوٹو بشکریہ ناسا

یہ پام آئی لینڈز انسان کے تعمیر کردہ جزیروں کے مجموعی پر مشتمل ہیں جو دبئی کے ساحل پر تعمیر ہوئے، ان جزیروں کی تعمیر کے لیے مزدورون نے خلیج فارس کی تہہ سے ریت کو نکالا اور اس کو ایسے انداز سے اسپرے کیا کہ وہ گہرے پانی میں جزیرے کی شکل اختیار کرگئی۔ کچھ جزیروں کو پام درختوں کی شکل میں تعمیر کیا گیا ۔

المیرہ کے گرین ہاﺅسز

فوٹو بشکریہ ناسا
فوٹو بشکریہ ناسا

جنوبی اسپین کے صوبے المیرہ میں ساحلی علاقے پر بڑی تعداد میں گرین ہاﺅسز کو تعمیر کیا گیا ہے جو 64 ہزار رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں، یہاں ہر سال لاکھوں ٹن پھل اور سبزیوں کو اگایا جاتا ہے جنھیں دنیا کے مختلف مقامات پر برآمد کیا جاتا ہے، مگر سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان گرین ہاﺅسز کو خلاسے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

پاکستان اور انڈیا کی سرحد

فوٹو بشکریہ وکی میڈیا کامنز
فوٹو بشکریہ وکی میڈیا کامنز

یہ دونوں ممالک روایتی حریف ہیں اور یہی وجہ ہے کہ دونوں کی سرحدی لکیر پر فلڈ لائٹس کو رات کو جلایا جاتا ہے تاکہ اسلحے، ٹریفکنگ اور دیگر جرائم کو روکا جاسکے۔ یہ روشنیاں اتنی زیادہ روشن اور نارنجی رنگ کی ہوتی ہیں کہ انہیں آئی ایس ایس سے بھی شناخت کیا جاسکتا ہے۔ اس تصویر میں اوپر کا روشن حصہ انڈیا جبکہ اس سے نیچے پاکستان کا ہے۔


آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔