Email


Your Name:


Recipient Email:


سرفراز نواز — ریورس سوئنگ کا موجد


تحریر: شان آغا

یہ 1978 کی سردیوں کے دن تھے جب پاکستان اور ہندوستان ایک روزہ میچوں کی سیریز کے فیصلہ کن میچ کے لیے ساہیوال پہنچے۔

پاکستان نے 40 اوورز میں 205 رنز کا مجموعی اسکور کیا، جواب میں ہندوستان نے 2 وکٹوں کے نقصان پر 183 رنز بنا لیے تھے۔ انہیں آخری 3 اوورز میں 23 رنز درکار تھے جب سرفراز نے 78 رنز پر بیٹنگ کرنے والے چھ فٹ لمبے انشومان گائیکواڈ کو گیند کرانے کے لیے بھاگنا شروع کیا۔

یہ گیند شارٹ تھی اور گائیکواڈ کے سر کے کافی اوپر سے گزرتے ہوئے سیدھی وسیم باری کے دستانوں میں محفوظ ہو گئی۔ تمام نظریں پاکستانی امپائرز جاوید اختر اور خضر حیات پر مرکوز تھیں جو اپنی اپنی جگہ سے ہلے تک نہیں۔

سرفراز نے اگلی تین گیندوں پر یہ عمل دہرایا۔ ہندوستانی کپتان بشن سنگھ بیدی شدید غصے میں تھے اور انہوں نے ہاتھ ہلا کر بلے بازوں کو واپس پویلین آنے کا اشارہ کیا۔

یہ کرکٹ کی تاریخ کا پہلا ایک روزہ انٹرنیشنل میچ بنا جس میں کسی ٹیم نے شکست تسلیم کی اور میچ پاکستان کے نام کردیا گیا۔ اس طرح کا اگلا واقعہ 22 سال بعد ہوا جب انگلینڈ کے ایلک اسٹیورٹ احتجاجاً پچ چھوڑ کر ہیڈنگلے گراؤنڈ سے چلے گئے تھے، پاکستان کو اس وقت میچ جیتنے کے لیے 61 گیندوں پر چار رنز درکار تھے۔

پاکستان نے ہندوستان کے خلاف 1978 کی سیریز 2-1 سے جیتی اور ساہیوال دوبارہ کسی انٹرنیشنل میچ کی میزبانی نہ کر سکا۔

پاکستان کرکٹ کا پہلا بدمعاش

یہ سوچنا بھی انتہائی مشکل ہے کہ سرفراز نے یہ طرز عمل کپتان مشتاق محمد کی منظوری اور پاکستان امپائرز کی مداخلت کے بغیر انجام دیا۔ معاملہ چاہے جو بھی، یہ سرفراز نواز ہی تھے جو رضاکارانہ طور پر پاکستان کرکٹ کے پہلے بدمعاش بنے۔

بچپن میں سرفراز نواز نے کبھی بھی کرکٹ کھیلنے کے بارے میں نہیں سوچا تھا، 17 سال کی عمر میں وہ اپنے خاندانی کاروبار کا حصہ بن گئے اور لاہور گورنمنٹ کالج کے کرکٹ گراؤنڈ کی دیوار بنانے میں شریک رہے۔

لیکن 1965 کی جنگ چھڑ گئی اور تعمیرات روک دی گئی۔ اسی گراؤنڈ میں سرفراز نے کرکٹ کھیلنے والے گروپ کو جوائن کر لیا اور پھر بقیہ کہانی تاریخ کا حصہ بن گئی۔

انہوں نے اپنا فرسٹ کلاس ڈیبیو 1967 میں کیا اور 1969 میں انٹرنیشنل ڈیبیو سے قبل انہیں کاؤنٹی کے لیے منتخب کر لیا گیا۔

نیٹ میں ان کی عمدہ سوئنگ باؤلنگ نے دورہ کرنے والی میری لیبون کرکٹ کلب (ایم سی سی) کے رکن اور نارتھیمپٹن شائر کے کپتان راجر پرے ڈیوکس کو خاصا متاثر کیا۔

مشتاق محمد کی قیادت میں سرفراز نواز کی صلاحیتیں خوب نکھر کر سامنے آئیں جہاں سابق کپتان 70 کی دہائی میں پاکستان کرکٹ کی سوچ کی تبدیلی میں مصروف تھے۔

اپنے پیشرو باؤلرز سے روایت شکنی کرتے ہوئے کھیل میں جارحانہ مزاجی اور لڑنے کا جذبہ بیدار کرتے ہوئے سرفراز پاکستان کے نئے فاسٹ باؤلنگ اٹیک کے سرخیل بنے۔

1975 میں ہیلمٹ سے پہلے دور میں جب نارتھمپٹن کے لیے کھیلنے والے سرفراز نواز کو جیف تھامسن نے ایک باؤنسر کرایا تو سرفراز نے چیخ کر کہا 'مقامی قبرستان میں ایک قبر خالی ہے'۔

جب تھامسن بیٹنگ کے لیے آئے تو سرفراز نے انہیں باؤنسر کرا کر آؤٹ کر دیا، اس وقت نارتھنٹس میں مشتاق محمد بھی سرفراز کی ٹیم کا حصہ تھے اور جلد ہی ان کے کپتان بنے۔

1976 میں پاکستان ایک سال طویل آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز کے تاریخی دورے پر روانہ ہوا۔ مشتاق نے اس بات کا اندازہ لگا لیا تھا کہ آسٹریلیا کو ہرانے کے لیے پاکستان کو برابری کی سطح پر کھیلنا ہو گا، آسٹریلیا سے نمٹنے کے لیے کرکٹ میں مہارت کے ساتھ ساتھ فقرے بازی بھی انتہائی اہم تھی۔

پورے دورے کے دوران پاکستان کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا یہاں تک کہ قومی ٹیم آخری ٹیسٹ کھیلنے سڈنی پہنچی۔

ڈینس للی نے اپنی کتاب 'مینس' میں دورے کے بارے میں لکھا ہے کہ انہوں نے 'ایک نسبتاً سخت رویے، ہر شعبے میں جارح مزاج' پاکستانی ٹیم کا سامنا کیا۔

للی اور گلمور نے پاکستانی بلے بازوں پر باؤنسر اور گالیوں کی بوچھاڑ کردی۔ للی کی ایک تیز گیند سرفراز کی پسلیوں میں لگی جس سے وہ انتہائی تکلیف میں نظر آئے۔ انہوں نے اپنا بلا پھینک دیا اور لیگ امپائر کی جانب جا کر عامیانہ انداز میں شکایت کی۔

جب پاکستان باؤلنگ کے لیے میدان میں اترا تو یہ بدلہ چکانے کا وقت تھا۔ عمران خان اور سرفراز نواز نے اپنے ہی انداز میں حریف بیٹنگ لائن کو تہس نہس کردیا۔

مشتاق نے 19 سالہ جاوید میانداد کو سلی پوائنٹ پر کھڑا کیا جو سرفراز نواز اور عمران کی باؤلنگ کے دوران مستقل بلے باز کو یہ جملہ کہہ رہے تھے کہ 'اب یہ تمہیں ہلاک کر دے گا'۔ اس کے بعد میانداد نے اردو فلموں کے گانے گانا شروع کر دیئے۔

للی نے شکایت کی اور بہت زیادہ جارحانہ رویہ اختیار کرنے پر امپائرز نے مشتاق کو تنبیہ کی لیکن انہوں نے اسے یکسر نظر انداز کردیا۔

اس میچ میں عمران خان اور سرفراز نے 18 وکٹوں کا بٹوارا کیا جس کی بدولت پاکستان نے آسٹریلین سرزمین پر پہلی فتح حاصل کی۔

اسی سال کے آخر میں مشتاق پانچ پاکستانی کھلاڑیوں کے ساتھ آسٹریلیا میڈیا ٹائیکون کیریر پیکر کی آسٹریلیا میں ہونے والی ورلڈ سیریز کھیلنے گئے۔

سیاست اور کمنٹری میں مخالفین پر دھاوا

پاکستان میں متعدد مرتبہ ریٹائرمنٹ کا اعلان کرنے کی روایت پہلی مرتبہ سرفراز نواز نے ڈالی۔ 1984 میں حتمی طور پر ریٹائر ہونے کے بعد وہ ایک بے باک کمنٹیٹر بنے۔

1985 میں جنرل ضیاء الحق کے دور میں رکن پارلیمنٹ بنے۔ اس وقت کے وزیراعلیٰ نواز شریف کے زیر سایہ وہ پنجاب اسپورٹس بورڈ کے وائس چیئرمین کے عہدے پر بھی خدمات انجام دیتے رہے جہاں وزیراعلیٰ خود بورڈ کے چیئرمین تھے۔

1988 میں جب بینظیر بھٹو کی وطن واپسی ہوئی تو انہوں نے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ سے الیکشن لڑا۔ 2011 میں وہ ایم کیو ایم کا حصہ بنے۔

1980 کی دہائی میں انہوں نے آصف اقبال اور سنیل گاوسکر پر میچ فکسنگ کا الزام عائد کیا۔

جسٹس قیوم کی عدالت میں انہوں نے 1990 کی دہائی کے تقریباً تمام ہی کرکٹرز کے خلاف گواہی اور ثبوت دیئے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی ٹیم ورلڈ کپ میں ویسٹ انڈیز کے خلاف میچ جان بوجھ کر ہاری جس کے نتیجے میں جمیکا میں باب وولمر کی موت ہوئی۔

میچ فکسنگ کے خلاف آواز اٹھانے پر اسلام آباد کے پارک میں مبینہ طور پر مسلح افراد نے ان پر حملہ کیا جس کی انہوں نے ایف آئی آر بھی کٹوائی۔

انہوں نے لاہور کی نینشل کرکٹ اکیڈمی میں پاکستانی باؤلرز اور دہلی کے کلینک میں ہندوستانی فاسٹ باؤلرز کی کوچنگ کی۔

انہوں نے کینسر کے موذی مرض سے لڑنے والی اداکارہ رانی سے شادی کی اور انہیں اداکارہ کے ساتھ متعدد فلموں میں کام کرنے کی پیشکش بھی ہوئی جسے انہوں نے رد کردیا۔

ریورس سوئنگ کے موجد

لیکن تمام تر چک دمک، طاقت اور سیاست اور الزامات کے بعد یہ کرکٹ کے کھیل میں ان کی مہارت اور فن ہی تھا کہ جس کے لیے انہیں یاد رکھا جائے گا۔

سرفراز ہمیشہ ہی ریورس سوئنگ کے موجد کے طور پر جانے جائیں گے۔

مستقل کوششوں اور غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے سرفراز نے یہ پتہ چلایا کہ ایک کرکٹ کی گیند کو ایک طرف سے کھردرا کردیا جائے اور اگر دوسری سائیڈ کو نیا رکھیں تو بلے باز کے لیے گیند کھیلنا ناممکن ہو جائے گا۔

گیند کے دو حصوں میں جتنا زیادہ فرق ہو گا، اتنے ہی کم وزن اور زیادہ رفتار کے ساتھ گیند سفر کرتی ہوئی ہوا میں بے پناہ سوئنگ ہو گی۔ انہوں نے اپنے باؤلنگ پارٹنر اور دوست عمران خان کو بھی یہ گر سکھایا تھا۔

چاہے وہ ابتدا میں اس کے پیچھے چھپی مکمل سائنس جانتے ہوں یا نہیں لیکن وہ جانتے تھے کہ وہ فاسٹ باؤلنگ کے فن کو ہمیشہ کے لیے بدل رہے ہیں۔

یہ فن خفیہ ہی رہا اور وسیم اکرم اور وقار یونس تک منتقل ہوا جو بعد میں ریورس سوئنگ کے بے تاج بادشاہ بنے۔ یہ وہ وقت تھا جب بہت کم لوگ اس بارے میں جانتے اور اس سے بھی کم لوگ سمجھتے تھے۔

ایک بار پھر 1979 کی گرمیوں میں واپس چلتے ہیں جب میلبورن کرکٹ گراؤنڈ کے پانچویں دن کھیل کی چوتھی اننگز میں تاریخی 381 رنز کے تعاقب میں آسٹریلوی ٹیم تین وکٹ کے نقصان پر 305 رنز بنا چکی تھی۔

اس کے بعد سرفراز نے بقیہ سات وکٹیں صرف ایک رن دے کر حاصل کیں۔ انہوں نے اننگز میں نو وکٹیں لیں؛ صرف گراہم ییلپ ان سے بچ سکے کیونکہ وہ رن آؤٹ ہوئے تھے۔

پاکستان نے دوسری مرتبہ آسٹریلیا میں ٹیسٹ میچ جیتا اور سرفراز نے اس میں سب سے نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے کیریئر کی بہترین باؤلنگ کرتے ہوئے 86 رنز کے عوض نو وکٹیں لیں۔

اس وقت دنیا کے کسی بھی اچھے باؤلنگ اٹیک میں ریورس سوئنگ ایک اہم ہتھیار سمجھا جاتا ہے اور مستقبل میں بھی سمجھا جاتا رہے گا۔

انگلینڈ کے پرنس رنجیت سنجھی کے لیگ اور برنارڈ بوسانکوئیٹ کی گوگلی کی طرح سرفراز نواز کی میراث ریورس سوئنگ میں بھی ہمیشہ زندہ رہے گی۔

سرفراز نواز نے کہا کہ مجھے اپنے کرکٹ کیریئر میں کوئی پشیمانی اور افسوس نہیں۔ میں نے بہت کچھ حاصل کیا اور کرکٹ کا شکریہ جس کی بدولت میں نے مکمل، متحرک اور رنگین زندگی گزاری۔

گزشتہ جمعرات پاکستان کے یہ عظیم باؤلر 68 برس کے ہوگئے۔