فوجی عدالتوں کی توسیع کا معاملہ: دہشتگردی کے مقدمات پر اثرانداز

اپ ڈیٹ 03 جنوری 2017

ای میل

کراچی: وفاقی حکومت کی جانب سے تاحال فوجی عدالتوں کے مستقل کے فیصلے کے حوالے سے غیر یقینی صورت حال کے باعث سندھ ایپکش کمیٹی وزارت داخلہ کو دہشتگردی کے 9 مقدمات کو بھیجنے میں تذبذب کا شکار ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر مرتضیٰ وہاب نے ڈان کو بتایا کہ فوجی عدالتوں کے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورت حال کی وجہ سے صوبائی ایپکس کمیٹی نے 9 مقدمات ان عدالتوں میں بھیجنے کا فیصلہ مؤخر کردیا ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان آرمی ایکٹ میں 21ویں آئینی ترمیم کے ذریعے جنوری 2015 میں فوجی عدالتیں قائم کی گئیں تھی اور اس ترمیم کے تحت فوجی عدالتیں دو سال کے لیے قائم کی گئیں، جن کی مدت 7 جنوری 2017 کو ختم ہورہی ہے، یہ قانون سازی ملک میں دہشتگردی کے خلاف جاری نیشنل ایکشن پلان کا حصہ تھی۔

سندھ کے ہوم سیکریٹری شکیل مانگنیجو نے گذشتہ روز ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں بتایا کہ سندھ اپیکس کمیٹی کی ذیلی قانونی کمیٹی نے دہشت گردی کے 9 مزید کیسز فوجی عدالتوں میں بھیجنے کیلئے ان کی اسکروٹنی مکمل کرلی ہے۔

مذکورہ قانونی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت ہوم سیکریٹری نے کی تھی جس میں وزارت قانون کے سیکریٹری کے علاوہ پولیس، رینجرز، اور انٹیلیجنس بیورو کے عہدیداران شامل تھے۔

وفاقی وزارت داخلہ کو دہشت گردی کے مقدمات بھیجنے اور وزیراعلیٰ کی منظوری سے قبل مذکورہ باڈی ان مقدمات کی فہرست کا بغور جائزہ لیتی ہے جبکہ بعد ازاں وزارت داخلہ بھی ان مقدمات کو فوجی عدالتوں میں بھیجنے سے قبل ان کی مکمل اسکروٹنی کرتی ہے۔

یاد رہے کہ پیر کے روز منعقد ہونے والے صوبائی اپیکس کمیٹی کے اجلاس کی صدارت وزیراعلیٰ سندھ کررہے تھے جس میں صوبے کی اعلیٰ فوجی قیادت بھی موجود تھی۔

ہوم سیکریٹری نے اجلاس کو بتایا کہ گذشتہ دو سال کے دوران سندھ حکومت نے 105 مقدمات فوجی عدالتوں کو بھجوانے کی تجاویز دی تاہم بعد ازاں صرف 29 مقدمات ہی مذکورہ عدالتوں کو بھجوائے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت فوجی عدالتوں میں 19 مقدمات کی سماعت جاری ہے۔

اس موقع پر وفاقی حکومت کی جانب سے نیشنل ایکشن پلان کے حوالے سے عمل درآمد پر 'مختلف رویا' اپنانے پر بھی بات چیت ہوئی۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اجلاس کے دوران کہا کہ 'ہم آج صوبائی ایپکس کمیٹی کے 19 ویں اجلاس میں شریک ہیں جو ہمارے عزم کا اعداہ کرتا ہے لیکن میں یہ افسوس سے کہنا چاہتا ہوں کہ وفاقی حکومت نیشنل ایکشن پلان کے متعدد اہم دفعات پر عمل درآمد کرانے میں ناکام رہی ہے'۔

وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیموں اور غیر قانونی تاکین وطن کی واپسی کے حوالے سے وفاق حکومت کی پالیسی 'واضح نہیں' ہے۔

انھوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل انسداد دہشت گردی اتھارٹی (نیکٹا) نے اب تک کام کا آغاز نہیں کیا۔

وزیراعلیٰ کے مشیر اطلاعات مولا بخش چانڈیو نے اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مدارس، غیر قانونی اسلحہ اور کالعدم تنظیموں کے حوالے سے وفاقی حکومت نے نیشنل ایکشن پلان پر اس کی صحیح روح کے مطابق عمل درآمد نہیں کیا۔

انھوں نے کہا غیر قانونی ہتھیار سندھ میں نہیں بنتے اور ان کی منتقلی کو روکنا وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے، 'نینشل ایکشن پلان پر درست طریقے سے عمل درآمد کرنے کیلئے سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا'۔

بعد ازاں صوبائی مشیر اطلاعات کے بیان کا جواب دیتے ہوئے مسلم لیگ نواز کے رہنما طلال چوہدری نے دعویٰ کیا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کے باعث کراچی کے معمولات زندگی واپس لوٹے ہیں۔

یہ خبر 3 جنوری 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی