Email


پی ایس ایل2017 سے متوقع 10 قابل ذکر چیزیں

پاکستان سپر لیگ کا دوسرا ایڈیشن اب سے کچھ دیر میں شروع ہونے والا ہے اور اس دفعہ ہمیں پی ایس ایل سے ان دس چیزوں کی توقع کرنی چاہیے۔

سارا کھیل پیسے کا ہے

لوگوں نے کہا کہ پی ایس ایل ممکن نہیں ہے۔ لوگوں نے کہا کہ یہ ناکام ہوگا۔ لوگوں نے کہا کہ پی ایس ایل کا انعقاد ہو ہی نہیں سکتا۔ اور اگر ہو بھی گیا تو یہ پیسے کمانے میں ناکام رہے گی۔

پی ایس ایل کے پہلے ایڈیشن نے 26 لاکھ ڈالر کا منافع کمایا۔

ایسی لیگ جو اپنے ہوم گراؤنڈ پر کھیلی ہی نہیں گئی، اس کے لیے یہ بُرا نہیں ہے۔ اور اس ایونٹ کے لیے تو غیر معمولی ہے جس کے لانچ ہونے سے پہلے ہی شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا ہو۔

اور اب چیلنج اس کامیابی کو برقرار رکھنا اور اس سے بھی آگے بڑھنا ہے۔ شائقین کی تعداد ضروری ہے اور دیکھنا باقی ہے کہ متحدہ عرب امارات میں پی ایس ایل کے پہلے سیزن کی شاندار کامیابی کے بعد دوسرے سیزن کو کتنی پذیرائی ملتی ہے۔

ٹکٹس کی قیمت مناسب ہے اور اب یہ مکمل طور پر کھیل کے معیار اور پاکستان کرکٹ بورڈ کی مارکیٹنگ پر منحصر ہے کہ دوسرے ایڈیشن میں کتنے شائقین آتے ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی دبئی میں پی ایس ایل کے دوسرے ایڈیشن کے ڈرافٹنگ کی تقریب سے خطاب کر رہے ہیں۔ — فوٹو اے ایف پی
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی دبئی میں پی ایس ایل کے دوسرے ایڈیشن کے ڈرافٹنگ کی تقریب سے خطاب کر رہے ہیں۔ — فوٹو اے ایف پی

لائٹس، کیمرا، ایکشن

پی ایس ایل کی اہم ترین بات اس کے ذریعے پاکستان کرکٹ کے نوجوانوں کو ملنے والی مقبولیت اور پذیرائی ہے۔ زمبابوے کے دورہ پاکستان کو چھوڑ کر آٹھ سال سے بین الاقوامی کرکٹ سے محروم ملک میں پی ایس ایل سینٹرل کانٹریکٹ سے محروم کھلاڑیوں کو توجہ حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

2016 میں محمد نواز نے اس سے فائدہ اٹھایا اور پھر پاکستان کی تمام تین فارمیٹس میں نمائندگی کی۔ محمد اصغر اور حسن علی بھی شہرت حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔

پاکستان کرکٹ کے شائقین بھی انتظار میں ہیں کہ اس سال کون سال نیا ٹیلنٹ سامنے آتا ہے جسے بعد میں قومی ٹیم کی جرسی پہننے کا موقع بھی ملے گا۔

تمام نظریں مصباح الحق پر

"(پی ایس ایل کھیلنے کا) مقصد یہ جاننا ہے کہ مجھ میں کرکٹ کی کتنی تڑپ باقی ہے۔"

پاکستان کے کامیاب ترین کپتان اور پی ایس ایل کے دفاعی چیمپیئن مصباح الحق مئی میں 43 سال کے ہونے والے ہیں۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ کیریئر کے اس مقام پر بھی ان کا ٹیسٹ کرکٹ میں مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ وہ ٹی 20 لیگ میں کیسی کارکردگی دکھاتے ہیں یا اس میں کیسا محسوس کرتے ہیں۔

زیادہ تر کھلاڑیوں کی طرح وہ بھی اپنے کریئر کا اختتام عروج پر چاہتے ہیں۔ اگر کسی شخص نے مکمل عزت اور احترام سے کھیل چھوڑنے کا موقع حاصل کیا ہے، تو وہ مصباح ہیں۔

مگر کیا وہ چھوڑ پائیں گے؟

دفاعی چیمپیئن اسلام آباد یونائیٹڈ کے کپتان مصباح الحق۔ — فوٹو پی سی بی۔
دفاعی چیمپیئن اسلام آباد یونائیٹڈ کے کپتان مصباح الحق۔ — فوٹو پی سی بی۔

گیل کیا کارنامہ دکھائیں گے؟

کسی ایسی چیز کا انتخاب کریں جو آپ مفت میں کرنا پسند کریں گے، اور پھر اس سے پیسے کمانے کا طریقہ ڈھونڈیں۔

کرس گیل اب 37 سال کے ہوچکے ہیں اور اب ان کا نام ٹاپ ٹین ٹی 20 کھلاڑیوں میں شامل نہیں ہے۔ گزشتہ سال انہوں نے پی ایس ایل میں لاہور قلندرز کے لیے پانچ میچز میں صرف 103 رنز بنائے تھے، جن میں 60 رنز کی ایک انگز بھی شامل تھی۔

اس کے بعد انہیں ایک متنازع انٹرویو کی وجہ سے بگ بیش لیگ سے نکال دیا گیا۔ اب کی بار کراچی کنگز کے لیے کھیلتے ہوئے کرس گیل کے پاس پی ایس ایل پر اپنی چھاپ چھوڑ دینے کا موقع ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ گیل کی کارکردگی تب بہترین ہوتی ہے جب انہیں کھیلنے میں مزہ آ رہا ہو۔ شائقین کو امید ہے کہ وہ کھیل میں مزہ لیتے ہوئے زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔

کرس گیل یا شاندار کارکردگی دکھائیں گے یا بری طرح ناکام ہوں گے۔ — فوٹو اے ایف پی۔
کرس گیل یا شاندار کارکردگی دکھائیں گے یا بری طرح ناکام ہوں گے۔ — فوٹو اے ایف پی۔

ڈراپ ہوں اور کپتان بنیں

اگر آپ کو ڈراپ کر دیا جائے تو گھبرائیں نہیں۔ آپ ہمیشہ کپتان کے طور پر واپس آ سکتے ہیں۔ اگر آپ ریٹائر ہوجائیں تو آپ پھر واپس آ سکتے ہیں اور دوبارہ ریٹائر ہو سکتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ سیاست میں کچھ بھی حتمی نہیں ہوتا۔ پاکستان کرکٹ پر بھی یہ مقولہ صادق آتا ہے۔ ہم سب جانتے ہی ہیں۔

پچھلے سال کے تیسرے کوالیفائنگ فائنل میں شرجیل خان کے 117 رنز نے عوام کی پسندیدہ ٹیم شاہد آفریدی کی پشاور زلمی کو ٹورنامنٹ سے ناک آؤٹ کر دیا۔ یوں شرجیل خان قومی کرکٹ ٹیم میں ایک بار پھر واپس آ گئے۔

محمد سمیع کو بھی پی ایس ایل میں ان کی کارکردگی کی بناء پر دس لاکھویں دفعہ قومی ٹیم میں دوبارہ شامل کیا گیا۔

ٹیم سے باہر ہونے کی وجہ سے احمد شہزاد، انور علی، بلاول بھٹی، عمر گل، صہیب مقصود، حارث سہیل اور ممکنہ طور پر سعید اجمل کے لیے ٹیم میں اپنی واپسی کی جگہ بنانے کے لیے اہم ہوگا۔

احمد شہزاد قومی ٹیم میں اپنی جگہ بنانے کے لیے بے تاب ہیں۔
احمد شہزاد قومی ٹیم میں اپنی جگہ بنانے کے لیے بے تاب ہیں۔

الوداع شاہد آفریدی؟ ابھی نہیں

عوام انہیں کھیلتا دیکھنے کے لیے آتے ہیں اور ان کے آؤٹ ہونے پر واپس جانا شروع کر دیتے ہیں۔

گروپ میچز کے بعد پشاور زلمی پسندیدہ ٹیموں میں شامل ہوگئی، مگر کوالیفائنگ فائنلز میں لگاتار دو شکستوں نے لالہ کی ٹیم کو نقصان پہنچایا۔

پی ایس ایل 2017 کے لیے انہوں نے کپتانی ڈیرن سیمی کے حوالے کر دی ہے مگر قوم کا سب سے پسندیدہ بیٹا میدان میں اپنی کارکردگی کے جوہر دکھانے ضرور اترے گا۔

وہ ای ایس پی این کرک انفو کی جانب سے ٹ 20 ٹیم آف دی ایئر میں منتخب ہونے والے واحد پاکستانی تھے۔

آفریدی اب بھی پاکستان کے سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے کھلاڑی ہیں۔ — فوٹو اے ایف پی۔
آفریدی اب بھی پاکستان کے سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے کھلاڑی ہیں۔ — فوٹو اے ایف پی۔

عمر صرف ایک نمبر ہے

محمد یوسف کو پاکستان نے دنیا کے پہلے ٹی 20 ورلڈ کپ کے لیے ٹیم میں یہ سوچ کر شامل نہیں کیا گیا کہ ٹی 20 تو نوجوانوں کا کھیل ہے، اس میں محمد یوسف کا کیا کام۔

مگر تب سے لے کر اب تک بہت کچھ تبدیل ہو چکا ہے، اور لوگوں کو تجربے کی قدر کا اندازہ ہونے لگا ہے۔

ثبوت برینڈن مک کلم، کرس گیل، کمار سنگاکارا، شاہد آفریدی، محمد حفیظ، کیون پیٹرسن، مصباح الحق اور شین واٹسن کے طور پر سامنے ہے۔ یہ سب لوگ 35 سال سے زائد عمر کے ہیں لیکن ان کے پاس کوئی نہ کوئی مخصوص ہنر ایسا ضرور ہے جس سے یہ نوجوان کھلاڑیوں کو حیران کر سکتے ہیں۔

لیجنڈز کوچ کے طور پر

ہر کامیاب کھلاڑی کے پیچھے ایک استاد ہوتا ہے اور پی ایس ایل میں اس چیز کو بہت سنجیدگی سے لیا گیا۔ سر ویوین رچرڈز نے یقینی بنایا کہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی فائنل میں رسائی ہو۔ پشاور زلمی نے اس سال یونس خان کو اپنا کوچ مقرر کیا ہے۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ وہ پاکستان کو ٹی 20 کپ جتوانے والے کپتان کے طور پر اس ٹیم میں کیا حیران کن اضافہ کرتے ہیں۔

گزشتہ سال اسلام آباد یونائیٹڈ نے وسیم اکرم کی زیرِ تربیت پہلی پی ایس ایل ٹرافی جیتی۔

لاہور قلندرز اور کراچی کنگز نے اس سال یہ ذمہ داری اپنے اپنے کپتانوں، بالترتیب برینڈن مک کلم اور کمار سنگاکارا کو دے دی ہے۔

کھلاڑی سر ویوین رچرڈز سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ — فوٹو پی سی بی۔
کھلاڑی سر ویوین رچرڈز سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ — فوٹو پی سی بی۔

گلشن یا گلبرگ؟

زاہد نہاری یا بٹ کڑاہی تکہ؟ برنس روڈ یا گوالمنڈی؟

کراچی اور لاہور ملک کے سب سے بڑے شہر ہیں، اور ان کی ٹیمیں بھی نہایت مہنگی ہیں۔

توقع تھی کہ یہ پی ایس ایل کے پہلے ایڈیشن میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کریں گی، مگر لاہور وہ واحد ٹیم بنی جو پلے آف کے لیے کوالیفائی نہیں کر پائی، جبکہ کراچی نے بھی کچھ خاص کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا اور چوتھے نمبر پر رہی۔

کپتانوں کو تبدیل کر کے اور نئے کھلاڑیوں کو بھرتی کر کے بے پناہ مداحوں والی یہ ٹیمیں اس سال اپنی کارکردگی میں بہتری لانے کے لیے بے تاب ہیں۔

لاہور قلندرز کو جوش دلانے کے لیے یہ بات بھی اہم ہے کہ ٹرافی کا فائنل ممکنہ طور پر لاہور میں کھیلا جائے گا۔

اے آر وائے گروپ کراچی کنگز کا مالک ہے جبکہ جیو لاہور قلندرز کا میڈیا پارٹنر ہے۔ اب اس کا آپ جو چاہیں مطلب نکالیں۔

گھر واپسی

امید اچھی چیز ہے۔ اتوار 5 مارچ 2017 وہ دن ہوگا جب پی ایس ایل ہمارے ملک میں آئے گا۔

20 کروڑ پاکستانی اپنی سرزمین پر پی ایس ایل کا فائنل کامیابی سے منعقد ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ لاہور کو اس میچ کے لیے بقعہءِ نور بنا دیا جائے گا اور جوش و جذبہ تو ابھی سے آسمان کو چھو رہا ہے۔

آئیں امید کرتے ہیں کہ یہ پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی اور پی ایس ایل کے اگلے ایڈیشنز کے پاکستان میں انعقاد میں مددگار ثابت ہوگا۔

1996 ورلڈ کپ کا فائنل، قذافی اسٹیڈیم، لاہور۔
1996 ورلڈ کپ کا فائنل، قذافی اسٹیڈیم، لاہور۔