Email


Your Name:


Recipient Email:


پاکستانیوں، تم نے محمود خان جیسے موسیقار کو فراموش کر دیا؟


خرم سہیل

محمود خان پاکستانی نژاد آسٹریلوی ہیں۔ لاہور میں پیدا ہوئے۔ رسمی تعلیم مکمل کرنے کے بعد، اپنے شوق کی جستجو میں امریکا چلے گئے۔ وہاں مختلف میوزک کمپنیوں اور بڑی شخصیات کے ساتھ کام کیا۔ وہیں ان کی ملاقات اُستاد نصرت فتح علی خان سے ہوئی، اس ملاقات کے نتیجے میں، محمود خان کی پہلی البم میں اُستاد نصرت فتح علی خان نے دو گیت’’جانِ من‘‘اور’’تیری یاد‘‘ گائے، جن کی دُھن محمود خان نے خود ترتیب دی اوران گیتوں کو لکھا۔

محمود خان — تصویر محمود خان
محمود خان — تصویر محمود خان

امریکا کے بعد، انڈیا اور پاکستان میں محمود خان کئی برسوں تک کام کرتے رہے، انہیں متعدد بار پابندیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔آسٹریلیا میں فلم پڑھنے گئے اور سڈنی اوپیرا ہاؤس میں پہلی لائیو پرفارمنس کرنے والے فنکار بھی بنے، ان کا ایک گیت آسٹریلوی میوزک چارٹ پر اول نمبر پر رہا اور 5 کروڑ ویوزحاصل کیے۔ آسٹریلوی حکومت نے آسٹریلیا کی شہریت بطور تحفہ ان کو پیش کی، جس کو انہوں نے قبول کر لیا۔

محمود خان اور اُستاد نصرت فتح علی خان کا بطور فنکار قریبی رشتہ تھا۔ اُستاد فتح علی خان جب امریکا میں مغربی موسیقاروں کے ساتھ کام کرنے کی غرض سے گئے، تو وہیں انہوں نے محمود خان کے ساتھ بھی کام کیا۔

محمود خان کے گانے کے 5 کروڑ ویوز حاصل کیے
محمود خان کے گانے کے 5 کروڑ ویوز حاصل کیے

خان صاحب کی اچانک موت سے یہ پہلو سامنے نہ آ سکا اور محمود خان کے کام کو بھی اُستاد نصرت فتح علی خان کے کھاتے میں ڈال دیا گیا، جو ایک فنکار کے ساتھ نا انصافی تھی۔ پاکستان میں 2004 میں ہونے والے سیف گیمز کا میوزک بھی محمود خان نے دیا، مگر اس کا کریڈٹ بھی ارشد محمود کو دے دیا گیا، انڈیا میں بھی سنجے دت کے فلم ساز نے ان کا کریڈٹ کھا لیا۔

پاکستان میں پہلی مرتبہ باقاعدہ طور پر محمود خان کے حوالے سے یہ اسٹوری لکھی گئی ہے، جس میں ان کا براہ راست مؤقف بھی شامل کیا گیا ہے، یہ اہم ترین اسٹوری ڈان اردو کے قارئین کے لیے پیش خدمت ہے۔

پاکستان میں گمنام، دنیا میں مقبول پاکستانی موسیقار

پاکستان میں پوپ میوزک کا آغاز تو فلمی دنیا سے ہوا تھا، 70 اور 80 کی دہائی میں عالمگیر، محمد علی شہکی، نازیہ حسن، زوہیب حسن، سجاد علی اور دیگر گلوکاروں کو بے حد شہرت ملی۔ ایک سے ایک بڑھ کر گلوکار اور موسیقار، نہ صرف پاکستان، بلکہ دنیا بھر میں اپنے فن کا لوہا منوا رہے تھے۔

محمود خان— تصویر محمود خان
محمود خان— تصویر محمود خان

محمود خان— تصویر محمود خان
محمود خان— تصویر محمود خان

یہی وہ دور ہے، جب اُستاد نصرت فتح علی خان نے بھی بین الاقوامی شہرت حاصل کی۔ مغرب کے تین بڑے موسیقاروں کے ساتھ کام کیا، جن میں پیٹرگیبریل، مائیکل بروک، ایڈی ویڈر شامل ہیں۔ اسی عرصے میں اُستاد نصرت فتح علی خان دو مرتبہ مغربی میوزک کے سب سے بڑے اور مقبول ایوارڈ’ ’گریمی‘‘ کے لیے بھی نامزد ہوئے۔

اس تمام منظر نامے کو بیان کرنے کامقصد یہ ہے کہ پاکستان کے اندر اس ہنگامہ خیز دور میں کئی نام مقبول ہوئے، مگراسی ہنگامے میں ایک باصلاحیت موسیقار اورگلوکار گمنام رہ گیا۔ وہ بھی اپنے کام اور تخلیق کی بلندی پر تھا، مگراس نے دنیا میں تو شہرت حاصل کی، لیکن پاکستانیوں کی نظر سے اوجھل رہا۔ اُستاد نصرت فتح علی خان نے جدید موسیقی کے تناظر میں، تین نہیں چار موسیقاروں کے ساتھ کام کیا تھا، وہ چوتھے موسیقار یہی گمنام فنکار ہیں۔

پاکستان کے اس بین الاقوامی شہرت یافتہ موسیقار اور گلوکار کا نام ’’محمود خان‘‘ ہے، جنہوں نے دنیاکے کئی بڑے گلوکاروں کے ساتھ کام کیا، جن میں سرفہرست اُستادنصرت فتح علی خان تھے۔

1997میں اُستاد نصرت فتح علی خان، طویل قیام کی غرض سے امریکا تشریف لائے، تو وہیں محمود خان کی ان سے اتفاقیہ ملاقات ہوئی۔ محمود خان ان دنوں وہاں ایک مقامی میوزک کمپنی کے ساتھ وابستہ تھے۔ ان ملاقاتوں کا سلسلہ طویل تھا، وہ کئی مہینے ایک ساتھ رہے، اس عرصے میں محمود خان نے کئی دھنیں ترتیب دیں اور اُستاد نصرت فتح علی خان کی رہنمائی سے دو دھنوں کو حتمی شکل دی اور پھر ان سے گوایا۔

محمود خان اور نصرت فتح علی خان ایک ساتھ، ایک نایاب ویڈیو بشکریہ حاجی ایم اقبال نقیبی

محمود خان کی پہلی البم ’’اُونلی وَن Only One‘‘ میں اُستاد نصرت فتح علی خان کے وہ دو گیت ’’جانِ من‘‘ اور ’’تیری یاد‘‘ تھے، جن میں انہوں نے اپنی آواز کا جادو جگایا۔ ان دونوں گیتوں نے عالمی شہرت حاصل کی۔ ان میں سے ایک گیت ’’تیری یاد‘‘ کو، انڈین فلم ’’کارتوس‘‘ میں بھی شامل کیا گیا۔

استاد نصرت فتح علی خان کی آواز میں یہ گیت کسی بھی بطور پرائیویٹ البم ریلیز ہونے والے آخری گیت تھے، جو خان صاحب کی وفات کے بعد ریلیز ہوئے۔

محمود خان کے البم اونلی ون کا پوسٹر— تصویر محمود خان
محمود خان کے البم اونلی ون کا پوسٹر— تصویر محمود خان

محمود خان کا یہ البم اگر اُستاد نصرت فتح علی خان کی زندگی میں ریلیز ہو جاتا، تو جس طرح انہوں نے اپنے دیگر تین بین الاقوامی موسیقاروں کے حوالے سے گفتگو کی تھی، اسی طرح محمود خان کا تذکرہ بھی کرتے۔

اس پر ستم یہ انڈین فلم نے وہ گیت اپنی فلم میں شامل کرکے اُستاد نصرت فتح علی خان کو بطور موسیقار اپنی فلم میں شامل کر لیا، جبکہ یہ گیت خان صاحب کی آواز میں ضرور تھا، مگراس کے موسیقار اورگیت نگار محمود خان تھے، بلکہ ان کی اپنی البم میں یہ گیت، خود کی آواز میں بھی شامل ہے۔

پاکستان میں اُستاد نصرت فتح علی خان کے انتقال کے بعد، جب ان کے نئے گیتوں کا کیسٹ ریلیز ہوا، تو اس میں محمود خان کی دھن اور لکھے ہوئے گیت ’’جان من‘‘ کے آگے گیت کے شاعر کے خانے میں بھی ’’نامعلوم‘ لکھا ہوا تھا۔

گیت: جان من

ایک طویل ریاضت کے بعد، میں نے ڈان اردو کے قارئین کے لیے محمود خان کو تلاش کر کے، ان سے خصوصی گفتگو کی، تاکہ ہم ان کی صلاحیتوں کا برملا اعتراف کر سکیں۔

وہ بہترین موسیقار، گیت نگار اور گلوکار ہیں، انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں گانے کی مہارت رکھتے ہیں، یہ سفر کب اور کیسے شروع ہوا، وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ ’’میں اپنے شوق کے تعاقب میں پاکستان سے امریکا گیا۔ وہاں اپنے اندر کے فنکار کو دریافت کیا۔ امریکامیں موسیقی سے متعلق چیزوں کو سیکھا، کئی بڑی شخصیات کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا، جن میں سرفہرست نصرت فتح علی خان تھے۔

'وہ امریکا میں کچھ مہینوں کے لیے رہنے آئے تھے، کیونکہ اس وقت وہ پیٹرگیبریل اوردیگر موسیقاروں کے ساتھ کام کر رہے تھے۔ یہ وہ دن ہیں، جب میرا زیادہ وقت نصرت صاحب کے ساتھ ہی گزرتا تھا۔ میں ان کے سرمیں تیل ڈال کا مالش کرتا، پاؤں دباتا، میں نے ان کی بے حد خدمت کی۔ میں پیٹرگیبریل سے بھی کہتا تھا کہ خان صاحب اتنے بیمار ہیں، ان سے کیوں اتنا کام کروا رہے ہو اور وہی ہوا، کچھ عرصے بعد ہی ان کا انتقال ہو گیا۔

امریکا میں قیام کے دوران میں نے خان صاحب کو اپنے میوزک کے شوق کے بارے میں بتایا اوراپنی پہلی البم کے گیت بھی سنوائے، جس میں دو گیت ایسے تھے، جن کو ان کے ساتھ امریکا میں ری کروبن جو ایک بہت بڑے امریکی پروڈیوسر تھے، کے گھر میں ریکارڈ کیا۔

میرا یہ البم پہلے امریکا اور پھر پاکستان سے ریلیز ہوا، مگر افسوس ہے کہ میرے ان گیتوں کا کریڈٹ جان بوجھ کر حذف کر دیا گیا، جس کی وجہ سے مجھے بہت نقصان بھی ہوا۔

محمود خان — تصویر محمود خان
محمود خان — تصویر محمود خان

اس وقت کئی بڑے فنکار خان صاحب سے ملنے آئے، میں بھی ان ملاقاتوں میں شامل ہوتا تھا، بلکہ یوں کہہ لیں، مترجم کے فرائض بھی میں ہی انجام دیتا تھا۔ وہاں خان صاحب سے مائیکل جیکسن، میڈونا، برائن ایڈم، ایدی ویڈر وغیرہ بھی ملنے آئے۔ میں نے اپنے ذاتی تعلقات بنانے کی کوشش نہیں کی، کیونکہ میں تو خان صاحب کے ساتھ تھا، ان کی صحبت ہی میری توجہ کا مرکز تھی۔‘‘

محمود خان نے مزید اپنے کریئر کے حوالے سے، پیش آنے والی مشکلات پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ، ’مجھے پاکستان اور انڈیا میں پابندی کا سامنا کرنا پڑا۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے، پاکستان میں پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان نے یہ کہہ کر پابندی عائد کر دی کہ میرے گانے بہت بولڈ ہیں اور میرا میوزک نئی نسل کے بگاڑ کا باعث بنے گا۔

2004 میں مجھے سیف گیمز کی موسیقی ترتیب دینے کے لیے مدعو کیا گیا اور میں آسٹریلوی ہائی کمیشن کے کہنے پر وہاں گیا، مگر جب میں نے سارا کام کر لیا، تو اس کام پر بھی موسیقار کے کریڈٹ کے طور پر، میرے نام کے بجائے، ارشد محمود کا نام دے دیا گیا، جس کے پیچھے سابق صدر پرویز مشرف کی انا اور ضد شامل تھی۔ آسٹریلیا جانے کے بعد میرے کیریئر نے بالکل مختلف موڑ لیا، میری ناانصافیوں نے ہی میرے لیے میرا فنی راستہ کشادہ کیا۔ اب انڈیا میں سونی میوزک کمپنی نے 18 سال بعد میرا البم ریلیز کیا، شاید ان کو اب محسوس ہوا کہ میرے کام میں کچھ جان ہے۔‘‘

محمود خان آسٹریلیا میں موسیقی کے شعبے میں کام کر رہے ہیں اور موسیقی کے ذریعے نئی نسل کو کی رہنمائی بھی کرنا چاہتے ہیں، اس حوالے سے انہوں نے اظہار خیال کیا کہ ’’فی الوقت تو آسٹریلیا میں کانسٹرس کی منصوبہ بندی چل رہی ہے، اور کچھ عرصے بعد یورپ اور امریکا میں بھی کانسرٹس کا ارادہ ہے جس کے بعد پاکستان میں بھی کانسرٹس کرنے کی خواہش رکھتا ہوں۔ اس سلسلے میں پاکستان میں قائم آسٹریلوی ہائی کمشین سے بات چیت بھی چل رہی ہے، ممکن ہے رواں سال کے آخر میں پاکستان کے سات شہروں میں کانسرٹس کا سلسلہ بن جائے، مگر ابھی یہ طے نہیں ہوا، گفت و شنید جاری ہے۔

اس کے علاوہ میں نے اپنے پسندیدہ بینڈ ’’بی جیز Bee Gees‘‘ کے ساتھ دو گانے ریکارڈ کیے ہیں، ان میں سے ایک گانا ’’برلن‘‘ ابھی ریلیز ہوا ہے، ان کے ساتھ پوری ایک البم ریلیز کرنے کا ارادہ ہے۔ یہ برسوں پرانا خواب تھا، جو اب پورا ہونے جا رہا ہے۔

محمود خان اپنے پسندیدہ بینڈ ’’بی جیز Bee Gees‘‘ کے ساتھ— تصویر محمود خان
محمود خان اپنے پسندیدہ بینڈ ’’بی جیز Bee Gees‘‘ کے ساتھ— تصویر محمود خان

نئی نسل سے کہنا چاہوں گا کہ اپنا کام جاری رکھیں، اپنی صلاحیتوں کو نکھارتے رہیے۔ اپنے آپ کو اس سطح تک لائیں، جہاں تک خود آنا چاہتے ہو، دنیا کو بھول جاؤ، وہ صلہ دے گی یا نہیں، مگر محنت کرتے رہیں، دل برداشتہ نہ ہوں، اپنا کام محنت سے جاری رکھیں، آپ کو ضرور کامیابی ملے گی۔‘‘

اُستاد نصرت فتح علی خان نے مشرقی موسیقی کے تناظر میں ان کی تربیت کی، مغربی موسیقی کا ادراک انہیں پہلے سے ہی تھا۔ اس امتزاج سے محمود خان نے اپنا پہلا البم تشکیل دیا۔ یہ البم مغرب میں بے حد مشہور ہوا، 6 ملین تعداد میں فروخت ہوا، مگراُستاد نصرت فتح علی خان کی اچانک موت دنیائے موسیقی کے ساتھ محمود خان کے حق میں اچھی ثابت نہ ہوئی، کیونکہ ان کی پہلی البم کے دونوں گیتوں کو استاد نصرت فتح علی خان کی تخلیق سمجھ لیا گیا۔

محمود خان نے پھر بھی ہمت نہ ہاری۔ وہ امریکا کے بعد پاکستان آ گئے، ان کا دوسرا البم ’’پناہ‘‘ انڈیا سے ریلیز ہوا۔ اس کے علاوہ مختلف ممالک جن میں متحدہ عرب امارات، انگلینڈ اور دیگر شامل ہیں، میں بھی کام کرتے رہے، مگرحتمی طور پر ان کی زندگی کا ایک اور تاریخی موڑ آیا، جب انہوں نے آسٹریلیا جانے کا فیصلہ کیا۔

محمود خان بین الاقوامی فنکاروں کے ہمراہ — تصویر محمود خان
محمود خان بین الاقوامی فنکاروں کے ہمراہ — تصویر محمود خان

محمود خان آسٹریلیا میں فلم پڑھنے گئے تھے تاکہ وہ واپس پاکستان آ کر اپنے گیتوں کی ویڈیو بناسکیں، کیونکہ پاکستانی پوپ میوزک میں ویڈیوز کو بہت اہمیت حاصل تھی۔ اسی وجہ سے پاکستان میں آگے آنے کا موقع نہ ملا، کیونکہ ان کی شہرہ آفاق ریلیز شدہ البم کے گیتوں کے ویڈیوز نہیں بنائے گئے تھے۔ محمود خان آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں فلم کی تعلیم حاصل کر رہے تھے، وہاں کی سب سے معروف عوامی جگہ ’’سڈنی اُوپرا ہاؤس‘‘ تھی۔ انہوں نے عزم کر لیا، وہاں بھی وہ اپنی موسیقی کا جادو جگائیں گے۔

محمود خان نے اس سلسلے میں ایک اوپرا بینڈ تشکیل دیا، جس میں آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے موسیقار بھی شامل تھے۔ وہاں انہوں نے ’’لائک دی ریور Like the River‘‘ سنگل ٹریک لائیو ریکارڈ کروایا۔ 2009 میں یہ گیت آسٹریلیا کے سب سے بڑی چینل پر نمبر ون پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔

گیت: لائیک دی ریور

5 کروڑ لوگوں نے اس گیت کو سنا اور دیکھا، جس پر آسٹریلین ٹیلی وژن نے ان سے خصوصی گفتگو بھی کی۔ محمود خان پہلے ایشیائی اور پاکستانی ہیں، جنہوں نے اتنی معروف جگہ پر پرفارم کیا جس پر آسٹریلوی حکومت نے محمود خان کو اپنے ملک کی شہریت بطور تحفہ دیا۔

آسٹریلیوی میوزک کے شعبے میں محمود خان ایک جانا پہچانا نام ہیں۔ وہ اب بھی بطور گلوکار اورموسیقار پوری دنیا میں اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ آسٹریلوی شائقین موسیقی کے لیے بھی کام کرتے ہیں، اپنے ذاتی شوق اور استاد نصرت فتح علی خان کی نصیحت کی وجہ سے اردو میں بھی گیت کمپوز کرتے ہیں، خود بھی گاتے ہیں اور دیگر گلوکاروں سے بھی گواتے ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے اپنے انگریزی گیت ’’لائک دی ریور‘‘ کی 5 کروڑ ویورشپ کی خوشی مناتے ہوئے آسٹریلوی ٹیلی وژن سے اپنی یادیں شیئر کیں۔

محمود خان استاد نصرت فتح علی خان کے ان چار موسیقاروں میں سے ایک، جن کے ساتھ بین الاقوامی سطح پر انہوں نے کام کیا تھا۔ محمود خان کے گیتوں میں پاکستان سے محبت بھی جھلکتی ہے، انہوں نے قائداعظم کے لیے بھی ایک گیت کمپوز کیا، امن و محبت کے گیت بھی تخلیق کرتے ہیں، جب پاکستانی کرکٹ ٹیم آسٹریلیا گئی تواسٹیڈیم میں پاکستانی ترانہ گانے کے لیے بھی محمود خان کو مدعو کیا گیا۔ وہ آج بھی دل سے پاکستانی ہیں۔ اپنے بنائے ہوئے میوزک کو ’’ محمود خان فنک۔MKF‘‘کہتے ہیں۔

محمود قومی ترانہ پڑھتے ہوئے

کیا ہم اپنے اس فنکار کو گھر بلاکر عزت دیں گے؟ کیا کوک اسٹوڈیو اس فنکار کی فنی خدمات کے اعتراف میں انہیں مدعو کرے گا؟ کیا حکومت پاکستان انہیں کسی اعزاز کا مستحق سمجھے گی؟ کیا ہم پاکستانی اپنے اس فنکار کے فن کی ستائش اور خدمات کے اعتراف کرنا چاہیں گے؟


بلاگر فری لانس کالم نگار اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ ان سے ان کے ای میل ایڈریس [email protected] پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دیے گئے تبصروں سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔