ای میل

بار بار دیکھنے پر مجبور کردینے والی بہترین فلمیں



ہر ہفتے متعدد نئی فلمیں ریلیز ہوتی ہیں، جن میں سے کچھ بہت اچھی ہوتی ہیں جبکہ کئی فلموں کو دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ وقت ضائع ہوگیا ہے۔

عام طور پر فلموں کے حوالے سے بیشتر افراد کا انتخاب ایسی فلمیں ہوتی ہیں جو انہوں نے پہلے کبھی نہ دیکھی ہوں۔

مگر کچھ فلمیں ایسی بھی ہیں جو بار بار دیکھنے کے لیے بنی ہیں اور انہیں دس بار دیکھیں یا سو بار، ہر مرتبہ وہ پہلی دفعہ کی ہی طرح دلچسپ محسوس ہوتی ہیں۔

کئی با ران فلموں کو دوبارہ دیکھتے ہوئے کچھ نئے پہلو سامنے آجاتے ہیں یا ان کے بارے میں رائے بدل جاتی ہے۔

یہاں ایسی فلموں کے بارے میں جانیں، جنھیں بار بار دیکھ کر بھی ایسا ہی لگتا ہے کہ انہیں پہلی بار دیکھا جارہا ہے یا کم از کم دلچسپی اس حد تک ضرور برقرار رہتی ہے۔

دی پریسٹیج

اسکرین شاٹ
اسکرین شاٹ

دو جادوگروں کی ایک دوسرے سے رقابت اتنی زیادہ ہوجاتی ہے کہ وہ اپنے مخالف سے زیادہ بہتر جادوئی کرتب تیار کرنے کے خواہشمند ہوتے ہیں اور ایسا بصری دھوکا دینا چاہتے ہیں جو لوگوں کو دنگ کردے۔ 2006 کی یہ فلم ایک ایسی کہانی ہے جو حقیقت اور اسٹیج کرافٹ کے درمیان موجود لکیر کے حوالے سے سوالات ذہن میں پیدا کرتی ہے، جس کی تلاش میں اسے دیکھنا مجبوری بن جاتا ہے۔

بلیک سوان

پبلسٹی فوٹو
پبلسٹی فوٹو

یہ ایک بیلے ڈانسر نینا کی کہانی ہے جو اپنے شعبے میں پرفیکشن کی خواہشمند ہوتی ہے اور یہی چیز اسے ایسے تاریک پہلوﺅں کی جانب لے جاتی ہے جو زندگی بدل دیتے ہیں۔ اسے پہلی دفعہ دیکھنے کے بعد جب دوسری یا تیسری بار دیکھا جائے تو آپ کو وہ مقامات سمجھ میں آتے ہیں جہاں سے حقیقت سامنے آتی ہے۔

پلپ فکشن

اسکرین شاٹ
اسکرین شاٹ

کامیڈی اور کرائم تھرلر پر مبنی یہ فلم 1994 میں ریلیز ہوئی جسے تحریر اور ڈائریکٹ کوئنٹن ٹرانٹینو نے کیا۔ مزاح اور تشدد کے امتزاج پر مبنی اس فلم کی خاصیت اس کا بہترین پلاٹ اور اس دور کے پاپ کلچر کی جھلکیاں تھیں جس کے مرکزی کردار جان ٹرولوٹا اور سیموئل جیکسن نے ادا کیے۔

سیون

اسکرین شاٹ
اسکرین شاٹ

اگر یہ کہا جائے کہ یہ فلم چند بہترین مسٹری اور تھرلر فلموں میں سے ایک ہے تو غلط نہیں ہوگا، جس میں بریڈ پٹ اور مورگن فری مین نے مرکزی کردار کیے، یہ پولیس کے 2 اہلکاروں کی کہانی ہے جو ایک سیریل کِلر کی تلاش کررہے ہوتے ہیں، اس فلم کا اختتام ایسے ٹوئسٹ پر ہوتا ہے جو آپ کو طویل عرصے تک بھول نہیں سکے گا۔

اِن دی موڈ فار لو

اسکرین شاٹ
اسکرین شاٹ

ہانگ کانگ میں بننے والی اس فلم کو وونگ کار وائی نے ڈائریکٹ کیا، جس میں 1962 کے دور کو پیش کیا گیا، اس فلم کی کہانی ایک صحافی اور ایک سیکریٹری کے رومان کے گرد گھومتی ہے جو پڑوسی ہونے کے ساتھ اُس وقت قریب آتے ہیں جب انہیں اپنے شریک حیات کے معاشقوں کا شبہ ہوتا ہے، اس فلم کو جتنی بار بھی دیکھا جائے، دلچسپی ختم نہیں ہوتی۔

دی پیانسٹ

اسکرین شاٹ
اسکرین شاٹ

یہ دوسری جنگ عظیم کے گرد گھومنے والی کہانی ہے، جس میں مرکزی کردار کو اپنے دور کا عظیم ترین پیانسٹ دکھایا گیا ہے، مگر جنگ اس کی زندگی کو المیے میں بدل دیتی ہے، یہ ایک میوزیشن کی حقیقی کہانی پر تیار کی گئی فلم ہے جو انسانی ہمت و حوصلہ کو بیان کرتی ہے اور آپ کو مجبور کرتی ہے کہ زندگی کے ان تحفوں کو سراہیں جو آپ کے پاس موجود ہیں۔

وائٹ اولینڈر

اسکرین شاٹ
اسکرین شاٹ

جب ایک نوجوان لڑکی کی ماں قتل کی ملزمہ قرار پاتی ہے، تو وہ لڑکی مختلف فوسٹر ہومز میں جاتی ہے اور اپنے پیروں میں کھڑا ہونا سیکھتی ہے۔ یہ فلم لوگوں کی جانب سے زندگی کے حوالے سے مختلف نکتہ نظر اور فیصلوں کو اجاگر کرتی ہے، جو آپ کو اس لڑکی کی نگاہوں سے گزرنے والے انسانی تجربے کی گہرائی کو سراہنے پر مجبور کردیتی ہے۔

بلی ایلیٹ

اسکرین شاٹ
اسکرین شاٹ

ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے بچے کو جب احساس ہوتا ہے کہ وہ درحقیقت بیلے ڈانس سے محبت کرتا ہے تو اسے اپنے خواب کی تعبیر کے لیے اپنے طبقے کی روایتی سوچ سے ٹکرانا پڑتا ہے۔ جب آپ میں صلاحیت ہو اور آپ اسے دنیا کے سامنے لانا چاہتے ہوں مگر رکاوٹوں کا سامنا ہو، تو یہ فلم یاد دلاتی ہے کہ کبھی بھی اپنے خوابوں سے دستبردار نہ ہوں۔

سپرٹیڈ آوے

اسکرین شاٹ
اسکرین شاٹ

یہ ایک جاپانی اینیمیٹڈ فلم ہے جس میں ایک 10 سالہ بچی کو دکھایا گیا ہے، جس کا خاندان مضافات میں منتقل ہوتا ہے تو وہ ایسی دنیا میں گھومنے لگتی ہے جو بدروحوں اور چڑیلوں سے بھری ہوتی ہے، جبکہ وہاں انسان عفریت میں تبدیل ہوجاتا ہے۔

گڈول ہنٹنگ

اسکرین شاٹ
اسکرین شاٹ

یہ ایک جمعدار کی کہانی ہے جو کہ ایم آئی ٹی میں کام کرتا ہے، مگر اسے ریاضی کی بہترین صلاحیت حاصل ہوتی ہے، پھر بھی اسے زندگی کا راستہ دریافت کرنے کے لیے ایک ماہر نفسیات کی مدد کی ضرورت پڑتی ہے۔ یہ فلم یاد دلاتی ہے کہ ہمیں ایک دوسرے کی مدد کرنی چاہیے تاکہ حیران کن کامیابیاں حاصل کی جاسکیں۔

دی گرین میل

اسکرین شاٹ
اسکرین شاٹ

یہ فنٹاسی کرائم ڈراما فلم اسٹیفن کنگ کے اسی نام سے شائع ہونے والے ناول پر بنی جس کی ہدایات فرینک دارابونٹ نے دیں۔ یہ فلم سزائے موت پر عملدرآمد کرانے والے محافظوں پر مبنی ہے جو ایک قاتل کے اندر ایک خصوصی صلاحیت دیکھ کر بدل جاتے ہیں، یہ انتہائی پراثر کہانی ہے جو دیکھنے والوں کی آنکھوں کو نم کردیتی ہے۔

شنڈلرز لسٹ

پبلسٹی فوٹو
پبلسٹی فوٹو

1993 کی یہ فلم پولینڈ میں دوسری جنگ عظیم کے دوران پیش آنے والے واقعات پر مبنی ہے، آسکر شنڈلر نامی شخص جرمنی کے ہاتھوں یہودیوں کو سزائے موت دیئے جانے پر ورک فورس کے حوالے سے فکر مند ہوجاتا ہے اور اس حوالے سے اقدامات کرتا ہے۔ یہ فلم اسٹیون اسپلبرگ نے ڈائریکٹ کی۔

دی شاشنک ریڈیمپشن

پبلسٹی فوٹو
پبلسٹی فوٹو

ٹم رابسن اور مورگن فری مین کی یہ دلچسپ و کلاسیک فلم، جس میں کئی برسوں سے قید دو قیدی اپنی جیل کو ایسے بدل دیتے ہیں کہ وہ غیرمعمولی اور دنیا سے باہر کی جیل محسوس ہونے لگتی ہے۔ 1994 میں ریلیز ہونے والی اس فلم کو فرینک ڈارابونٹ نے ڈائریکٹ کیا ، یہ ایسی فلم ہے جسے جب بھی دیکھا جائے تو لگتا ہے کہ پہلی بار دیکھ رہے ہیں۔

لائف آف پائی

اسکرین شاٹ
اسکرین شاٹ

یہ بھی ایک ایسی فلم ہے جس میں بڑا حصہ ایک ہی کردار کے گرد گھومتا ہے یعنی وہ لڑکا جس کا نام پائی ہوتا ہے جو کشتی میں مختلف جانوروں کے ساتھ سفر کرتا ہے اور زندگی کی جدوجہد کرتا ہے۔

انسیپشن

اسکرین شاٹ
اسکرین شاٹ

ڈائریکٹر کرسٹوفر نولان نے بیٹ مین سیریز سے لوگوں کے دل و دماغ جیتے مگر ان کی حقیقی مہارت کا ثبوت 2010 کی یہ فلم ہے۔ ذہن گھما دینے والی اس سائنس فکشن فلم کو 21 ویں صدی کی اس زمرے میں سب سے بہترین کاوش بھی قرار دیا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ صرف سائنس فکشن ہی نہیں بلکہ ڈراما، تھرلر اور دیگر کیٹیگریز میں بھی شامل کی جاسکتی ہے۔ اس کا دل لیونارڈو ڈی کیپرو کا کردار ہے جو اداروں کی معلومات چرانے میں مہارت رکھتا ہے، لیکن اسے صحیح طرح سمجھنے کے ایک سے زیادہ بار دیکھنا پڑتا ہے۔

شٹر آئی لینڈ

اسکرین شاٹ
اسکرین شاٹ

ڈائریکٹر مارٹین اسکورسیز کی یہ سائیکلوجیکل تھرلر فلم لیونارڈو ڈی کیپریو کی بہترین فلموں میں سے ایک ہے، جس کی کہانی کے لیے 2003 میں شائع ہونے والے ڈینیس لیہانے کے اسی نام کے ناول کا انتخاب کیا گیا۔ اس فلم میں لیونارڈو نے ایک یو ایس مارشل کا کردار ادا کیا تھا جو شٹر آئی لینڈ کے سائیکاٹرک ادارے کی تفتیش کررہا ہوتا ہے، جب اس فلم کا اختتام ہوگا تو نوے فیصد امکان ہے کہ آپ دنگ رہ جائیں گے اور یقین کرنا مشکل ہوجائے گا، اس فلم کو بار بار دیکھنے سے آپ کے سامنے اس کے نت نئے پہلو سامنے آتے رہیں گے۔

دی بی ایف جی

اسکرین شاٹ
اسکرین شاٹ

معروف ڈائریکٹر اسٹیون اسپیلبرگ کی یہ فلم ایک لڑکی صوفی کے گرد گھومتی ہے جس کا سامنا ایک دوستانہ مزاج رکھنے والے دیو قامت جن سے ہوتا ہے جو کہ اپنے دیگر ساتھیوں سے مختلف ہوتا ہے اور بچوں کو نقصان پہنچانے سے انکار کرتا ہے۔

دی پریسیوٹ آف ہیپی نیس

اسکرین شاٹ
اسکرین شاٹ

یہ ایک اصل کہانی پر مبنی ہے جو ایک ایسے شخص کی زندگی کو بیان کرتی ہے جو ایک ہڈیوں کے اسکینر پر سرمایہ کاری کرتا ہے مگر وہ ڈوب جاتی ہے، اسی دوران بیوی چھوڑ کر چلی جاتی ہے، گھر سے محروم ہوجاتا ہے، بینک اکاؤنٹ اور کریڈٹ کارڈ بھی ہاتھ سے نکل جاتے ہیں جس کے بعد وہ اپنے بیٹے کے ساتھ گلیوں میں رہنے پر مجبور ہوجاتا ہے، ان تمام تر مایوس شکن حالات میں بھی وہ ایک ملازمت کی تلاش کرتا ہے اور چھ ماہ تک اسٹاک بروک کی انٹرن شپ کرتا ہے، یہ ایسی فلم ہے جس کو دیکھتے ہوئے ہوسکتا ہے آپ کے آنکھوں سے آنسو بہنا شرو ع ہوجائیں۔

میمینٹو

اسکرین شاٹ
اسکرین شاٹ

اگر تو آپ کو تجسس بڑھانے والی پسند ہیں تو یہ کسی تحفے سے کم نہیں مگر اسے دیکھنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ کی پوری توجہ اس پر مرکوز ہے، کیونکہ اس میں دو مختلف سیکونس چلے رہے ہوتے ہیں، ایک بلیک اینڈ وائٹ جس میں ماضی کا احوال ہوتا ہے جبکہ دوسرا کلر سیکونس جو حال سے پیچھے کی جانب جاتا ہے، یہ دونوں سیکونس اختتام پر ملتے ہیں اور صحیح معنوں میں ذہن گھما دینے والی کہانی سامنے آتی ہے، اس فلم کا ہی مرکزی خیال عامر خان کی فلم 'گجنی' میں بھی پیش کیا گیا تھا۔

مول ہولینڈ ڈرائیو

اسکرین شاٹ
اسکرین شاٹ

رائٹر اور ڈائریکٹر ڈیوڈ لنچ کی اس فلم کو بی بی سی نے 21 ویں صدی کی اب تک کی سب سے بہترین فلم قرار دیا ہے، جو ایک ابھرتی ہوئی اداکارہ کی کہانی پر مبنی ہے جو نئی نئی لاس اینجلس آتی ہے جہاں اس کی دوستی بے خوابی کی شکار خاتون سے ہوجاتی ہے، جس کے بعد ایک دلچسپ کہانی کا آغاز ہوتا ہے۔