ای میل

چولستان جیپ ریلی کی ریت اور میری زندگی کا اولین بائیک ٹؤر

عبیداللہ کیہر

جہاں گردوں کی محفلوں میں اکثر یہ سوال اُٹھتا ہے کہ سیاحت کے لیے سب سے بہترین سواری کیا ہے؟

مندرجہ بالا سوال کے کئی جواب پیش کیے جاتے ہیں۔ ہوائی جہاز پسند کرنے والا دلیل دیتا ہے کہ اِس سے دور دراز کے فاصلے کم وقت میں طے ہو جاتے ہیں، جبکہ اِس کے مخالف کہتے ہیں کہ یہ ذریعہ مہنگا ہونے کے ساتھ ساتھ انسان کو زمین سے دور کر دیتا ہے، اور زمین سے دور ہونا سیاحت کی روح کے منافی ہے۔ ریل گاڑی کی حمایت کرنے والا اُس کے آرام دہ ہونے کی دلیل دیتا ہے۔ بسوں میں سفر کے شوقین اُس کی آسانیوں کی بات کرتے ہیں، ذاتی گاڑی سے سفر کرنے کا حامی اپنی من مرضی کی سیاحت کے گن گاتا ہے۔

لیکن اِن میں مجھے جو سب سے توانا آواز لگتی ہے، وہ بائیک ٹؤرسٹ کی ہے۔ کم خرچ اور بالا نشیں۔ ماحول کا حصہ بنے ہوئے ہوا کے ساتھ اُڑے جا رہے ہیں۔ ایک آزاد ذریعہءِ سفر، جہاں چاہے رُک گئے، جہاں موڈ ہوا رستہ بدل لیا، جس جگہ دل نے کہا پلٹ گئے۔ تنگ گلیاں، محدود راستے، پہاڑوں کی پگڈنڈیاں، کھیتوں کی مُنڈیریں، نہروں کی پٹریاں، سمندروں کے ساحل، صحراؤں کہ بیابان، شہر ہوں کہ ویرانے، ایک موٹر سائیکل سوار کے لیے یہ ساری جولان گاہیں دامن پھیلائے حاضر رہتی ہیں اور وہ آزادانہ اِن سب جگہوں پر گھوم پھر سکتا ہے۔

بائیک ٹؤرزم سے میرا پہلا باقاعدہ تعارف صحرائے چولستان میں ہوا۔ 2016 کا فروری مہینہ تھا جب مجھے پہلی بار چولستان ڈیزرٹ جیپ ریلی دیکھنے کا موقع ملا۔ ٹؤرزم ڈویلپمنٹ کارپوریشن پنجاب (TDCP) کے زیرِ اہتمام یہ جیپ ریلی 2005 سے ہر سال صحرائے چولستان میں قلعہ دراوڑ سے شروع ہوتی ہے۔ ملک بھر سے سینکڑوں گاڑیاں اِس ایڈوینچر میں شرکت کرتی ہیں اور جی دار لوگ اپنی اولوالعزمی کا انعام پاتے ہیں۔

چولستان ڈیزرٹ جیپ ریلی—تصویر عبیداللہ کیہر
چولستان ڈیزرٹ جیپ ریلی—تصویر عبیداللہ کیہر

اِس موقع پر جہاں یہ ریلی ہوتی ہے وہیں سیاحت سے متعلق کئی تنظیمیں بھی اپنے اپنے میلے منعقد کرتی ہیں۔ دو راتیں اور تین دن صحرا میں ایک بھرپور رونق برپا رہتی ہے۔ ’جنگل میں منگل‘ شاید ایسے ہی موقع کے لیے بولا جاتا ہے۔ رنگا رنگ میلوں ٹھیلوں اور عارضی بازاروں کی گہما گہمی، لوک موسیقی کی گونج اور لوک رقص کا شور، آتشبازیوں کی چکا چوند اور رنگ برنگی روشنیوں کا چراغاں برپا رہتا ہے۔ صحرا کی اُڑتی دھول سے بے پروا سیاحوں کا ایک ہجوم یہاں موجود رہتا ہے اور ایک منفرد و پُرمسرت ماحول کا لطف اٹھاتا ہے۔

ہمارے بہاولپوری دوست رئیس احسان بھی اِس موقعے کو بھرپور انداز میں منانے کے لیے یہاں ہر سال ’جھوک جہاں گرداں‘ کے نام سے اپنا کیمپ لگاتے ہیں اور اِس میں ملک بھر سے احباب کو مدعو کرتے ہیں۔ گزشتہ برس سیاحت کے حوالے سے نمایاں خدمات انجام دینے والوں، طویل مسافتوں کے ریکارڈ قائم کرنے والوں، پاکستان کی نمائندہ فوٹوگرافی کرنے والوں، اپنے سفری تجربات کو خوبصورت انداز میں پابندِ تحریر کرنے والوں اور اپنی موٹر سائیکل پر طویل سفر کرنے والوں کے لیے رئیس احسان ہر سال "ٹؤرسٹ آف دی ایئر ایوارڈ" کا بھی اعلان کرتے ہیں۔ ایوارڈ کا فیصلہ کرنے کے لیے 2016 میں انہوں نے کراچی سے مجھے اور لاہور سے مکرم ترین صاحب کو جج کے فرائض انجام دینے کے لیے بلایا اور ہم چولِستان میں قلعہ دراوڑ کے سائے میں پہنچ گئے۔

چولستان ڈیزرٹ جیپ ریلی—تصویر عبیداللہ کیہر
چولستان ڈیزرٹ جیپ ریلی—تصویر عبیداللہ کیہر

رئیس احسان چونکہ ایک 'بائک ٹورسٹ' بھی ہیں اِس لیے اُن کے اِس چولستانی کیمپ میں جہاں عام سیاح آتے ہیں، وہیں بے شمار بائک ٹؤرسٹ بھی جمع ہوتے ہیں۔ لاہور سے آنے والے مکرم خان ترین بھی نہ صرف خود پاکستان کے مشہور بائک ٹؤرسٹ ہیں بلکہ پاکستان کے معروف موٹر سائیکل ٹریولرز کلب 'کراس رُوٹ Cross Route' کے بھی سربراہ ہیں۔

مکرم خان خود بھی لاہور سے اپنی موٹر سائیکل پر آئے اور اُن کے ساتھ بائیک ٹؤرسٹ حضرات کا ایک بڑا گروپ بھی موٹر سائیکلوں کے غراتے انجنوں پر سوار نرالی شان سے جھوک جہاں گرداں کی رونق بڑھانے آیا۔ میں نے پہلا ٹؤرسٹ آف دی ایئر ایوارڈ کراچی کے بائیکر حماد مصطفیٰ کے نام کیا جنہوں نے اپنی اہلیہ کے ساتھ اِس سال کراچی سے خُنجراب تک موٹر سائیکل پر طویل ترین سفر کا ریکارڈ قائم کیا تھا، جبکہ دوسرا ایوارڈ لاہور کے عبدالمنان نے حاصل کیا جنہوں نے بائیک ٹؤرز کے ساتھ ساتھ سیاحوں کی رہنمائی کے لیے ایک خوبصورت ٹریول گائیڈ بُک 'یہ ہے پاکستان' بھی مرتب کی تھی۔ ایوارڈ کے ان دونوں فیصلوں میں مکرم خان صاحب نے میرے ہی فیصلے کو آگے بڑھایا تھا۔

لکھاری دیگر بائیک ٹؤرسٹ کے ہمراہ—تصویر عبیداللہ کیہر
لکھاری دیگر بائیک ٹؤرسٹ کے ہمراہ—تصویر عبیداللہ کیہر

چولستان کی وسعتوں میں جہاں ایک طرف سینکڑوں جیپوں کے اِنجن دہاڑ رہے تھے تو دوسری طرف جھوک جہاں گرداں کے اِس روشن کیمپ میں محبتوں اور رفاقتوں کے دیئے جلائے جا رہے تھے۔ سفری حکایتوں، سیاحتی مہم جوئیوں، خوفناک کوہِ پیمائیوں، خطرناک صحرا نوردیوں اور حیرت ناک بیاباں گردیوں کے نہ ختم ہونے والے قصے، کہانیاں، لطیفے اور قہقہے تھے کہ جو رات بھیگنے تک جاری رہتے۔

اِس سارے ماحول کا اثر تھا کہ میں اِن جگ سے نرالے، محبت کے مارے آوارہ گرد بائیکرز کی رفاقتوں کا اسیر بن گیا۔ رئیس احسان کے ساتھ ساتھ مکرم ترین، اکبر اسمعیل، جواد رحیم بھٹی، فیضان برکی، عبدالمنان، چوہدری شعیب اور فہیم راؤ جیسے زبردست مہم جُو بائیکرز کے ساتھ ایک ایسی دوستی قائم ہوئی کہ جو بڑے کم عرصے میں ہی بہت قدیم لگنے لگی ہے۔

چولستان جیپ ریلی کے ہفتے بھر بعد میں لاہور گیا تو کراس رُوٹ کلب کے ہفتہ وار میٹ اَپ یا ملاقات میں بھی شریک ہوا اور وہاں مجھے کلب کا ممبر بنا لیا گیا، باوجود اِس کے کہ میں بائیک ٹؤرسٹ نہیں تھا، بس صرف ٹؤرسٹ تھا۔ اِسی سال جب میں کراچی سے اسلام آباد منتقل ہوا تو جہاں مجھے پاکستان کی دلفریب پہاڑی وادیوں کے قریب آجانے کی خوشی تھی، وہیں اپنی اِس بائیکر برادری سے قُربت کی بھی مسرت تھی۔ اِس سے قطع نظر کہ میں اب تک بائیک ٹؤرسٹ نہیں بنا تھا لیکن بکرے کی ماں کب تک خیر مناتی؟ برادر فہیم راؤ کی کوششوں سے چند ماہ پہلے بالآخر میں نے بھی ایک پاور فُل موٹر سائیکل خرید ہی لی اور ابتدا میں اسلام آباد کے گرد و نواح میں چند معصوم سی آوارہ گردیاں کیں۔

ہم بھی ٹؤرسٹ سے بائیک ٹؤرسٹ بن گئے—تصویر عبیداللہ کیہر
ہم بھی ٹؤرسٹ سے بائیک ٹؤرسٹ بن گئے—تصویر عبیداللہ کیہر

27 ستمبر کا دن دنیا بھر میں 'یومِ سیاحت' کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اِس سال یعنی 2017 میں پاکستان کی بائیکر ٹؤرسٹ کمیونٹی نے یہ دن پاکستان اور چین کی سرحد پر قراقرم کے پہاڑوں میں 16 ہزار فٹ بلند درّہ خنجراب پر منانے کا فیصلہ کیا۔ اِس جگہ کا انتخاب اِس لیے بھی اہم تھا کہ چین اور پاکستان کے درمیان زیرِ تعمیر اقتصادی شاہراہ، سی پیک کا روٹ بھی یہی ہے۔

ملک بھر سے بائیک ٹؤرسٹ اور دیگر سیاحوں نے 27 ستمبر کو یہاں پہنچنے کی تیاریاں شروع کردیں۔ اب چونکہ میں بھی ایک ٹؤرسٹ بائیک کا مالک تھا، لہٰذا میرے بائیکر دوست مجھ سے بجا طور پر یہ اُمید رکھ رہے تھے کہ اِس سفر میں میں بھی اِن کا ہمسفر بنوں اور بائیک ہی پر خنجراب جانے کے لیے تیار ہوجاؤں۔

اسلام آباد سے درہ خنجراب تک جانے کیلئے عام طور سے ایبٹ آباد، مانسہرہ، بالا کوٹ، کاغان، ناران، لولوسر، درہ بابوسر، چلاس، گلگت، ہنزہ، عطا آباد اور سوست کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے۔ یہ فاصلہ تقریباً 7 سو کلومیٹر بنتا ہے جو کہ سر بفلک پہاڑوں کی ڈھلوانوں پر دریاؤں اور ندی نالوں کے کنارے کنارے خطرناک بلندیوں سے ہوتا ہوا جاتا ہے۔ اِس سفر میں ناران اور چلاس کے درمیان تقریباً 14 ہزار فٹ بلند درّہ بابوسر کو بھی عبور کرنا ہوتا ہے۔

بابوسر کے دوسری طرف چلاس کا شہر آتا ہے جو دریائے سندھ کے کنارے آباد ہے۔ چلاس سے آگے گلگت تک کا سفر نانگا پربت کی ڈھلوانوں پر دریائے سندھ کے کنارے کنارے شاہراہ قراقرم پر ہوتا ہے۔ گلگت سے آگے ہنزہ اور سوست سے گزرتے ہوئے راستہ ایک بار پھر بلندیوں کی طرف رواں ہوتا ہے اور بالآخر چین کی سرحد پر دنیا کے بلند ترین درّے خنجراب کی 16 ہزار فٹ بلندی تک جا پہنچتا ہے۔

بائیک ٹؤرسٹ بن کر ماحول کا حصہ بنے ہوئے ہوا کے ساتھ اُڑے جا رہے ہیں—تصویر عبیداللہ کیہر
بائیک ٹؤرسٹ بن کر ماحول کا حصہ بنے ہوئے ہوا کے ساتھ اُڑے جا رہے ہیں—تصویر عبیداللہ کیہر

یہ ایک خاصا دشوار اور مہم جوئی سے بھرپور سفر ہے جس میں موسم کی سختیوں کا بھی مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔ خصوصاً درّہ بابوسر اور درّہ خنجراب کی بلندی پر آکسیجن کی کمی اور سخت سردی کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔

خصوصاً ایک موٹر سائیکل سوار تو اِس موسمی سختی کا براہِ راست نشانہ بنتا ہے۔ مگر آفرین ہے ہمارے بہادر بائیک ٹؤرسٹوں پر کہ جو دیوانہ وار اِس سفر کے لیے ملک کے تمام گوشوں سے نکل آئے۔ میں ٹھہرا ایک نیا نویلا بائیکر۔ سیدھی سی بات کہ میں اپنے اندر یہ ایڈوینچر کرنے کی ہمت پیدا نہ کرسکا۔ چنانچہ میں نے یہ سفر کیا تو ضرور، لیکن موٹر سائیکل کے بجائے بس میں بیٹھ کر اپنے جیسے دیگر لوگوں کے ساتھ۔

اسلام آباد سے خُنجراب تک ہفتے بھر کا یہ سفر بڑا سہانا تھا۔ 27 ستمبر کو درّہ خُنجراب پر جہاں ہم سب نے ہم آہنگ ہو کر پاکستان کا قومی ترانہ پڑھا، وہیں یہ موقع یوں بھی یادگار ثابت ہوا کہ یہاں میری کتاب 'قراقرم کے پار' کی تقریبِ رونمائی بھی ہوئی۔ یہ سفرنامہ آج سے 30 برس قبل اِسی شاہراہ قراقرم اور درہ خُنجراب سے گزر کر چین کے شہر کاشغر تک میری سیاحت کی روداد ہے۔ میری کتاب کے ساتھ ساتھ یہاں عبدالمنان صاحب کی کتاب 'ٹریول گائڈ آف لاہور' کی بھی تقریبِ رونمائی ہوئی۔

درّہ خُنجراب پر میری کتاب 'قراقرم کے پار' کی تقریبِ رونمائی ہوئی—تصویر عبیداللہ کیہر
درّہ خُنجراب پر میری کتاب 'قراقرم کے پار' کی تقریبِ رونمائی ہوئی—تصویر عبیداللہ کیہر

خُنجراب کے سفر سے بخیریت گھر واپس تو پہنچ گئے، مگر میرے دل میں یہ خلش بس گئی کہ موقع ملنے کے باوجود بائیک ٹؤرسٹ نہ بن سکا۔ چنانچہ اِس خلش سے نجات پانے کے لیے میں نے ایک آسان بائیک ٹؤر کا منصوبہ بنایا۔ یہ تھا شمالی پنجاب کے نمائندہ شہروں جہلم، سیالکوٹ، گجرانوالہ، لاہور اور فیصل آباد کا ہفت روزہ بائیک ٹرپ۔

اِس روٹ کو اختیار کرنے کی وجہ یہ تھی کہ ایک تو یہ پورا خطہ پر رونق اور آباد ہے، یہاں امن و امان ہے، سفری سہولیات موجود ہیں، موٹر سائیکل کے پنکچر یا خرابی کی صورت میں مکینک کی دستیابی بھی آسان ہے، اکتوبر کا یہ خوشگوار موسم بھی اِس سفر کے لیے سازگار ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہر شہر میں دوست بھی منتظر ہیں۔ چنانچہ 12 اکتوبر کی صبح کو میں نے بائک کے ٹیل بکس Tail Box میں ضروری سامان بھرا، کیمرا اُٹھایا، ہیلمٹ چڑھایا، بائک اسٹارٹ کی اور اسلام آباد سے نکل آیا۔

اسلام آباد سے باہر جانے کا سفر عام طور پر موٹروے میں داخلے سے شروع ہوتا ہے، لیکن موٹر سائیکل سواروں کے لیے موٹروے پر سفر کرنا ممنوع ہے، اِس لیے وہ شہروں کو ملانے والی قدیم سڑکوں، خصوصاً شیر شاہ سوری کی بنائی ہوئی جرنیلی سڑک یا جی ٹی روڈ کا رخ کرتے ہیں۔ میں اسلام آباد کے جس سیکٹر میں رہتا ہوں وہ تو ہے ہی جی ٹی روڈ پر، لہٰذا میں تو گھر سے نکلتے ہی جی ٹی روڈ پر آگیا اور اپنا رُخ رَوات کی طرف کرلیا۔ موسم بہت خوشگوار تھا اور دھوپ میں نرمی تھی۔ اسلام آباد سے نکل کر راولپنڈی میں داخل ہوا اور جب روات پہنچا تو خود کو پردیسی پردیسی سا محسوس کرنے لگا۔ حالانکہ یہ میری خام خیالی تھی۔ راولپنڈی پنجاب کا ایک بڑا ڈویژن ہے اور مجھے ابھی کافی دیر راولپنڈی ہی کی حدود میں سفر کرنا تھا۔

اکیلے سفر کی ایک بڑی قباحت یہ ہے کہ کیمرا موجود ہونے کے باوجود کوئی آپ کی تصویر لینے والا نہیں ہوتا۔ میں بائیک پر سوار ہیلمٹ پہنے خیالوں ہی خیالوں میں خود کو بہت ہینڈسم محسوس کررہا تھا، لیکن جنگل میں مور ناچا، کِس نے دیکھا۔ روات گزرا، کلر سیداں گزرا اور مندرہ ٹول پلازہ آگیا۔ میں یہاں سستانے کے لیے رُکا تو کالج کے لڑکوں کا ایک غول قریب سے گزرا۔ میں نے ایک لڑکے کو آواز دے کر روکا اور اُس کے ہاتھ میں موبائل دے کر فوٹو کھینچنے کی گزارش کی۔ اُس نے میری فوٹو کھینچی اور موبائل فون لے کر فرار ہونے سے گریز کیا۔ (زندگی کا خاصا حصہ کراچی میں گزارنے والا بیچارہ اِسی طرح سوچتا ہے۔)

مندرہ سے چند کلومیٹر آگے گیا ہوں گا کہ اچانک سڑک کے درمیان ایک نیلے بورڈ پر نظر پڑی جس پر لکھا تھا،'آخری آرام گاہ بابائے ظرافت سید ضمیر جعفری'، میں جھوک میں خاصا آگے آچکا تھا لیکن موٹر سائیکل کو کچے میں اتار کر واپس پیچھے آگیا۔ سامنے سڑک کی دوسری طرف کچھ فاصلے پر ضمیر جعفری کا مقبرہ دکھائی دے رہا تھا۔

بابائے ظرافت سید ضمیر جعفری کی آخری آرام گاہ تک لے جانے والا راستہ بتاتا ایک بورڈ—تصویر عبیداللہ کیہر
بابائے ظرافت سید ضمیر جعفری کی آخری آرام گاہ تک لے جانے والا راستہ بتاتا ایک بورڈ—تصویر عبیداللہ کیہر

2000 میں اپنی وفات سے چند دن قبل ضمیر جعفری کراچی آئے تھے اور میں انہیں اپنی گاڑی میں شہر گھما رہا تھا۔ اُسی رات اُن کی کراچی کے صحافیوں کے ساتھ نشست تھی۔ یہ نشست پاکستان میں اُن کی آخری محفل ثابت ہوئی کیونکہ اگلے ہی دن وہ اپنے بیٹے کے پاس امریکہ چلے گئے اور پھر وہیں اُن کا انتقال ہوگیا۔ مجھے پاکستان میں اُن کی اُس آخری محفل میں اُن کی وہ شگفتہ بیانی آج بھی اچھی طرح یاد ہے۔ میں کچھ دیر اُداسی کے ساتھ اُن کے مقبرے کو دیکھتا رہا اور پھر آگے چل دیا۔

جب سے لاہور اسلام آباد موٹروے شروع ہوئی ہے، جی ٹی روڈ پر ٹریفک نام کو رہ گیا ہے۔ کم از کم مجھے تو یہی محسوس ہورہا تھا۔ سرسبز پہاڑی نشیب و فراز میں لہریئے لیتی خوبصورت جرنیلی سڑک کم ٹریفک کے باعث بڑی سہانی لگ رہی تھی اور میں اپنی مرضی کی رفتار سے بائک کو دوڑا رہا تھا۔ گوجر خان سے کچھ پہلے ایک بڑا صاف ستھرا سایہ دار ٹرک ہوٹل نظر آیا تو میں نے چائے کا وقفہ کرلیا۔ ٹھنڈا میٹھا پانی اور دودھ پتی چائے۔ تازہ دم ہو کراُٹھا تو ویٹر نے آواز لگائی

'صاحب سے تیس روپے۔'

میں نے پھر بائیک اسٹارٹ کی اور چل سو چل۔ راجہ ظفرالحق کے شہر گوجر خان سے گزر کر آگے بڑھا تو ضلع راولپنڈی کی حدود کا اختتام ہوا اور جہلم کی حدود شروع ہو گئیں۔ سوہاوہ آگیا۔ ایک سہانا پہاڑی قصبہ کہ جس سے کئی برسوں کی یادیں وابستہ ہیں۔ 1985 میں راولپنڈی جاتے ہوئے ریل گاڑی نہ جانے کیوں کچھ دیر کے لیے سوہاوہ اسٹیشن پر رُک گئی تھی اور میں اِس کے سکون و سکوت پر اُسی وقت عاشق ہوگیا تھا۔ پھر تو بارہا سوہاوہ سے گزرا ہوں اور اکثر یہاں رک کر کچھ لمحے اُس کی آب و ہوا میں ضرور گزارے ہیں۔

ضلع جہلم—تصویر عبیداللہ کیہر
ضلع جہلم—تصویر عبیداللہ کیہر

دینہ کا دوراہا آگیا ۔یہاں سے کشمیر کا بھی راستہ نکلتا ہے۔ آزاد کشمیر کا شہر 'میرپور' یہاں سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر دریائے جہلم کے پار منگلا ڈیم کے کنارے آباد ہے۔ انگلینڈ میں رہنے والوں کا یہ پاکستانی شہر جہاں میں نے بھی کچھ عرصہ اقوامِ متحدہ UNO کے ادارے ایف اے او FAO سے وابستگی کے دوران گزارا ہے۔ دن خوب چڑھ چکا تھا اور گرمی میں بھی خاصا اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ دینہ میں لسی پینے کا خیال دل میں آیا اور میں جی ٹی روڈ چھوڑ کر شہر کے بازار میں داخل ہوگیا۔ بہت ڈھونڈا۔ مگر کہیں کوئی دودھ لسی کی دکان نظر نہیں آئی۔ ہائے لاہور، ہائے گجرانوالہ۔ لاچار ہوکر ایک دکان سے بوتل بند مینگو جوس لے کر پیا اور دینہ سے باہر نکل آیا۔ دینہ سے قلعہ روہتاس کا بھی رستہ نکلتا ہے۔

اب میں جہلم سے گزر رہا تھا لیکن مجھے یہاں نہیں رکنا تھا۔ میری منزل 'کھاریاں' تھی، دریائے جہلم کے پار۔ جی ٹی روڈ جہلم شہر کے پہلو سے گزرتی ہوئی درختوں میں گھرے دریائے جہلم کے پُل تک چلتی چلی گئی۔ پُل سے پہلے ٹول پلازہ آیا جس سے میں بے اعتنائی برتتا ہوا آگے نکل آیا، بلکہ اِس سفر میں ہر ٹول پلازہ پر ایک حقارت آمیز نگاہ ڈالنے پر ہی اکتفا کیا، کیونکہ موٹر سائیکل والوں پر کوئی ٹول ٹیکس واجب نہیں ہوتا، یعنی مزے۔ ورنہ کار ہونے کی صورت میں اسلام آباد سے لاہور تک کے اِس سفر میں سینکڑوں روپے تو ٹول ٹیکس ہی بن جاتے۔

دریائے جہلم عبور کرتے ہی سرائے عالمگیر آ گیا۔

سرائے عالمگیر —تصویر عبیداللہ کیہر
سرائے عالمگیر —تصویر عبیداللہ کیہر

سرائے عالمگیر سے بھی ہماری بڑی پرانی یادیں وابستہ ہیں۔ جب لڑکپن میں غالباً جاسوسی ڈائجسٹ میں ہم یورپ میں بھٹکتے ایک نوجوان کی ایڈوینچر سے بھرپور قسط وار کہانی پڑھا کرتے تھے اور کہانی کا مصنف، اُس نوجوان کا تعلق سرائے عالمگیر سے بتانے کے بعد، کہانی شروع کرتا تھا۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ اُس کہانی کے مصنف کا اپنا تعلق بھی سرائے عالمگیر ہی سے تھا۔

سرائے عالمگیر سے آگے نکلتے ہی لینڈ اسکیپ بدل جاتا ہے۔ اب سڑک کے اطراف سے پہاڑ غائب ہوجاتے ہیں اور مسافر خود کو پنجاب کے میدانی علاقوں میں پاتا ہے۔ وہ اِس زمینی تبدیلی پر ابھی پوری طرح غور بھی نہیں کر پاتا کہ کھاریاں آجاتا ہے۔

کھاریاں کا قصبہ منڈیر—تصویر عبیداللہ کیہر
کھاریاں کا قصبہ منڈیر—تصویر عبیداللہ کیہر

کھاریاں کے قصبے مَنڈیر میں ہمارے کرم فرما عبدالمجید صاحب کا بورڈنگ اسکول پاکستان اوورسیز اکیڈمی ہے جہاں پڑھنے والے زیادہ تر بچوں کے والدین یورپی ملکوں میں رہتے ہیں۔ آج رات اِسی اسکول کے ہوسٹل میں میرا قیام تھا۔ اسکول کے اساتذہ نے ہمارا پُرجوش استقبال کیا اور مجھے یوں لگا کہ جیسے میں اپنے گھر پہنچ گیا ہوں۔

صبح ناشتے کے بعد میری بائک پھر جی ٹی روڈ پر فراٹے بھر رہی تھی۔ دریائے چناب عبور کرتے ہی میں گجرات کی حدود میں داخل ہوگیا۔ لالہ موسیٰ آیا اور کانوں میں عالم لوہار کی جُگنی گونجنے لگی، کیونکہ لالہ موسیٰ عالم لوہار کا شہر ہے:

لالہ موسیٰ —تصویر عبیداللہ کیہر
لالہ موسیٰ —تصویر عبیداللہ کیہر

اے جگنی پاکستان دی اے، اینوں ساری دنیا جان دی اے سائیں میریا جگنی کہندی آ، تے نام نبی دا لیندی آ

چوہدری پرویز الٰہی کا شہر گجرات بائی پاس ہوگیا اور میں اُن کی روٹی شوٹی کھائے بغیر آگے نکل آیا۔ چھری کانٹے اور تلواروں کا شہر وزیرآباد بھی بائی پاس ہوگیا۔ میں آگے بڑھتا ہوا گکھڑ منڈی میں دری سازوں کی دکانوں سے بھی گزرتا چلا آیا۔ حتیٰ کہ 'راہوالی' میں بائیک نوں بریکاں لگیاں، اور یہ بریکاں لگنے کی وجہ ہر وہ شخص جانتا ہے کہ جس نے کبھی راہوالی کے باباجی سلیمان کی قلفی کھائی ہو۔ میں نے کھائی ہے اور بار بار کھانے کی ہوس رکھتا ہوں۔ چنانچہ آج بھی موقعہ غنیمت جانا اور لاتعداد جعلی بابوں سے بچتا بچاتا اصلی صوفی سلیمان رجسٹرڈ قائم شدہ 1955 کی دکان پر آ پہنچا اور سب سے بڑی قلفی کا آرڈر دیا۔

راہوالی کے بابا جی سلیمان کی قلفی —تصویر عبیداللہ کیہر
راہوالی کے بابا جی سلیمان کی قلفی —تصویر عبیداللہ کیہر

بائیک چلاتے ہوئے ٹیلیفون کی گھنٹی تو سنائی نہیں دیتی، اِس لیے قلفی کھاتے ہوئے فون نکالا تو گجرانوالہ کے احباب کی کئی مس کالیں نظر آئیں، رابطہ کرکے اُنہیں تسلی دی کہ بس پہنچنے ہی والا ہوں۔ یہ نہیں بتایا کہ راہوالی میں قلفی نوش فرما رہا ہوں۔ راہوالی سے باہر نکلتے ہی گجرانوالہ شروع ہو جاتا ہے۔

نئی نویلی سڑکوں اور عالیشان فلائی اوورز سے سجے ہوئے جدید گجرانوالہ نے میرے استقبال کے لیے اپنی باہیں پھیلا دیں اور پھر وہ بھائی جہانگیر کے روپ میں سامنے آگیا۔ جہانگیر خان گجرانوالہ کے معروف فوٹو گرافر اور یہاں کراس روٹ کلب کے نمائندہ ہیں۔ یہاں مجھے اپنی بائیک اُن کے گھر چھوڑنی تھی اور پھر اُن کی کار میں سوار ہوکر سیالکوٹ کی بائیکر کمیونٹی سے ملنے جانا تھا۔ میری زندگی کے اولین بائیک ٹؤر کے پہلے فیز کا یہاں اختتام ہو رہا تھا۔


عبیداللہ کیہر پیشے کے لحاظ سے میکینیکل انجینیئر، مگر ساتھ ہی سیاح، سفرنامہ نگار، پروفیشنل فوٹوگرافر اور ڈاکومنٹری فلم میکر ہیں۔ آپ کی اب تک 7 کتابیں بھی شائع ہوچکی ہیں۔ آبائی تعلق سندھ کے شہر جیکب آباد سے ہیں۔ عمر کا غالب حصہ کراچی میں گزارا اور اب اسلام آباد میں رہتے ہیں ۔