ای میل

ہانگ کانگ کی لڑکیوں کے ساتھ تیس سال پرانے سفر کی داستان

عبیداللہ کیہر

یہ 1987ء کا قصہ ہے جب میں یونیورسٹی میں پڑھتا تھا اور سیاحت کا جنون ہم پر نیا نیا سوار ہوا تھا۔ سال بھر پہلے ہی میں چند دوستوں کے ساتھ پاکستان کے شمالی علاقوں کی ایک 'تشنہ سیاحت' کرکے واپس آیا تھا۔ تشنہ یوں کہ اس سفر سے کوئی تسکین ملنے کے بجائے دل میں مزید بے شمار سیاحتوں کی ہزاروں خواہشیں جنم لے چکی تھیں۔

گزشتہ سفر میں ہم دوستوں کا ارادہ تو وادئ سوات جانے کا تھا لیکن ہم پہنچ گئے وادئ ہنزہ۔ ہوا یوں کہ سوات پہنچنے سے پہلے ہی ہمیں راستے میں ایک کوہستانی بزرگ مل گئے اور انہوں نے ہمارے سامنے شاہراہ قراقرم، دریائے سندھ، گلگت اوروادئ ہنزہ کا ایسا دلفریب نقشہ کھینچا کہ ہم نے سب چھوڑ چھاڑ کر گلگت کی طرف دوڑ لگا دی۔

گلگت کا یہ سفر بھی کوئی آسان نہ تھا۔ راولپنڈی سے گلگت تک بس نے پہاڑوں کے بلند و بالا، پیچ در پیچ اور خوفناک راستوں سے گزرتے ہوئے 18 گھنٹوں کا وقت لگایا۔ ہزاروں فٹ گہری کھائیوں کے ساتھ ساتھ سفر کرتے ہوئے ہر خطرناک موڑ پر کلیجہ منہ کو آتا تھا۔ لیکن یوں گرتے، پڑتے، ڈرتے اور ڈراتے جب ہم وادئ ہنزہ پہنچے تو خوف، تھکن اور پریشانی ایک پرلطف سرور میں بدل گئی۔ برف پوش پہاڑوں کے حسن، سرسبز وادیوں کے سکون اور پرشور دریاؤں کی انوکھی رفاقتوں نے ہمیں ساری عمر کے لیے اپنا اسیر کر لیا۔

پھر ہوا یوں کہ ہنزہ میں ہمیں ایسے یورپی سیاح ملے جنہوں نے کچھ اور ہی داستانیں سنائیں۔ پاکستان اور چین کے درمیان شاہراہ قراقرم کو تعمیر ہوئے ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا بلکہ ابھی تو یہ صرف پاکستانی حدود میں ہی مکمل ہو پائی تھی، چینی حدود میں اس پر کام ابھی ابتدائی مرحلوں میں تھا۔

لیکن اس نامکمل راستے پر بھی دنیا بھر کے سیاحوں نے اپنے سفر شروع کر دیے تھے اور چین کے دارالحکومت بیجنگ، یا تبت کے دارالحکومت لہاسا، یا ہانگ کانگ سے سفر شروع کرنے والے سیاح پورے چین میں سے گزر کر سنکیانگ کے آخری شہر کاشغر پہنچتے، پھر آگے بڑھتے ہوئے دنیا کے بلند ترین خطے 'پامیر' کے برف زاروں سے گزرتے ہوئے چین سے نکل کر پاکستان میں داخل ہوتے اور اپنے سفر کو جاری رکھتے ہوئے پاکستان سے ایران، ترکی، یونان، یوگوسلاویہ، اٹلی، فرانس یا جرمنی وغیرہ سے ہوتے ہوئے اپنی منزلوں پر جا پہنچتے۔ شاہراہ قراقرم کی تعمیر سے پہلے اس طرح کے سفر ممکن ہی نہیں تھے۔

1987 میں دوستوں کے ہمراہ گلگت میں قراقرم ہائی وے پر—تصویر عبیداللہ کیہر
1987 میں دوستوں کے ہمراہ گلگت میں قراقرم ہائی وے پر—تصویر عبیداللہ کیہر

1987 میں پاکستان سے چین کے شہر کاشغر جاتے وقت پہلی چینی چیک پوائنٹ پیرالی آئی تھی—تصویر عبیداللہ کیہر
1987 میں پاکستان سے چین کے شہر کاشغر جاتے وقت پہلی چینی چیک پوائنٹ پیرالی آئی تھی—تصویر عبیداللہ کیہر

تو انہی چین سے پاکستان کی طرف آنے والے یورپی سیاحوں نے ہنزہ کے ہوٹلوں میں جب ہمیں قراقرم کے پار بسنے والی دنیا، سنکیانگ، کاشغر اور اُرومچی کی داستانیں سنائیں تو دل مچل مچل سا گیا۔ کراچی واپس آتے ہی ہم تینوں دوستوں نے پہلی فرصت میں پاسپورٹ بنوالیے۔ اس زمانے میں کراچی میں چین کا سفارت خانہ کینٹ اسٹیشن جانے والی سڑک پر ہوٹل مہران کے سامنے ہوا کرتا تھا۔ ویزا لگوانے کے لیے گئے تو انہوں نے یونیورسٹی سے ضمانتی خط لانے کا کہا۔ خط آسانی سے مل گیا۔

ویزا اپلائی کیا، جس کی فیس ان دنوں شاید صرف پچاس روپے تھی۔ دوچار دن میں ویزا لگ کر آگیا اور پھر میں، باسط اور وسیم ایک بار پھر پاکستان کے شمالی پہاڑوں کی طرف جا رہے تھے، لیکن اب ہماری منزل ان پہاڑوں سے آگے، قراقرم کے پار، کاشغر تھی۔

ہفتے بھر کا سفر کر کے ہم شاہراہ قراقرم پر پاکستان کے آخری قصبے 'سوست' پہنچے۔ کسٹم و امیگریشن کے مراحل سے گزر کر آگے بڑھے، چین اور پاکستان کے درمیان 16 ہزار فٹ بلند برفانی درّہ خنجراب کو عبور کیا اور چین کی حدود میں داخل ہوگئے۔ لیکن ابھی کئی منزلیں باقی تھیں۔ چینی حدود میں سڑک ابھی تعمیر نہیں ہوئی تھی چنانچہ ہمیں خنجراب سے کاشغر تک ایک کچے پکے راستوں پر اچھلتے کودتے لڑکھڑاتے ہوئے دو دن کا ایک روح فرسا سفر طے کرنا پڑا۔ بالآخر کاشغر آگیا۔ یہ وہی کاشغر تھا کہ جس کے بارے میں علامہ اقبال نے کہا ہے:

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے

نیل کے ساحل سے لے کر تا بہ خاکِ کاشغر

1987 میں کاشغر میں اپنے دوستوں کے ہمراہ—تصویر عبیداللہ کیہر
1987 میں کاشغر میں اپنے دوستوں کے ہمراہ—تصویر عبیداللہ کیہر

1987 میں کاشغر کی ایک سڑک—تصویر عبیداللہ کیہر
1987 میں کاشغر کی ایک سڑک—تصویر عبیداللہ کیہر

1987 میں کاشغر میں ایک نان کی دکان—تصویر عبیداللہ کیہر
1987 میں کاشغر میں ایک نان کی دکان—تصویر عبیداللہ کیہر

ہم ہفتہ بھر کاشغر کے تاریخی گلی کوچوں میں آوارہ گردی کرتے رہے، شہر کے قدیم دروبام، تاریخی مساجد، سرسبز باغات اور بھرے پرے بازاروں کی سیر کرتے رہے۔ بالآخر کُوچ کا وقت آگیا۔ ہم نے کاشغر پر اُداس الوداعی نگاہیں ڈالیں اور دل میں دوبارہ آنے کا عزم لیے پاکستان واپس جانے والی گاڑی میں سوار ہوگئے۔

واپسی کے سفر میں 6 یورپی، 5 پاکستانی اور چینی فوجیوں کے علاوہ چار ہانگ کانگ کی لڑکیاں بھی ہماری ہم سفر تھیں۔ اس وقت تک ہانگ کانگ چین میں شامل نہیں ہوا تھا۔ ہانگ کانگ کی یہ چار دوشیزائیں اپنے ملک میں سے نکل کر چین میں داخل ہوئی تھیں اور تقریباً پانچ ہزار کلومیٹر کا ایک طویل سفر کر کے یہاں کاشغر پہنچی تھیں۔ آگے ان کی منزل پاکستان تھی اور مزید آگے انڈیا میں داخل ہوکر اور کچھ عرصہ وہاں سیاحت کرنے کے بعد بائی ایئر واپس ہانگ کانگ جانے کا پروگرام تھا۔ یہ مِس چینگ، مِس چاؤ، مِس مے، اور مِس ہاؤ تھیں اور اس وقت ان کی عمریں بالترتیب 17، 18، 19 اور 20 سال تھیں۔ اتنی کم عمر 'سیاحنیں' ہم نے پہلی بار دیکھی تھیں۔

1987 میں کاشغر شہر کے اندر عکس بند کیا گیا عظیم چینی رہنما ماؤ زی تنگ کا مجسمہ— تصویر عبیداللہ کیہر
1987 میں کاشغر شہر کے اندر عکس بند کیا گیا عظیم چینی رہنما ماؤ زی تنگ کا مجسمہ— تصویر عبیداللہ کیہر

1987 میں کاشغر شہر کا ایک نظارہ—تصویر عبیداللہ کیہر
1987 میں کاشغر شہر کا ایک نظارہ—تصویر عبیداللہ کیہر

1987 میں کاشغر کا ایک نظارہ—تصویر عبیداللہ کیہر
1987 میں کاشغر کا ایک نظارہ—تصویر عبیداللہ کیہر

ہماری گاڑی میں ان چار لڑکیوں کے علاوہ باقی سارے مرد تھے، لہٰذا فطری طور پر ہرکوئی ان سے بے تکلفی اور دوستی کا خواہاں تھا۔ لیکن یہ چاروں ہم سب سے لاتعلق ہوکر صرف آپس ہی میں مگن ہوکر سفر کر رہی تھیں۔ میں نے ان سے بات چیت کا ایک بہانہ ڈھونڈ ہی لیا۔ اس زمانے میں انٹرنیٹ تو تھا نہیں۔ ہر سیاح اپنے ساتھ نقشے اور گائڈ بک وغیرہ ساتھ لے کر چلتا تھا۔ میرے پاس پاکستان ٹورزم ڈپارٹمنٹ کے تیار کردہ ملک کے سیاحتی مقامات کے کئی نقشے موجود تھے۔ چونکہ وہ بھی پاکستان ہی جا رہی تھیں اس لیے میں نے وہ رنگا رنگ نقشے انہیں پیش کردیے۔ یہ نقشے پاکر وہ بڑی خوش ہوئیں اور ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں ان کے شکریے ادا کرنے سے ہماری دوستی کا آغاز ہوگیا۔

بس کاشغر سے آگے پامیر کے میدانوں میں مختلف قصبوں اوردیہاتوں میں سے ہوتی ہوئی شام ہونے تک پہاڑوں میں داخل ہوگئی۔ ابھی مغرب میں کچھ وقت باقی تھا کہ اچانک ایک جگہ گاڑیاں سڑک پر رُکی نظر آئیں۔ آگے رستہ بند تھا۔ پتہ چلا کہ سڑک کی تعمیر کے سلسلے میں بلاسٹنگ ہو رہی ہے۔ تھوڑی دیر بعد ایک وِسل سنائی دی اور پھر ایک دھماکے کے ساتھ دور ایک جگہ گردوغبار کا بادل اٹھا اورنیچے کھائی میں بہتے دریائے زرفشاں کے اوپر ٹھنڈی فضا میں معلق ہوگیا۔ ڈائنامائٹ کے دھماکے سے پہاڑ ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہوا اور سڑک پر آکر ڈھیر ہوگیا۔

ہم نے سوچا کہ ابھی بلڈوزر آکر اس ڈھیر کو صاف کرے گا اور راستہ کلیئر ہوتے ہی سفر پھر شروع ہوجائے گا۔ ہم میں سے اکثر جو بس سے اتر کر ادھر ادھر ٹہل رہے تھے جلدی سے واپس آکر بس میں بیٹھ گئے۔ خاصی دیر گزر گئی، لیکن زمیں جُنبد نہ جُنبد گُل محمد، ٹریفک ٹس سے مس نہ ہوا۔ دریافت کرنے پر پتہ چلا کہ یہ دھماکہ آج کے دن کا آخری دھماکہ تھا، یہ آج کا آخری کام تھا، اب مزدوروں کی چھٹی ہوگئی، باقی کام کل، صبح بلڈوزر چلے گا تو رستہ صاف ہوگا اور رستہ صاف ہوگا تو ٹریفک آگے بڑھے گا۔

یااللہ، یہ کیا مصیبت ہے۔ بہت غصہ آیا مگر وہاں سننے والا کون تھا۔ نہ یہاں کوئی اردو انگریزی سمجھنے والا تھا اور نہ ہی ہم ان کی چائینز سمجھتے تھے۔ رودھو کر چپ ہوگئے۔ اب آج کی رات یہی بس ہمارا گھر تھی اور اس کی سیٹیں ہمارے بستر۔

ہمارے اردگرد پہاڑ خشک تھے۔ ان کی سطح زرد چکنی مٹی کی طرح تھی۔ بائیں طرف نیچے گہرائی میں بہنے والے دریائے زرفشاں کا پانی بھی شفاف ہونے کی بجائے مٹیالا زرد تھا، اس لیے ہم نے اس کا نام بھی زرفشاں کے بجائے 'زردفشاں' رکھ دیا۔ اردگرد کوئی آبادی نہ تھی، بس پہاڑ کے دامن میں سڑک پر کام کرنے والوں کی ایک چھوٹی سی خیمہ بستی آباد تھی۔

تھوڑی دیر میں سورج غروب ہوگیا اور ہمیں بھوک لگنا شروع ہوگئی۔ ہوٹل وغیرہ تو یہاں کوئی تھا نہیں، البتہ مزدوروں کی بستی میں ایک خیمے کے گرد کچھ چہل پہل سی نظر آرہی تھی۔ یہ خیمہ دراصل ایک دوکان تھی جسے ایک عورت چلارہی تھی۔ ہم بھی اس خیمہ دوکان میں گھس گئے اور ٹن پیک فوڈ خرید کر لے آئے۔

رات پہاڑوں پر سے بادلوں کے ساتھ سرکتی سرکتی نیچے آگئی اور بس میں اندھیرا اور ٹھنڈ پھیل گئی۔ تھوڑی دیر بعد اچانک گرج چمک شروع ہوئی اور پھر ٹپاٹپ بوندیں پڑنے لگیں۔ بارش شروع ہوتے ہی یک دم سردی کی لہر آگئی اور سب سردی سے بچاؤ کا انتظام کرنے لگے۔ باسط اور وسیم نے اپنی اپنی جیکٹ نکال کر پہن لی۔ میرے پاس صرف ایک بغیر آستین کا سویٹر تھا۔ میں نے وہی چڑھالیا اور سیٹ پر سکڑ سمٹ کر بیٹھ گیا۔ بارش تھوڑی دیر بعد آہستہ ہوگئی اور بھیگی ہوئی رات رینگتی ہوئی گزرنے لگی۔

باہر سناٹے میں صرف دریا کے بہاؤ کی ہلکی گرج سنائی دے رہی تھی۔ اندر بس میں گُھپ اندھیرا اور خاموشی تھی اور اس خاموشی کو کبھی کبھی کسی سیاح کا ہلکا سا خرّاٹا یا کسی کے کسمسا کر کروٹ بدلنے کی سرسراہٹ توڑ دیتی تھی۔ میری آنکھیں بند تھیں مگر سردی کی وجہ سے نیند نہیں آ رہی تھی۔ اچانک میری بند آنکھوں پر روشنی کا جھما کا سا ہوا۔ میں نے چونک کر آنکھیں کھول دیں۔ کوئی اندھیرے میں کھڑا میرے چہرے پر ٹارچ کی روشنی پھینک رہا تھا۔ میری آنکھیں اچانک کھلنے پر ایک نسوانی آواز آئی۔

'?Don't Worry, This is me'

(گھبرایے نہیں میں ہوں۔)

یہ ہانگ کانگ والی مس مے کی آواز تھی۔ وہ ٹارچ کی روشنی میں نہ جانے کیوں میرا جائزہ لے رہی تھی۔ میں حیران ہوا کہ وہ یہ کیا کر رہی ہے۔

مس مے کی آواز آئی کہ '?You are not wearing warm cloths' (آپ نے گرم کپڑے کیوں نہیں پہنے ہوئے؟)

میں نے اپنے سویٹر کو چھوتے ہوئے کہا کہ، '?No no. This is very warm' (نہیں۔ یہ کافی گرم ہے۔)

وہ بولی کہ '.But this is not enough' (نہیں کافی نہیں۔)

میں نے خوش دلی سے کہا۔ '.Don't worry. I am in comfort' (پریشان نہ ہوں، میں آرام سے بیٹھا ہوں۔)

'.No no. This is not comfort' (نہیں، آپ آرام سے نہیں بیٹھے) اس نے تشویش سے کہا اور وہ اپنی سیٹ کی طرف واپس چلی گئی۔ کچھ دیر اندھیرے میں سامان الٹنے پلٹنے کی آوازیں آئیں اور پھر ٹارچ کی روشنی دوبارہ میری طرف آنے لگی۔ اس چلت پھرت اور ہماری گفتگو کی وجہ سے بس کے اکثر مسافر چوکنے ہوگئے تھے۔ باسط اور وسیم بھی آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر ہماری طرف دیکھ رہے تھے۔

'.Take this please. Put it in your shirt' (یہ لیجیے اور اپنی شرٹ میں ڈال لیجیے) مس مے کی آواز آئی۔ اس نے ایک پلاسٹک کا پیکٹ میرے ہاتھ میں تھما دیا۔

'?What is this' (یہ کیا ہے؟) میں نے پیکٹ تھامتے ہوئے اس سے پوچھا۔

وہ بولی، '.This is Hot Pack. This will keep you warm' (یہ ہاٹ پیک ہے، یہ آپ کو گرمائش پہنچائے گا۔)

'تھینک یو مِس مے، تھینک یو سومچ،' میں خوش ہو کر بولا اور مِس مے واپس اپنی سیٹ پر چلی گئی۔ میں نے جھٹ اپنی شرٹ اور بنیان کے درمیان یہ پیکٹ اڑس لیا اور محسوس کرنے لگا کہ سینے کے پاس سے خوشگوار گرمی کی ایک لہر سی اٹھ کر پورے جسم میں آہستہ آہستہ سرایت کررہی ہے۔ ابھی یہ مزا لیتے ہوئے کچھ ہی دیر گزری ہوگی کہ وسیم نے میری پسلی میں زور دار کہنی ماری۔

'یار اکیلے ہی مزے لیتے رہو گے؟ تھوڑی دیر کے لیے مجھے بھی دو۔ سردی سے مر رہا ہوں۔' یہ کہہ کر اس نے جھٹ میرے سینے میں ہاتھ ڈال کر ہاٹ پیک نکالا اور اپنی شرٹ میں اڑس لیا۔ میں اندھیرے میں ہکا بکا اس کی طرف دیکھنے لگا۔

'یار یہ تو واقعی گرم ہے۔' اس کی آواز سنائی دی۔ وسیم نے جیکٹ پہنی ہوئی تھی اور اسے ہاٹ پیک کی قطعی ضرورت نہیں تھی۔ اس کا یہ عمل صرف مجھ پر مِس مے کی اس مہربانی پر حسد کے علاوہ کچھ نہ تھا۔

خیر میں نے اندھیرے میں اس سے لڑنے کے بجائے صبر کیا اور دوبارہ سکڑ سمٹ کر اونگھنے لگا۔ لیکن کچھ ہی دیر میں وسیم اور باسط کی بحث نما سرگوشیاں شروع ہوگئیں۔ پھر کچھ چھینا جھپٹی سی ہوئی اور میں نے اندازہ لگایا کہ اب ہاٹ پیک وسیم کی شرٹ سے نکل کر باسط کی شرٹ میں چلا گیا ہے۔ میری ہنسی چھوٹ گئی۔ میں اندھیرے میں نیچی آواز کے ساتھ کھی کھی کرنے لگا جس پر وسیم اور باسط چڑگئے۔ میں نے تھوڑی دیر انتظار کیا اور پھر ہاتھ بڑھا کر باسط کی پشت کو تھپتھپایا۔

'پارٹنر بہت دیر مزے لے لیے۔ اب میرا ہاٹ پیک واپس کرو۔' میں نے سر گوشی کی۔

'میرا ہاٹ پیک مت بولو کپتان۔' باسط کی جوابی سرگوشی سنائی دی۔ 'یہ ہمارا ہاٹ پیک ہے۔' اس نے لفظ 'ہمارا' پر زوردیا۔ لیکن ساتھ ہی شرافت سے ہاٹ پیک بھی واپس کر دیا۔ پھر رات بھر یہی تماشا ہوتا رہا۔ ہاٹ پیک بار بار جگہ بدلتا رہا۔ رات اونگھتے جاگتے گزرہی گئی۔ بالآخر صبح ہوئی۔ سورج طلوع ہوا تو زرد وادی میں زرد دھوپ پھیل گئی۔ مسافر کسمسا کسمسا کر بیدار ہونے لگے۔ مزدوروں کی خیمہ بستی میں بھی جگہ جگہ دھواں اٹھنے لگا۔ گاڑیوں کی قطار پوری رات منتظر رہی تھی اس لیے اب ہر کوئی جلد از جلد رستہ کھلنے کے لیے بے چین تھا۔

باسط اور وسیم دونوں ابھی خراٹے لے رہے تھے۔ میں نے انگڑائی لی اور بس سے باہر جانے کے لیے سیٹ سے اٹھا تو اچانک میرا پیر کسی چیز سے ٹکرایا۔ جھک کر دیکھا تو ایک پیکٹ سا نظر آیا۔ میں نے اسے اٹھا کر دیکھا اور اپنا سر پیٹ لیا۔ ہاٹ پیک اصل میں یہی تھا۔ اسے مِس مے کی دی ہوئی تھیلی میں سے نکال کر اپنے سینے سے لگانا تھا، مگر میں نے جلدی میں کھلی ہوئی تھیلی سمیت پورا پیکٹ ہی شرٹ کے اندر رکھ لیا تھا۔ رات کی چھینا جھپٹی میں کسی وقت یہ اصلی کیمیکل والا پیکٹ پھسل کر اندھیرے میں نیچے گر پڑا تھا اور ہم رات بھر صرف تھیلی سے ہی گرم ہوتے رہے۔ میں نے دونوں کو جی بھر کر کوسا اور بس سے نیچے اتر آیا۔

راستہ تھوڑی دیر میں کھل گیا اور رکا ہوا ٹریفک پھر چل پڑا۔ ہم ایک دن اور سفر کر کے بالآخر اگلے دن چین سے نکل پاکستان میں داخل ہو گئے۔ درّہ خنجراب پہنچے تو خوب برف باری ہو رہی تھی مگر ہم اس کے باوجود بس سے باہر نکل آئے، گہری سانسیں لیں اور تصویریں کھینچیں۔

جب بس خنجراب ٹاپ سے نیچے اترنے لگی تو ہم نے پاکستان زندہ باد، ہانگ کانگ زندہ باد، چائنا زندہ باد، جرمنی زندہ باد اور نیوزی لینڈ زندہ باد کے نعرے لگائے کیونکہ ان سب ملکوں کے سیاح ہمارے ہم سفر تھے۔ ایک پاکستانی نے اپنے ٹیپ ریکارڈر پر محمد علی شہکی کا نغمہ 'میں بھی پاکستان ہوں، تو بھی پاکستان ہے' لگا دیا اور کچھ لوگ اس کی دھن پر دھنا دھن ناچنے لگے، مگر کچھ ہی دیر میں بلندی اور آکسیجن کی کمی کے باعث ہانپ کر بیٹھ گئے۔

سوست پر پاکستانی امیگریشن اور کسٹم وغیرہ سے فارغ ہو کر ادھر ادھر دیکھا تو سارے غیر ملکی سیاح غائب ہوچکے تھے۔ باقی لوگوں کے یوں دعا سلام کیے بغیر غائب ہوجانے کی تو مجھے اتنی پروا نہیں تھی، لیکن اپنی ہانگ کانگی سہیلیوں کے یوں بے مروتی سے بغیر ملے چلے جانے پر مجھے بہت دکھ ہوا۔ اس دور میں نہ موبائل تھا نہ انٹرنیٹ۔ آنکھ اوجھل ہوئی، پہاڑ اوجھل ہوگیا۔ صرف خط و کتابت کے ایڈریس ہی کا تبادلہ ہوتا تھا۔ واپس پہنچ کر کوئی چاہے تو خط لکھ دے، چاہے نہ لکھے۔ جس بے اعتنائی سے ہماری یہ سہیلیاں غائب ہوئی تھیں، اس سے تو لگتا ہے کہ اب زندگی میں شاید ہی ان سے کوئی رابطہ ہوسکے۔

ہم کراچی واپس پہنچے۔ مہینہ بھر گزرا ہوگا کہ ایک دن ڈاکیہ گھر پر ایک لفافہ دے گیا۔ ہانگ کانگ سے مِس مے کا خط تھا۔ چین، پاکستان اور انڈیا، تینوں ملکوں کی سیاحت کے بعد وہ اپنے ملک ہانگ کانگ واپس پہنچ چکی تھیں اور لکھا تھا کہ اس سہ ملکی سیاحت میں وہ سب سے زیادہ پاکستان سے متاثر ہوئی تھیں اور ہماری رفاقتوں کو مِس کر رہی تھیں۔ میں نے انہیں شکریے کا خط بھیجا اور اس کے ساتھ ہی ان کی وہ تصویریں بھی بھیجیں کہ جو میرے کیمرے سے کھینچی گئی تھیں۔ جواباً ان کا ایک اور خط آیا جس میں انہوں نے ہماری وہ تصویریں بھیجی تھیں کہ جو ان کے کیمرے سے بنائی گئی تھیں۔ وہ ہانگ کانگ سے آخری خط تھا جو میرے نام آیا۔

ماہ و سال گزرتے چلے گئے۔ ہماری پڑھائی مکمل ہوئی، انجینئر بنے، دولہا بنے، ابّا بنے اور پھر نہ جانے کیا کیا بنے۔ سیاحتیں بھی جاری رہیں۔ دو دفعہ ایران گیا، چار مرتبہ ترکی گیا، دو دفعہ سعودی عرب کا سفرِ عقیدت کیا۔ آذر بائیجان گیا، بنگلہ دیش گیا، جگہ جگہ گیا۔ مگر نہ گیا تو کاشغر نہ گیا۔

عہد تو کیا تھا کہ ہر سال کاشغر جائیں گے، لیکن 30 سال گزر گئے کاشغر تو درکنار، درّہ خنجراب تک دوبارہ دیکھنا نصیب نہیں ہوا۔ حالانکہ اس دوران شاہراہ قراقرم بھی کاشغر تک شاندار بن گئی، دِنوں کا رستہ گھنٹوں میں طے ہونے لگا اور شاہراہ قراقرم کی اہمیت تو اس قدر بڑھی کہ اب یہ سی پیک میں بدلنے والی ہے۔ لیکن ہمارے لیے تو کاشغر بھی خواب و خیال ہوا، اور وہ ہماری ہانگ کانگی سہیلیاں، وہ بھی ماہ و سال میں کھو کر گم گشتہ ہوگئیں۔ حتیٰ کہ سال 2017ء آگیا۔

اس سال میں نے کراچی کو خیرباد کہا اور اسلام آباد کو اپنا ٹھکانا بنایا۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ میرے محبوب شمالی علاقے، میرے قریب آ گئے۔ تیس سال بعد درّہ خنجراب بھی دیکھا اور ایک بار نہیں، ایک ہی مہینے میں دو دوبار دیکھا۔ خنجراب کی 16 ہزار فٹ بلندی پر 27 اکتوبر کے دن ہمارے بائیکر کلب نے ورلڈ ٹورزم ڈے منایا اور یہاں میرے 30 سال پرانے چین کے سفر پر لکھی گئی کتاب 'قراقرم کے پار' کی تقریبِ رونمائی بھی منعقد کی گئی۔

خنجراب سے واپسی پر ہم ایک دن ہنزہ میں بھی رکے اور یہاں ہمارے بائیکر کلب کے معروف رکن فہیم راؤ کی دو ہانگ کانگ کی لڑکیوں سے ملاقات ہوئی۔ مس پنکی اور مس کارما۔ یہ بھی ہانگ کانگ سے ہی چلی تھیں، پورا چین عبور کیا تھا، درّہ خنجراب سے پاکستان میں داخل ہوئی تھیں اور پاکستان سے آگے انڈیا ہوتے ہوئے ہانگ کانگ واپس جانے کا ارادہ تھا۔

ہماری 30 سال پرانی ہانگ کانگی سہیلیوں اور ان دونوں لڑکیوں کے سفر میں حیرت انگیز مماثلت تھی۔ فہیم راؤ نے پنکی اور کارما کو ہمارے بائیکر کلب کراس روٹ کی طرف سے لاہور آنے کی دعوت دی جو انہوں نے خوشی سے قبول کی۔ ہمیں اس ساری ملاقات کا فیس بک کے ذریعے پتہ چلا۔

کچھ دن بعد لاہور میں ہمارے کلب ممبرز کا مِیٹ اَپ تھا جس میں میں بھی شریک ہوا۔ فہیم راؤ نے پنکی اور کارما سے میرا تعارف کروایا اور انہیں میرے سفر ناموں کے بارے میں بھی بتایا۔ مس پنکی سفرناموں کے ذکر پر چونکی۔ اس نے بتایا کہ وہ بھی سفرنامے لکھتی ہے۔اس نے مجھ سے پوچھا کہ میں نے کن کن ملکوں کے سفرنامے لکھے ہیں۔ میں نے اپنی دیگر کتابوں کے ساتھ چین کے سفر نامے 'قراقرم کے پار' کا بھی خصوصاً ذکر کیا کیونکہ اس میں انہی راستوں کا تذکرہ تھا جن سے گذر کر وہ دونوں پاکستان میں داخل ہوئی تھیں۔ اور پھر مجھے اچانک یاد آیا۔

میں نے انہیں بتایا کہ، 'اس سفرنامے کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں ہماری ہم سفر چار لڑکیاں بھی تھیں، چار ہانگ کانگ کی لڑکیاں۔'

'ہانگ کانگ کی لڑکیاں!' پنکی اور کارما دونوں چونک کر بولیں۔' کیا آپ کے پاس ان لڑکیوں کی تصویر ہے؟' پنکی نے کہا۔

مجھے یاد آیا کہ میرے موبائل میں میرے اس سفرنامے کی ای بُک محفوظ ہے۔ اس میں اس سفر کی دیگر تصویروں کے ساتھ ان چاروں ہانگ کانگی ہمسفر لڑکیوں مِس مے، مِس چاؤ، مِس چینگ اور مِس ہاؤ کی تصویریں بھی تھیں۔ میں نے ای بُک اسی وقت بیٹھے بیٹھے پنکی کو ای میل کی۔

پنکی نے اسی وقت اپنے موبائل پر ہی میری کتاب کی پی ڈی ایف فائل کھول کر وہ صفحہ نکال لیا جس پر ہماری تیس سال پرانی ہمسفر ہانگ کانگی لڑکیوں کا ایک گروپ فوٹو موجود تھا۔ پنکی اور کارما اپنی ہم وطنوں کی برسوں پرانی تصویر دیکھ کر بڑی خوش ہوئیں۔ دونوں نے فوراً مجھے اپنے درمیان میں کھڑا کرکے ایک سیلفی بنائی۔

پنکی نے شرارتی لہجے میں بولی کہ 'کیا آپ آج بھی اپنی ان ہانگ کانگی سہیلیوں کو یاد کرتے ہیں؟'

میں نے فوراً جواب دیا، 'کیوں نہیں۔ بھئی وہ ہمارے لڑکپن، ہماری نوجوانی کا دور تھا۔ اس دور کی تکلیف دہ چیز بھی آج ہمارے لیے ایک سہانی یاد کی حیثیت رکھتی ہے۔ وہ تو پھر لڑکیاں تھیں۔' میں نے قہقہہ لگایا۔ پنکی اور کارما کے ساتھ باقی لوگ بھی ہنسنے لگے۔

'کیا آپ ان کو آج بھی مِس کرتے ہیں؟' پنکی شاید کچھ اور کریدنا چاہ رہی تھی۔

'ہاں۔ کیوں نہیں۔ کرتا ہوں مِس۔' میں نے آہستگی سے جواب دیا۔

پنکی سرگوشی میں بولی کہ 'سب کو یا ان میں سے کسی ایک کو؟'

میں خاموشی سے اسے دیکھنے لگا۔ پنکی میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر میرے جواب کی منتظر تھی۔

'ایک کو زیادہ مِس کرتا ہوں۔' میں پنکی کی نگاہوں کی تاب نہ لاکر بولا۔

وہ اچھل پڑی۔ 'ان میں سے وہ کون سی ہے؟' اس نے اپنے موبائل اسکرین پر چمک رہی ان چاروں کی تصویر میرے سامنے کردی۔

میں نے مس مے، مس چاؤ، مس چینگ اور مس ہاؤ کی تیس سال پرانی تصویر میں ایک چہرے پر انگلی رکھ دی، اور کہا کہ 'اس کو'۔

پنکی نے ایک نعرہ لگایا اور کھڑی ہو کر ناچنے لگی۔ میٹ اپ میں آئے ہوئے دیگر کلب ممبران جو مختلف گروپس بنائے کھڑے گپیں لگا رہے تھے اچانک چونک کر عجیب عجیب نظروں سے ہماری طرف دیکھنے لگے، لیکن پنکی اس وقت ان سب سے بے نیاز تھی۔

'مسٹر عبیداللہ، کیا میں آپ کی ان سہیلیوں کو ہانگ کانگ جاکر تلاش کروں؟' وہ شرارت سے بولی۔

میں نے قہقہہ لگا کر کہا کہ 'کوئی فائدہ نہیں پنکی۔ پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی گزر چکا ہے۔ اب میں 52 برس کا ہوں۔ ابا ہی نہیں دادا بھی بن چکا ہوں۔ اُدھر ہانگ کانگ میں بھی یقیناً یہی حال ہوگا۔ ہماری ساری سہیلیاں اب ہو سکتا ہے نانیاں دادیاں بن چکی ہوں۔ لہٰذا کوئی فائدہ نہیں۔'

پنکی، کارما اور فہیم سب نے قہقہہ لگایا اور ہماری ملاقات اختتام کو پہنچی۔ میں نے ان کے ساتھ ملاقات کروانے پر فہیم کا شکریہ ادا کیا۔ اگلے دن میں اسلام آباد واپس چلا آیا اور پنکی اور کارما بھی پاکستان میں چند دن مزید گزار کر ہندوستان چلی گئیں۔ اب وہ دونوں میری فیس بک فرینڈ بن چکی تھیں اس لیے پرانے زمانے کی طرح آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل والا معاملہ نہ تھا۔

ان کے سفر کی خبریں سوشل میڈیا کے ذریعے مجھ تک پہنچ رہی تھیں۔ کچھ دنوں بعد ان کا سفر مکمل ہوگیا اور وہ ہانگ کانگ واپس پہنچ گئیں۔ مجھے پنکی کی ای میل آئی کہ میں اپنی ان چاروں پرانی سہلیوں کی مزید تصویریں بھی اسے بھیجوں اوراگر مناسب سمجھوں تو مس مے کے لکھے ہوئے دونوں خط بھی اسکین کر کے ای میل کروں۔ وہ خط اب بھی میرے پاس محفوظ تھے اور بے ضرر سے خط تھے۔ ان میں ایسی کوئی بات نہیں تھی کہ دکھائی نہ جا سکے، میں نے تصویریں اور خط پنکی کو ای میل کر دیے۔

چند دن بعد پنکی نے پہلا دھماکہ کیا۔ اس نے ان چاروں سہیلیوں کی تصویریں اور میرے ساتھ لاہور میں بنائی ہوئی اپنی سیلفی فیس بک پر پوسٹ کی، میری ساری کہانی اور تیس برس پرانے سفر کا تذکرہ کیا اور پورے ہانگ کانگ میں لوگوں سے گزارش کی کہ اگر کوئی ان چاروں خواتین میں سے کسی کو جانتا ہے تو برائے مہربانی رابطہ کرے۔ یہ پوسٹ منظر عام پر آنے کے بعد گھڑی کی ٹک ٹک دِلوں کی دَھک دَھک میں بدل گئی۔ چند دن خاموشی سے گزر گئے۔ ایک دن صبح میرے موبائل کی گھنٹی بجی۔ گوجرانوالہ سے ہمارے کلب ممبر صدیق شفیق کا فون تھا۔

'ہیلو عبیداللہ بھائی، آج فیس بک دیکھا؟' وہ میرے کان میں چلایا۔

'کیوں، کیا ہوا؟' میں حیران ہوا۔

'او بھائی، پنکی نے ہانگ کانگ میں اودھم مچا دیا ہے۔ اس نے آپ کی 30 سال پرانی سہیلیوں کو تلاش کر لیا ہے۔ فوراً فیس بک کھولیں۔ابھی۔' اس نے فون بند کر دیا۔

میں فوراً فیس بک پر لاگ ان ہوا اور وہاں میرے لیے کچھ حیرت انگیز موجود تھا۔ میری چاروں تیس سال پرانی ہمسفر خواتین مِس مے، مِس چاؤ، مِس چینگ اور مِس ہاؤ اپنی معزز شخصیتوں کے ساتھ کسی ریسٹورینٹ کی بڑی سی ٹیبل پر پنکی اور کارما کے ساتھ بیٹھی کیمرے کی طرف دیکھ کر مسکرا رہی تھیں۔

پنکی نے انہیں تلاش کر لیا تھا۔ پنکی کی فیس بک پوسٹ کو ایک دن مِس چاؤ کے بھائی نے دیکھا تو وہ چونکا۔ تیس سال پرانی تصویر کو کوئی قریبی عزیز ہی پہچان سکتا تھا اور وہ ایک قریبی عزیز ہی تھا، چاؤ کا بھائی تھا۔ اس نے فوراً چاؤ کو مطلع کیا اور پھر ایک ایک کر کے ہماری چاروں ہمسفر پنکی سے رابطے میں آگئیں۔ گزشتہ روز چاؤ نے اُن چاروں کے کھانے پر مدعو کیا تھا اور ان چھ کی چھ ہانگ کانگی خواتین نے اپنے ملک میں ایک شام منائی، ایک شام ایک پاکستانی کے نام۔

اب پنکی کی فرمائش ہے کہ میں ہانگ کانگ آؤں اور میں سوچتا ہوں کہ جاؤں کہ نہ جاؤں؟

آپ ہی بتائیں؟


عبیداللہ کیہر پیشے کے لحاظ سے میکینیکل انجینیئر، مگر ساتھ ہی سیاح، سفرنامہ نگار، پروفیشنل فوٹوگرافر اور ڈاکومنٹری فلم میکر ہیں۔ آپ کی اب تک 7 کتابیں بھی شائع ہوچکی ہیں۔ آبائی تعلق سندھ کے شہر جیکب آباد سے ہیں۔ عمر کا غالب حصہ کراچی میں گزارا اور اب اسلام آباد میں رہتے ہیں ۔