ای میل

پاکستان عالمی معاشی جنگ کا اکھاڑہ بن گیا، جیت کس کی ہوگی؟

ڈاکٹر آصف شاہد

پاکستان میں نئی حکومت بننے کے بعد سے سب سے زیادہ زیرِ بحث سی پیک کا منصوبہ ہے۔ سعودی عرب سی پیک میں تیسرے فریق کی حیثیت سے شامل ہو رہا ہے اور سی پیک منصوبوں میں سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال کے لیے سعودی وفد اسلام آباد میں موجود ہے جو سرمایہ کاری کے مواقع کا جائزہ لے کر واپس ریاض جائے گا اور آئندہ چند ہفتوں میں ولی عہد محمد بن سلمان دورہ اسلام آباد کے دوران سرمایہ کاری منصوبوں کا اعلان کریں گے۔

سی پیک چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا حصہ ہے جس میں سی پیک کے علاوہ مزید 5 اقتصادی راہداریاں بھی شامل ہیں، لیکن اگر اہمیت صرف سی پیک کو مل رہی ہے تو اس کی ایک وجہ 6 راہداریوں میں سے صرف سی پیک کو ہی کامیاب اور قابلِ عمل منصوبہ گردانا جانا ہے۔ چین بھی بیلٹ اینڈ روڈ پالیسی کو اجاگر کرتے ہوئے سی پیک کا حوالہ دینا نہیں بھولتا۔

نیند سے بیدار ہوتے ڈریگن کو دنیا پہلے ہی شک کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے۔ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کو کوئی چین کے مارشل پلان کا نام دے رہا ہے تو کوئی اسے چین کے نئے ورلڈ آرڈر سے تعبیر کررہا ہے۔ چین اور پاکستان نے سی پیک کو اس قدر نمایاں کیا کہ دنیا کی تشکیک اب تشویش میں بدل چکی ہے۔ اس تشویش کے نتیجے میں سی پیک اور بیلٹ اینڈ روڈ کے مقابلے میں 2 نئے منصوبے سامنے آچکے ہیں۔

پڑھیے: وزیراعظم عمران خان اچانک سعودی عرب کیوں گئے؟

قابلِ ذکر اور بڑا منصوبہ یورپی یونین کا ہے جس کا 19 ستمبر کو باقاعدہ اعلان کردیا گیا۔ اس منصوبے پر پہلا پیپر رواں سال فروری میں پیش کیا گیا جس میں کہا گیا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک کے تخمینے کے مطابق 2030ء تک ایشیا کو انفرااسٹرکچر منصوبوں کے لیے 26 ٹریلین ڈالر درکار ہیں۔ اس دستاویز میں چین کا نام لیے بغیر کہا گیا کہ کچھ دو طرفہ معاہدے ماحولیات، سماجی اور مالیاتی استحکام کو مدِنظر رکھے بغیر شروع کیے گئے ہیں اور ان معاہدوں نے یوریشین ریجن میں کئی ریاستوں کو عدم استحکام سے دوچار کردیا ہے۔

اس سے پہلے آئی ایم ایف کی مینجنگ ڈائریکٹر کرسٹائن لاگارڈ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کو تنقید کا نشانہ بنا چکی تھیں اور ان کا کہنا تھا کہ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کی وجہ سے کئی ملک قرضوں کے غیر ضروری بوجھ تلے دب گئے ہیں۔ یورپی یونین کے رکن ممالک نئی ایشین کنیکٹیوٹی اسٹریٹجی (اے سی ایس) پر اگلے ماہ یورپی اور ایشیائی ملکوں کی سربراہ کانفرنس کے دوران دستخط کریں گے۔

یورپی یونین کے رکن ممالک نئی ایشین کنیکٹیوٹی اسٹریٹجی پر اگلے ماہ دستخط کریں گے
یورپی یونین کے رکن ممالک نئی ایشین کنیکٹیوٹی اسٹریٹجی پر اگلے ماہ دستخط کریں گے

یورپی یونین کا اصرار ہے کہ ان کا یہ منصوبہ کسی دوسرے ملک کے ردِعمل میں نہیں۔ تاہم یورپی یونین کا منصوبہ بھی ٹرانسپورٹ، ڈیجیٹل اور توانائی لنکس پر مشتمل ہے اور بیلٹ اینڈ روڈ بھی سڑکوں، بندرگاہوں اور توانائی منصوبوں کا مجموعہ ہے۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا مغرینی کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کے اس منصوبے پر کئی ایشیائی ملکوں کے ساتھ کئی ماہ سے بات چیت چل رہی تھی۔ فیڈریکا مغرینی نے اعتراف کیا کہ ان کا منصوبہ دوسروں سے مختلف نہیں لیکن واضح کیا کہ یہ منصوبہ یورپی یونین کا اپنا تجویز کردہ ہے۔

چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے بعد یورپی یونین شدید تنقید کی زد میں تھی کہ چین کے پاور پلے کے جواب میں اس کا ردِعمل بہت ڈھیلا ہے۔ اب اے سی ایس منصوبے کے بعد مغربی ماہرین اس فکر میں ہیں کہ اس منصوبے کو کامیاب بنانے کے لیے درکار رقم کہاں سے آئے گی؟ اس سوال کا جواب اب تک واضح نہیں۔ تاہم جون میں یورپی یونین کی ایک پریس ریلیز میں کہا گیا تھا کہ یورپی کمیشن نے ایکسٹرنل ایکشن بجٹ پلان 2021ء تا 2027ء، 123 ارب یورو کرنے کی تجویز دی ہے۔ ایکسٹرنل ایکشن بجٹ پلان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا گیا کہ اس بجٹ سے پارٹنر ملکوں کی سیاسی اور معاشی بہتری پر کام کیا جائے گا۔ اس بجٹ سے دنیا بھر میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد بھی فراہم کی جائے گی۔ اندازہ ہے کہ یہی بجٹ اے سی ایس پر خرچ کیا جائے گا۔

بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ 2013ء میں سامنے آیا۔ یورپی یونین نے فوری طور پر اس پر کوئی بھی سخت ردِعمل دینے سے گریز کیا۔ 2015ء میں ہنگری نے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے میں شمولیت اختیار کی تو برسلز میں خطرے کی گھنٹی بجی۔ ہنگری نے چین کی سرمایہ کاری سے بڈاپسٹ سے بلغراد تک ریل منصوبہ شروع کیا ہے اور یورپی یونین کے دباؤ کے باوجود اس منصوبے سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں۔ یورپی یونین کا ایک اور رکن ملک کروشیا بھی حال ہی میں چین کے زیرِ اثر آیا ہے۔ کروشیا میں چین کو ڈھائی کلومیٹر طویل پل کا ٹھیکہ ملنے پر آسٹریا کی کمپنی ناراض ہے جس کا کہنا ہے کہ چین کی کمپنی کی بولی مشکوک حد تک کم تھی۔

پڑھیے: کیا سعودی ولی عہد اسرائیل کو تسلیم کرنے والے ہیں؟

جرمنی بھی بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے پر تشویش کا شکار ہے۔ جرمنی کے چیمبر آف کامرس نے فروری میں ایک رپورٹ میں کہا کہ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے سیاسی عدم استحکام کے شکار ملکوں میں تعمیر ہو رہے ہیں جن کے لیگل فریم ورک بھی کمزور ہیں۔ یورپی یونین ایشیائی اور مشرقی یورپ کے ملکوں سے ناراض ہے جو اپنے انفرااسٹرکچر منصوبوں کے لیے چین پر انحصار کر رہے ہیں جبکہ یورپی یونین کے ممالک خود کو انفرااسٹرکچر منصوبوں میں بڑا کھلاڑی تصور کرتے ہیں۔

بیلٹ اینڈ روڈ کے مقابلے میں تیسرا منصوبہ امریکا کا ہے جس میں آسٹریلیا، جاپان اور بھارت شریک ہیں۔ اس منصوبے کا اعلان امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو واشنگٹن میں امریکی چیمبر آف کامرس سے خطاب میں کیا۔ مائیک پومپیو نے اس منصوبے کو کوئی نام دیے بغیر کہا کہ امریکا انڈو پیسفک ریجن میں 113 ملین ڈالر کا منصوبہ شروع کر رہا ہے جس میں ٹیکنالوجی، توانائی، انفرااسٹرکچر کے اقدامات شامل ہیں۔ مائیک پومپیو نے کہا کہ امریکا جہاں بھی جاتا ہے شراکت داری تلاش کرتا ہے، برتری نہیں۔ امریکا اسٹرٹیجک شراکت داری پر یقین رکھتا ہے، اسٹرٹیجک انحصاری پر نہیں۔ امریکی عوام اور پوری دنیا کے مفادات انڈوپیسفک خطے کی خوشحالی اور امن سے جڑے ہیں، اس لیے اس خطے کو آزاد اور کھلا ہونا چاہیے۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو—اے پی
امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو—اے پی

امریکی وزیرِ خارجہ نے اگرچہ چین کا نام نہیں لیا لیکن ان کا اشارہ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کی طرف ہی تھا۔ امریکا چین کے منصوبے کو قرضوں میں جکڑنے کی پالیسی قرار دیتا ہے۔ مائیک پومپیو کے اعلان کردہ 113 ملین ڈالر میں امریکا کی ٹیکنالوجی برآمدات کے فروغ پر 25 ملین ڈالر خرچ ہوں گے، تقریباً 50 ملین ڈالر اس سال توانائی اور انفرا سٹرکچر منصوبوں پر خرچ کیے جائیں گے۔ امریکی حکومت کی اوورسیز پرائیویٹ انویسٹمنٹ کارپوریشن (او پی آئی سی) نے انڈو پیسفک ریجن میں جاپان اور آسٹریلیا کے ساتھ مل کر سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے اور اس وقت تک 4 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرچکی ہے۔

امریکا کا 113 ملین ڈالر کا منصوبہ ایک ٹریلین کے بیلٹ اینڈ روڈ کے سامنے ایک بونا ہے۔ بیلٹ اینڈ روڈ کا ایک ریل منصوبہ ہی اربوں ڈالر کا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا کا یہ اقدام ایشیا کے ساتھ کمٹمنٹ کا اظہار ہے جبکہ سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو نے بھی اس رقم کو ڈاؤن پیمنٹ قرار دیا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ امریکا چین کے کھربوں ڈالر کے منصوبے کا رقوم میں مقابلہ نہیں کرسکتا لیکن امریکا کچھ مختلف اقدامات کرسکتا ہے جن سے وہ خطے میں اثر برقرار رکھ سکے جیسے کہ مختلف ملکوں کے لیے قرض کا بندوبست، لیبر ٹریننگ، ماحولیاتی تحفظ کے منصوبے وغیرہ۔ امریکا کا کہنا ہے کہ وہ چین کا مقابلہ نہیں کر رہا بلکہ بہترین معیار کا ترقی کا ماڈل پیش کر رہا ہے جو شفاف اور مالیاتی اعتبار سے مستحکم ہے۔

امریکا ایک بڑی معاشی طاقت ہے لیکن قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہے۔ امریکا کے اندر منصوبوں کے لیے رقم دستیاب نہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ٹیکس گزاروں کی رقم بیرون ملک ایڈونچر پر خرچ نہیں کریں گے۔ ان حالات میں امریکا کا سیاسی عزم اور وسائل اس منصوبے کے لیے دستیاب نظر نہیں آتے۔ آسٹریلیا جو خود کو چین کے گھیرے میں آتا دیکھ رہا ہے سیاسی عزم تو رکھتا ہے لیکن اس کی معیشت اس منصوبے کا بوجھ اٹھانے کو تیار نہیں۔ ان حالات میں اس منصوبے کا تمام تر دار و مدار جاپان پر ہے۔

آخر اس منصوبے کی کامیابی کے امکانات کیا ہیں؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کے منصوبے کا مقابلہ ممکن نہیں لیکن ایک فائدہ ہوسکتا ہے کہ چین کے لیے خطے کے ملکوں پر اپنی شرائط تھوپنا مشکل ہوجائے گا، کیونکہ اس صورت میں چھوٹے ملکوں کو چین کا متبادل مل سکتا ہے۔ جس کی مثال جکارتا بندونگ ہائی اسپیڈ ریلوے کا ٹھیکہ ہے۔ جاپانی کمپنی سے مقابلے کی وجہ سے چین نے انڈونیشیا کے ساتھ بہتر شرائط پر ٹھیکہ کیا۔ مستقبل میں مقابلے کا رجحان بڑھنے کی صورت میں کئی دیگر ملکوں میں بھی ایسی صورت حال پیش آسکتی ہے۔ خطے کے چھوٹے ممالک چین کے ساتھ معاملات طے کرتے ہوئے امریکا، آسٹریلیا اور جاپان کے متبادل منصوبے کی بنا پر بہتر شرائط پر بات کرسکتے ہیں۔

پڑھیے: خطے کی بدلتی صورتحال پاک چین تعلقات کے لیے آزمائش سے کم نہیں

امریکا، آسٹریلیا، جاپان اور بھارت کا یہ منصوبہ 4 فریقی سیکیورٹی مذاکرات کی بحالی کے عزائم کے بعد سامنے آیا ہے۔ 4 فریقی سیکیورٹی مذاکرات کا پلان 1990ء میں بنا تھا لیکن پھر اسے ادھورا چھوڑ دیا گیا۔ مذاکرات کی بحالی کی تجویز جاپان نے اکتوبر 2017ء میں دی تھی۔ جاپان آزاد تجارت، بحر ہند، بحیرہ جنوبی چین اور افریقہ تک دفاعی تعاون پر مذاکرات کی بحالی چاہتا ہے۔ جاپان ان مذاکرات میں برطانیہ اور فرانس کو بھی شامل کرنے کا خواہاں ہے۔ یہ منصوبہ واضح طور پر چین کی معاشی اور فوجی طاقت کے مقابلے کا ہے۔ جاپان کا کہنا ہے کہ کھلے سمندر چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے سمیت تمام ملکوں کے مفاد میں ہیں۔

ایک پٹی اور ایک شاہراہ (One Belt, One Road) نامی اس منصوبے میں زیادہ توجہ انفراسٹرکچر، ٹرانسپورٹیشن اور توانائی پر دی جارہی ہے، چین اسے 2049 تک مکمل کرنے کے لیے پرامید ہے۔
ایک پٹی اور ایک شاہراہ (One Belt, One Road) نامی اس منصوبے میں زیادہ توجہ انفراسٹرکچر، ٹرانسپورٹیشن اور توانائی پر دی جارہی ہے، چین اسے 2049 تک مکمل کرنے کے لیے پرامید ہے۔

جاپان جنوبی بحیرہ چین میں بیجنگ کی طرف سے خالی جزائر پر تعمیرات کے بعد سے تشویش کا شکار ہے۔ اس تشویش میں جاپان اکیلا نہیں بلکہ آسٹریلیا بھی برابر کا شریک ہے۔ چین نے نہ صرف بحیرہ جنوبی چین پر فوجی تعمیرات کی ہیں بلکہ خطے کے دیگر ملکوں میں بھی بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے تحت ایسے جزائر تک رسائی حاصل کی ہے جو دوسری جنگِ عظیم کے دوران بھی بظاہر کم اہمیت اور معمولی جزائر ہونے کے باوجود خونی لڑائیوں کا میدان بنے۔ یہ جزائر جنوب مشرقی ایشیا اور بحر اوقیانوس کی اہم بحری گزرگاہوں پر ہیں۔ ان جزائر پر کنٹرول رکھنے والا ملک دنیا کی بحری گزرگاہوں پر کنٹرول رکھ سکتا ہے۔

آسٹریلیا آج تک دوسری جنگ عظیم کی تلخ یادیں نہیں بھلا پایا جب جرمنی کے بحری جہاز بحرِ ہند میں آسٹریلوی جہازرانوں کو ہراساں کرتے تھے اور جاپان نے ڈارون اور سیلون جزائر پر قبضہ کرکے آسٹریلیا کی بحری آمد ورفت بند کردی تھی۔ آج بھی اگر یہ معمولی جزائر آسٹریلیا کے مخالف کے ہتھے چڑھ جائیں تو آسٹریلیا اور امریکا کے درمیان بحری رابطے کمزور ہوسکتے ہیں۔

چین بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے تحت پاپوا نیو گنی، مالدیپ اور سری لنکا کے جزائر تک رسائی حاصل کرچکا ہے۔ چین نے ونواتو، ٹونگا، سولومن جزائر کو رعایتی قرضے دیے ہیں۔ چین 2006ء سے 2016ء کے عرصے میں اس خطے میں 2 اعشاریہ 3 ارب ڈالر سرمایہ کاری کرچکا ہے۔ مالدیپ کے دارالحکومت مالی میں چین نے بین الاقوامی ایئرپورٹ کے نئے رن وے پر بھی کام شروع کردیا ہے۔ پاپوا نیو گنی کے جزیرہ مانوس میں بھی چین دلچسپی دکھا رہا ہے۔ اگر چین اس جزیرے پر فوجی اڈہ بنا لیتا ہے تو گوام کے جزائر پر آسٹریلیا اور امریکا کے فوجی اڈے میں حائل ہوسکتا ہے۔

آسٹریلوی ذرائع ابلاغ کے مطابق چین 35 ملکوں کی 74 بندرگاہوں پر عمل دخل حاصل کرچکا ہے اور آسٹریلیا بحری ناکہ بندی کے خطرات محسوس کر رہا ہے۔ کینبرا کے یہ خدشات اس بات سے تقویت پکڑتے ہیں کہ 2017ء میں بیلٹ اینڈ روڈ کی لانچنگ کے موقع پر ٹونگا، سموآ، ونواتو اور فجی کے وزراء کو بھی دعوت دی گئی اور انہیں رعایتی قرضوں کی پیشکش کی گئی۔

بحرِ ہند میں چین نے جبوتی میں 2017ء میں اپنا پہلا غیر ملکی فوجی اڈہ بنایا۔ مالدیپ میں اس سال اقتدار پر قبضہ ہوا، عبداللہ یامین صدر بنے، جو چین کے قریبی دوست تصور ہوتے ہیں، لیکن پچھلے ماہ ہونے والے الیکشن میں عبداللہ یامین شکست کھا گئے۔ عبداللہ یامین کی شکست سے بھارت سمیت کئی ملکوں نے سکھ کا سانس لیا اور تصور کیا جا رہا ہے کہ نئی حکومت چین کے منصوبوں پر دوبارہ مذاکرات کرے گی لیکن اہم بات یہ ہے کہ نئی حکومت پایہ تکمیل کو پہنچنے والے منصوبوں کی ادائیگی کیسے کرپائے گی۔ برما میں چین نے بندرگاہ تعمیر کی اور برمی حکومت قرض واپسی کے قابل نہ رہی تو بیجنگ نے بندرگاہ میں 70 فیصد حصہ وصول کرلیا اس سے بیجنگ آبنائے ملاکا اور خلیج بنگال کے علاقوں میں طاقتور بن کر ابھرا ہے۔

پڑھیے: امریکی دھونس اور دھمکی کا توڑ کیا ہے؟

سری لنکا میں ہمبنٹوٹا بندرگاہ پر چین نے 6 ارب ڈالر سرمایہ کاری کی اور رقم واپس نہ ملنے پر بندرگاہ 99 سال کے ٹھیکے پر لے چکا ہے۔ یہ بندرگاہ بھی بحرِ ہند کی اہم آبی گزرگاہوں کے قریب واقع ہے۔ چین تھائی لینڈ پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ پاناما کی طرز پر 100 کلومیٹر طویل نہر بنائے جس سے بحیرہ جنوبی چین اور خلیج بنگال براہِ راست جڑ جائیں اور پُرہجوم بحری گزرگاہ آبنائے ملاکا کو بائی پاس کردیا جائے۔

ہمبنٹوٹا کی بندرگاہ
ہمبنٹوٹا کی بندرگاہ

بھارت کو ڈر ہے کہ معاشی طور پر ناقابلِ عمل نہر کا منصوبہ بالآخر چین کے قبضے میں چلا جائے گا، اس طرح بحر ہند میں توازن خطرناک حد تک بگڑ جائے گا۔ تھائی لینڈ اس منصوبے کے حوالے سے ہر طرف سے دباؤ میں ہے اور ابھی تک اس نے منصوبے کو قبول یا مسترد نہیں کیا۔ پاکستان میں گوادر بندرگاہ چین کے تعاون سے تعمیر ہوئی، بھارت، امریکا سمیت کئی ملکوں کو خدشہ ہے کہ چین کسی موقع پر یہاں بھی فوجی اڈہ بناسکتا ہے۔

خطے میں معیشت اور اقتصادی رابطوں کے نام پر ایک جنگ لڑی جا رہی ہے، پاکستان اس جنگ کا سینٹر اسٹیج بن چکا ہے۔ تینوں معاشی منصوبے اسٹرٹیجک نوعیت کے ہیں تاہم امریکا کا 4 فریقی منصوبہ معاشی کم اور اسٹرٹیجک زیادہ ہے جبکہ یورپی یونین اس کھیل میں زیادہ شاطر کھلاڑی بن کر سامنے آسکتا ہے جو چین کا حریف بننے کے بجائے خود کو متبادل کے طور پر پیش کر رہا ہے۔

ادائیگیوں کے توازن کا بحران حکومت کو بڑے اور فوری فیصلوں پر مجبور کر رہا ہے۔ انہی حالات میں سعودی عرب کے ساتھ معاملات طے کیے جارہے ہیں۔ چین کے ساتھ بھی معاملات عجلت میں طے کرنے کے چکر میں وزیرِاعظم کے مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد نے بند دروازوں کے پیچھے بات کرنے کے عادی چین کو برافروختہ کیا۔ بیجنگ کے تحفظات دور کرنے کے لیے آرمی چیف کو خود جانا پڑا اور دونوں طرف سے ایک دوسرے کو ازسرِنو یقین دہانیاں کرائی گئیں۔

بیلٹ اینڈ روڈ کے مقابلے میں 2 اور منصوبوں کے آنے سے پاکستان کو خطرہ محسوس کرنے کے بجائے سمجھ داری سے مواقع کو اپنے حق میں استعمال کرنا چاہیے۔ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے ساتھ اگر فوائد جڑے ہیں تو نقصان کا اندیشہ بھی موجود ہے۔ بیلٹ اینڈ روڈ، دوسرے لفظوں میں سی پیک کو چین اضافی اسٹیل، سیمنٹ اور دیگر سامان کو کھپانے کے لیے استعمال کرسکتا ہے۔ مالی معاملات میں الجھاؤ کو بھی بیٹھ کر طے کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ سیاسی استحکام ان منصوبوں کی تکمیل کے لیے سب سے بڑی ضرورت ہے۔


دو دہائیوں سے زائد عرصہ سے صحافت کے ساتھ وابستہ ہیں۔ بین الاقوامی تعلقات بالخصوص مشرق وسطیٰ ان کی دلچسپی کے موضوعات ہیں۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔