ای میل

وہ ہولی وڈ فلمیں جنہیں 2018 میں دیکھا جانا چاہیے تھا

سال 2018 ختم ہونے کو ہے اور باقی شعبوں کی طرح فلم انڈسٹری کے لوگ بھی نئے سال کے لیے نئے ہدف بنانے میں مصروف ہیں۔

اگرچہ آنے والے سال 2019 میں بھی ہولی وڈ میں کم سے کم 700 فلمیں بنائی جائیں گی، تاہم رواں برس بھی ریلیز ہونے والی 700 فلموں سے درجنوں فلمیں ایسی تھیں، جنہیں کئی وجوہات کی بناء پر نظر انداز کردیا گیا۔

یقینا سال کے 365 دنوں میں 700 سے زائد ہولی وڈ فلمیں دیکھنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں اور پھر ہر کسی کو ہر موضوع پر بنائی گئی فلم پسند بھی نہیں ہوتی۔

عام لوگ وہی فلمیں زیادہ دیکھتے ہیں، جن کی میڈیا کے ذریعے زیادہ سے زیادہ اور اچھے طریقے سے تشہیر کی جاتی ہے، تاہم ہولی وڈ کی ایسی اچھی فلمیں بھی ہوتی ہیں، جن کی اگرچہ تشہیر نہیں کی جاتی، تاہم وہ انتہائی شاندار ہوتی ہیں۔

ہم یہاں امریکا، برطانیہ، جرمنی، روس اور دیگر ممالک کی چند ایسی فلموں کی فہرست دے رہے ہیں، جنہیں 2018 میں دیکھا جانا چاہیے تھا، تاہم انہیں کم دیکھا گیا۔

وڈوز

کرائم تھرلر فلم وڈو کو رواں برس کے آخر میں ریلیز کیا گیا تھا، تاہم اسے اتنی شہرت نہ مل سکی، جتنی اچھی اس کی کہانی تھی۔

یہ فلم 4 بیواہوں کی جدوجہد کی کہانی ہے، جو اس وقت اپنی قسمت اور زندگی کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کرتی ہیں، جب ان کے جرائم پیشہ شوہر کسی ڈکیتی کے دوران مارے جاتے ہیں۔

یہ فلم اسی نام سے برطانوی کرائم ڈرامہ سے متاثر ہوکر بنائی گئی، اس کی ہدایات اسٹیو مک کوئین نے دی تھیں۔

دی فیورائیٹ

برطانوی فلم ’دی فیورائیٹ’ برطانوی شاہی خاندان کی کہانی پر مشتمل ہے، اس فلم میں 17 ویں صدی کی ملکہ برطانیہ این کی کہانی کے گرد گھومتی ہے، اگرچہ اس فلم میں تاریخ، سیاست اور اس وقت کے یورپی حالات کو دکھایا گیا ہے، تاہم اس میں بھرپور انداز میں کامیڈی بھی دکھائی گئی ہے۔

اس فلم کی ہدایات یارگو لینتھی موس نے دی، جب کہ اس کی کہانی ڈیبوراہ ڈیوس اور ٹونی مک نمارا نے لکھی۔

اس فلم میں اولیویا کولمین نے ملکہ برطانیہ این کا کردار ادا کیا، جب کہ رچل ویسز نے ان کی بہترین اور بااثر دوست سارہ چرچل کا کردار ادا کیا۔

اے پرائیوٹ وار

شوبز میگزین وینٹی فیئر میں لکھے گئے ارش امل کے مضمون سے متاثر ہوکر میری برینر کی لکھی گئی اس فلم کی ہدایات میتھیو ہنیمن نے دیں ۔

کرائم تھرلر، ہسٹری ڈرامہ فلم کی کہانی برطانوی خاتون فوٹوجرنلسٹ میری کولون کی جدوجہد اور کوریج کے دوران شام میں ہلاک ہونے کے گرد گھومتی ہے۔

فلم میں نہ صرف میری کولون کی پیشہ ورانہ زندگی کو دکھایا گیا ہے، بلکہ اس میں مشرق وسطیٰ کی خانہ جنگی کو بھی اچھی طرح دکھایا گیا ہے۔

دی نیبر

رومانٹک تھرلر ڈرامہ فلم کی کہانی ایک ادھیڑ عمر کے کنوارے شخص اور اس کے پڑوس میں بسنے والے نوجوان شادی شدہ جوڑے کے گرد گھومتی ہے۔

اس فلم میں جہاں نوجوان شادی شدہ جوڑے کو پیار کرتے اور کچھ ذاتی مسائل میں الجھتے ہوئے دکھایا گیا ہے، وہیں اس میں ادھیڑ عمر کے شخص کو نوجوان شادی شدہ خاتون کے عشق میں گرفتار ہوتے ہوئے بھی دکھایا گیا ہے۔

اس فلم کی ہدایات آرون ہاروی نے دی ہیں، جب کہ اس کی کہانی آرون ہاروی اور رچرڈ بیارڈ نے لکھی، اگرچہ اس فلم کی شوٹنگ 2016 میں ہی مکمل ہوچکی تھی، تاہم اسے ریلیز رواں برس کیا گیا۔

22 جولائی

تھرلر کرائم ہسٹری ڈرامہ فلم 22 جولائی کی کہانی یورپی ملک ناروے پر 22 جولائی 2011 کو ہونے والے سلسلہ وار دہشت گردانہ حملوں پر مبنی ہے، جس میں 80 کے قریب افراد مارے گئے تھے۔

یہ حملے اوسلو میں ناروے کے وزیر اعظم کے دفتر کے قریب اور ایک دوسرے شہر میں 2 گھنٹوں کے وقفے سے کیے گئے تھے اور ان حملوں نے ناروے سمیت یورپ کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔

22 جولائی کی کہانی ان ہی حملوں پر لکھی گئی کتاب سے ماخوذ ہے، اس کی ہدایات پال گرین گراس نے دی ہیں۔

اس فلم کو آن لائن اسٹریمنگ نیٹ فلیکس پر ریلیز کیے جانے کے بعد اسے سینما گھروں میں بھی ریلیز کیا گیا۔

ہنٹر کلر

ویسے تو حقیقت میں روس اور امریکا ایک دوسرے کے سخت مخالف ہیں، تاہم اس فلم کی کہانی کچھ اور ہی بتاتی ہے۔

ہنٹر کلر ایک ایسے امریکی بحری فوج کے کیپٹن کی کہانی ہے جو اپنے کچھ ساتھیوں سے مل کر ایک عام جنرل کی جانب سے اغوا کیے گئے روسی صدر کو بچاتے ہیں۔

دلچسپ واقعات اور ریسکیو آپریشن کے گرد گھومتی کہانی پر مبنی اس فلم کی ہدایات دونو وان مارش نے دی ہیں۔

آپریشن فائنل

کرس ویٹز کی ہدایت کردہ اس فلم کی کہانی بھی حقیقی ہے، اس کی کہانی چند ایسے خفیہ ایجنٹس کے گرد گھومتی ہے جو نازی جرمنی میں ہولوکاسٹ کے ماسٹر مائینڈ کی کھوج لگاتے ہیں۔

اس تاریخی فلم کے خوفناک مناظر لوگوں کو نازی جرمنی کی یاد دلاتے ہیں۔

سرچنگ

انیش چگنتی کی ڈائریکٹ کردہ اس فلم کو دیکھتے ہی لوگوں کے دل میں ہزاروں خوف اور وہم بیٹھ جاتے ہیں کہ کس طرح آج کا انسان جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے محفوظ ہونے کے باوجود غیر محفوظ ہے۔

فلم کی کہانی ایک ایسے والد کے گرد گھومتی ہے، جس کی جواں سالہ بیٹی اچانک غائب ہوجاتی ہے اور وہ اسے اپنی بیٹی کے سوشل اکاؤنٹس کو استعمال کرکے اس کی تلاش کرتا ہے۔

اے پریئر بفور ڈان

جن اسٹیفن سویئر کی ہدایت کردہ اس فلم کی کہانی بھی حقیقی واقعے پر مبنی ہے، تاہم اس فلم کو بھی کئی اچھی فلموں کی طرح کم پذیرائی ملی۔

اے پریئر بفور ڈان کی کہانی برطانوی باکسر کے گرد گھومتی ہے جو تھائی لینڈ میں پر تعیش زندگی گزارنے کے لیے آتا ہے، تاہم وہ یہاں پہنچ کر منشیات کا عادی اور اسے فروخت کرنے والا بن جاتا ہے، جس وجہ سے اسے جیل بھیج دیا جاتا ہے۔

جیل میں بھیانک زندگی گزارنے کے دوران اسے ایک باکسنگ فائیٹ کرنے کا موقع ملتا ہے اور پھر وہ باکسنگ لڑ کر اپنی آزادی حاصل کرتا ہے۔

اے سمپل فیور

ہدایت کار پال فریگ کی اس فلم کی کہانی جیسیکا شارزر نے اسی نام سے شائع ہونے والے معروف ناول سے لکھی۔

فلم کی کہانی 2 خواتین کے گرد گھومتی ہے، جن کے بچے ایک ہی اسکول میں پڑھتے ہیں، جس وجہ سے وہ جلد ہی دوست بن جاتی ہیں۔

فلم کی کہانی اس وقت دلچسپ بن جاتی ہے، جب ان دو خواتین میں سے ایک اچانک غائب ہوجاتی ہے اور دوسری اس کی تلاش کرنا شروع کرتی ہے، جس دوران اسے کئی ناخوشگوار حقائق کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

بیروت

پولیٹیکل کرائم تھرلر ڈرامہ فلم بیروت کی کہانی بھی سیاسی اور خانہ جنگی کے گرد گھومتی ہے۔

اس فلم کی کہانی مشرق وسطیٰ میں خانہ جنگی کے گرد گھومتی ہے، جسے امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کچھ وقت کے لیے کم یا ختم کرنا چاہتی ہے اور وہ اس کے لیے اپنے اعلیٰ سفارت کار بھی استعمال کرتی ہے۔

اس فلم کی ہدایات براڈ اینڈرسن نے دی۔

روینج

رومانٹک ہارر فلم روینج کی کہانی ایک خاتون اور تین امیر مرد دوستوں کے درمیان گھومتی ہے۔

فلم میں خاتون ایک امیر دوست سے محبت کرتی ہیں، جو اپنے اس امیر دوست کے ساتھ سالانہ شکار پر صحرا میں جاتی ہیں، جہاں اس امیر شخص کے 2 امیر دوست بھی آجاتے ہیں اور تب آہستہ آہستہ ان تین امیر مرد حضرات کے درمیان ایک خاتون کی موجودگی شکوک و شبہات اور جرائم کو جنم دیتی ہے۔

اگرچہ اس فلم کی شوٹنگ بھی 2017 میں مکمل ہوچکی تھی، تاہم اسے 2018 میں ریلیز کیا گیا اور اسے ریلیز سے قبل کچھ فلمی میلوں میں بھی پیش کیا گیا۔

اس ہارر رومانٹک فلم کی ہدایات کورالی فارگیٹ نے دی۔

دی کیورڈ

اس فلم کی کہانی ایک ایسی پراسرار اور خطرناک بیماری کے لاحق افراد کے گرد گھومتی ہے، جس سے معاشرے کے لوگ یہاں تک کے ان کے گھر والے بھی ان سے دور رہنے لگتے ہیں۔

فلم میں دکھایا گیا ہے کہ پراسرار بیماری کے شکار افراد جب معاشرے اور گھر والوں کی جانب سے صنفی تفریق کا نشانہ بنتے ہیں تو سماج میں کس طرح کے مسائل جنم لیتے ہیں۔

اس فلم کی ہدایات ڈیوڈ فرینے نے دی ہیں۔

ان سین

ہارر میسٹری تھرلر فلم ان سین کی کہانی ایک ایسی نوجوان خاتون کے گرد گھومتی ہے جو یہ سمجھتی ہیں کہ مرد اسے پھنسانا چاہتے ہیں اس لیے وہ ایک نفسیاتی معالج سے ملتی ہیں، جس کے بعد وہ نفسیاتی علاج کے مرکز میں ایک دن تک رہ کر کچھ تجربات کرنا چاہتی ہے۔

فلم کی کہانی اس وقت دلچسپ بن جاتی ہے جب اس خاتون کو ہمیشہ کے لیے کچھ اس علاج مرکز میں رکھا جاتا ہے، جس کے بعد اسے یہ پتہ بھی چلتا ہے کہ اس علاج مرکز میں کئی لوگ کئی ماہ سے رکے ہوئے ہیں۔

اس فلم کی ہدایات اسٹیون سوڈن برگ نے دی ہے اور اس کی خاص بات یہ ہے کہ اس پوری فلم کو آئی فون کیمرے سے فلمایا گیا جو کہ ایک طرح کا ریکارڈ بھی ہے۔

دی ڈیتھ آف اسٹالن

روسی طنزیہ سیاسی کامیڈی فلم دی ڈیتھ آف اسٹالن کو اگرچہ روس میں 2017 میں ریلیز کیا گیا تھا، تاہم اسے دنیا بھر میں 2018 میں ریلیز کیا گیا۔

اس کی کہانی سوویت یونین کے ڈکٹیٹر جوزف اسٹالن کے اقتدار میں آنے اور پھر اس کی ہلاکت کے بعد روسی عہدیداروں کے درمیان اقتدار کی رسا کشی کی جنگ کو طنزیہ اور مزاحیہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

اس فلم کی ہدایات امانڈو اناؤسی نے دی ہیں۔

ٹویلو اسٹرانگ

اس فلم کی کہانی دنیا کو بدلنے والے دہشت گردی کے واقعے نائن الیون کے بعد امریکا کی جانب سے افغانستان میں شروع کی جانے والی جنگ کو بیان کرتی ہے۔

فلم میں 12 ایسے رضاکاروں کو دکھایا گیا ہے جو ایک نئے فوجی کمانڈر کی سربراہی میں افغان سر زمین پر امریکی مفادات کی جنگ لڑنے آتے ہیں۔

اس فلم کی ہدایات نکولائی فگسگ نے دی ہیں۔

دی کمیوٹر

اس فلم کی کہانی ایک ایسے سیلز مین کے گرد گھومتی ہے جو روز مرہ کے کام کے دوران ایک مجرمانہ سرگرمی کا شکار بن جاتا ہے۔

تجربہ کار سیلز مین کے مجرمانہ سرگرمی میں پھنسنے کی اس کہانی کی ہدایات جامی کولیٹ سیرا نے دی ہے۔

مولی گیم

اس فلم کی کہانی ایک ایسی شاطر خاتون کے گرد گھومتی ہے جو پوکر گیم اور طاش کے پتوں کی ماہر ہوتی ہیں، اس فلم کی کہانی امریکا کی طاش کے پتوں کی ماہر کھلاڑی خاتون کے گرد گھومتی ہے، جس کی شہرت کے باعث بعد ازاں اسے امریکی خفیہ ایجنسی ایف بی آئی نے بھی نشانہ بنایا۔

اس فلم کی ہدایات آرون سورکن نے دی ہے۔

دی پوسٹ

اس فلم کی کہانی امریکی حکومت اور وہاں کی میڈیا کے درمیان جاری جنگ پر مبنی ہے، فلم میں ملک کی پہلی خاتون پبلشرز اور حکومت کے درمیان تنازعات کو دکھایا گیا ہے۔

فلم کی کہانی میں ویت نام جنگ کو بھی دکھایا گیا ہے، ساتھ ہی دکھایا گیا ہے کہ امریکی میڈیا کس طرح حکومت کے خفیہ منصوبوں کو سامنے لاتی ہے اور اس کے بعد ملک میں کس طرح کے مسائل جنم لیتے ہیں۔

اس فلم کی ہدایات اسٹیون اسپیل برگ نے دی جو کہ کچھ ممالک میں 2017 مں ریلیز ہوئی مگر دنیا کے بیشتر حصوں میں اسے 2018 میں ریلیز کیا گیا۔

ریڈ اسپیرو

اس فلم کی کہانی امریکا اور روس کے درمیان جاری جنگ کے گرد گھومتی ہے۔

فلم میں روس کی ایک خاتون خفیہ اہلکار کو دکھایا گیا ہے، جسے تربیت دی جاتی ہے کہ وہ اپنے جسم کو بطور ہتھیار استعمال کرکے مخالفین اور خصوصی طور پر امریکا کے خفیہ اہلکاروں سے معلومات حاصل کرے۔

اس فلم کی ہدایات فرانسز لارنس نے دی۔