ای میل

کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے ٹیکنالوجی کے منفرد طریقوں کا استعمال



گزشتہ سال چین کے شہر ووہان سے شروع ہونے والی کورونا وائرس کی وبا کی رفتار میں اب تک کوئی کمی نہیں آسکی ہے۔

دنیا بھر میں پھیل جانے والے اس وائرس کی روک تھام کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے بھی مدد لی جارہی ہے۔

روبوٹس اور ڈرونز اس بیماری کے خلاف جنگ میں مدد فراہم کرنے کے ساتھ سمای دوری کی مشق اور لوگوں کو خدمات فراہم بھی کررہے ہیں۔

حکام کو توقع ہے کہ ٹیکنالوجی کے ذریعے اس وبا کو محفوظ طریقے سے قابو پانے کے ساتھ اس کے پھیلاؤ کو بھی محدود کیا جاسکتا ہے۔

مختلف ممالک میں ٹیکنالوجی کو کس طرح استعمال کیا جارہا ہے وہ آپ نیچے تصاویر میں دیکھ سکتے ہیں۔

مصر

رائٹرز فوٹو
رائٹرز فوٹو

مصر کے شہر طنطا میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کی روک تھام کے لیے ریموٹ کنٹرول روبوٹ کو استعمال کیا جارہا ہے جسے Cira 3 کا نام دیا گیا ہے، جو کورونا کے مشتبہ مریضوں کے ٹیسٹ کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے ، تاکہ طبی عملے کو وائرس سے تحفظ فراہم کیا جاسکے۔

رائٹرز فوٹو
رائٹرز فوٹو

اسی طرح قاہرہ میں مشتبہ کیسز کے پی سی آر ٹیسٹ کے لیے بھی ریموٹ کنٹرول روبوٹس کا استعمال کیا جارہا ہے۔

روس

رائٹرز فوٹو
رائٹرز فوٹو

روس کے شہر ماسکو میں ایک ریسٹورنٹ میں روبوٹ ویٹرر کے ذریعے صارفین کو کھانا فراہم کیا جارہا ہے تاکہ انسانی رابطوں کو محدود کرکے اس وائرس کی روک تھام کی جاسکے۔

ترکی

رائٹرز فوٹو
رائٹرز فوٹو

ترکی کے شہر تقسیم چوک میں پولیس کے ڈرون کو میگافون اسپیکر سے لیس کیا گیا ہے تاکہ فیس ماسک کا استعمال نہ کرنے والے افراد کو پکڑا جاسکے۔

جاپان

رائٹرز فوٹو
رائٹرز فوٹو

جاپان کے شہر کاواساکی میں میرا روبوٹیکس نامی کمپنی کا ایک روبوٹ ایک لیبارٹری کو جراثیم سے پاک کرنے کے لیے الٹرا وائلٹ روشنی سے مدد لے رہا ہے۔

رائٹرز فوٹو
رائٹرز فوٹو

سافٹ بینک کی روبوٹیکس کمنی کی جانب سے کھانے کی فراہمی کے لیے ایک روبوٹ سروی کو تیار کیا گیا ہے تاکہ عملے کی قلت کا سامنا کرنے والے ریسٹورنٹس کو مدد فراہم کرنے کے ساتھ سماجی دوری کو بھی یقینی بنایا جاسکے۔

برطانیہ

رائٹرز فوٹو
رائٹرز فوٹو

برطانیہ میں ریسٹورنٹس میں روبوٹس کو صارفین کے آرڈرز پورے کرنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔

رائٹرز فوٹو
رائٹرز فوٹو

لندن میں ریلوے اسٹیشنز میں سطح کو کورونا وائرس سے پاک رکھنے کے لیے الٹرا سونک ڈس انفیکشن آٹومیسر کلیننگ روبوٹس کا استعمال کیا جارہا ہے جن کو ایکو بوٹ 50 کا نام دیا گیا ہے۔

رائٹرز فوٹو
رائٹرز فوٹو

اسی طرح الٹرا وائلٹ روبوٹ بھی اس مقصد کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں جو فضا کو صاف کرکے وائرس کے خطرے کو نمایاں حد تک کم کرسکتے ہیں۔

ملائیشیا

رائٹرز فوٹو
رائٹرز فوٹو

ملائیشیا کے شہر Banting میں لاک ڈاؤن کے دوران لوگوں کو گھروں تک محدود رکھنے کے لیے پولیس کی جانب سے ڈرونز کی مدد لی جارہی ہے۔

بھارت

رائٹرز فوٹو
رائٹرز فوٹو

نئی دہلی کے ایک ہسپتال میں آئی سی یو یونٹ میں مریضوں کی دیکھ بھال کے لیے روبوٹس کا استعمال کیا جارہا ہے، جس کے ذریعے مریض اپنے پیاروں سے رابطے میں بھی رہ سکتے ہیں۔

جنوبی کوریا

رائٹرز فوٹو
رائٹرز فوٹو

جنوبی کورین دارالحکومت میں اے آئی ٹیکنالوجی سے لیس روبوٹس کو ریسٹورنٹس میں لوگوں تک کھانا فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔

چلی

رائٹرز فوٹو
رائٹرز فوٹو

لاطینی امریکی ملک چلی میں روبوٹس سے کمرشل علاقوں کی صفائی لاک ڈاؤن کے دوران کی گئی اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

میکسیکو

رائٹرز فوٹو
رائٹرز فوٹو

میکسیکو کے ایک ہسپتال میں روبوٹ کے ذریعے کورونا وائرس کے مریضوں سے رابطے میں رہتے ہیں جو آئسولیشن میں ہوتے ہیں۔

آسٹریا

رائٹرز فوٹو
رائٹرز فوٹو

اس یورپی ملک میں 5 جی روبوٹ کی مدد سے لوگوں کے جسمانی درجہ حرارت کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے اور دیکھا جاتا ہے کہ اس نے فیس بک پہنا ہوا ہے یا نہیں۔

نیدرلینڈز

رائٹرز فوٹو
رائٹرز فوٹو

نیدرلینڈز میں بھی مختلف ریسٹورنٹس میں صارفین کی سروس کے لیے روبوٹس کا استعمال کیا جارہا ہے۔