’ہم پریشان تھے کہ اب تک کوئی فون کیوں نہیں آیا‘

کہانی تیزی کے ساتھ اپنے کلائمیکس کی طرف بڑھ رہی ہے۔ وزیرِاعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد آئے گی یا اس سے پہلے وہ خود مستعفی ہوجائیں گے؟ یہ وہ 2 سوال ہیں جو آج کل اسلام آباد کے سیاسی حلقوں میں زیرِ گردش ہیں۔

حالات کا جائزہ لیا جائے اور حکومت اور اپوزیشن کے ذمہ داروں سے بات کی جائے تو بظاہر ایسا لگتا ہے کہ حکومت خطرے میں ہے اور عمران خان کے لیے مشکلات بڑھتی جارہی ہیں، لیکن پاکستان میں سیاست کب اپنا رخ تبدیل کرلے، یہ کوئی نہیں جانتا۔

جب ہم یہ کہتے ہیں کہ بظاہر حکومت خطرے میں ہے اور وزیرِاعظم کے لیے مشکلات بڑھتی جارہی ہیں تو ایسا کہنے کے لیے ہمارے پاس وجوہات بھی ہیں۔ جب حکومت اور اپوزیشن کے ارکانِ اسمبلی سے بات کی تو بہت سارے انکشافات سامنے آئے۔

’اب بدلہ لینے کا وقت ہے‘

’ان ساڑھے 3 سالوں میں جس طرح ہمیں بے توقیر کیا گیا ہے اب اس کا بدلہ لینے کا وقت آن پہنچا ہے‘، یہ بات مجھے ایک حکومتی رکن بتا رہے تھے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ عمران خان نے جب اپنے عہدے کا حلف لیا تو ’ایک ہفتے کے اندر ہمارے پارٹی کے واٹس ایپ گروپ میں ایک خط ڈالا گیا جو سندھ کے علاوہ باقی تینوں صوبوں کے تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنر کو جاری کیا گیا تھا۔

’اس خط میں یہ ہدایات جاری کی گئی تھیں کہ کسی ایم این اے یا ایم پی اے کا کوئی فون نہیں سننا اور نہ ہی ان کے کہنے پر کوئی کام کرنا ہے۔ جو قانون کے مطابق ہو بس وہی کرنا ہے۔ اس کے بعد گروپ میں موجود بہت سارے ارکان کا ردِعمل آیا تو 2 ماہ بعد کہا گیا کہ اب کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو کہا گیا ہے کہ وہ منتخب نمائندوں کے کام کریں۔ لیکن اس بعد کیا ہونا تھا، بیوروکریسی کو ویسے ہی کام نہیں کرنے ہوتے، اسے تو ایک خوبصورت بہانہ ہاتھ آگیا تھا کہ وزیرِاعظم نے کہا ہے کہ کسی بھی منتخب نمائندے کی بات نہ سنیں، تو وہ ہماری کیوں سنتے؟‘

’وزیرِاعظم 8 مارچ کو اسمبلی توڑنے جارہے تھے‘

اسلام آباد کے حکومتی ذرائع بتاتے ہیں کہ پی ٹی آئی ارکان کے بدلتے تیوروں کا وزیرِاعظم کو اندازہ ہوگیا تھا اور وہ 8 مارچ کو اسمبلی توڑنے جارہے تھے، لیکن اپوزیشن نے اسی دن تحریک عدم اعتماد جمع کروا دی جس کے نتیجے میں یہ آپشن بھی جاتا رہا۔

اب کیا ہوگا؟ اس بارے میں اسلام آباد کے حکومتی ذرائع بتاتے ہیں کہ اگر حکومتی اتحادی مشترکہ پریس کانفرنس کرکے حکومت سے علیحدگی کا اعلان کردیں تو وزیرِاعظم کو اعتماد کا ووٹ لینا پڑے گا، جس میں ان کی کامیابی کے امکانات بہت کم ہیں لہٰذا یہ عین ممکن ہے کہ وزیرِاعظم مستعفی ہوجائیں۔ حکومتی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے اور کچھ وزرا بھی اس جانب اشارہ کر رہے ہیں کہ عدم اعتماد کی نوبت ہی نہیں آئے گی۔ ان کا اشارہ وزیرِاعظم کے مستعفی ہونے کی طرف ہے۔

’ہم پریشان تھے کہ اب تک کوئی فون کیوں نہیں آیا‘

حکومتی اتحاد کے ایک رکن نے کہا کہ ’ہم پریشان تھے کہ ابھی تک کوئی فون کیوں نہیں آیا، آخرکار جب انتظار ختم ہوا تو اس کے بعد ہم نے اپنی حکمتِ عملی بنانی شروع کی۔ اب تو صورتحال آپ کے سامنے ہے، مجھے لگتا ہے کہ ادارے کے اندر کی لڑائی باہر آگئی ہے اور ہمیں اپنا فیصلے خود کرنے کا موقع مل گیا ہے‘۔

میں نے ان سے سوال کیا کہ اگر عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہوجاتی ہے تو کیا موجودہ اسمبلی اپنی مدت پوری کرے گی؟ اس پر ان کا کہنا تھا کہ ’میرا خیال ہے کہ نہیں، زیادہ سے زیادہ 6 ماہ، اس دوران 2 ہی کام ہیں، چند انتخابی اصلاحات کو ختم یا تبدیل کیا جائے گا اور نئے آرمی چیف کی تقرری یا موجودہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں ایک سال کی توسیع کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا‘۔

اپوزیشن کی جماعتوں نے اپنے تمام ارکان اسمبلی کو اسلام آباد طلب کرلیا ہے اور ان کی نگرانی کے لیے مختلف گروپ بھی تشکیل دے دیے ہیں۔ اگرچہ ان حالات میں ایک ایک ووٹ انتہائی قیمتی ہوتا ہے مگر حیران کن طور پر حکومت نے اپنے ایم این ایز کی بڑی تعداد کو دنیا کے مختلف ممالک میں دوروں پر روانہ کردیا ہے۔ حکومت کا خیال تھا کہ بیرون ملک سیر سیاحت کے نتیجے میں ارکان تازہ دم ہوجائیں گے، لیکن نتائج اس کے برعکس نکل رہے ہیں، اور ان ارکان سے اپوزیشن جماعتوں کا رابطہ آسان ہوگیا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ایک رکن نے مجھے بتایا کہ ’میری اطلاعات کے مطابق مسلم لیگ (ن) نے 12، پیپلز پارٹی نے 5 اور جے یو آئی (ف) نے 3 حکومتی ارکان کو یقین دہانی کروائی ہے کہ انہیں عام انتخابات میں پارٹی ٹکٹ دیے جائیں گے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ جنوبی پنجاب سے 10 کے قریب ارکان مزید ہیں جو پیپلزپارٹی کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

’عمران خان کو تبلیغ تو آتی ہے سیاست نہیں۔۔۔‘

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ایک رکن کا کہنا تھا کہ ’عمران خان کو تبلیغ تو آتی ہے مگر سیاست نہیں۔ جہانگیر ترین ساڑھے 3 سال قبل جب اپنی کوششوں سے ارکان کو لے کر بنی گالا پہنچے تھے تو عمران خان نے انہیں اتنی عزت بھی نہیں دی جتنا ان کا حق تھا۔ اسی دن سے ان ارکان کے ذہنوں میں یہ بات بیٹھ گئی تھی کہ ان سے بڑی غلطی ہوگئی ہے۔ شاید اب وہ اس غلطی کا ازالہ کرلیں‘۔

پی ٹی آئی رکن نے کہا کہ جہانگیر ترین کے لائے ہوئے ارکان شاید اب اپنی غلطی کا ازالہ کرلیں—تنویر شہزاد/وائٹ اسٹار
پی ٹی آئی رکن نے کہا کہ جہانگیر ترین کے لائے ہوئے ارکان شاید اب اپنی غلطی کا ازالہ کرلیں—تنویر شہزاد/وائٹ اسٹار

عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنے میں جلدی کیوں کی گئی؟

8 مارچ کو جب پیپلزپارٹی کا لانگ مارچ اسلام آباد پہنچ رہا تھا اسی دن اپوزیشن جماعتوں نے تحریک عدم اعتماد جمع کروادی تھی۔ نتیجے میں پیپلزپارٹی کے لانگ مارچ کی خبر دوسرے نمبر پر چلی گئی اور انہی دنوں پنجاب میں ٹوٹ پھوٹ شروع ہوگئی تھی۔

میں نے تحریک انصاف کے ایک باخبر رکن سے دریافت کیا کہ لانگ مارچ کے دوسرے دن بھی تحریک عدم اعتماد جمع کروائی جاسکتی تھی تو اپوزیشن نے اس دن کا انتخاب کیوں کیا ہوگا؟ انہوں نے بتایا کہ ’عمران خان اس رات اسمبلی توڑنے والے تھے، اپوزیشن کو جب اس بات کی اطلاع ملی تو انہوں نے فوری طور پر تحریک عدم اعتماد جمع کروادی‘۔

میں نے پوچھا کہ یہ تو اپوزیشن کے لیے اچھی بات تھی کیونکہ وہ تو عمران خان کو چلتا کرنا چاہتے تھے، پھر کیوں جلدی کی، اس کا فائدہ کیا ہوا؟ اس رکن کا خیال تھا کہ ’اپوزیشن وزیراعظم کو یہ موقع نہیں دینا چاہتی کہ وہ اسمبلی توڑ کر مرضی کا وزیراعظم مقرر کردیں۔ وہ اس گیم میں عمران خان کو مکمل طور پر باہر نکالنا چاہتی ہے۔ اب جو حالات پیدا ہورہے ہیں اس میں اگر عمران خان مستعفی ہوجاتے ہیں تو اپوزیشن اپنا کام مکمل کرچکی ہے اور اسے اپنی حکومت بنانے میں مشکلات نہیں ہوں گی۔ پھر عمران خان کے پاس وہ قوت بھی نہیں ہوگی جو ایک حکومت کو غیر مستحکم کرنے کے لیے 2014ء یا اس کے بعد تھی‘۔

کیا تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے پر قومی اسمبلی اپنی آئینی مدت پوری کرے گی؟

اب سوال یہ ہے کہ اگر تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوجاتی ہے تو کیا موجودہ قومی اسمبلی اپنی آئینی مدت پوری کرے گی یا وقت سے پہلے اسمبلی کو توڑ کر 3 ماہ میں نئے انتخابات کروادیے جائیں گے؟ اس بارے میں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے ارکان کی الفاظ کے فرق کے ساتھ ایک ہی رائے سننے کو ملتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نومبر، دسمبر تک تو اسمبلی قائم رہے گی تاکہ انتخابی قوانین کو بہتر کرنے کے ساتھ ساتھ نئے آرمی چیف کی تقرری یا موجودہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں ایک سال کی توسیع کا معاملہ دیکھا جائے۔

جب یہی سوال میں نے پیپلزپارٹی کے رہنما سعید غنی سے کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’معاشی طور پر تو کوئی زیادہ تبدیلی نہیں آئے گی لیکن اپوزیشن کی موجودہ سیاسی قیادت کے پاس وہ فہم ضرور ہے کہ وہ معاشی سمت کا تعین کردے گی۔ مجھے بھی لگتا ہے کہ کم از کم 10 ماہ سے تو زیادہ ہی حکومت چلے گی‘۔

’ان حالات میں ہم اپنے حلقے کیسے جائیں؟‘

دوسری جانب حکومت کے اہم وزرا ڈی چوک پر جو 10 لاکھ لوگ اکٹھے کرنے اور اپنے ہی ارکان کو اسی مجمع سے گزر کر ایوان میں اپوزیشن کو ووٹ دینے کی دھکمیاں دے رہے ہیں، اس پر تحریک انصاف کے کچھ ارکان بہت ناراض ہیں۔ ایک رکن نے بتایا کہ ’گزشتہ 3 سالوں میں جب بھی بجٹ پاس ہونے کا وقت آتا تھا تو ہمیں بلا کر وزیرِاعظم ہاؤس میں لے جایا جاتا تھا اور مختلف وعدے کیے جاتے ہیں، مگر بجٹ پاس ہونے کے بعد ہم سے کیے گئے وعدے بھلا دیے جاتے ہیں۔ ہمیں واپس اپنے حلقوں میں جانا ہے، ایسے حالات میں بھلا ہم اپنے حلقوں میں کیسے جائیں؟‘

’آنے والے 5 سال بھی تحریک انصاف حکومت کے ہی ہوں گے‘

دوسری طرف پی ٹی آئی کے ایک اہم رہنما سے ہماری بات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ ’ہر جماعت کے اندر اختلاف کرنے والے لوگ ہوتے ہیں اور لوگ پارٹی چھوڑ کر بھی چلے جاتے ہیں لیکن ایسا ہے نہیں‘۔

ان کا دعویٰ تھا کہ ’اپوزیشن اور خصوصاً مسلم لیگ (ن) کے ایک درجن سے زائد ایسے ارکان ہیں جو اپنی جماعت کے رویے سے خائف ہیں اور وہ حکومت کی طرف آرہے ہیں اس وجہ سے تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا‘۔

انہوں نے دلیل دی کہ 1989ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے خلاف پیش ہونے والی تحریک اعتماد بھی ناکام ہوئی تھی حالانکہ اس وقت اسٹیبلشمنٹ اور صدر دونوں ہی ان کے خلاف تھے۔ انہوں نے کہا کہ جب آپ حکومت میں ہوتے ہیں تو لوگوں کو بہت کچھ دینے کی حیثیت میں ہوتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’اپوزیشن یہ یاد رکھے کہ آنے والے 5 سال بھی تحریک انصاف حکومت کے ہی ہوں گے‘۔


عبدالرزاق کھٹی اسلام آباد کے سینئر صحافی ہیں، سیاسی و پارلیمانی معاملات کو قریب سے دیکھتے ہیں، سماجی مسائل ان کا پسندیدہ موضوع ہے۔ ٹوئٹر پر ان سے رابطہ کیا جاسکتا ہے [email protected]