پی سی بی کی مصباح کو 2018 تک قیادت کی درخواست

29 نومبر 2016
مصباح کی قیادت میں پاکستان نے پہلی مرتبہ ٹیسٹ کی سرفہرست ٹیم بننے کا اعزازپایاتھا—فائل/فوٹو: اے ایف پی
مصباح کی قیادت میں پاکستان نے پہلی مرتبہ ٹیسٹ کی سرفہرست ٹیم بننے کا اعزازپایاتھا—فائل/فوٹو: اے ایف پی

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ٹیسٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق کو کم ازکم 2018 تک قیادت جاری رکھنے کی درخواست کردی۔

ڈان کو ایک خصوصی انٹرویو میں چیئرمین پی سی بی شہریارخان نے کہا کہ 'مصباح الحق اپنے مستقبل کے حوالے سے فیصلے کے لیے آذاد ہیں تاہم پی سی بی 2018 تک جاری رکھنے کی تجویز دے چکی ہے'۔

شہریار خان کا کہنا تھا کہ 'مصباح اپنی شاندار فٹنس کی وجہ سے اگلے چند سالوں تک بین الاقوامی کرکٹ باآسانی کھیل سکتے ہیں، وہ تحمل مزاج، تعلیم یافتہ اور متوازن اور ٹیم میں ان کا بے حد احترام ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہمارے ذہن میں چند نام ہیں جو مصباح کی کنارہ کشی کے بعد ٹیم کی قیادت کریں گے لیکن ہمیں فیصلہ کرنے سے پہلے ان کا تفصیلی جائزہ لینے کی ضرورت ہے'۔

مزید پڑھیں: پاکستان کی ایک ماہ میں نمبر1 سے چوتھے پر تنزلی

چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ 'اظہر اور سرفراز دونوں اچھے ہیں لیکن اول الذکر جب بھی قیادت کرتے ہیں اور بیٹنگ خراب ہوتی ہے، آل راؤنڈر عماد وسیم بھی امیدوار ہوسکتے ہیں جیسا کہ انھوں نے میچوں کے مشکل اوقات میں دباؤ کو قابو کرنے کی قابلیت سے پی سی بی کو متاثر کیا ہے'۔

کنیریا کو ای سی بی سےاپیل کرنا چاہیے

شہریارخان نے کہا کہ سلمان بٹ اور محمد آصف دونوں فرسٹ کلاس میچوں میں شرکت کے بعد پاکستان ٹیم کے انتخاب کے اہل تھے اور ٹیسٹ کے لیے فیصلہ سلیکٹرز کا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: دورہ آسٹریلیا کیلئے 16رکنی ٹیسٹ اسکواڈ برقرار

لیگ اسپنر دانش کنیریا اور سلمان، آصف اور محمد عامر کے حوالے سے مختلف رویہ اپنانے پر پوچھے گئے سوال پر انھوں نے کہا کہ 'کنیریا پر پابندی انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) نے عائد کی تھی، پی سی بی اور دیگر بورڈ اب اس فیصلے پر عملدرآمد کے پابند ہیں لیکن مجھے کنیریا سے ہمدردی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ انھیں انصاف کے لیےای سی بی کے سامنے اپیل کرنی چاہیے'۔

نیوزی لینڈ میں پاکستان ٹیم کی ناقص کارکردگی پر ان کا کہنا تھا کہ باؤلرز نے اچھا کیا لیکن بلے باز تیز وکٹوں پر کارکردگی دکھانےمیں ناکام ہوئے۔

'دوسرا پہلو جس نے پاکستان کی مشکلات میں اضافہ کیا وہ بارش تھی جس کے باعث وارم اپ میچ نہیں کھیل سکے اور باقاعدہ پریکٹس سیشن بھی نہیں ملے'۔

مزید پڑھیں: نیوزی لینڈ کی 30 سال بعد پاکستان کیخلاف سیریز میں فتح

ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ جونیئرٹیم کے چیف سلیکٹر باسط علی کو صرف نیوزی لینڈ اور تھائی لینڈ کے دورے کے لیے خواتین کرکٹ ٹیم کا ہیڈ کوچ مقرر کیا گیا تھا اور مستقبل میں انھیں ایک عہدہ رکھنا ہوگا جس کا فیصلہ بورڈ کرے گا۔

شہریار خان نے اس تاثر کو رد کردیا کہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کو بورڈ سے الگ کرنے کے بعد پی سی بی کو مالی نقصان ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'یہ ایک غلط تاثر ہے کہ پی ایس ایل اگر الگ کمپنی کے طور پر چلے تو پی سی بی کو نقصان ہوگا، پی ایس ایل، پی سی بی کے ماتحت کام کرے گی اور اس کا نفع اور نقصان پی سی بی کے لیے ہوگا'۔

چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ ' گزشتہ سال ہم نے پی ایس ایل کے پہلے ایڈیشن کے لیے مالی معاونت فراہم کی تھی اور جواب میں ہمیں نہ صرف لگایا ہوا سرمایہ واپس ملا بلکہ 25 لاکھ ڈالر کا منافع بھی حاصل ہوا تھا'۔

یہ خبر 29 نومبر کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی

تبصرے (0) بند ہیں