سوشل میڈیا ویب سائٹ فیس بک نے پاکستان کی جانب سے تمام فون نمبرز کو اکائونٹس کے ساتھ لنک کرنے کی درخواست مسترد کر دی ۔

امریکی خبر رساں ادارے وائس آف امریکا کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اور فیس بک کی نائب صدر جول کیپلن کے درمیان ہونے والی ملاقات میں اس بات کی درخواست کی تھی، تاہم فیس بک انتظامیہ نے اسے مسترد کر دیا۔

مزید پڑھیں:پاکستان میں فیس بک کے غلط استعمال کی شرح میں خطرناک اضافہ

واضح رہے کہ اس درخواست کا مقصد فیس بک پر موجود ایسے جعلی اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کرنا تھا، جن سے گستاخانہ مواد شیئر کیا جاتا ہے ۔

فیس بک نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ پاکستان کی ایسی کسی درخواست پر عمل نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جس کا مقصد فیس بک صارفین کا تحفظ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:فیس بک ڈیٹا کیلئے پاکستانی درخواستوں میں اضافہ

فیس بک نے واضح کیا کہ نیا اکاؤنٹ بنانے کی پالیسی بھی وہی ہے، اس میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔

دوسری جانب فیس بک کی نائب صدر اور پاکستان کے وزیر داخلہ چوہدری کے مابین ہونے والی ملاقات کے حوالے سے فیس بک حکام کا کہنا تھا کہ ملاقات کا مقصد حالیہ عدالتی فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرنا اور اس بات کی وضاحت دینا تھا کہ فیس بک پر تمام حکومتوں کے خلاف شائع ہونے والے مواد کے لیے ہمارا اپنا قانونی طریقہ کار ہے، ہم صرف کسی کی درخواست پر کوئی اقدام نہیں کرتے ہمارا اپنا طریقہ موجود ہے۔

فیس بک کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا کہ اس ملاقات میں 'شی مینز بزنس' (She Means Business) اور ’آئی چیمپ' (iChamp) ڈیجیٹل پروجیکٹ کے حوالے سے بھی بات چیت کی گئی۔

خیال رہے کہ فیس بک انتظامیہ کی جانب سے فروری 2017 سے 137 گستاخانہ لنکس کو پاکستان کے صارفین کے لیے بلاک کیا جا چکا ہے۔

واضح رہے کہ فیس بک سے قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کی مدد کے لیے مانگے گئے ڈیٹا کے حوالے سے سوال کیا گیا، جس کے جواب میں فیس بک انتظامیہ کا کہنا تھا کہ اس بارے میں 2016 میں پاکستان سے ایک ہزار درخواستیں موصول ہوئیں جس میں سے 70 فیصد پر عمل کیا گیا۔

فیس بک انتظامیہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس حوالے سے آگے بھی باہمی تعاون جاری رکھا جائے گا۔


یہ خبر15 جولائی 2017 کے ڈان اخبار میں شائع ہوئی ہے