ای میل

7 افراد کے لیے ایک چھت دستیاب


رپورٹ : ساگر سہندڑو

ملک میں 19 برس بعد رواں سال 15 مارچ سے 24 مئی تک ہونے والی چھٹی مردم شماری کے ابتدائی مگر نامکمل نتائج قریبا 4 ماہ بعد 25 اگست کو جاری کردیے گئے۔

مردم شماری کے ان نتائج میں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے نتائج کو شامل نہیں کیا گیا، جن کی ممکنہ اندازوں کے مطابق آبادی 2 کروڑ کے قریب ہوسکتی ہے۔

پاکستان کے وفاقی ادارے محکمہ شماریات (پی بی ایس) کی جانب سے چھٹی مردم شماری کے ابتدائی اور نامکمل نتائج سب سے پہلے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی صدارت میں ہونے والے مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) کے اجلاس میں پیش کیے گئے۔

مشترکہ مفادات کونسل کی جانب سے منظوری کے بعد محکمہ شماریات نے ان نتائج کو اپنی ویب سائٹ پر جاری کیا۔

حکومت کی جانب سے جاری کردہ عبوری نتائج میں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے نتائج کوشامل نہ کیے جانے کے حوالے سے وزارت سیفران نے اپنے بیان میں کہا کہ ان علاقوں کے نتائج محکمہ شماریات جاری نہیں کرسکتا، اس لیے ان کے نتائج وزارت بعد میں جاری کرے گی۔

علاوہ ازیں مردم شماری میں شمار ہونے والی دیگر چیزیں جیسے قوم، مذہب، زبان اور ازدواجی حیثیت سمیت متعدد چیزوں کا ڈیٹا بھی جاری نہیں کیا گیا، اور نہ ہی اس حوالے سے بتایا گیا ہے کہ مزید ڈیٹا کب جاری کیا جائے گا؟

یہ بھی پڑھیں: مردم شماری کے عبوری نتائج جاری، آبادی20 کروڑسے متجاوز

ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ گزشتہ 19 برس میں پاکستان کی آبادی (آزاد کشمیر اور گلگت بلستان کے علاوہ) میں7 کروڑ 54 لاکھ 22 ہزار241 افراد کا اضافہ ہوا۔

1998 میں ہونے والی مردم شماری میں جو آبادی 13 کروڑ، 23 لاکھ، 52 ہزار،270 تھی، وہ 2017 میں بڑھ کر 20 کروڑ 77 لاکھ 74 ہزار 520تک پہنچ گئی۔

1981 میں پاکستان کی آبادی 8 کروڑ، 42 لاکھ، 50 ہزار تھی، اور یوں صرف 36 برس میں پاکستانی آبادی میں 12 کروڑ سے بھی زائد افراد کا اضافہ ہوا۔

ملک میں مجموعی طور پر مردوں کی تعداد زیادہ ہے، جس وجہ سے اب یہ کہنا غلط ہوگا کہ خواتین کی آبادی 51 فیصد ہے۔

ملک میں مردوں کی تعداد 10 کروڑ، 64 لاکھ، 49 ہزار، 322، جب کہ خواتین کی تعداد 10 کروڑ، 13 لاکھ، 14 ہزار، 780 ہے۔

پاکستان میں خواتین کے مقابلے 51 لاکھ 34 ہزار، 542 مرد زیادہ ہیں۔

دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان کی آبادی میں 1998 کے بعد سالانہ2.40 فیصد اضافہ ہوا۔

ملک کی چھٹی مردم شماری کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس میں پہلی بار ملک میں موجود مخنث افراد کا ڈیٹا بھی جاری کیا گیا،جن کی مجموعی آبادی 10 ہزار 418 ہے۔

مردم شماری کے ابتدائی نتائج میں ملک بھر کے گھرانوں کی تعداد بھی جاری کی گئی۔

مزید پڑھیں: مردم شماری میں اور کیا کیا شمار ہونا چاہیئے تھا

ملک کے پونے 21 کروڑ افراد کے لیے صرف 3 کروڑ، 22 لاکھ، 5 ہزار، ایک سو 11 گھر دستیاب ہیں، جو آبادی کے تناسب سے انتہائی کم ہیں۔

اگر ان مکانات کا تناسب دیکھا جائے تو 7 افراد کے لیے ایک گھر دستیاب ہے۔

ڈیٹا کے مطابق سب سے زیادہ آبادی صوبہ پنجاب کی ہے، جہاں بسنے والے افراد کی تعداد 11 کروڑ 12 ہزار 442 ہے، یعنی یہ صوبہ باقی تین صوبوں ’سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی مجموعی آبادی سے بھی بہت بڑا ہے۔

ملک کے باقی تین صوبوں کی اگر مجموعی آبادی کو بھی ملایا جائے تو وہ 9 کروڑ77 لاکھ 62 ہزار،87 بنتی ہے۔

ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ پنجاب میں مردوں کی تعداد 5 کروڑ، 95 لاکھ، 58 ہزار، 974، جب کہ خواتین کی تعداد 5 کروڑ، 4 لاکھ، 40 ہزار، 759 ہے۔

صوبہ پنجاب جہاں مرد و خواتین کی آبادی میں پہلے نمبر پر ہے، وہیں وہ مخنث افراد کے حوالے سے بھی بڑا صوبہ ہے، جہاں 6 ہزار، 709 مخنث افراد بستے ہیں۔

پنجاب کے 11 کروڑ 18 ہزار سے زائد افراد (بشمول مخنث) کے لیے 1 کروڑ، 71 لاکھ، 3 ہزار، 835 گھر موجود ہیں۔

اگر صوبہ پنجاب کو سب سے بڑے صوبے کا اعزاز حاصل ہے تو وہیں صوبہ سندھ کو سب سے بڑے شہری آبادی والے صوبے کا درجہ حاصل ہے۔

سندھ کی مجموعی آبادی 4 کروڑ، 78 لاکھ، 86 ہزار، 51 ہے، جن میں سے مردوں کی تعداد 2 کروڑ، 49 لاکھ، 27 ہزار، 46، جب کہ خواتین کی تعداد 2 کروڑ، 29 لاکھ، 56 ہزار، 478 ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی چھٹی مردم شماری، کیا کیا شمار ہوگا؟

صوبہ سندھ میں گھروں کی تعداد 85 لاکھ، 85 ہزار، 610 ہے، جب کہ سندھ میں صرف 2 ہزار، 527 مخنث افراد بستے ہیں۔

آبادی کے لحاظ سے ملک کا تیسرا بڑا صوبہ خیبرپختونخوا ہے، جہاں کی مجموعی آبادی 3 کروڑ، 52، لاکھ، 3 ہزار، 371 ہے، جن میں سے ایک کروڑ، 54 لاکھ، 67 ہزار، 645 مرد، جب کہ ایک کروڑ، 5 لاکھ، 54 ہزار، 813 خواتین ہیں۔

خیبرپخوتخوا میں گھروں کی تعداد 36لاکھ، 45 ہزار،168 ہے، جب کہ اس صوبے میں 913 مخنث افراد ہیں۔

اراضی کے حساب سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ بلوچستان آبادی کے حوالے سے پاکستان کا سب سے چھوٹا صوبہ ہے۔

بلوچستان کی آبادی صرف ایک کروڑ23 لاکھ، 44 ہزار، 408 ہے، یعنی بلوچستان کی آبادی خیبر پختونخوا کی نصف آبادی سے بھی کم ہے۔

بلوچستان میں مردوں کی تعداد 64 لاکھ، 83 ہزار، 653، جب کہ خواتین کی تعداد 58 لاکھ،60 ہزار، 646 ہے۔

بلوچستان میں گھروں کی تعداد 17 لاکھ، 75 ہزار، 937 ہے، اور یہاں صرف اور صرف 109 مخنث افراد بستے ہیں۔

تصاویر دیکھیں: ملک میں 19 سال بعد چھٹی مردم شماری

وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے فاٹا کی مجموعی آبادی 50 لاکھ، ایک ہزار، 676 ہے، جن میں سے 25 لاکھ، 56 ہزار، 292 مرد، جب کہ 24 لاکھ، 45 ہزار، 357 خواتین ہیں۔

فاٹا میں گھروں کی تعداد 5 لاکھ، 58 ہزار 379 ہے، جب کہ یہاں صرف 27 مخنث افراد رہتے ہیں۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور اس کے مضافات (آئی سی ٹی) کی مجموعی آبادی 20 لاکھ، 6 ہزار، 572 ہے، جن میں سے 10 لاکھ، 5 ہزار، 712 مرد، جب کہ 9 لاکھ، 50 ہزار، 727 خواتین ہیں۔

گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے حوالے سے اعداد وشمار جاری نہیں کیے گئے، حالیہ جاری کیے گئے اعداد وشمار سے آبادی کا تناسب یہ ظاہر ہو رہا ہے

اسلام آباد میں گھروں کی تعداد 3 لاکھ، 36 ہزار، 182 ہے، مگر یہاں فاٹا اور بلوچستان کے مقابلے مخنث افراد کی تعداد زیادہ یعنی 133 ہے۔

مجموعی طور پر پاکستان کی زیادہ تر آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے، تاہم صوبہ سندھ وہ واحد صوبہ ہے، جہاں کے زیادہ لوگ شہروں میں بستے ہیں۔

پاکستان کے 13 کروڑ، 21 لاکھ، 89 ہزار، 531 افراد دیہی علاقوں، جب کہ 7 کروڑ، 55 لاکھ، 84 ہزار، 989 لوگ شہروں میں رہتے ہیں۔

صوبہ سندھ کے پونے پانچ کروڑ افراد میں سے 2 کروڑ، 49 لاکھ، 10 ہزار، 458 افراد شہروں، جب کہ 2 کروڑ، 29 لاکھ 75 ہزار، 593 لوگ دیہات میں رہتے ہیں۔

مجموعی طور پر سندھ کے شہروں میں دیہات کے مقابلے 19 لاکھ، 34 ہزار، 865 افراد زیادہ بستے ہیں۔

ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں بھی زیادہ تر لوگ دیہات میں رہتے ہیں، وہاں دیہی آبادی کی تعداد 6 کروڑ، 95 لاکھ، 25 ہزار، 144 ہے۔

یہ بھی پڑھیں: افغان مہاجرین کے انخلاء تک مردم شماری موخر کرنے کا مطالبہ

پنجاب کی شہری آبادی کی تعداد 4 کروڑ 38 لاکھ، 7 ہزار، 298 ہے۔

سلسلہ وار خیبر پختونخوا، بلوچستان اور فاٹا میں شہری علاقوں کے مقابلے دیہی علاقوں کی آبادی زیادہ ہے۔

تاہم اسلام آباد میں بھی شہری آبادی زیادہ ہے، وہاں 10 لاکھ، 14 ہزار، 825 افراد شہروں، جب کہ 9 لاکھ، 91 ہزار747 افراد دیہی علاقوں میں بستے ہیں۔

چھٹی مردم شماری کے نتائج جاری ہونے پر ملک میں سیاسی و سماجی تنظیموں اور شخصیات کی جانب سے فوری طور پر ملے جلے رد عمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

تاہم کہیں کہیں سے دبے الفاظوں میں مردم شماری کے اعداد و شمار پر اعتراضات کیے جا رہے ہیں۔