Email


کیا اس بار بھی کراچی میں عید کی ریکارڈ خریداری ہوئی ہے؟

راجہ کامران

کراچی شہر میں عید کی خریداری ہی اس شہر کے رنگ کو نکھارتی ہے۔ کراچی میں گرمی کی وجہ سے خریداری زیادہ تر شام کے اوقات میں کی جاتی ہے اور رمضان المبارک کے آخری 20 دنوں میں عید کی خریداری رات بھر ہوتی ہے جس میں شہر کی اکثر مارکیٹس بھی رات بھر کھلی رہتی ہیں۔

عید ایسا موقع ہوتا ہے کہ جب جتنی بھی خریداری کر لی جائے کچھ نہ کچھ رہ ہی جاتا ہے۔ اپنی پیشہ ورانہ مصروفیت کی وجہ سے رمضان سے قبل ہی بچوں اور بیگم کو عید کی خریداری کروا دی تھی مگر اچانک ہی ایک دن بیگم نے اعلان کردیا کہ بچوں کو عید پر نئے جوتے درکار ہیں۔ مرتا کیا نہ کرتا، بیگم اور بچوں کو لے کر 26 ویں روزے کو تراویح کے بعد خریداری کے لیے نکل پڑا۔

پہلا رخ طارق روڈ کا کیا جہاں پر بچوں کے جوتوں کی خریداری کرنی تھی۔ طارق روڈ پہنچ کر پہلے تو یہ خطرہ تھا کہ ٹریفک بہت جام ہوگا۔ مگر خلاف توقع ٹریفک عام دنوں سے بھی بہتر پایا۔ اس کے بعد باری آئی پارکنگ کی تو وہ بھی مل ہی گئی۔ اور پھر سلسلہ شروع ہوا بچوں کے جوتوں کی تلاش کا جس کے لیے ہمارے جوتے گھس گئے، جس دکان پر بھی جائیں پہلے تو بیگم کو ڈیزائن یا معیار پسند نہ آئے، اور اگر پسند آئے تو بچوں کے پیر کا سائز نہ ملے۔

کراچی کے ایک بازار میں خواتین جیولری پسند کر رہی ہیں۔ — اے ایف پی/فائل
کراچی کے ایک بازار میں خواتین جیولری پسند کر رہی ہیں۔ — اے ایف پی/فائل

ایک دکان کے مالک سے بات ہوئی تو ان سے پوچھا بھائی کیا ہوا اس مرتبہ کوئی اچھا مال نظر نہیں آرہا ہے۔

دکاندار کا کہنا تھا کہ "بھائی اس مرتبہ تو کمال ہی ہوگیا۔ عید کی اتنی زبردست خریداری ہوئی ہے کہ اندازوں سے بھی زیادہ۔ دکان میں عید اور عید کے بعد شادیوں کے سیزن کے لیے مال لیا تھا مگر اس مرتبہ تو دوسرے عشرے کے شروع ہی میں زیادہ تر مال نکل گیا ہے۔ اب جو بھی ہے وہ ڈسپلے پر موجود ہے۔ اسٹور میں خالی ڈبے ہی پڑے ہیں۔ فیکٹری والوں سے بات کرتے ہیں تو کہتا ہے کہ اس کے پاس بھی جو مال تھا وہ اس نے بھیج دیا ہے۔ اب تو بھائی عید کے بعد ہی جوتوں کا نیا اسٹاک آئے گا۔"

یہ پیغام بیگم کو دیا تو گویا ہوئیں کہ "عید پر نئے کپڑوں کے ساتھ کیا پرانے جوتے پہنائیں گے؟ چلیں کہیں اور چلتے ہیں" اور اسی تلاش میں سرگرداں رہے۔ جب معیار کے مطابق جوتے نہ مل سکے تو پھر جیسا ہے جہاں ہے اور جس قیمت پر دستیاب ہے، جوتے خریدنے ہی پڑے۔

کراچی شہر کے رنگ ڈھنگ ہی نرالے ہیں۔ پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور دنیا کا چھٹا بڑا شہر ہے، اسی وجہ سے اس کی ہر چیز ہی میگا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق لگ بھگ ڈیڑھ کروڑ اور بعض دعووں کے مطابق 2 کروڑ سے زائد لوگ یہاں بستے ہیں، یہی وجہ ہے کہ یہ شہر کبھی رکتا نہیں ہے۔ کراچی کے دن چمکتے اور راتیں جاگتی ہیں۔ ملکی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں کراچی کا حصہ 20 فیصد سے زائد ہے۔

کراچی میں لڑکیاں مہندی کے ڈیزائن بنوا رہی ہیں۔ — اے پی پی/فائل
کراچی میں لڑکیاں مہندی کے ڈیزائن بنوا رہی ہیں۔ — اے پی پی/فائل

کراچی کے شہریوں کی خریداری کا ڈھنگ بھی ملک کے دیگر شہروں سے مختلف ہے ۔ کراچی میں عید کی شاپنگ دن کے بجائے رات کو کی جاتی ہے۔ اسی لیے کراچی کی تاجر برادری رمضان المبارک کے پہلے عشرے میں نماز تراویح کا اہتمام کرتی ہے اور اس دس روزہ تراویح کے میں ختم القرآن کے بعد مارکیٹوں کو رات کے وقت بھی کھولنے کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ اور اسی کے ساتھ شروع ہوجاتا ہے کراچی میں عید خریداری کا غیر اعلانیہ میلہ۔

شہر میں رات کے اوقات میں جہاں جائیں جس طرف کا رخ کریں ہر طرف گاڑیاں ٹریفک اور لوگ کوئی خریداری کررہا ہے۔ کہیں بھاؤ تاؤ جاری ہے۔ کہیں جیولری پسند کی جارہی ہے تو کہیں لوگ تھک ہار کر کھا پی کر خود کو توانا کر رہے ہوتے ہیں۔

یوں تو کراچی شہر میں کئی سو چھوٹی بڑی مارکیٹس ہیں مگر عید کی خریداری کے لیے 30 سے زائد بڑی مارکیٹس میں خصوصی رش ہوتا ہے۔ ان میں صدر کے مرکزی علاقے میں قائم مختلف مارکیٹس زینب مارکیٹ، کریم سینٹر، بوہری بازار، حیدری، طارق روڈ، بہادرآباد ،کلفٹن تین تلوار، ڈیفنس زمزمہ مارکیٹ، جامع کلاتھ مارکیٹ، جوبلی مارکیٹ، جامع کلاتھ، ایم اے جناح روڈ، لیاقت آباد سپر مارکیٹ، یورنیورسٹی روڈ، موتن داس، بابر مارکیٹ، قائد آباد، لانڈھی، ملیر، لیاقت مارکیٹ، گلستان جوہر اور دیگر مارکیٹس شامل ہیں۔ اس کے علاوہ چھوٹے بڑے بازاروں میں اضافی اسٹالز لگانے کے علاوہ کھلی جگہوں پر خصوصی عید بازار بھی لگائے جاتے ہیں۔

جہاں بڑی تعداد میں لوگ خریداری کررہے ہوں وہاں سکیورٹی کے خصوصی اقدامات کیے جاتے ہیں۔ کراچی پولیس اور رینجرز کے خصوصی دستے ان شاپنگ ایریاز کے ارد گرد تعینات کیے جاتے ہیں جس سے وہاں امن قائم رکھنے اور خریداروں کو تحفظ کا احساس دلانے میں مدد ملتی ہے اور لوگ بھی اس بات کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔

اپنے نیوز چینل کی جانب سے عید پر حفاظتی اقدامات کے حوالے سے رپورٹ کے لیے طارق روڈ کا رخ کیا جہاں ایس ایچ او فیروز آباد نصر اللہ خان سے ملاقات ہوئی ان کا کہنا تھا کہ اس مرتبہ پولیس کو آرمی سے تربیت یافتہ فورس ملی ہے۔ جو کہ تربیت مکمل کرتے ہی تعینات کی گئی ہے اور ان کا مورال بہت اچھا ہے۔ نہ صرف طارق روڈ بلکہ اطراف کے علاقوں میں بھی نفری لگانے کے علاوہ پیٹرولنگ کی جارہی ہے۔ جس کی وجہ سے خریداری کر کے گھر جانے والے زیادہ محفوظ تصور کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ٹریفک پولیس کی تعداد بھی گزشتہ سالوں سے زائد ہے۔ جس وجہ سے ٹریفک کی روانی میں بھی بہتری آئی ہے۔

کراچی میں لڑکیاں عید کے لیے شاپنگ کرنے میں مصروف ہیں۔ — پی پی آئی/فائل
کراچی میں لڑکیاں عید کے لیے شاپنگ کرنے میں مصروف ہیں۔ — پی پی آئی/فائل

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ کراچی میں عید کی خریداری صرف رمضان المبارک میں کی جاتی ہے تو یہ بات غلط ہے۔ کراچی شہر میں عید کی خریداری کے لیے مختلف رجحانات پائے جاتے ہیں۔ شہر میں خریداری کا سیزن شعبان سے شروع ہوتا ہے اور رمضان کے آخری عشرے میں اپنی انتہاء پر پہنچ جاتا ہے۔ مگر عید کے بعد شروع ہونے والے شادی کے سیزن کے لیے بھی خریداری جاری رہتی ہے جو ذوالحج آتے آتے عیدِ الاضحیٰ کی شاپنگ میں بدل جاتی ہے۔ اس طرح شہر میں شعبان سے ذوالحج تک خریداری کا سیزن تقریبا 5 ماہ تک چلتا ہے۔

وہ لوگ جو رمضان المبارک کی عبادات کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں اور روزے میں بازار جانے سے بچنا چاہتے ہیں، وہ عید کے لیے خریداری شعبان کے شروع ہوتے ہی شروع کردیتے ہیں۔ مجھ جیسے اور دیگر افراد بھی رمضان سے پہلے پہلے خریداری مکمل کر لیتے ہیں مگر پھر بھی کچھ نہ کچھ تیاری رہ ہی جاتی ہے جیسا کہ اس مرتبہ بھی ہوا، جبکہ دیگر افراد جن میں زیادہ تر تنخواہ دار طبقہ شامل ہے وہ عید کی خریداری کے لیے رمضان کے دوسرے اور تیسرے عشرے میں رات کے وقت خریداری کو ترجیح دیتے ہیں۔

کراچی شہر میں عید کی خریداری کے لیے کتنی سرمایہ کاری کی جاتی ہے اس کے حتمی اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔ کراچی تاجر اتحاد کے سربراہ عتیق میر کا دعویٰ ہے کہ عید کی شاپنگ کے لیے دکانداروں نے 100 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی ہے۔ عید کے موقع پر نہ صرف ملبوسات، جوتے، چپل، میک اپ، جیولری کی خریداری کرتے ہیں بلکہ گھروں میں فرنیچر، پردے، قالین اور گھروں کی آرائش کی دیگر اشیاء کی بھی بڑے پیمانے پر خریداری کی جاتی ہے۔

میرا بینک اکاونٹ بھی زینب مارکیٹ میں واقع ایک بینک میں ہے۔ چند روز قبل چیک جمع کروانے کے لیے بینک جانے کا اتفاق ہوا تو دیکھا کہ ایک لمبی قطار موجود ہے۔ کاؤنٹر پر موجود کیشیئر نے بتایا کہ لوگ تیزی سے رقوم نکلوا بھی رہے ہیں اور جمع بھی کروا رہے ہیں اور رمضان المبارک میں کام کم ہونے کے بجائے بڑھ گیا ہے۔ چیکس اور نقد جمع کروانے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا ہے۔

کراچی میں لڑکیاں عید کے لیے شاپنگ کرنے میں مصروف ہیں۔ — اے ایف پی/فائل
کراچی میں لڑکیاں عید کے لیے شاپنگ کرنے میں مصروف ہیں۔ — اے ایف پی/فائل

زینب مارکیٹ میں گزشتہ 20 سال سے کپڑے کی دکان چلانے والے عبدالکریم کا کہنا تھا کہ ہر سال جب عید کا موقع ہوتا ہے تو کاروبار میں تیزی ہوتی ہے مگر گزشتہ چار سال سے شہر میں عید کے موقع پر جو تیزی دیکھ رہے ہیں وہ اپنی زندگی میں پہلے نہیں دیکھی ہے۔

پہلے عید کے لیے جو سامان بنواتے تھے اس میں سے کچھ نہ کچھ بچ جاتا تھا جس کو عید کے بعد بیچ لیتے تھے۔ مگر اب تو ایسا ہوگیا ہے کہ مال تین سے چار مرتبہ آرڈر کرنا پڑتا ہے اور پہلے جو کارخانے والا منت کرتا تھا کہ مال اٹھا لو پیسے بعد میں دے دینا اب وہ نقد پر بھی مال دینے کو تیار نہیں ہے۔ گزشتہ سالوں میں دھندے میں مندی کی وجہ سے بہت سے دکانداروں کو کنگال ہوتے بھی دیکھا ہے اور ہر سال ایک یا دو دکاندار مندی کی وجہ سے دکانیں بند کر دیتے تھے۔ مگر اب دھندا اتنا ہے کہ مارکیٹ میں کوئی دکان ایسی نہیں ہے جو کہ خالی ہو۔ اب مندی نہیں بلکہ دکانوں کا بڑھتا ہوا کرایہ مار رہا ہے۔

کراچی کے مضافاتی علاقے ملیر میں واقع لیاقت مارکیٹ میں بھی عید کے موقع پر کاروبار میں بہت تیزی رہتی ہے۔ جہاں جیولری، ملبوسات کی خصوصی خریداری کی جاتی ہے۔ وہاں ہمارے دوست حسین کی دکان ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب سے شہر میں امن میں بہتری آئی ہے مجموعی کاروبار میں اضافہ تو ہوا ہے۔ مگر عید پر تو خریداری ریکارڈ ہوتی ہے اور سال بھر کا خرچہ عید کی خریداری میں نکل جاتا ہے۔

سال کے باقی مہنیوں میں ایک فرد کو ملازم رکھتے ہیں مگر عید کے لیے شعبان سے ذوالحج تک 2 سے 3 اضافی لڑکوں کو رکھنا پڑتا ہے اور سرکاری نوکری کرنے والا بھائی بھی عید پر چھٹیاں لے کر دکان میں ہاتھ بٹاتا ہے کیوں کہ کام بڑھنے کے ساتھ ساتھ دکان کھولنے کا وقت بھی بڑھ جاتا ہے۔ ویسے تو عام طور پر دکان دوپہر 12 بجے سے رات 9 بجے تک کھولتی ہے۔ مگر عید کے آخری دنوں میں دکان دن 12 بجے کھلتی ہے اور رات بند کرنے کا کوئی وقت نہیں ہے۔ کیوں کہ عید کے دنوں میں گاہک ہر وقت ہی موجود رہتے ہیں۔

اورنگی ٹاون میں بنارس کی مارکیٹ اپنے ملبوسات کی وجہ سے مشہور ہے۔ وہاں پر غیر برانڈڈ ریڈی میڈ کپڑوں کی سلائی کا کارخانے کے مالک جواد بھائی کا کہنا ہے کہ وہ مردوں کے شلوار قمیص تیار کرتے ہیں۔ ان کے پاس پہلے 20 سلائی مشینیں تھیں جو کہ اب تقریبا 80 سے تجاوز کر گئی ہیں۔ جواد بھائی کا کہنا ہے کہ کام تو مزید بھی ملتا ہے مگر اس سے زیادہ کام پکڑنے کی سکت نہیں ہے اور اگر زیادہ کام پکڑیں تو کپڑوں کا نقص بڑھ جاتا ہے۔

جواد بھائی نے انکشاف کیا کہ بھائی اب تو سلائی کا کاری گر ہی نہیں ملتا ہے۔ پہلے ہم چار کلیوں اور آٹھ کلیوں والا کرتا بھی سیتے تھے۔ دامن پر ہاتھ سے ترپائی ہوتی تھی۔ اب تو کلیوں والے کرتے بھی لوگ بھول گئے ہیں۔ اور ہاتھ سے ترپائی تو کرنے والا کوئی بچا ہی نہیں۔

کراچی کی ایک مارکیٹ میں خواتین کپڑے پسند کر رہی ہیں۔ —اے ایف پی/فائل
کراچی کی ایک مارکیٹ میں خواتین کپڑے پسند کر رہی ہیں۔ —اے ایف پی/فائل

جواد بھائی کا کہنا ہے کہ کراچی کے علاوہ ملک کے دیگر شہروں سے بھی انہیں سلے سلائے کپڑوں کے آرڈر موصول ہوتے ہیں اور اب تقریباً سارا سال ہی کام چلتا رہتا ہے۔ پہلے رمضان المبارک سے قبل سپلائی دے کر فارغ ہو جاتے تھے مگر گزشتہ تین سال سے اضافی آرڈر بھی آنے لگے ہیں۔ ان کے علاوہ دیگر لوگوں نے بھی سلائی کے کارخانے کھول لیے ہیں۔ جواد بھائی کا کہنا ہے کہ وہ اپنے پرانے گاہکوں کو ہی ادھار پر مال سپلائی کرتے ہیں جو انہیں پیسوں کے معاملے میں تنگ نہیں کرتے ہیں اور نئے افراد کے ساتھ صرف نقد پر کام کیا جاتا ہے، مگر طلب کی وجہ سے بہت سے لوگ نقد یا کم از کم 50 فیصد ادائیگی کر کے مال اٹھاتے ہیں۔

کراچی شہر میں عید کی خریداری ہمیشہ سے اتنی تیز نہ ہوا کرتی تھی۔ سال 2007 سے 2014 کے دوران عالمی معیشت، شہر میں امن و امان کی مخدوش صورتحال اور ملکی معیشت میں گراوٹ کی وجہ سے عید کی خریداری میں ہر سال گراوٹ دیکھی جارہی تھی اور شہر میں نئی مارکیٹوں میں بنائی گئی دکانیں جو کہ اس وقت آباد ہیں کئی سال تک خالی پڑی رہیں۔

اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ شہر میں امن قائم ہونے کی وجہ سے کراچی کی معاشی سرگرمیوں میں بہت تیزی آئی ہے اور ہر گزرتے سال کراچی میں عید کی خریداری میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اور اس سال بھی گزشتہ سال کے مقابلے میں عید کی خریداری زیادہ رہی ہے۔ اور سابقہ تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں۔


راجہ کامران گزشتہ 15 سال سے صحافت کے پیشے سے وابستہ ہیں اور اس وقت نیو ٹی وی میں بطور سینئر رپورٹر کام کر رہے ہیں۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔