اسرائیل کی نسلی عصبیت کا مستقبل خطرے میں؟

03 اگست 2018

ای میل

1961ء میں جب اسرائیل نے اقوامِ متحدہ میں نسلی عصبیت کے خلاف ووٹ دیا تو اپنے ہی ملک میں سرکاری سرپرستی کی حامل نسلی عصبیت کے منصوبہ ساز کے طور پر بدنام جنوبی افریقا کے وزیرِ اعظم ہینرک ورورڈ نے مشرقِ وسطیٰ کی اس نئی نویلی ریاست کو تضاد کا ملزم ٹھہرایا تھا۔

بینرک ورورڈ نے کہا تھا کہ ’اگرچہ عرب وہاں ایک ہزار سال سے مقیم تھے، لیکن اس کے باوجود انہوں نے اسرائیل کو عربوں سے لے لیا۔ اور میں ان سے اتفاق کرتا ہوں کہ اسرائیل بھی جنوبہ افریقا کی طرح نسل پرست ریاست ہے۔‘

امکان نہیں کہ اس موازنے سے اسرائیل کے وزیرِ اعظم ڈیوڈ بن گوریان خوش ہوئے ہوں گے، جنہوں نے نجی طور پر 1967ء میں ریٹائرمنٹ سے ابھرنے سے طویل عرصہ پہلے ہی فلسطینی مزاحمت کے جواز اور منطق کو تسلیم کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل کو 6 روزہ جنگ میں ہتھیائی گئی زمینیں واپس کردینی چاہیئں ورنہ یہ قبضہ اسرائیل کو مسخ کردے گا۔

آدھی صدی سے صرف تھوڑے ہی عرصے بعد یہ بات اُس وقت کسی حد تک سچ ثابت ہوگیا جب اسرائیلی پارلیمنٹ 'نیسیٹ' نے مؤثر طور پر 1948ء کے اعلانِ آزادی، جس میں اسرائیل کے تمام رہائشیوں کے لیے نسلی، مذہبی اور صنفی تفریق کے بغیر ’مکمل مساوی سماجی اور سیاسی حقوق کا وعدہ کیا گیا تھا‘ کو اٹھا کر ایک طرف کردیا۔

مزید پڑھیے: ہندوستان اور اسرائیل گٹھ جوڑ: مگر کس کے خلاف؟

اس کے برعکس گزشتہ ماہ کی قانون سازی باقاعدہ طور پر حقِ خودارادیت کو ’یہودی لوگوں کے لیے مخصوص‘ قرار دیتی ہے۔ اس قانون سازی کے تحت 22 فیصد اسرائیلی آبادی کی مادری زبان عربی کا رتبہ بھی سرکاری زبان سے گھٹا کر ’خصوصی حیثیت کی حامل‘ زبان کا کردیا ہے۔

اسرائیلی پالیسیوں کا ایک طویل عرصے سے نسلی عصبیت کے ساتھ موازنہ کیا جاتا رہا ہے جو اتفاق سے جنوبی افریقا نے اُسی سال باقاعدہ نافذ کی تھی جس سال اسرائیل ایک آزاد مملکت کے طور پر ابھرا تھا اور یہ موازنہ نہ صرف ڈیسمنڈ ٹوٹو اور جمی کارٹر جیسے لوگوں نے کیا، بلکہ اسرائیل کے اندر بھی کئی دانشور اور نامور سیاستدان اس بات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

اس نسلی عصبیت کو اب ’یہودی آبادکاریوں کو قومی اثاثہ‘ قرار دے کر اور ’ان کے قیام اور ان کے فروغ کی حوصلہ افزائی‘ کا عہد کرکے سرکاری حیثیت دے دی گئی ہے۔ اسرائیل کی ایسوسی ایشن آف سول رائٹس کے مرکزی قانونی مشیر ڈین یاکر نے اس قانون کو ایک 'نسل پرست قانون' قرار دیا ہے۔ اس قانون کے واضح ارادوں میں سے ایک مغربی کنارے میں یہودی آبادکاری ہے۔ ایک اور مقصد مشرقِ وسطیٰ کے مسئلے میں 2 ریاستی حل کے ناممکن قرار پائے جانے کے بعد ایک ریاستی حل کے امکان کو بھی رد کر دینا ہے۔

حیرت کی بات نہیں کہ 'بین الاقوامی برادری' نے بمشکل ہی اس پر ردِعمل دیا ہے۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصے تک اقوامِ متحدہ نے نسلی عصبیت سے نظریں چراتے ہوئے اسے جنوبی افریقا کا اندرونی مسئلہ قرار دیا تھا۔ یہاں تک کہ جب 1960ء کے شارپ وِل قتلِ عام کے بعد بین الاقوامی رویہ تبدیل ہونے لگا، اس کے 2 دہائیوں بعد بھی رونالڈ ریگن اور مارگریٹ تھیچر کی حکومتیں جنوبی افریقا پر پابندیوں کے خلاف تھیں۔

اسرائیل کے معاملے میں اس کی لابنگ کی عالمی طاقت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے یہ تبدیلی اور بھی زیادہ مشکل ہوگی اور یہ کہ اس ریاست کی جانب سے انسانی حقوق کی شرمناک خلاف ورزیوں کو افسوسناک طور پر فوراً یہود مخالف رویہ قرار دے دیا جاتا ہے۔

یہ رجحان دہائیوں سے موجود رہا ہے مگر برطانیہ میں اس کا حالیہ مظہر روایت سے ہٹ کر ہے۔ وہاں پر قائد حزبِ اختلاف کے خلاف یہود مخالف ہونے کا تاثر اور کبھی کبھی براہِ راست الزام لگا کر انہیں ہٹانے کی بھرپور کوشش کی جا رہی ہے۔ گزشتہ ہفتے یہودی برادری کے 3 اخبارات لیبر پارٹی کے رہنما جیریمی کوربن کے خلاف مہم کو یہ دعویٰ کرکے ایک نئی مضحکہ خیز سطح پر لے گئے کہ ان کی زیرِ سربراہی حکومت میں برطانوی یہودیوں کو ’وجود کا خطرہ‘ لاحق ہوجائے گا۔

بریگزٹ (Brexit) کی افراتفری کے درمیان جب تھیریسا مے کو کنزرویٹو پارٹی کی صفوں سے بغاوت کا سامنا ہے تو نئے عام انتخابات کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ جیریمی کوربن کی سربراہی میں لیبر پارٹی کی حکومت آجائے۔ زیادہ تر صیہونیوں کے لیے یہ تصور ہی خوفناک ہے کہ کوئی مغربی رہنما کھلے عام فلسطینی حقوق کی بات کرے۔ چنانچہ انہیں کامیاب نہیں ہونے دیا جاسکتا اور لیبر پارٹی کے کئی ارکانِ پارلیمنٹ اس منصوبے میں ملوث ہیں۔

مزید پڑھیے: کیا سعودی ولی عہد اسرائیل کو تسلیم کرنے والے ہیں؟

تازہ ترین بکھیڑا لیبر پارٹی کی جانب سے انٹرنیشنل ہولوکاسٹ ریمیمبرینس الائنس (آئی ایچ آر اے) کی جانب سے سامیت مخالفت کی متعین کردہ تعریف اپنائے جانے کی وجہ سے ہے۔ اس میں متن کو ملحوظِ خاطر رکھا گیا ہے جو کہ اپنے آپ میں کافی بڑی رعایت ہے. چوں کہ قومیت اور مذہب کی تفریق سے بالاتر ہو کر ہر طرح کی نسل پرستی پر پابندی کافی ہونی چاہیے تھی، مگر اس نے اب تک آئی ایچ آر اے کے نشاندہی کردہ 11 'مثالوں' میں سے 4 کو قبول کرنے سے انکار کردیا ہے، جن میں سے چند مبیّنہ طور پر اسرائیل پر جائز تنقید کو بھی صرف اس لیے غیر قانونی قرار دے دیتے ہیں کیوں کہ اسرائیل خود کو بلاشرکتِ غیرے یہودی مملکت قرار دیتا ہے۔

لیبر پارٹی کی جانب سے جوابی حملے کو مزید سخت و جارحانہ ہونا چاہیے تھا، کیوں کہ برطانوی یہودیوں، بشمول سماجی کارکنوں، اساتذہ اور دیگر دانشوروں کی بڑی تعداد، جس میں سے کئی نے غزہ میں اسرائیل کے قتلِ عام کے خلاف مظاہروں میں بھی حصہ لیا ہے، صیہونیت پسند لابی کے اقدامات پر حیران ہے۔

اس کے علاوہ بینجمن نیتن یاہو پولینڈ اور ہنگری کی سامیت مخالف حکومتوں کے ساتھ ہنستے بولتے نظر آتے ہیں، ٹرمپ کا تو ذکر ہی نہ کریں۔

دوسری جانب اسرائیل کو اپنی قبر خود کھودنے سے روکنے کے لیے کوئی بھی معنی خیز محرکات کو ملک کے اندر سے ہی آنا ہوگا۔

یہ مضمون ڈان اخبار میں 1 اگست 2018 کو شائع ہوا۔

انگلش میں پڑھیں۔