میڈیا ہاؤسز کو ’بزنس ماڈل‘ کی تبدیلی کا مشورہ کیوں؟

اپ ڈیٹ 26 جنوری 2019

ای میل

سوشل میڈیا پر صحافتی اداروں کی بندش اور ملازمین کو جبری برطرف کیے جانے کی مایوس کن خبریں جاری ہیں۔ عدم اطمینان اور تشویش کے سائے دیگر مستحکم صحافتی اداروں کے ملازمین پر بھی منڈلا رہے ہیں۔

گزشتہ دنوں صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری کی جانب سے میڈیا ہاؤسز کو سرکاری اشتہارات پر انحصار کرنے کے بجائے اپنا بزنس ماڈل تشکیل دینے کا ’مشورہ‘ تابوت میں آخری کیل کے مترادف سمجھا جائے تو کچھ غلط نہیں ہوگا۔

یقیناً یہ اس امر کی جانب اشارہ ہے کہ حکومت کو محسوس ہوگیا کہ محکمہ انفارمیشن میں اشتہارات کی بندر بانٹ سے چلنے والے ڈمی اخبارات کا قلع قمع کرنے کے لیے کریک ڈاؤن کی پالیسی اپنانے کے بجائے اشتہارات ہی بند کردیے جائیں۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حکومت نے محکمہ آڈٹ بیورو سرکولیشن (اے بی سی) کی ’کرپشن‘ کو بے نقاب کرنے کے بجائے پورے محکمے کو ہی ’بائے پاس‘ کرنے کا ارادہ کرلیا۔ گزشتہ چند مہینے پہلے ہی احتساب بیورو کے اہلکار محکمہ انفارمیشن کے دفتر سے فائلوں کا پلندہ ساتھ لے گئے اور یقیناً وہ ابھی ڈمی اخبارات کو ’نوازنے‘ کا پیمانہ جانچ رہے ہوں گے۔

بہرحال ایڈیٹرز کی نمائندہ تنظیم (سی پی این ای) کے کنوینشن میں صدرِ مملکت کا بیان سمجھداروں کے لیے دو ٹوک تھا۔ لہٰذا صحافیوں کی نمائندہ تنظیمیں بھی اب اپنا ’قبلہ‘ درست کرکے نیوز پیپر ایمپلائز ایکٹ 1973ء کو روبہ عمل بنانے کے لیے سنجیدہ جدوجہد کا آغاز کرلیں تو بہتر ہے۔

لیکن ان سارے بیانات اور ارادوں سے ایک بڑا سوال سر اٹھائے کھڑا ہے کہ اگر سرکاری اشتہارات بند یا محدود ہوئے تو اگلے چند برس میں آزادی صحافت کو کس طرح کے خطرات لاحق ہوں گے؟ اور خبروں، تجزیوں اور تبصروں کے لیے میڈیا کا کون سا ذریعہ مقبولِ عام ہوگا؟


پاکستان میں میڈیا کی اگلی شکل کیا کیا روپ اختیار کرسکتی ہے؟


آزادی صحافت اور معلومات کی ترسیل

ممالک کی تخصیص کیے بغیر آزادی صحافت ہر دور اور ہر ملک میں مختلف چینلجز سے دوچار رہتی ہے کیونکہ ’اس کا تعلق نظریے، سوچ، زوایے اور تفریق‘ سے ہے، لہٰذا سوچ کا ٹکراؤ یقینی ہوتا ہے۔ پاکستان میں صحافت کا معیار پڑوسی ملک بھارت کے مقابلے میں بہرحال بہت بہتر ہے لیکن ملک میں آزادی صحافت کو سینسر شپ کے علاوہ بڑا خطرہ ’جانبدارخبروں‘ سے ہے اور جب تک اخبار کے مالک کو چینل کھولنے اور چینل کے مالک کو اخبار شائع کرنے کی اجازت واپس نہ لے لی جائے، یعنی معلومات کی تقسیم کے ذرائع پر کسی ایک ادارے یا فرد کی ملکیت کو ختم نہ کردیا جائے۔

پاکستان سمیت متعدد ممالک میں Cross-media Ownership پر پابندی ہے یعنی ایک شخص یا ادارہ ایک سے زائد میڈیا ہاؤس کا مالک نہیں ہوسکتا۔ اخبار کا مالک صرف اخبار نکالے گا لیکن پاکستان میں اخبار کا مالک اپنے کسی عزیز یا راشتے دار کے نام پر چینل کا لائسنس لے کر ’قانون سے کِھلواڑ‘ کرتا ہے، جسے کوئی پوچھنے والا نہیں۔ اس کمزوری کو قانون اور احتساب اداروں کی نااہلی قرار دیا جاسکتا ہے۔

بطورِ طالبعلم میرا استدلال ہے کہ ’اشتہارات کی مد میں کرپشن کا سلسلہ محکمہ ’اے بی سی‘ سے شروع ہوتا ہے۔ سندھ میں ہزاروں ڈمی اردو اور سندھی اخبارات کے پاس محکمہ ’اے بی سی‘ کا سرٹیکفیٹ موجود ہے جس پر ان کی سرکولیشن 50 ہزار سے 1 لاکھ درج ہیں تاہم مارکیٹ میں اس کی کاپیاں محض انگلیوں پر گنی جاسکتی ہیں۔ لیکن ہاں، اگر مستقبل میں سرکاری اشتہارات کو محدود کیا گیا تو ان ’ڈمی اخبارات‘ کو سب سے زیادہ نقصان ہوگا۔

نیوز ویب سائٹ / ویب ٹی وی

معلومات یا خبروں کی ترسیل کا عمل روایتی ڈگر سے ہٹ کر مغربی طرز اپنائے گا۔ پاکستان میں متعدد محققین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ آئندہ چند برسوں میں میڈیا ہاؤسز اپنی نیوز ویب سائٹ (ویب ٹی وی) متعارف کرانے پر مجبور ہوں گے کیونکہ پاکستان میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے، بڑی تعداد میں لوگ انٹرنیٹ کے ذریعے اپنے موبائل یا کمپیوٹر سے خبروں یا تبصروں سے اپنی تسلی حاصل کرتے ہیں۔

سبسکرپشن

میڈیا ہاؤس اپنی معاشی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے سبکرپشن کی مد میں ماہانہ یا سالانہ معمولی فیس رکھیں گے۔ یعنی اخبار پڑھنے یا چینل دیکھنے کے لیے فیس ادا کرنی ہوگی۔ ظاہر ہے، تب میڈیا ہاؤس کی جانبداری کا رجحان کم ہوجائے گا اور جو ادارہ بھی متوازن اور غیر جانبدار خبریں، تبصرے اور متنوع مواد پیش کرے گا، جیت اسی کی ہوگی۔ گویا، ہمارے اخبارات اور چینلز پر ’مغربی طرز کی صحافت کی جھلک‘ نظر آئے گی۔

عین ممکن ہے کہ علاقائی زبان میں چھپنے والے اخبارات کے قارئین سبکریشن کی جھنجھٹ کو قبول نہ کریں، بلکہ یہ بھی عین ممکن ہے کہ اردو اخبار کے قارئین کو بھی یہ سمجھنے میں تھوڑا وقت لگے کہ دنیا بھر میں میڈیا ہاوسز اسی طرح کام کرتے ہیں۔ مثلاً نیویارک ٹائمز، وال اسٹریٹ جرنل اور واشنگٹن پوسٹ نے اخبارات کی سرکولیشن کو انتہائی محدود کرلیا اور اب صرف امریکا کی بعض مشرقی ساحلی ریاستوں میں قارئین کے لیے یہ سروس موجود ہے لیکن دنیا بھر میں موجود قارئین سبکریشن کی ادائیگی کے ذریعے ہی ان کی رپورٹس کا مطالعہ کرتے ہیں۔

اس ضمن میں ایک اور مثال پیش خدمت ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے دی گارجین نے معاشی بحران کے باعث اپنے اخبار کی طباعت بند کردی لیکن صحافت نیوز ویب سائٹ کے ذریعے قائم ہے۔ دی گارجین کی ویب سائٹ پر کوئی اشتہار شائع نہیں ہوتا لیکن ایک پیغام قارئین کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے جو کئی اعتبار سے انتہائی جذباتی ہے۔ اس پیغام کا خلاصہ یہ ہے کہ ’جناب قارئین! ہم آپ کو دنیا بھر کی خبریں اور بہتر تبصرے بغیر کسی ادائیگی کے فراہم کرتے ہیں، اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ہماری صحافت کا معیار اعلیٰ درجے کا ہے تو ایک ڈالر عطیہ کردیں تاکہ متوازن اور غیر جانبدار معلومات کی ترسیل کا عمل جاری رہے‘۔

مغربی ممالک کے تمام بڑے صحافتی ادارے اپنے قارئین کے لیے تفتیش و تحقیق پر مبنی مواد ڈالتے ہیں اور قارئین طے شدہ ادائیگی کے بعد رپورٹ کا مطالعہ کرتے ہیں۔ یہ طریقہ پاکستان میں بھی تیزی سے رائج ہوجائے گا۔

قارئین اور ناظرین ادائیگی کے بعد ہی اپنا پسندیدہ اخبار پڑھ یا چینل دیکھ سکیں گے۔ جب ترجیحات عوام کی ہوں گی تو بدرجہ مجبوری میڈیا ہاؤسز ان کے مسائل پر مبنی پروگرام اور خبریں نشر کرنے میں زیادہ دلچسپی لیں گے۔ یعنی قومی نوعیت کے مسائل کے علاوہ ضلعی مسائل پر سیر حاصل رپورٹنگ ہوگی اور اس طرح سماجی نوعیت کے اہم مسائل پر ترتیب وار پروگرامز اور خبریں صفحہ اول پر اپنی جگہ بنا پائیں گے جبکہ صحفہ اول پر غیر اہم سیاسی ’جھاڑ جھنکار‘ اور نیم دراز لڑکیوں کے بڑے اشتہارات کا سلسلہ تھم جائےگا۔

یوں صحافتی اداروں کی ساری ترجیحات ٹھیک موضوع کے انتخاب اور اس پر غیرجانبدار تحقیقی رپورٹس پیش کرنے پر مرکوز ہوسکے گی تاکہ زیادہ سے زیادہ قارئین سبکریشن کے ذریعے ادائیگی کریں اور ادارہ اپنے مالی اخراجات پورے کرسکے۔

میڈیا کا مقبول عام ذریعہ

تمام صحافتی اداروں کی ترجیح نیوز ویب سائٹ (ویب ٹی وی) بن جائے گی۔ جہاں صرف 'ہر فن مولا' صحافی ہی قابل قبول ہوگا۔ مطلب وہ صحافی جسے صرف خبر بنانا ہی نہیں بلکہ اچھی خبروں کی سلیکشن سے لے کر خبر کی بہترین پریزنٹیشن کے اصول بھی اسے معلوم ہو۔ صرف یہی نہیں بلکہ اس کے لیے یہ لازم ہو کہ اسے تصویر اور ویڈیو کی ایڈیٹنگ بھی کرنا آتی ہو۔ کیونکہ جب آمدن کم ہوجائے گی تو پھر میڈیا ہاؤسز ضرورت سے زیادہ اسٹاف رکھنے کو ’کفر‘ محسوس کریں گے۔ خبروں، تبصروں اور رپورٹس کے لیے صحافیوں کے علاوہ فری لانس صحافیوں کی بڑی تعداد منظرِ عام پر آئے گی۔ یعنی، میڈیا ہاؤسز روایتی خبروں سے ہٹ کر جو مواد پیش کریں گے وہ ممکنہ طور پر فری لانس صحافی کی مرہون منت ہوگا۔

ابھی کیا ہورہا ہے؟

گزشتہ چند برس سے پاکستان میں صحافت کو ایک مشکل درپیش ہے، جسے ’انٹرویو مبنی صحافت‘ بمقابلہ ’تحقیقی صحافت‘ کہا جاسکتا ہے۔ وسائل کو بچانے اور زیادہ سے زیادہ خبریں پیدا کرنے کے لیے انٹرویو پر مبنی صحافت اپنے عروج پر ہے۔ احتساب عدالت سے نکلنے والے سیاستدان، پروگرام میں مدعو کیے گیے سیاسی تنظیموں کے نمائندوں کی یکطرفہ باتوں یا لعن طعن کو خبر کا روپ دے کر ریٹنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ اس ضمن میں متنازع تبصرے کو مزید بھڑکانے کے لیے مخالف سیاسی جماعت کا موقف شامل کرلیا جاتا ہے اور یوں الزام تراشی سے ناظرین اور قارئین دونوں ہی ’ہوا میں مولق‘ رہتے ہیں۔ یقیناً تفیش یا تحقیقی رپورٹنگ کے نتیجے میں معیارِ صحافت بڑھے گا۔ خبروں میں توازن اور غیر جانبداری جھلکے گی۔

جس طرح ناظرین ’ڈراموں میں یکسانیت پر مبنی موضوعات سے دلبرداشتہ‘ ہیں اسی طرح ’لاحاصل سیاسی بحث و مباحثے‘ سے بھی خائف ہیں۔ صحافتی تاریخ میں دائیں اور بائیں بازوں کے صحافیوں کے مضامین میں جھکاؤ ملتا ہے لیکن واضح رہے کہ ’کسی بھی نوعیت کے خیالات یا نظریات کے پرچار کے لیے اخبارات میں آراء پر مبنی کالم ہوتے ہیں لیکن خبروں میں نظریات کا ’پیوند‘ لگانا فرائض سے ناانصافی اور قارئین کے ساتھ ظلم ہے۔ حالیہ عام انتخابات میں 2 بڑے چینلز کا سیاسی جماعتوں کی جانب جھکاؤ سب پر عیاں ہوچکا ہے اور ناقدین کے تلخ تبصرے ان کے مقدر بن چکے ہیں جو یقیناً صحافتی تاریخ میں بدترین مثال ہے۔

حالات اسی طرح رہے تو صورتحال آنے والے سالوں میں کیسی ہوسکتی ہے؟

  • یہ حقیقت تسلیم شدہ ہے کہ انٹرنیٹ کی بدولت بزنس سمٹ کر اسمارٹ موبائل فون پر آگیا ہے۔ سرکاری اشتہارات کی عدم فراہمی کے نتیجے میں پہلے تو وہ تمام نام نہاد صحافتی ادارے جو سرکاری اشتہارات یا ’سیاسی اثر و رسوخ‘ کی وجہ سے صحافت کی آڑ میں اپنے ’امور سیدھے‘ کرنے میں مصروف تھے، گمنام ہوجائیں گے کیونکہ اچھا کام کرنا تو دُور کی بات، ان کے بس میں تو کام کرنا بھی نہیں ہے.
  • اس ضمن میں قابلِ ذکر امر یہ ہے کہ اخبارات، چینل اور نیوز ویب سائٹ ’دقیانوسی موضوعات‘ سے کنارہ کشی اختیار کرکے ’منفرد و متنوع موضوعات‘ زیرِ بحث لائیں گے جس کا معیار اور مقدار دونوں ہی قابلِ ستائش ہوگا۔
  • شخصی صحافت کا سلسلہ قیامِ پاکستان کے بعد اختتام پذیر ہوا اور ساتھ ہی عالمگیریت کے سائے میں صحافتی صنعت درجہ اختیار کرگئی۔ پاکستان میں گزشتہ 20 برس کے دوران صحافتی ادارے مجموعی طور پر ’معاشی اعتبار‘ سے مستحکم ہوئے لیکن صحافت اور صحافی ملازمین کے حالات درگرگوں ہی رہے۔ ملک میں آزادی صحافت کی بقاء کے لیے میڈیا ہاؤس مالکان سمیت صحافیوں نے ہر فورم پر آواز اٹھائی لیکن صحافیوں کو حاصل آئین کی رُو سے ملنے والے حقوق ہمیشہ ’غیر اہم موضوعات‘ رہے۔ بشمول صحافیوں کی نمائندہ تنظیمیوں کی جانب سے کوئی قابل ذکر تحریک نظر نہیں آتی۔
  • مجموعی صورتحال کے نتیجے میں صحافتی ادارے اگلے ایک سے دو برس میں ’مالی بحران‘ کی وجہ سے کئی سو ملازمین کو برطرف کردیں گے اور صرف وہ ہی صحافی اور دیگر ملازمین ادارے کا حصہ رہیں گے جو ’ہر فن مولا‘ ہوں گے۔ لیکن فری لانس صحافی، لکھاری، وی بلاگر کی اہمیت بڑھ جائے گی۔