مقبوضہ کشمیر: حریت رہنما یٰسین ملک کی بھوک ہڑتال 12ویں روز میں داخل

اپ ڈیٹ 22 اپريل 2019

ای میل

یٰسین ملک کے مطابق آزادی کے حصول کے لیے وہ اپنی پوری زندگی جیل میں گزارنے اور تشدد برداشت کرنے کے لیے تیار ہیں — فائل فوٹو/ اے ایف پی
یٰسین ملک کے مطابق آزادی کے حصول کے لیے وہ اپنی پوری زندگی جیل میں گزارنے اور تشدد برداشت کرنے کے لیے تیار ہیں — فائل فوٹو/ اے ایف پی

سری نگر: بھارت کے زیر تسلط کشمیر میں گرفتار حریت رہنما اور جموں کشمیر لیبریشن فرنٹ کے سربراہ یٰسین ملک کی بھوک ہڑتال 12ویں روز میں داخل ہوگئی جس کے بعد ان کی صحت کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق صحت خراب ہوجانے پر یٰسین ملک کو نشینل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے غیر قانونی حراست سے نئی دہلی میں رام منوہر لوہیہ ہسپتال منتقل کیا۔

خیال رہے کہ انہوں نے 12 روز قبل اپنی غیر قانونی حراست اور این آئی اے حکام کے رویے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔

مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر: حریت رہنماؤں کےخلاف کریک ڈاؤن، یٰسین ملک گرفتار

ان کے وکیل سومیت کوال نے حریت رہنما سے ہسپتال میں ملاقات کی، جنہوں نے ملاقات کے بعد ان کی حالت کو تشویشناک قرار دیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ انہیں ہسپتال کے ایسے کمرے میں رکھا گیا ہے جہاں کسی قسم کی وینٹیلیشن کا انتظام موجود نہیں جبکہ انہیں مستقل طور پر ہتھکڑیاں لگی ہوئی ہیں۔

یاد رہے کہ کشمیری حریت رہنما یٰسین ملک امراض قلب میں مبتلا ہیں اور مستقل طور پر زندگی بچانے والی ادویات کا استعمال کرتے ہیں، ان کی موجودہ حالت انتہائی تشویشناک ہے اور انہیں بات کرنے میں دشواری کا سامنا ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ یٰسین ملک کو کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت حراست میں لیے جانے کے بعد جموں کی کوٹ بھلوال جیل سے دہلی منتقل کیا گیا، بعد ازاں انہیں این آئی اے نے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا تھا اور رپورٹس کے مطابق انہیں انتہائی تنگ سیل میں قید کیا گیا جبکہ انہیں جسمانی اور ذہنی تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی وزیراعظم کی مقبوضہ کشمیر آمد پر حریت قیادت نظر بند، وادی میں ہڑتال

اس دوران حریت رہنما کے اہل خانہ اور وکیل کو ان کے حوالے سے معلومات فراہم نہیں کی گئیں، جس پر عدالت نے ان کے وکیل کو ملاقات کی اجازت دی جس کے بعد ان کی صحت سے متعلق چھپایا جانے والا سچ سامنے آیا۔

اپنے وکیل کے ذریعے ہسپتال سے دیئے گئے پیغام میں حریت رہنما کا کہنا تھا کہ آزادی کے طلب گار اور اس کے لیے جدو جہد کرنے والے ظلم اور تشدد سے نہیں گھبراتے۔

ان کا کہنا تھا کہ آزادی کے حصول کے لیے وہ اپنی پوری زندگی جیل میں گزارنے اور تشدد برداشت کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن وہ کبھی بھی بھارت کی جانب سے کشمیر میں اختیار کیے گئے غیر انسانی سلوک اور کالے قانون کے سامنے نہیں جھکیں گے۔

انہوں نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ یہ بات ہر شخص جانتا ہے کہ ان پر بنایا جانے والا نام نہاد دہشت گردی کی فنڈنگ کا کیس غلط ہے اور اس میں کوئی صداقت نہیں اور اس کا مقصد کشمیری حریت رہنماؤں کو بد نام کرنا ہے۔

مزید پڑھیں: بھارتی فورسز کی فائرنگ سے مزید 2 کشمیری نوجوان جاں بحق

علاوہ ازیں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے ترجمان نے مقبوضہ کشمیر سے جاری ایک بیان میں کشمیر کے دونوں جانب رہائش پذیر اور دنیا کے دیگر خطوں میں موجود کشمیریوں سے اپیل کی کہ وہ حریت رہنما یٰسین ملک کی صحت یابی کے لیے دعا کریں۔

خیال رہے کہ 23 فروری کو حریت رہنما میر واعظ عمر فاروق نے کہا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی پولیس نے جموں کشمیر لیبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے چیئرمین یٰسین ملک کو گرفتار کر لیا ہے۔

یہ بات بھی یاد رہے کہ مقبوضہ کشمیر کی بھارت نواز انتظامیہ اس سے قبل بھی متعدد مرتبہ کشمیری حریت رہنما یٰسین ملک کو غیر قانونی حراست میں رکھ چکی ہے اور نظر بند کر چکی ہے۔