مودی کا سری لنکا میں ایسٹر حملے کا شکار چرچ کا اچانک دورہ

10 جون 2019

ای میل

بھارتی وزیراعظم، مالدیپ سے واپسی کے دوران سری لنکا پہنچے—فوٹو:اے ایف پی
بھارتی وزیراعظم، مالدیپ سے واپسی کے دوران سری لنکا پہنچے—فوٹو:اے ایف پی

بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی سرکاری دورے پر سری لنکا پہنچتے ہی صدر دفتر جانے کے بجائے اچانک ایسٹر حملوں کا نشانہ بننے والے چرچ پہنچ گئے۔

خبر ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق نریندرا مودی، سری لنکا کے صدر میتھری پالا سیری سینا کے دفتر جاتے ہوئے راستے میں اچانک سینٹ انتھونی پہنچے جبکہ صدر دفتر میں ان کے استقبال کے لیے ریڈ کارپٹ اور ملٹری پریڈ منتظر تھا۔

ٹویٹر پر اپنے پیغام میں بھارتی وزیر اعظم نے کہا کہ ‘مجھے پختہ یقین ہے کہ سری لنکا دوبارہ ابھرے گا، دہشت گردی کا بزدلانہ واقعہ سری لنکا کے عزم کو شکست نہیں دے سکتا’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘بھارت یک جہتی کے طور پر سری لنکا کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے’۔

خیال رہے کہ نریندرا مودی پڑوسی ملک مالدیپ کے سرکاری دورے سے واپسی کے دوران سری لنکا بھی رکے تھے جبکہ مالدیپ میں کوسٹل ریڈار سسٹم اور ملٹری ٹریننگ سینٹر کا افتتاح کرلیا۔

پڑوسی ممالک کا مختصر اور اہم دورے کو نئی دہلی کی جانب سے خطے میں چین کے اثر ورسوخ کے مقابلے کے لیے اہم تصور کیا جارہا ہے۔

مالدیپ اور سری لنکا دونوں ممالک بھارت کے اہم پڑوسی اور سمندری راستوں کے حوالے سے نہایت اہم ہیں تاہم دونوں ممالک کی ماضی حکومتوں کے ساتھ مودی سرکار کے تعلقات موزوں نہیں تھے جبکہ مالدیپ کے عبداللہ یامین اور سری لنکا کے مہیندا راجاپکسے کو مالی اور سیاسی حوالے سے چین کی طرف جھکاؤ تھا۔

مالدیپ میں گزشتہ ستمبر میں عام انتخابات ہوئے تھے جہاں عبداللہ یامین کو شکست ہوئی تھی اور ان کے مخالف ابراہیم محمد صالح کو کامیابی ملی تھی جنہوں نے بھارت سے تعلقات استوار کر لیے ہیں۔

دوسری جانب سری لنکا میں 2015 میں اس وقت تبدیلی آئی تھی جب راجا پکسے کو شکست ہوئی تھی اور نئی حکومت نے بھارت سے تعلقات بحال کرلیے تھے۔

سری لنکا کی حکومت نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ وہ بھارت اور جاپان کے ساتھ شراکت داری میں نئی بندرگاہ تعمیر کریں گے جو چین کی500 ملین ڈالر کی خطیر رقم سے بننے والی بندرگاہ کے قریب ہے۔

تینوں ممالک نے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کو ایسٹ ٹرمینل آف کولمبو پورٹ کا نام دیا گیا تھا۔