ای میل

لیگی بمقابلہ انصافی بجٹ

راجہ کامران

جمہوری حکومتیں انتخابات میں عوام سے کیے گئے وعدوں اور اپنے منشور کے مطابق بجٹ میں رقوم کو مختص کرتی ہیں اور ٹیکس عائد کرتی ہیں۔ جمہوری حکومتوں میں بجٹ دراصل برسرِاقتدار جماعت یا اتحاد کے سیاسی منشور پر عملدرآمد کا آئنیہ دار ہوتا ہے، اس لیے کسی بھی حکومت کے پیش کردہ بجٹ کو نا صرف ایک سرکاری اخراجات اور آمدنی کے تخمینے کی حیثیت حاصل ہوتی ہے بلکہ یہ ایک سیاسی عزم کا عکاس بھی ہوتا ہے۔

پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت یہ دعوی کررہی ہے کہ یہ اس کا پہلا بجٹ ہے لیکن یہ بات مکمل طور پر ٹھیک نہیں کیونکہ اس سے پہلے یہ جماعت دو بجٹ پیش کرچکی ہے لیکن ہاں اس پر بھی اتفاق کیا جاسکتا ہے کہ حالیہ بجٹ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا مکمل طور پر تیار کردہ پہلا بجٹ ہے۔ اس بجٹ کے حوالے سے مختلف نوعیت کے تجزیات کیے جاسکتے ہیں اور اس کا دیگر کے ساتھ موازنہ کیا جاسکتا ہے۔ مطلب یہ کہ اس بجٹ کو پاکستان تحریکِ انصاف کے منشور اور انتخابی وعدوں کی روشنی میں دیکھا جاسکتا ہے اور اس منشور کا سابقہ حکومت کے بجٹ سے موازنہ بھی کیا جاسکتا ہے۔

پاکستان تحریکِ انصاف کے زبردست حمایتی اور کراچی ایوان تجارت و صنعت کے صدر جنید ماکڈا سے جب بجٹ کے اعلان کے بعد گفتگو ہوئی تو انہوں نے مایوسی کے عالم میں کہا کہ یہ بجٹ وہ نہیں جو منشور میں تحریک انصاف نے ہمیں دیا تھا بلکہ یہ تو نیا ہی بجٹ ہے۔

2019-20 کا بجٹ وزیر مملک برائے محصولات حماد اظہر نے پیش کیا۔
2019-20 کا بجٹ وزیر مملک برائے محصولات حماد اظہر نے پیش کیا۔

اس حوالے سے یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ تحریک انصاف کی ٹیم کو تجربہ نہیں تھا شاید یہی وجہ تھی کہ الیکشن سے قبل وہ بڑے بڑے دعوے اور وعدے کردیے۔

یہ بجٹ کیسا رہا؟ یہ جانچنے کے لیے ہم گزشتہ حکومت کے پہلے بجٹ کے ساتھ اس کا موازنہ کر رہے ہیں۔

اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت 5 سال میں بجٹ کے حجم کو 3985 ارب روپے سے 5661 ارب روپے تک لے آئی ہے۔ ایف بی آر کے محصولات میں تقریباً دگنے کا اضافہ ہوا اور ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو 9 فیصد سے بڑھا کر 12 فیصد تک لائی ہے۔ جبکہ بجٹ خسارہ جو کہ سال 13-2012 میں جی ڈی پی کا 8.8 فیصد تھا، 5 سال میں اس کو جی ڈی پی کا 5.5 فیصد کردیا گیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف نے اپنے بجٹ کا مجموعی حجم 7022 ارب روپے رکھا ہے۔ جس میں ایف بی آر کے محصولات کا ہدف 5551 ارب روپے مقرر کیا ہے۔ ٹیکس وصولی میں 1500 ارب روپے کے اضافے، دفاعی اخراجات میں اضافہ نہ کرنے اور کفایت شعاری مہم کے باوجود بجٹ خسارہ 3137 ارب روپے ہے جو کہ جی ڈی پی کا 7.1 فیصد ہے جبکہ ختم ہونے والے مالی سال میں بجٹ خسارہ 7.2 فیصد رہا ہے۔ جبکہ اس کا ہدف 5.5 فیصد رکھا گیا تھا۔ اس طرح تحریک انصاف کی حکومت میں بجٹ خسارہ 1.7 فیصد تک بڑھ گیا۔

وفاقی حکومت نے تعلیم کے لیے مختص بجٹ میں 20 فیصد کی نمایاں کمی کی ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تعلیمی امور کے لیے 77 ارب روپے رکھے گئے ہیں جبکہ گزشتہ مالی سال کے بجٹ میں 97 ارب روپے سے زائد مختص کیے گئے تھے، اس طرح وفاقی تعلیمی بجٹ میں 20 فیصد کی کٹوتی کردی گئی ہے۔

اس کے علاوہ وفاقی صحت کے بجٹ میں بھی کٹوتی کی گئی ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں صحت کے شعبے کے لیے 11 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ گزشتہ مالی سال میں یہ بجٹ تقریباً 14 ارب روپے تھا۔ یوں صحت کے بجٹ میں تقریباً 3 ارب کے کٹوتی ہوئی ہے جبکہ اس دوران مہنگائی کی شرح 10 فیصد کے قریب ہے اور ادویات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ بھی ہوا ہے۔ شعبہ صحت میں اس کٹوتی سے تشویش میں مزید اضافہ اس لیے ہوجاتا ہے کہ کراچی کے بڑے ہسپتال عدالتی حکم پر صوبے سے واپس وفاق کو منتقل کردیے گئے ہیں۔

بجٹ کی حکمت عملی یا رہنما اصول

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے بجٹ برائے سال 14-2013 کی حکمت عملی کا جائزہ لیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ حکومت کے بجٹ خسارے یا مالیاتی خسارے میں کمی، ٹیکسوں کی وصولی میں اضافہ، مہنگائی کی شرح میں کمی، توانائی کے بحران کا حل، سبسڈیز کو مخصوص طبقات تک براہ راست پہنچانا، بیرونی ادائیگیوں کے توازن کو بہتر کرنا، ملازمت کے مواقع پیدا کرنا، ترقی کے لیے سرمایہ کاری میں اضافہ، حکومت کے کاروباری اداروں کی تنظیمِ نو، کمزور طبقات کا تحفظ اہم اہداف تھے۔

جبکہ تحریکِ انصاف کے بجٹ کو پیش کرتے ہوئے حماد اظہر نے بجٹ کے رہنما اصولوں میں بیرونی خسارے میں کمی، مالیاتی خسارے میں کمی، ٹیکس وصولی میں اضافہ، کفایت شعاری، کمزور طبقات کا تحفظ، انسانی ترقی، سستے گھر اور افراط زر میں کمی کو شامل کیا۔

کابینہ کی جانب سے بجٹ 14-2013 کی منظوری دیے جانے کے بعد سابق وزیراعظم بجٹ دستاویر پر دستخط کر رہے ہیں۔
کابینہ کی جانب سے بجٹ 14-2013 کی منظوری دیے جانے کے بعد سابق وزیراعظم بجٹ دستاویر پر دستخط کر رہے ہیں۔

پاکستان میں زمینوں کی قیمتوں میں تیزی سے ہونے والے اضافے اور سرکاری رہائشی منصوبہ بندی نجی شعبے کے حوالے کرنے کے بعد گھروں کی قیمت میں ہوش ربا اضافہ ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے عام آدمی کے لیے گھر بنانا ایک خواب سا بن گیا ہے۔ اس وقت پاکستان میں تقریباً 50 لاکھ گھروں کی قلت ہے اور ہر سال 5 لاکھ گھروں کی قلت پیدا ہورہی۔

ہاؤسنگ کا شعبہ صنعتی ترقی کے لیے بھی اہم ہے اسی لیے مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے 1999ء میں میرا گھر اسکیم شروع کی تھی، جسے نواز شریف کی معزولی کے بعد ختم کردیا گیا تھا۔ مالی سال 14-2013 کے بجٹ میں 3 مرلے کی ہاوسنگ اسکیم کا اعلان کیا گیا جس میں مفت پلاٹس کی تقسیم کی جانی تھی۔ اس کے علاوہ کم آمدنی والے افراد کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت 500 گھروں پر مشتمل ایک ہزار کالونیوں کی تعمیر کا بھی اعلان ہوا تھا۔ جس میں مجموعی طور پر 5 لاکھ گھر بنائے جانے تھے۔ حکومت نے اس مد میں ساڑھے 3 ارب روپے مختص کیے جبکہ صوبہ پنجاب میں آشیانہ اسکیم شروع کرنے کا بھی اعلان ہوا۔ گھروں کی تعمیر کے لیے سستے قرض دینے کی اسکیم بھی متعارف کرائی گئی جس میں قرض لینے والے کو 8 فیصد مارک اپ ادا کرنے تھے جبکہ بقیہ ادائیگی حکومت کو کرنا تھی۔

تحریک انصاف کے منشور میں بھی 50 لاکھ گھروں کی تعمیر شامل ہے۔ تحریک انصاف نا صرف شہریوں کو سستا گھر فراہم کرنا چاہتی ہے بلکہ وہ اس کے ذریعے ملازمت کے مواقع پیدا کرنے اور ملک کی 28 صنعتوں کی ترقی چاہتی ہے۔ گھروں کے حوالے سے وزیر اعظم عمران خان نے اسلام آباد میں 25 ہزار اور بلوچستان میں ایک لاکھ 10 ہزار گھروں کی تعمیر کا افتتاح کردیا ہے۔ کم قیمت گھروں کے لیے بجٹ میں 5 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

سود میں جکڑی ہوئی معیشت

پاکستان کے بجٹ میں سب سے خطرنا ک ہندسے بڑھتے ہوئے سود کی ادائیگی کے ہیں۔ حکومت کو 7000 ارب روپے کے بجٹ میں سے 3000 ارب روپے کا سود ادا کرنا ہوگا، جبکہ سابقہ حکومت کے دور میں سود کی ادائیگی 1600 ارب روپے تھی۔ اس طرح محض ایک سال میں حکومتی قرضوں پر سود دگنا ہوگیا ہے۔ ایک سال میں سود میں اضافے کی وجہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے بنیادی شرح سود 6.75 فیصد سے بڑھا کر 12.25 فیصد کردینا ہے۔

حماد اظہر بجٹ 20-2019 پیش کر رہے ہیں۔
حماد اظہر بجٹ 20-2019 پیش کر رہے ہیں۔

شرح سود میں اضافے سے بینکوں کا منافع تو بہت بڑھ گیا مگر پاکستان سود کے جال میں دھنس گیا ہے۔ ماضی کی زیر عتاب مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی کی حکومتوں نے سود سے نجات کے لیے کچھ نہیں کیا اور اب تحریک انصاف نے بھی سود سے نجات کے لیے کوئی حکمت عملی اپنے بجٹ میں پیش نہیں کی ہے۔ سال 2006ء کے بجٹ میں پہلی مرتبہ سودی ادائیگی ملک کے دفاعی بجٹ سے زیادہ ہوگئی تھی۔

پاکستان کو آئندہ مالی سال سود کی ادائیگی کے لیے 28 ہزار ارب روپے خرچ کرنا ہوں گے۔ جس میں سے مقامی قرض کی مد میں 25 ہزار ارب روپے سے زائد جبکہ غیر ملکی قرض کی مد میں 3 ہزار 500 ارب روپے سے زائد خرچ کرنا ہوں گے جبکہ رواں مالی سال میں یہ 19 ہزار ارب روپے ہے۔ اس طرح مجموعی سود کی رقم میں تقریباً ایک ہزار ارب روپے کا اضافہ ہورہا ہے۔ اس ہوش ربا اضافے پر قابو پانا ہی تحریک انصاف کی حکومت کا اصل چیلنج ہے کیونکہ اس نے اپنے منشور اور انتخابی مہم میں قرضوں میں کمی کا وعدہ کیا تھا جو پہلے بجٹ میں پورا ہوتا نظر نہیں آرہا ہے۔

کمزور اور پسماندہ طبقات کے لیے اقدامات

پسماندہ افراد کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو نا صرف جاری رکھا بلکہ اس میں توسیع بھی کی۔ انکم سپورٹ پروگرام کے لیے مختص رقم کو 40 ارب روپے سے بڑھا کر 75 ارب روپے کردی گئی۔ ایک ہزار روپے کے ماہانہ الاؤنس کو بڑھا کر 1200 روپے مقرر کیا گیا۔ اس کے علاوہ قرض حسنہ اسکیم کے لیے 5ارب روپے مختص کیے گئے تھے۔

غریب، پسماندہ اور کمزور طبقات کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت نے ‘احساس‘ کے نام سے نئی وزارت قائم کردی ہے۔ یہ وزارت بیواؤں، انتہائی غریب، یتیم، بے گھر، معذور اور بے روز گار افراد کی مختلف منصوبوں کے ذریعے معاونت کرے گی۔ اس حوالے سے پاکستان تحریک انصاف نے لوگوں کو خوراک کی فراہمی کے لیے 10 لاکھ راشن کارڈ کی نئی اسکیم متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ بلاسود قرضے، خواتین کو رقوم اور موبائل فون کی فراہمی، معذور افراد کی بہبود، بچیوں کے وظائف میں اضافہ کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ، عمر رسیدہ افراد کے لیے احساس گھر پروگرام بھی شامل کیا گیا ہے۔

پسماندہ افراد کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو نا صرف جاری رکھا بلکہ اس میں توسیع بھی کی۔
پسماندہ افراد کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو نا صرف جاری رکھا بلکہ اس میں توسیع بھی کی۔

اتحادیوں کے اعتراض اور مطالبے کے باوجود حکومت بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ختم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے 57 لاکھ انتہائی غریب گھرانوں کی 5 ہزار روپے کی سہہ ماہی مالی معاونت میں 500 روپے کا اضافہ کر دیا گیا۔ اس مقصد کے لیے بجٹ میں 110 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو مزید 100 اضلاع تک توسیع دی جارہی ہے۔ بچیوں کا تعلیمی وظیفہ 750روپے سے بڑھا کر 1000 روپے کردیا گیا ہے، صحت انشورنس کے ذریعے 42 اضلاع میں 32 لاکھ غریب گھرانے صحت کی سہولیات حاصل کرسکیں گے جسے ڈیڑھ کروڑ انتہائی غریب اور پسماندہ خاندانوں تک پھیلایا جائے گا۔

کفایت شعاری

مسلم لیگ (ن) نے اپنے بجٹ 14-2013 میں کفایت شعاری کا اعلان کرتے ہوئے کابینہ کے وزراء کی تعداد کو 49 سے نا بڑھانے کا اعلان کیا۔ جبکہ وزیر اعظم کے دفتر کے ملازمین کی تنخواہوں اور مراعات کے علاوہ دفتر کے لیے مختص کردہ رقوم میں 45 فیصد کمی کرنے کا بھی اعلان کیا۔ حکومت کے مجموعی اخراجات میں 44 فیصد کمی کا بھی اعلان کیا جس سے 40 ارب روپے کی بچت کا عندیہ دیا گیا۔

تحریک انصاف کے بجٹ میں کفایت شعاری کو اہمیت دی گئی ہے۔ مالی سال 20-2019 میں سب سے زیادہ اہمیت کا حامل دفاعی بجٹ میں اضافہ نا کرنے کا اعلان تھا جبکہ حکومت نے بھی اپنے اخراجات میں 5 فیصد کمی کا اعلان کیا ہے۔ کابینہ میں پیش کردہ بجٹ تقریر میں وزراء اور دیگر عہدیداروں کی تنخواہوں میں 25 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی تھی لیکن وزیر اعظم نے اس اضافے کو مسترد کرتے ہوئے اپنی اور وزراء کی تنخواہوں میں 10 فیصد کی رضاکارانہ کٹوتی کا فیصلہ کیا۔

ترقیاتی بجٹ

مسلم لیگ (ن) کی گزشتہ حکومت کے پہلے بجٹ میں ترقیاتی اخراجات 360 ارب روپے سے بڑھا کر 540 ارب روپے کیے گئے اور طے پایا کہ وفاق اور صوبائی حکومتیں 615 ارب روپے کے ترقیاتی اخراجات کریں گی۔ ترقیاتی منصوبوں کی بدولت مجموعی قومی پیداوار کا 4.4 فیصد کا ہدف حاصل ہوگا۔ آبی وسائل کے لیے 59 ارب روپے کی سرمایہ کاری تجویز کی گئی تھی۔ جس میں چھوٹے ڈیم کینال اور کھالوں کے منصوبے شامل تھے۔

توانائی کے شعبے کے لیے 225 ارب روپے مختص کیے گئے جس میں 107 پی ایس ڈی پی اور بقیہ 118 واپڈا اور ذیلی اداروں میں خرچ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ مجموعی طور پر توانائی کے 13 منصوبوں پر کام اور ٹرانسمیشن لائن کی بہتری، گرڈ اسٹیشنز کی تعمیر اور تقسیم کے نظام کو مؤثر بنانے کا ارادہ کیا گیا۔

پاک چین اقتصادی راہدری کے حوالے سے پہلی مرتبہ اعلان کیا گیا تھا مگر اس کے خدوخال واضح نہ تھے۔ کاشغر سے گوادر تک جدید ایکسپریس وے اور ریلوے کے منصوبے کا اعلان کیا گیا۔ اس کے علاوہ گوادر پورٹ کو شمالی علاقوں سے جوڑنے کے لیے تربت، بسیما، رتوڈیرو، سکشن اور ایم 8 پر شاہراہوں کی تعمیر کے لیے رقم مختص کی گئی تھی۔ سابق وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کا اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ ہم گوادر کے ذریعے سے پاکستان کو ایک ایسا مرکز بنانا چاہتے ہیں جہاں سے بین الاقوامی تجارت چین، اور وسطی ایشیاء سے شروع ہوکر مغرب کی آخری حدود تک پہنچے۔ اگر پاکستان علاقائی تجارت کا صدر دروازہ بنتا ہے تو اس سے معاشی امکانات کی لاحدود راہیں کھلیں گی۔

ریلوے کو ایک کارپوریشن میں تبدیل کرنے، آزاد بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تشکیل، ریلوے میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ، ریلوے کی ترقی کے لیے 31 ارب روپے مختص کیے گئے، گوادر کو چین اور افغانستان تک ریل کے ذریعے ملانے کا منصوبہ بھی شامل رکھا گیا۔

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے قومی ترقیاتی پروگرام کے لیے 1863 ارب روپے مختص کیے ہیں جس میں سے 951 ارب روپے وفاق خرچ کرے گا۔ ترقیاتی بجٹ میں پانی کا نظام، نالیج اکانومی، بجلی کی ترسیل و تقسیم، کم لاگت والی پن بجلی کی پیداوار، سی پیک، انسانی اور سماجی ترقی میں سرمایہ کاری کے علاوہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کا ارادہ بھی کیا گیا ہے۔

اسحٰق ڈار اسمبلی میں بجٹ پیش کر رہے ہیں—اے ایف پی
اسحٰق ڈار اسمبلی میں بجٹ پیش کر رہے ہیں—اے ایف پی

آبی وسائل و توانائی: بجٹ میں آبی وسائل 70 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ دیامر بھاشا ڈیم کی زمین خریدنے کے لیے 20 ارب روپے اور مہمند ڈیم ہائیڈرل پاور کے لیے 15 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ توانائی کے لیے 80 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ داسو ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کے لیے 55 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ دیامیر بھاشا اور مہمند ڈیم کے لیے بھی رقوم مختص کی گئی ہیں۔

سڑک اور ریل: اس مقصد کے لیے 200 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ جن میں 156 ارب روپے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے ذریعے خرچ کیے جائیں گے۔ حویلیاں تھاکوٹ روڈ کے لیے 24 ارب، برہان ہکلا موٹروے کے لیے 13 ارب، پشاور کراچی موٹر وے کے سکھر ملتان سیکشن کے لیے 19 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

دیگر منصوبے: انسانی ترقی کے لیے آئندہ بجٹ میں 58 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے 43 ارب روپے کا ریکارڈ فنڈ رکھا گیا ہے۔ زراعت کی ترقی کے لیے 12 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ کوئٹہ اور کراچی کے لیے خصوصی ترقیاتی پیکج رکھے گئے ہیں۔

اعلیٰ تعلیم کے لیے اقدامات

پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے مالی سال 14-2013 کے بجٹ میں ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے لیے 18 ارب روپے مالیت کے ترقیاتی منصوبے اور دیگر تعلیمی منصوبوں کے لیے ایچ ای سی کو 39 ارب روپے دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس طرح 57 ارب روپے ایچ ای سی کے لیے رکھے گئے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے نوجوانوں کی تعداد 10 لاکھ سے بڑھا کر 12 لاکھ کرنے کا اعلان بھی کیا گیا۔

بیرون ملک اسکالرشپ کی تعداد 4249 سے بڑھا کر 6249 کرنے اور وزیر اعظم لیپ ٹاپ اسکیم میں بھی ایچ ای سی کے ذریعے لیپ ٹاپ دیے جانے کا اعلان ہوا۔ جبکہ پسماندہ اور ملک کے کم ترقی یافتہ علاقوں کے طالب علموں کی فیس ادائیگی اسکیم سرکاری جامعات سے ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ کرنے والے طلباء کی ٹیوشن فیس کی ادائیگی وفاقی حکومت نے اپنے ذمے لی اس اسکیم میں بلوچستان، فاٹا اور گلگت، جنوبی پنجاب، بہاولپور اور ملتان کے طلبہ کو شامل کیا گیا۔

پاکستان تحریک انصاف کے بجٹ میں نالیج اکانومی کے قیام کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت نے ایچ ای سی کے لیے 59 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ ترقیاتی اسکیموں کے لیے 29 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ گزشتہ سال 46 ارب روپے مختص کیے گئے تھے۔ اس میں 129 جاری اسکیموں جبکہ 17 نئے منصوبے شروع کرنے پر خرچ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے بجٹ میں نالیج اکانومی کے قیام کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے بجٹ میں نالیج اکانومی کے قیام کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

نوجوانوں کے لیے اعلانات

مسلم لیگ (ن) نے نوجوانوں کو اپنا کاروبار شروع کرنے کے لیے 20 لاکھ روپے تک آسان شرائط پر قرضے کی اسکیم متعارف کرائی جس میں اصل زر قرض لینے والے کو 8 فیصد سود جبکہ باقی ماندہ سود حکومت نے ادا کرنا تھا۔ اس اسکیم کو اسلامی مالیات کے تحت بھی متعارف کرایا گیا۔

مائیکروفنانس اسکیم: 5 ارب روپے مالیت کے فنڈ سے قرض حسنہ اسکیم شروع کی گئی ہے۔ اخوت، این آر ایس پی کے ذریعے 50 فیصد خواتین کو دی جائے گی۔

تحریک انصاف نے بھی نوجوانوں کو کاروبار کرنے کے لیے اپنا کام اسکیم متعارف کرائی ہے۔ اس مقصد کے لیے بجٹ میں 100ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

ٹیکس اقدامات

جدید ریاستی نظام میں ٹیکسوں کی وصولی ریاست کی اولین ذمہ داری اور فرائض میں شامل ہے۔ جو ریاست ٹیکس جمع کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی ہو وہ اپنا وجود بھی قائم رکھنے میں ناکام رہتی ہے۔ اس حوالے سے ایک تحریر بھی شائع ہوئی تھی جس میں ریاست کے ٹیکس اکھٹا کرنے کے حق پر برطانوی اسکالر ٹموتھی جون بیسلی کے خیالات پر روشنی ڈالی گئی تھی۔ پاکستان میں ٹیکسوں کی وصولی ہمیشہ سے ایک اہم مسئلہ رہی ہے۔

مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے سال 14-2013 میں حکومت نے فیصلہ کیا کہ ان لوگوں پر مزید ٹیکس کا بوجھ نہ ڈالا جائے تو اپنے حصے کا واجب الادا ٹیکس پہلے ہی ادا کررہے ہیں بلکہ ایسے اقدامات کیے جائیں جن سے وہ افراد جو بالکل بھی ٹیکس ادا نہیں کرتے، وہ ٹیکس نیٹ میں آجائیں۔ اس وقت ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو 9 فیصد تھا جسے سال 2018 تک 15 فیصد کرنے کا اعلان بھی کیا گیا۔

جدید ریاستی نظام میں ٹیکسوں کی وصولی ریاست کی اولین ذمہ داری اور فرائض میں شامل ہے
جدید ریاستی نظام میں ٹیکسوں کی وصولی ریاست کی اولین ذمہ داری اور فرائض میں شامل ہے

ٹیکس ادا نہ کرنے والوں پر ٹیکس عائد کرنے، ٹیکس مشینری کی صلاحیت میں اضافے، ٹیکس نظام کی اصلاحات، ٹیکس نظام کو سہل بنانے، ٹیکسوں کی شرح اور چھوٹ کو معقول بنانے، دستاویز معیشت کی حوصلہ افزائی ٹیکس گزاروں کو سہولت اور کرپشن کا خاتمے کا اعلان کیا گیا۔

مسلم لیگ (ن) نے ٹیکس وصولی کا ہدف 2445 ارب روپے مختص کیا تھا جبکہ اس وقت جی ڈی پی کے تناسب میں ٹیکس ریشو 9 فیصد کے قریب تھا۔

کارپوریٹ ٹیکس کی شرح میں ایک فیصد کی کمی اور 35 سے 30 فیصد تک بتدریج لے کر آنا، خصوصی اقتصادی علاقوں میں 10 سال کے لیے ٹیکس کی چھوٹ، صنعتی خام مال کی درآمد چھوٹ کے سرٹیفکیٹ کی بحالی، کمرشل گاڑیوں کو ٹیکس میں رعایت، تعمیراتی صنعت پر ٹیکس، مہنگے اسکولوں کی فیس پر ٹیکس اور پرچون فروش پر بھی ٹیکس عائد کرنے کا اعلان کیا گیا۔

اسحٰق ڈار نے اعلان کیا کہ ٹیکس بنیاد کو بڑھانے کے لیے ایف بی آر اور نادرا کو منظم کیا جارہا ہے۔ اس سلسلے میں 5 لاکھ افراد کا ڈیٹا جمع کر لیا گیا ہے۔

رواں سال حکومت اپنے نظرثانی شدہ ٹیکس وصولی کے ہدف کو حاصل کرنے میں بُری طرح ناکام رہی ہے۔ ٹیکس وصولی میں 9 فیصد کی نمایاں کمی ہوئی جس سے ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو میں کمی ہوئی۔ تحریک انصاف نے آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کرتے ہوئے اس کمی کا ذمہ دار سابقہ حکومت کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ 927 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ کی وجہ سے یہ کمی ہوئی ہے۔ مگر رواں مالی سال میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے 2 مرتبہ ضمنی بجٹ اسمبلی میں پیش کیا مگر اس غلطی کو ٹھیک نہیں کیا گیا اور نتیجہ حکومتی آمدنی میں نمایاں کمی کی صورت میں نکلا ہے۔

بجٹ 20-2019 کے اعلان کے اگلے روز ڈان اخبار میں شائع ہونے والا کارٹون
بجٹ 20-2019 کے اعلان کے اگلے روز ڈان اخبار میں شائع ہونے والا کارٹون

پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت کا دعوی ہے کہ وہ خوف سے پاک ٹیکس وصولی کے لیے اقدامات کررہی ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے استعمال سے ٹیکس گزار اور ٹیکس دہندگان کے درمیان رابطہ ختم کر دیا جائے گا جبکہ کسی فرضی آمدنی کے بجائے حقیقی آمدنی پر ٹیکس وصول کیا جائے گا۔

ٹیکسوں کے اعداد و شمار میں ایک اہم غلطی دیکھنے میں آرہی ہے۔ حکومت نے ٹیکس وصولی کا جو ہدف طے کیا ہے وہ بجٹ میں ظاہر ہی نہیں ہو رہا ہے۔ حکومت نے ٹیکس کی وصولی کے لیے 5550 ارب روپے ٹیکس کا ہدف رکھا ہے۔

ٹیکس کی وصولی کے لیے 4150 ارب روپے کی بیس لی گئی ہے۔ ٹیکس کی وصولی میں 15 فیصد اضافہ ہوگا، ٹیکس میں 620 ارب روپے کا اضافہ ہوگا۔ 516 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگائے ہیں۔ یہ سب ملا کر 5250 ارب روپے کے ٹیکس اقدامات بجٹ میں ظاہر کیے گئے ہیں۔ اس طرح تقریباً 300 ارب روپے کے ٹیکس ایسے ہیں جو کہ بجٹ میں ظاہر نہیں کیے گئے اس کو کس طرح سے پورا کیا جائے گا۔

تحریکِ انصاف کے بجٹ میں ٹیکسوں سے متعلق اٹھائے گئے اقدامات میں متعدد آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف کی شرائط کو پورا کرنے کے لیے اٹھائے گئے ہیں۔ جس میں زیورات کی خریدوفروخت کے حوالے سے ڈیٹا جمع کرنے کی خاطر سیلز ٹیکس کا نفاذ شامل ہے۔ اس کے علاوہ منی لانڈرنگ کے خاتمے کے لیے خصوصی سیل کراچی پشاور کوئٹہ میں قائم کیا جائے گا۔

کسٹم: خام مال کی 1600 ٹیرف لائنز پر ڈیوٹی کی چھوٹ سے 20 ارب روپے کا ریونیو کم ہوگا۔ ٹیکسٹائل مشینری پر ٹیکس چھوٹ کے ساتھ کاغذ کے خام مال اور استعمال شدہ کاغذ پر ڈیوٹی 20 سے کم کرکے 16 فیصد جبکہ لکڑی پر ڈیوٹی صفر فیصد کردی گئی ہے۔ ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرنے سے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ پر سامان اسمگل ہونے لگا ہے۔ اس کی بھی روک تھام کے لیے اقدامات بجٹ میں تجویز کیے گئے ہیں۔

ایل این جی پر 5 فیصد سیلز ٹیکس میں دی جانے والی مراعات کو ختم کردیا گیا ہے۔ چینی پر سیلز ٹیکس 7 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد کرنے سے چینی 3روپے 65 پیسے فی کلوگرام مہنگی ہوجائے گی۔ خوردنی تیل پر ٹیکس 27 فیصد کرنے کے علاوہ بیکری، ریسٹورینٹ، خشک دودھ، کریم فلیور مِلک پر ٹیکس میں اضافہ کیا گیا ہے۔ پروسیس شدہ اور کھانے کے لیے تیار بکرے، بیف اور مرغی کی مصنوعات کے ساتھ بجلیم گیس اور اسٹیل مصنوعات پر 17 فیصد سیلز ٹیکس عائد کردیا گیا ہے۔ جبکہ روئی پر 10 فیصد سیلز ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔

پاکستان کی برآمدات کے 5 بڑے شعبوں یعنی ٹیکسٹائل، چمڑہ، اسپورٹس، سرجیکل اور قالین بافی کی صنعت پر صفر سیلز ٹیکس کی سہولت ختم کرتے ہوئے 17 فیصد سیلز ٹیکس لگا دیا گیا ہے۔ جس کے خلاف ان صنعتوں سے وابستہ سرمایہ کاروں نے شدید احتجاج بھی کیا ہے۔

کیا پی ٹی آئی اپنے وعدوں کو پورا کرپائے گی؟ —سونہل خان
کیا پی ٹی آئی اپنے وعدوں کو پورا کرپائے گی؟ —سونہل خان

جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس کیپٹل گین ٹیکس عائد کیا گیا ہے، جس کے تحت اگر کوئی پلاٹ خریدا جاتا ہے اور اسے 10 سال کے اندر بیچا جاتا ہے تو اس کی بیچی گئی اور خریدی گئی قیمت کے درمیان فرق یعنی آمدن کے مطابق ٹیکس ادا کرنا پڑے گا۔ اسی طرح تعمیر شدہ مکان کو 5 سال کے عرصے کے دوران فروخت کیا جاتا ہے تو اس کی قیمت فروخت کرنے پر ٹیکس عائد کیا جائے گا جبکہ ایک سال بعد فروخت کرنے پر 3 چوتھائی آمدن پر ٹیکس لگایا جائے گا۔ اس حوالے سے موقع ملا تو ایک تفصیلی جائزہ پیش کیا جائے گا۔

سیلز ٹیکس کے حوالے سے خصوصی طریقہ کار کی منظوری پر بھی بڑی تبدیلی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اب یہ معاملہ کابینہ میں لے جانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انچارج وزیر یا بورڈ از خود یہ فیصلہ کرسکے گا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس سے کرپشن کا نیا دروازہ کھل جائے گا۔

تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کی چھوٹ ختم: مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے 4 سال حکومت کرنے کے بعد اپنے آخری بجٹ میں تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کی چھوٹ دی تھی وہ افراد جو 12 لاکھ روپے سالانہ تنخواہ لیتے ہیں، انہیں انکم ٹیکس کی چھوٹ دی گئی تھی۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں اسے ختم کردیا گیا ہے۔ اب 6 لاکھ روپے سالانہ یا 50 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ والوں پر ٹیکس عائد کردیا گیا ہے۔ تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس کے 11 سلیب متعارف کرائے گئے ہیں۔ اس طرح کم سے کم ٹیکس کی شرح 5 فیصد اور زیادہ سے زیادہ ٹیکس 35 فیصد کردیا گیا ہے۔ اسی طرح کاروبار کرنے والے افراد کو 5 لاکھ روپے کا آمدنی ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔

تحریکِ انصاف کے بجٹ میں براہ راست ٹیکس وصول کرنے کے لیے بھی متعدد اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ اس حوالے سے موجودہ حکومت نے 30 جون تک اثاثوں کو ظاہر کرنے کی اسکیم بھی متعارف کرادی ہے۔ حکومت کا یہی کہنا ہے کہ اسکیم کا دورانیہ ختم ہونے کے بعد ایف بی آر سخت کارروائی کرے گا۔ ایف بی آر نے اس حوالے سے ڈیٹا بھی جمع کرنا شروع کردیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے پہلے بجٹ کا موازنہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے پہلے بجٹ کے علاوہ دیگر بجٹ سے بھی کیا گیا ہے۔ اب یہ فیصلہ عوام کو کرنا ہے کہ کس حکومت نے عوام کی فلاح کا بجٹ پیش کیا اور کس نے معاشی استحکام کا میزانیہ دیا۔


راجہ کامران شعبہ صحافت سے 2000ء سے وابستہ ہیں۔ اس وقت نیو ٹی وی میں بطور سینئر رپورٹر فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ آپ پرنٹ، الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا میں کام کا تجربہ رکھتے ہیں۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔