موٹاپے کا شکار بنادینے والی ایک عام غذائی عادت

23 جون 2019

ای میل

یہ بات جاپان میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی— شٹر اسٹاک فوٹو
یہ بات جاپان میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی— شٹر اسٹاک فوٹو

یہ تو سب جانتے ہیں کہ جسمانی وزن کو صحت مند سطح پر رکھنا مختلف امراض سے تحفظ کے لیے کتنا ضروری ہوتا ہے۔

درحقیقت اس سے آپ ذیابیطس، بلڈ پریشر، کینسر اور دیگر متعدد امراض سے خود کو بچا سکتے ہیں۔

مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ ایک عام سی عادت آپ کو موٹاپے کا شکار بناسکتی ہے اور یہ ایسی عادت ہے جس کے بارے میں کوئی غور بھی نہیں کرتا۔

درحقیقت آپ کے کھانے کی رفتار جسمانی وزن کو کنٹرول میں رکھنے یا بڑھانے کا باعث بن سکتی ہے۔

یہ بات جاپان میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

اس تحقیق کے دوران ایک ہزار سے زائد بالغ افراد کی غذائی عادات کا جائزہ 5 سال تک لیا گیا، جن کو ان کے کھانے کی رفتار کو مدنظر رکھتے ہوئے 3 گروپس میں تقسیم کیا گیا۔

ان افراد میں کوئی بھی کولیسٹرول، بلڈ پریشر یا بلڈ شوگر سمیت موٹاپے کا شکار نہیں تھا۔

5 سال تک جائزہ لینے کے بعد نتائج سے معلوم ہوا کہ ان میں سے 84 افراد میٹابولک سینڈروم (بلڈ پریشر، بلڈ شوگر اور بلڈ کولیسٹرول وغیرہ کا مجموعہ) کا شکار ہوگئے اور محققین کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ ان کا بہت تیزی سے کھانا تھا۔

محققین نے بتایا کہ غذا کو بہت تیزی سے نگلنے والے افراد میں میٹابولک سینڈروم کا امکان نارمل اور سست روی سے کھانے والوں کے مقابلے میں 89 فیصد زیادہ ہوتا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں آہستگی سے کھانے والے محض 2.3 فیصد افراد میں مختلف امراض کی تشخیص ہوئی۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ بہت تیزی سے کھانا نہ صرف میٹابولک سینڈروم کا خطرہ بڑھاتا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں توند نکلنے کا امکان بھی زیادہ ہوتا ہے۔

درحقیقت بہتی تیزی سے غذا نکلنے کے نتیجے میں جسم کو یہ سگنل دینے کا موقع ہی نہیں ملتا کہ پیٹ پھر چکا ہے اور اب رک جانا چاہیے اور یہی وجہ ہے کہ ایسے لوگ بہت زیادہ کھالیتے ہیں۔

ایسے افراد میں بلڈ گلوکوز بہت تیزی سے اوپر کی جانب جاتا ہے جس سے انسولین کی مزاحمت کا مسئلہ بھی پیدا ہوتا ہے۔

اس حوالے سے نیوزی لینڈ میں ہونے والی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا تھا کہ بہت تیزی سے کھانے والے افراد کا جسمانی وزن دیگر کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے اور نوالے کو زیادہ دیر تک چبا کر کھانا اس مسئلے سے بچاسکتا ہے۔

محققین کے مطابق غذا کو زیادہ چبانے سے جسم زیادہ کیلوریز جلاتا ہے اور اس کے نتیجے میں موٹاپے کا امکان کم ہوتا ہے بلکہ جسمانی وزن کو کم کرنا بھی ممکن ہوجاتا ہے۔