امریکا سے بات چیت میں ’مداخلت‘ پر شمالی کوریا کی جنوبی کوریا پر تنقید

اپ ڈیٹ 27 جون 2019

ای میل

جنوبی کوریا کے حکام اپنے اندرونی معاملات پر اچھے سے دھیان دیں — فائل فوٹو/ رائٹرز
جنوبی کوریا کے حکام اپنے اندرونی معاملات پر اچھے سے دھیان دیں — فائل فوٹو/ رائٹرز

شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کے صدر مون جے ان کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ پیانگ یانگ اور واشنگٹن کے درمیان جوہری مذاکرات میں دخل اندازی نہ کرے۔

فرانسیسی خبررساں ادارے ’ اے ایف پی ‘ کی رپورٹ کے مطابق شمالی کوریا کی سرکاری نیوز ایجنسی کی جانب سے جاری بیان میں وزارت خارجہ کے سینئر عہدیدار کوان جونگ گن نے کہا کہ ’ حقیقت اس کے برعکس ہے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’ جنوبی کوریا کے حکام اپنے اندرونی معاملات پر اچھے سے دھیان دیں‘۔

گزشتہ روز جنوبی کوریا کے صدر مون جے اِن نے کہا تھا کہ امریکا اور شمالی کوریا پسِ منظر میں ہونے والی بات چیت میں تیسرے اجلاس کی تیاری کررہے ہیں۔

انہوں نے ایک تحریری انٹرویو میں کہا تھا کہ ’ اس کے ساتھ ہی مختلف چینلز کے ذریعے شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان بھی بات چیت جاری ہے‘۔

مزید پڑھیں: شمالی کوریا کے سربراہ کو امریکی صدر کا خط موصول

تاہم شمالی کوریا کے محکمہ برائے امریکی امور کے ڈائریکٹر جنرل کوان جونگ گن نے ’ کوریائی ممالک کے درمیان مختلف تبادلہ خیال اور بند کمرہ اجلاس ‘ کے بیان کو مسترد کردیا۔

ان کا کہنا تھا کہ جنوبی کوریا کے حکام خود کو ثالثی ظاہر کرکے اپنی موجودگی ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

پیانگ یانگ اور واشنگٹن کے درمیان بات چیت کو خود نہیں بتائیں گے لیکن اگر شمالی کوریا کو امریکا سے رابطہ کرنا ہوگا تو وہ پہلے سے موجود چینل کے ذریعے کرے گا۔

انہوں نےمزید کہا کہ جنوبی کوریا کے حکام کو کسی چیز میں دخل اندازی کی ضرورت نہیں ہے۔

خیال رہے کہ چند روز قبل شمالی کوریا کی سرکاری خبرایجنسی کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن کو عمدہ خط ارسال کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: شمالی کوریا پر عائد تمام پابندیاں نہیں ہٹائی جاسکتیں، ٹرمپ

اس حوالے سے کم جونگ اُن نے کہا کہ وہ دلچسپ مواد پر سنجیدگی سے غور کریں گے تاہم خط کی مزید کوئی تفصیل نہیں بتائی گئی تھی۔

وائٹ ہاؤس نے امریکی صدر کی جانب سے شمالی کوریا کے سربراہ کو خط بھیجنے کی تصدیق کی تھی۔

ترجمان سارہ سینڈرز نے ایک ای میل میں کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے خط بھیجا گیا تھا اور دونوں رہنماؤں کے درمیان خط و کتابت جاری ہے۔

اس سے قبل فروری میں ویتنام میں کسی معاہدے پر اتفاق نہ ہونے کے امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان رسمی بات چیت ختم ہوگئی تھی۔

خیال رہے کہ 2018 میں سنگاپور میں دونوں رہنماؤں کی پہلی ملاقات کے بعد بھی خطوط کا تبادلہ ہوا تھا۔

اس وقت ترجمان سارہ سینڈرز نے کہا تھا کہ خطوط میں شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں کے تخفیف کے عزائم پر بات چیت کی گئی تھی۔