ای میل

کہ اب یہاں میلہ نہیں لگے گا۔۔۔

ابوبکر شیخ

ہمارے اس طبقاتی سماج میں، مرکزی طور پر 3 طبقات بستے ہیں، ایک وہ جن کو جیب میں پیسے رکھنے کی ضرورت نہیں پڑتی اور ان میں سے اکثر ایسے بھی ہیں جن کو اپنے بینک بیلنس کا بھی پتا نہیں ہوتا، یوں سمجھیے کہ ان لوگوں کی ایک الگ دنیا ہے۔

پھر مڈل یا متوسط طبقہ ہے، جو بالکل منجدھار میں ہی پھنسا رہتا ہے، نہ اِس کنارے پر نہ اُس کنارے پر، اسے بس سفید استری شدہ کپڑے ہی نصیب ہوتے ہیں۔

ہمارے ہاں جو تیسرا طبقہ بستا ہے، وہ فقط بستا ہی ہے۔ اس کے پاس ہوتا کچھ نہیں ہے، نہ بجلی، نہ ہسپتال، نہ راستہ، نہ کوئی اور زندگی کی سہولت۔ ایک زمانے میں پینے کا پانی آتا تھا، اب وہ بھی کبھی کبھار نصیب ہوپاتا ہے۔ یوں سمجھیے کہ ان کے حالات میں امیدوں اور خوابوں کی زیادتی جبکہ محرومیوں کی بہتات ہوتی ہے۔

جب میں نے شہر چھوڑا تب دن کے 11 بجے تھے اور دھوپ تیز تھی۔ شہر سے کچھ کلومیٹر کے سفر کے بعد شہر کی ساری نازک مزاجیاں اور نفاست پیچھے شہر کی گلیوں میں رہ گئیں۔

راستے میں نہریں تھیں، جون کے آخر تک نہروں میں پانی آجانا چاہیے تھا مگر نہیں آیا تھا۔ اس لیے نظر جہاں بھی جاتی اپنے ساتھ سوکھے کے منظر ہی لاتی البتہ کیکر، دیوی یا مسکیت اور پیلو کی ہریالی کہیں کہیں نظر آجاتی تھی، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان درختوں نے اس ماحول میں جینا سیکھ لیا سو جیے جا رہے ہیں۔

جہاں دھان کی فصل ہوا کرتی تھی وہاں اب سمندر کا پانی چھوٹی چھوٹی نہروں میں آنے لگا ہے۔۔۔۔
—تصویر ابوبکر شیخ
جہاں دھان کی فصل ہوا کرتی تھی وہاں اب سمندر کا پانی چھوٹی چھوٹی نہروں میں آنے لگا ہے۔۔۔۔ —تصویر ابوبکر شیخ

2009ء میں یہاں ہرے بھرے کھیت نظر آجاتے تھے—تصویر ابوبکر شیخ
2009ء میں یہاں ہرے بھرے کھیت نظر آجاتے تھے—تصویر ابوبکر شیخ

کہتے ہیں کہ ایک زمانے میں بدین سے جنوب کی طرف سرحد کے آخری گاؤں تک بہت ساری اوطاقیں (مہمان خانے) تھیں، جو مہمانوں سے آباد ہوتی تھیں۔ راستے کچے تھے، پانی وافر مقدار میں تھا، دھان زمینوں میں ایسے اُگتی تھی جس طرح جوانی میں پہلے پیار کی کیفیتیں دل، دماغ اور روح میں اُگ جاتی ہیں۔

ان وقتوں میں ترقی کو ابھی اتنے پہیے نہیں لگے تھے اس لیے نہ دھویں کے بادل بنے تھے اور نہ اوزون کی تہہ کو نقصان پہنچا تھا۔ لوگوں کا آپس میں ساتھ بیٹھنا اور میل میلاپ زیادہ تھا، لہٰذا دماغ کو ’اسٹریس‘ یا تناؤ پیدا کرنے والا کیمیکل کم ہی پیدا کرنا پڑتا تھا۔ جھیلیں آباد تھیں اور سیار مچھلی سے پیٹ بھر کر رات کو اپنی کھوئی ہوئی آواز کو اپنی بے سُری رونے کی آواز، جس کو میں چیخ و پکار کہنا زیادہ مناسب سمجھتا ہوں، میں ڈھونڈنے کی کوشش کرتے۔ یہ بچارے چیختے اب بھی ہیں مگر خالی پیٹ اور بھوک سے۔

مجھے اوطاق کلچر کے خاتمے کی بہت ساری نشانیاں ملیں۔ دیہاتوں کے موجودہ حالات کو تھوڑا قریب سے دیکھنے پر اندازہ ہوجاتا ہے کہ گاؤں بیمار اور نحیف ہے یا خوشحال اور صحت مند۔ وہ گاؤں جو کبھی صحت مند تھے وہ اب کمزور اور نحیف ہوچکے ہیں، اس لیے وہاں اب زیادہ اوطاقیں نہیں ملتیں۔ اگر اِکا دُکا دیکھنے کو مل بھی جائیں تو ویران اور اداسی سے بھری ہوئی نظر آتی ہے۔

ایک بے رونق گاؤں—تصویر ابوبکر شیخ
ایک بے رونق گاؤں—تصویر ابوبکر شیخ

پانی کی عدم دستیابی کے باعث لوگ نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں—تصویر ابوبکر شیخ
پانی کی عدم دستیابی کے باعث لوگ نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں—تصویر ابوبکر شیخ

ان مہینوں میں یہاں ہوائیں مغربی اور جنوبی کونے سے چلتی ہیں اور بڑی تیز چلتی ہیں۔ یہاں زمینوں پر ٹریکٹر سے ہل اس امید سے چلادیا گیا ہے کہ پانی آئے گا اور دھان کی کھیتی کی شروعات کی جائے گی۔ تاہم پانی نہیں آیا ہے اور یوں تیز ہوا کے جھونکوں میں کھیتوں کی سوکھی مٹی بھی شامل ہوجاتی ہے اور مٹی کے ذرات سانس کے ذریعے پھیپھڑوں تک جا پہنچتے ہیں۔ ذرات میں کسی بیماری کا کوئی وائرس ہے تو وہ بھی ساتھ میں پھیپھڑوں تک پہنچے گا اور اگر خوراک اور جسم میں قوت مدافعت کی کمی ہے تو اسے وہاں پھیلنے میں کوئی زیادہ وقت بھی نہیں لگے گا۔

میں چلتا رہا اور میری دائیں طرف وہ سوکھی نہر بھی چلتی رہی کہ ہم دونوں کی منزل ایک ہی تھی۔ وہ گاؤں جو سندھ میں جنوب کی طرف پاکستان کے آخری دیہات ہیں، ان گاؤں کے بالکل سامنے سرحد کی لکیر ہے۔

بدین سے 40 کلومیٹر دُور میں جب سیکڑوں چھوٹے بڑے دیہات اور ان کی سوکھتی زمینوں کو دیکھتا ہوا ایک چھوٹی سی بستی ’بھگڑا میمن‘ پہنچا تو وہاں ایک چھوٹا سا پُرسکون بازار بھی تھا۔ وہاں ضروریاتِ زندگی کی ساری چیزیں مل جاتی ہیں۔ اس چھوٹی سی بستی میں بجلی کے تار ضرور تھے مگر اس وقت بجلی نہیں تھی لہٰذا دکاندار بڑے مزے سے دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے اور دستی پنکھے کو ایک ردھم سے ہلا رہے تھے، جس کی ہوا انہیں سکون پہنچاتی۔ میں نے چاہا کہ ان کے آرام میں خلل نہ ڈالی جائے، لیکن کچھ سوال پوچھنے ضروری تھے، سو وہ پوچھ لیے۔

سوکھی ہوئی نہر—تصویر ابوبکر شیخ
سوکھی ہوئی نہر—تصویر ابوبکر شیخ

پانی کی عدم دستیابی نے ساحلی پٹی کے دیہاتوں سے ان کے رنگ ہی چھین لیے ہیں—تصویر ابوبکر شیخ
پانی کی عدم دستیابی نے ساحلی پٹی کے دیہاتوں سے ان کے رنگ ہی چھین لیے ہیں—تصویر ابوبکر شیخ

ان سوالوں کے جوابات کا لُبِّ لباب کچھ یوں تھا کہ، ’یہاں تک دیر سویر پانی آ جاتا ہے اور یہاں فصلیں اگر اچھی نہیں ہوتیں تو بُری بھی نہیں ہوتیں۔ بس جو محنت کرتا ہے وہ ہاتھ پھیلانے کی نوبت تک نہیں پہنچتا۔ البتہ یہاں سے آگے آپ جیسے جیسے جنوب کی طرف بڑھتے چلے جائیں گے ویسے ویسے وہاں بسے دیہاتوں میں پانی کی عدم دستیابی کا مسئلہ سنجیدہ ہوتا چلا جائے گا۔‘

’تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ 40 کلومیٹر پر محیط اس سفر کے دوران میں نے جن علاقوں یا دیہاتوں کی اس قدر بُری حالت دیکھی وہ سنجیدگی کے ذمرے میں نہیں آتی؟ کیا اس سے زیادہ بھی حالات بُرے ہوسکتے ہیں؟‘

میں نے جیسے ہی اپنے آپ سے یہ سوال کیا تو وہاں موجود لوگوں میں سے کسی ایک نے کہا، ’ہاں۔ آگے حالات بہت خراب ہیں۔ آپ جب واپس آئیں گے تو ہمارے ہاں کے حالات آپ کو بہتر محسوس ہوں گے۔‘

میرے لیے یہ علاقہ نیا نہیں ہے، میں یہاں مختلف تحقیقی کاموں کے سلسلے میں آتا رہا ہوں۔ میں اس راہ پر چند برسوں بعد ایک بار پھر گامزن تھا، میں نے یہ نہیں سوچا تھا کہ چند برسوں میں اس علاقے کا پورا کا پورا لینڈ اسکیپ تہہ و بالا ہوجائے گا؟

میں ایک بار پھر ٹوٹے پھوٹے راستے پر چل پڑا۔ وہ نہر جو بدین سے میرے ساتھ چلی آ رہی تھی وہ اب سکڑ کر ایک نالہ سا بن گئی تھی۔ ریت بھر جانے کی وجہ سے اس کی گہرائی کم ہوگئی تھی۔ بیمار، نحیف اور بے رونق گاؤں تھے جو اس نہر کے دونوں کنارے بستے ہیں۔ زمینیں ہیں مگر پانی نہیں ہے اسی لیے ان میں فصلوں کے بجائے ویرانی اور اداسی اُگتی ہے۔ گھروں کے آنگن میں اس تمنا کا پودہ نمو پاتا ہے کہ نہر میں پانی آئے گا یا پھر بارش آئے گی۔

2009ء میں حالات—ابوبکر شیخ
2009ء میں حالات—ابوبکر شیخ

موجودہ حالات—ابوبکر شیخ
موجودہ حالات—ابوبکر شیخ

انسان اس دھرتی پر ترقی شاید اسی صورت کرسکا ہے کیونکہ وہ خود کو ماحول کے مطابق ڈھالنا سیکھتا ہے۔ دوسرا یہ کہ، امید کی کھیتی ان کے ذہن میں اگتی رہتی ہے، اگر ایسا نہ ہوتا تو شاید انسان اس دنیا سے کب کا نابود ہوچکا ہوتا۔ مگر یہ بھی سچ ہے کہ ہر کیفیت کی ایک سرحد ہوتی ہے، اس سے آگے ہم نہیں جاسکتے۔

میں مزید 10 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد یہاں آباد چند آخری دیہاتوں تک پہنچ چکا تھا۔ وہ نہر جس کا یہاں اختتام ہو رہا تھا، اس کا اگر میں دوسرا سِرا ڈھونڈنا چاہوں تو مجھے ہمالیہ تک جانا پڑجائے گا۔ کیا کمال کی ابتدا اور کیا زوال کا اختتام۔ ایک کہاوت ہے کہ، ’انت بھلا تو سب بھلا‘۔ مگر یہاں انت بھلا نہیں ہو رہا تھا۔ وہ لوگ شاید صحیح کہتے تھے کہ چند برسوں میں حالات کافی زیادہ خراب ہوچکے ہیں۔ سارے لینڈ اسکیپ سے جیسے کسی نے رنگوں کی چادر نوچ لی تھی۔

ایل بی او ڈی کے پشتے نہ ہونے کی وجہ سے، سمندر کا پانی ان کھیتوں تک پہنچ گیا تھا جہاں 7 سے 8 برس پہلے دھان کی فصلیں ہوتی تھیں۔ دیوی کا درخت انتہائی سخت حالات میں بھی زندہ رہتا ہے مگر سمندر کے نمک اور چونے سے بھرے پانی نے اس کو بھی موت دے دی تھی۔

میں اس نہر کے مغربی کنارے پر بنی ایک خستہ حال سی ویران اوطاق میں بیٹھا تھا اور میرے ساتھ اس گاؤں کا وہ بوڑھا شخص بھی بیٹھا تھا جس نے اسی دھرتی پر جنم لیا تھا۔ باپ کے معاشی حالات اچھے تھے تو شادی بھی دھوم دھام سے ہوئی اور اس علاقے کی مشہور شادی تھی۔ والدین نے اس کا نام ’مصری‘ رکھا۔ مصری سے باتیں کرتے ہوئے مجھے لگا کہ، نام کے اثرات زندگی پر ضرور پڑتے ہیں، اس لیے بیمار ہونے، بڑھاپے اور نقاہت کے باوجود بھی اس نے جو باتیں کیں ان میں ہونی تو تلخی چاہیے تھی لیکن ایسا نہیں تھا، جو بھی سوال کا جواب آتا اس میں مصری کی شیرینی ضرور ٹپکتی تھی۔

مصری—تصویر ابوبکر شیخ
مصری—تصویر ابوبکر شیخ

’پانی کے حوالے سے کیا پریشانی ہے؟‘

’پانی کے حوالے سے ہی پریشانی ہے۔ وہ پانی میٹھا ہو یا کھارا۔ نہر میں میٹھا پانی آتا نہیں ہے اور سمندر کا نمک سے بھرا پانی اب جان چھوڑتا نہیں ہے۔ بڑی پریشانی کا سامنا ہے۔‘

’نہر میں پانی کیوں نہیں آتا؟‘

’ہمارے یہاں کہاوت ہے کہ، آخر والے یا ڈوبتے ہیں یا سوکھتے ہیں۔ یہ کہاوت ہر اس علاقے کے لیے ہے جو نہروں کے آخری حصوں پر بستے ہیں۔ ہمارے یہاں ایک ہی وقت میں پوری کہاوت لاگو ہوتی ہے۔ نہر میں پانی نہیں آتا اس لیے نہ زمینیں آباد ہوتی ہیں اور نہ پینے کا پانی میسر ہوتا ہے۔ جب ان مہینوں میں مغربی جنوبی ہوائیں لگتی ہیں تو سمندر دوڑتا چلا آتا ہے اور ہماری زمینوں کو ڈبو دیتا ہے۔ زیرِ زمین پانی سمندر کی وجہ سے کڑوا ہوگیا ہے لہٰذا یہاں سے 3 کلومیٹر شمال میں پینے کا پانی بھرنے جاتے ہیں۔ بہت مشکل دن ہو رہے ہیں روز بروز۔‘

ساحلی پٹی کا ایک گاؤں—تصویر ابوبکر شیخ
ساحلی پٹی کا ایک گاؤں—تصویر ابوبکر شیخ

نہر کے آخری حصے میں بسا ایک گاؤں —تصویر ابوبکر شیخ
نہر کے آخری حصے میں بسا ایک گاؤں —تصویر ابوبکر شیخ

’پانی کی کمی کے مسئلے کا کوئی حل تو ہوگا؟‘

’حل کیوں نہیں ہے، مگر جن کو حل کرنا چاہیے انہیں بھی تو پرواہ ہونی چاہیے نا۔ ان کو ہماری پرواہ بس الیکشن کے وقت ہوتی ہے۔ آپ کو میں کیا بتاؤں۔ آپ تو یہاں اکثر آتے رہتے ہیں۔ سب آپ کے سامنے ہے۔ اب تو حالت یہ ہوگئی ہے کہ، 30 سے 35 خاندان یہاں سے نقل مکانی کرکے شہروں کی طرف چلے گئے ہیں۔ اب بڑوں کے قبرستانوں کے لیے آدمی اپنے بچوں کو تو بھوکا نہیں مار سکتا نا سائیں۔‘

مصری باتیں کرتا، اپنے دکھڑے شگفتہ اور میٹھے لہجے میں بیان کرتا جاتا، ایک جگہ پر اس کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ ایک تو ڈھلتی عمر آپ کا سب سے بڑا درد ہوتا ہے اور پھر یہ بھی ہوتا ہے کہ، ماں باپ کی گھنی چھاؤں وقت کی کلہاڑی کاٹ دیتی ہے۔ آدمی اکیلا ہوتا جاتا ہے اور ایسی کیفیت میں اگر اپنا علاقہ بھی کچھ اداروں یا لوگوں کی وجہ سے برباد ہونے لگے تو آدمی رونے کے سوا اور کر بھی کیا سکتا ہے۔ آنکھوں کا آنسوؤں سے بھیگ جانا بے بسی اور بے کسی کی سرحد ہوتی ہے۔

’میلہ لگتا ہے ابھی بھی؟‘ میرے اس سوال نے شاید زخم پر نمک کا کام کیا۔

’آپ نے بھی یہاں کے میلے دیکھے ہیں نا؟‘ مصری کے سوال پر میں نے ’ہاں‘ میں جواب دیا۔

مصری کے گاؤں میں سومرا دور (1050ء) کی ایک قدیم درگاہ ہے، جس پر سالانہ میلہ لگتا آیا ہے جو اس علاقے کا ایک مشہور میلہ رہا ہے۔ مصری نے اپنی بہت ساری یادیں جو اس میلے سے جُڑی ہوئی تھیں، وہ بتاتا جاتا اور ساتھ میں آنکھیں بھی بھیگتی جاتیں۔ اس میلے کا ایک کمال یہ بھی تھا کہ یہ کبھی گرمیوں یا بارشوں کے موسم میں نہیں لگا، جب بھی لگا کڑکتی سردیوں میں لگا۔ جاڑوں کے موسم کی اگر خوبصورتیاں دیکھنی ہوں تو سمندر کنارے ان گاؤں میں چلے جائیے اور شمال کی ٹھنڈی ہواؤں کو محسوس کیجیے۔ آسمان کا رنگ کتنا صاف شفاف نیلا ہوجاتا ہے۔ الاؤ پر لوک موسیقی اور کچہریاں کس طرح روح کے پاتال میں جا بستی ہیں۔ جہاں وہ یادیں بن کر سانس کی ڈوری تک آپ کے ساتھ رہتی ہیں۔ مٹھائی، چوڑیوں اور کھلونوں کی چھوٹی چھوٹی دکانیں، چائے کے چھوٹے سے ہوٹل جس پر کوئلے کے چولہے پر چائے بنتی ہے۔ شام کے وقت ملاکھڑے لگتے ہیں۔ لوگ تیز رنگوں کے کپڑے پہن کر میلوں میں آتے ہیں اور 4 سے 5 دنوں تک میلہ جاری رہتا ہے کہ ایک برس میں یہ چند دن تو پریشانیوں سے الگ رہنے کو ملتے ہیں۔

سومرا دور کی درگاہ، جس پر کچھ برس قبل لگنے والا میلہ—تصویر ابوبکر شیخ
سومرا دور کی درگاہ، جس پر کچھ برس قبل لگنے والا میلہ—تصویر ابوبکر شیخ

چند برس قبل درگاہ پر لگنے والا میلہ—تصویر ابوبکر شیخ
چند برس قبل درگاہ پر لگنے والا میلہ—تصویر ابوبکر شیخ

’اس برس شاید اب یہ میلہ نہ لگے سائیں۔‘ مصری نے کہا۔

’میلہ نہیں لگے گا اب؟‘ میں نے سوال کیا۔ میں اس خبر سے بہت پریشان بھی تھا کیونکہ میں میلے کی موت کبھی نہیں چاہوں گا اور یہاں تو صدیوں کی روایت ہمیشہ کے لیے ختم ہونے جا رہی تھی۔ یہ میلے یہ تہوار ایک تسلسل کا نام ہیں۔ ان کے تسلسل میں اگر کسی وجہ سے خلل پڑ جائے تو یہ کوئی اچھا شگون نہیں ہوتا۔

میلے کے چند دن گاؤں کے باسیوں کے لیے تفریح فراہم کرتے ہیں—تصویر ابوبکر شیخ
میلے کے چند دن گاؤں کے باسیوں کے لیے تفریح فراہم کرتے ہیں—تصویر ابوبکر شیخ

چند برس قبل لگنے والے میلے میں مٹھائی کی ایک دکان—تصویر ابوبکر شیخ
چند برس قبل لگنے والے میلے میں مٹھائی کی ایک دکان—تصویر ابوبکر شیخ

’میلے تو لوگوں سے ہیں نا۔ جب نقل مکانی ہوجائے، لوگ نہ رہیں اور پگڈنڈیاں ویران ہوجائیں تو پھر کیسے میلے؟‘

اب مصری کی آواز میں شیرینی کی جگہ درد اور اضطراب بہتا تھا۔

’تو اس نقل مکانی کو روکنے کا کوئی حل نہیں ہے؟‘

’ایک کیا ہزاروں حل ہیں سائیں۔ آب پاشی والے وقت کے ساتھ نہر کی کھدائی کرائیں۔ زمینداروں کو پانی نہ بیچیں اور ہمیں قانونی طور پر اپنے حصے کا پانی فراہم کیا جائے تو میٹھے پانی کا کوئی مسئلہ نہیں رہے گا۔ رہی بات سمندر کے پانی کی تو اگر اس ایل بی او ڈی کے ٹائڈل لنک کے پشتے مٹی سے بناکر اس کو پتھر سے مضبوط کردیا جائے تو ٹائڈل لنک کی وجہ سے یہاں آنے والے سمندر کے پانی کو روکنا ممکن ہوجائے گا۔ یوں بہت سارے مسئلے حل ہو جائیں گے مگر یہ سب ہمارے لیے کرے کون؟ ہر ایک کو تو اپنے پیٹ کی پڑی ہوئی ہے۔ ہم کس کھاتے میں آتے ہیں سائیں؟‘

اس برس میلے کا انعقاد شاید نہ ہوپائے—تصویر ابوبکر شیخ
اس برس میلے کا انعقاد شاید نہ ہوپائے—تصویر ابوبکر شیخ

مصری کی کہی ہوئی بات اتنی سادہ ہے کہ ہر ایک کو سمجھ میں آنی چاہیے۔ پانی سے جڑی یہ کہانی درصل ساحلی علاقوں کے تمام دیہاتوں کی کہانی ہے کیونکہ ہم جب ساحلی پٹی کی بات کرتے ہیں تو ہم نہروں کے بہاؤ کے آخر کی بات کرتے ہیں، اس لیے یہ درد اور پریشانی ایک مصری کی نہیں بلکہ ان ہزاروں خاندانوں کی ہے جو یہاں بستے ہیں۔ ان لوگوں کو کھیتی اور پینے کے لیے پانی دینا کوئی احسان نہیں بلکہ ان کا حق ہے جو ان تک پہنچنا چاہیے۔

میں نے مصری سے اجازت لی اور اوطاق سے باہر آیا۔ اوطاق سے مغرب جنوب میں وہ قدیم درگاہ تھی۔ درگاہ کی پہلی تعمیر کلہوڑا حکمران غلام شاہ کلہوڑو نے کروائی تھی جس کی خستگی کے بعد مقامی لوگوں نے مل کر اس کی تعمیرات میں حصہ لیا۔

درگاہ کے آنگن میں ایک لمبی لکڑی گڑی ہوئی ہے، جس کے اوپری کونے پر جھنڈے کے طور پر لگا ہوا کپڑا دھوپ اور نمک بھری ہوا میں لہراتا ہے اور پتا دیتا ہے کہ ہوا کس طرف سے لگ رہی ہے۔ درگاہ کے اس آنگن میں نہ جانے کتنے وقتوں سے معتقدین نے نومولود بچوں کے بال کاٹے ہوں گے، کتنی امیدوں کو پورا ہونے کے لیے دعا کے ہاتھ اٹھائے ہوں گے اور نہ جانے کتنی تمناؤں کے پھول یہاں حقیقت کے رنگ میں تبدیل ہوئے ہوں گے۔

درگاہ کے اوپری کونے پر نصب جھنڈا—تصویر ابوبکر شیخ
درگاہ کے اوپری کونے پر نصب جھنڈا—تصویر ابوبکر شیخ

ہم کبھی بھی نہیں چاہیں گے کہ وہ تاریخی مقامات یا وہ دیہات جو لوگوں سے آباد ہیں وہ ویران ہوں، یا پھر وہ میلے ختم ہوں جو ایک ثقافتی ورثہ ہیں جہاں لوگ سال بھر میں سے کچھ دن یہاں آکر اپنے سارے برس کی تھکان دُور کرتے ہیں۔

یہ ہمارے گزرے وقتوں اور ہمارے اباؤ اجداد کی نشانیاں ہیں اور ان سے ہماری نہ جانے کتنی یادیں، کتنی مسکانیں اور آنکھوں کے نمکین پانی کا رشتہ ہے۔ ان مقدس پگڈنڈیوں کو ویران نہیں ہونا چاہیے جن پر لوگ چل کر جوان ہوتے ہیں، جن پر سے اپنے پیاروں کے جنازے کندھوں پر اٹھا کر قبرستانوں میں دفنائے جاتے ہیں۔

ہمیں امید ہے کہ، مصری کو شہر کی طرف نقل مکانی نہیں کرنی پڑے گی اور آنے والے جاڑوں میں مصری کے گاؤں کا یہ میلہ بھی ضرور لگے گا کہ تمنائیں ہمارے ذہن و دل پر عشق کی طرح سوار رہتی ہیں!


ابوبکر شیخ آرکیولاجی اور ماحولیات پر لکھتے ہیں۔ انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر کے لیے فوٹوگرافی اور ریسرچ اسٹڈیز بھی کر چکے ہیں۔ ان کا ای میل ایڈریس [email protected] ہے۔