چین میں سمندری طوفان سے 13 افراد ہلاک، 14 لاپتہ

اپ ڈیٹ 10 اگست 2019

ای میل

حکام کے مطابق متعدد اموات طوفانی بارش سے لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے ہوئیں—بشکریہ: پیپلز ڈیلی، چین
حکام کے مطابق متعدد اموات طوفانی بارش سے لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے ہوئیں—بشکریہ: پیپلز ڈیلی، چین

چین کے جنوبی صوبے زہجیانگ میں سمندری طوفان ’لیکمیا‘ سے کم از کم 13 افراد ہلاک اور 14 لاپتہ ہوگئے۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق چین کے ساحلی علاقے سے ٹکرانے والے سمندری طوفان سے سیکڑوں گھر تباہ اور درخت اکھڑ گئے۔

مقامی ٹی وی پر نشر ہونے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا گیا کہ ’متعدد اموات لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے ہوئیں‘۔

امدادی عملے نے متعدد شہریوں کی جان بچائی اور انہیں محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ موسلا دھار بارش کی وجہ سے لینڈ سلائیڈنگ ہوئی جس نے دریا کا راستہ روک دیا اور مذکورہ جگہ ’ایک ڈیم کی صورت‘ اختیار کرگئی۔

مقامی میڈیا کے مطابق زہجیانگ میں ہفتے کی صبح 187 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں چلیں۔

بتایا گیا کہ ’ڈیم‘ سے نکلنے والی جھیل نے نشیبی علاقوں میں تباہی مچا دی۔

چین کی نیوز ایجنسی 'ژن ہوا' کے مطابق 10 لاکھ سے زائد افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے اور تاحال ایک لاکھ 10 ہزار شہری شیلٹر میں پناہ لے چکے ہیں۔

پیپلز ڈیلی چین کے مطابق چینی حکام نے مجموعی طور پر 3 ہزار 23 پروازوں کے شیڈول منسوخ کردیے جبکہ مشرق چین کے متعدد ایئرپورٹس عارضی طور پر غیر فعال کردیے گئے۔

مشرقی چین کا 15 سو پرانا ٹاؤن ’لیننے‘ طوفانی پانی میں ڈوب گیا۔

دوسری جانب شنگھائی سمیت دیگر صوبوں میں موسلا دھار بارش کی پیش گوئی ہے۔

حکام نے بارش کے باعث لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ظاہر کیا ہے اور اس ضمن میں ریڈ الرٹ بھی جاری کردیا۔

شنگھائی میں ممکنہ تباہی کے پیش نظر کم از کم 3 لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا جبکہ ریلوے سروس بھی معطل کردی گئی۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ 2016 میں کھلنے والا شنگھائی ڈزنی لینڈ پہلی مرتبہ بند کرنا پڑا۔