عبدالقادر، جس نے دنیائے کرکٹ کو نیا نظریہ دیا

اپ ڈیٹ 14 ستمبر 2019

ای میل

پاکستان کے مایہ ناز لیگ اسپنر عبدالقادر چند روز قبل اپنے مداحوں کو افسردہ چھوڑ کر اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔

عبدالقادر ایک حب الوطن و ہمدرد شخص تھے۔ 1970ء اور 1980ء کے اوائل میں لیگ اسپن باؤلنگ کے ناپید ہوتے ہوئے فن کو دوبارہ زندہ کرنے کا سہرا عبدالقادر کے سر جاتا ہے۔

ایک زمانہ تھا جب کرکٹ کھیلنے والوں اور کھیل کے ناقدین کا مشترکہ خیال تھا کہ لیگ اسپن باؤلر اپنی لائن اور لینتھ پر کنٹرول نہیں رکھ پاتا اس لیے وہ ایک روزہ کرکٹ کے لیے موزوں نہیں ہے۔ تاہم عبدالقادر نے اپنی جادوئی گیندبازی کی بدولت لیگ اسپن باؤلنگ سے جڑے اس قسم کے خیالات کو غلط ثابت کیا۔

ایک روزہ کرکٹ میں لیگ اسپن باؤلنگ کو متعارف کروانے میں عبدالقادر کی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ ان کے قائد موجودہ وزیراعظم اور سابق کپتان عمران خان کا بھی اہم کردار ہے۔ عمران خان اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ اگر مخالف ٹیم کی وکٹیں جلدی جلدی حاصل کرلی جائیں تو ان کے رن بنانے کی رفتار کو کم کیا جاسکتا ہے۔

اپنے اس فلسفے پر عمل پیرا ہوتے ہوئے عمران خان نے 1983ء کے عالمی کپ کے دوران نیوزی لینڈ کے خلاف برمنگھم میں منعقدہ میچ میں عبدالقادر کو اپنے ایک روزہ کرکٹ کا پہلا میچ کھیلنے کے لیے منتخب کیا۔ اپنے اس اولین ایک روزہ میچ میں ہی عبدالقادر نے جادوئی باؤلنگ اور دلیرانہ بیٹنگ سے اپنے انتخاب کو درست ثابت کیا۔

عبدالقادر ایک حب الوطن و ہمدرد شخص تھے—اے ایف پی
عبدالقادر ایک حب الوطن و ہمدرد شخص تھے—اے ایف پی

اس میچ میں عبدالقادر نے اپنے مقررہ 12 اوورز میں صرف 21 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں اور نیوزی لینڈ کی ٹیم کو مقررہ 60 اوورز میں 238 کے اسکور تک محدود کرنے میں اہم کردار ادا کیا، پھر بارش کے باعث یہ میچ ایک دن کے لیے منسوخ کردیا گیا۔ ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی ٹیم مکمل طور پر ناکام رہی اور صرف 102رنز کے اسکور پر7 وکٹیں گِر گئیں۔ اس موقع پر اپنے پہلا ایک روزہ میچ کھیلنے والے عبدلقادر نے 41 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیل کر پاکستان کے اسکور کو 186 رنز تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ پاکستان یہ میچ تو ہار گیا لیکن عبدالقادر نے بلے بازی اور گیند بازی دونوں شعبوں میں اپنی عمدہ کارکردگی سے اپنے چناؤ کو صحیح ثابت کیا۔

حسنِ اتفاق دیکھیے کہ اپنے اولین میچ میں جوڑے گئے یہ 41 رنز ان کے ایک روزہ کرکٹ کے کیریئر کا کسی بھی اننگز میں سب سے زیادہ اسکور بھی ہے۔

عبدالقادر نے اپنی گیند بازی کے ساتھ ساتھ اپنی بلے بازی سے بھی پاکستان کی جیت میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ 18 اپریل 1986ء کو شارجہ میں کھیلے جانے والے آسٹرل-ایشیاء کپ کے تاریخی فائنل میں جاوید میانداد کا آخری گیند پر لگایا گیا وہ چھکا تو تقریباً ہر پاکستانی کو یاد ہے، لیکن ہم آپ کو بتاتے چلیں کہ اس میچ کے ایک ہیرو عبدالقادر بھی ہیں جنہوں نے چھٹے نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے 34 رنز کی دھواں دار اننگز کھیلی اور جاوید میانداد کے ساتھ پانچویں وکٹ کے لیے 71 رنز کی شراکت قائم کرکے پاکستان کی ناقابلِ یقین جیت کی بنیاد رکھی۔

1987میں پاکستان اور بھارت میں کھیلے گئے عالمی کپ کے دوران پاکستان نے لاہور میں کھیلے گئے میچ میں ایک وکٹ سے کامیابی حاصل کرکے ویسٹ انڈیز کے خلاف عالمی کپ کی تاریخ میں اپنی اولین کامیابی حاصل کی۔

پاکستان کی اس جیت میں عبدلقادر کی بیٹنگ کا کلیدی کردار تھا جنہوں نے کورٹنی والش کے آخری اوور میں جیت کے لیے درکار 14 رنز حاصل کرکے پاکستان کو فتح دلوائی۔ پاکستان کی اس جیت میں کچھ کردار کورٹنی والش کا بھی ہے جنہوں نے میچ کی آخری گیند پر نان اسٹرائکنگ اینڈ پر کھڑے سلیم جعفر کو گیند پھینکے جانے سے بہت پہلے کریز چھوڑنے پر رن آؤٹ کرنے کے بجائے وارننگ دینے پر ہی اکتفا کیا۔

عبدالقادر کے بارے میں یہ بھی مشہور ہے کہ 1982ء کے دورہ انگلینڈ سے پہلے جادوئی باؤلنگ کے تاثر کو مزید گہرا کرنے کے لیے انہوں نے عمران خان کے اصرار پر فرینچ طرز کی ڈارھی رکھی۔ جب وہ اپنے مخصوص انداز میں ہلکی سی زبان باہر نکال کر گیند کرنے کے لیے آگے بڑھتے تھے تو ان کا یہ منفرد انداز بلے بازوں کے ساتھ ساتھ دیکھنے والوں کو بھی سحر میں مبتلا کردیتا تھا۔ میں وزیراعظم پاکستان کی اس بات سے پوری طرح متفق ہوں کہ اگر موجودہ دور کی باؤلر دوست امپائرنگ عبدالقادر کو میسر ہوتی تو ان کی وکٹوں کی تعداد کہیں زیادہ ہوتی۔

جب وہ ہلکی سی زبان باہر نکال کر گیند کرنے کے لیے آگے بڑھتے تھے تو ان کا یہ منفرد انداز بلے بازوں کو سحر میں مبتلا کردیتا تھا—ٹوئٹر
جب وہ ہلکی سی زبان باہر نکال کر گیند کرنے کے لیے آگے بڑھتے تھے تو ان کا یہ منفرد انداز بلے بازوں کو سحر میں مبتلا کردیتا تھا—ٹوئٹر

عبدالقادر نے پاکستان کے لیے متعدد میچوں میں شاندار کارکردگی پیش کی ہے اور ان کی جانب سے دکھائے گئے کھیل کے چند شاہکار مظاہروں کا احوال ہم قارئین کے لیے پیش کر رہے ہیں۔

پاکستان بمقابلہ آسٹریلیا

فیصل آباد کے مقام پر 1982ء میں کھیلے گئے اس ٹیسٹ میچ میں عبدالقادر نے ’باؤلرز کے قبرستان‘ کے نام سے جانی جانے والی اس پچ پر آسٹریلیا کے بلے بازوں کو کچھ اس انداز سے اپنے سحر میں گرفتار کیا کہ کوئی بھی بلے باز بھی پُر اعتماد انداز میں ان کا سامنا نہیں کرسکا۔

اس میچ میں پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے منصور اختر اور ظہیر عباس کی سنچریوں کی بدولت 6 وکٹوں کے نقصان پر 501 رنز بنائے۔ پاکستان کی پہلی اننگز کے پہاڑ جیسے اسکور کے دباؤ اور پاکستان کے باؤلرز کی شاندار گیندبازی کے باعث آسٹریلیا کی ٹیم اپنی پہلی اننگز میں صرف 168 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔ آسٹیریلیا کی اس اننگز میں عبدالقادر نے 4 وکٹیں حاصل کیں۔

پاکستان نے فالو آن نافذ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اپنی دوسری اننگز میں آسٹریلیا نے قدرے بہتر کارکردگی دکھائی اور گریگ رچی کی شاندار سنچری کی بدولت مہمان ٹیم 330 رنز بنانے میں کامیاب ہوئی لیکن ان کی یہ کوشش بھی شکست سے نہیں بچاسکی۔ عبدالقادر نے اس دوسری اننگز میں 7 کھلاڑیوں کو پویلین واپس بھیج دیا۔ آسٹریلیا کے کپتان کم ہیوز دونوں اننگز میں انہی کا شکار بنے۔ اس میچ میں عبدالقادر نے 90 سے زیادہ اوورز کروائے اور 218 رنز دے کر 11 وکٹیں حاصل کیں۔ یہ پہلا موقع تھا جب عبدالقادر نے کسی بھی میچ میں 10 سے زائد وکٹیں حاصل کرنے کا کارنامہ انجام دیا تھا۔ پاکستان نے اس سیریز کے تمام ٹیسٹ جیتے اور پاکستان کی جیت میں بلے بازوں کے ساتھ عبدالقادر کا نمایاں کردار تھا جنہوں نے اس سیریز میں 22 وکٹیں حاصل کیں۔

پاکستان بمقابلہ ویسٹ انڈیز

فیصل آباد کے ہی مقام پر 1986ء میں کھیلے گئے اس ٹیسٹ میچ میں پاکستان نے ویسٹ انڈیز کی ٹیم کو شکست دے کر ایک ناقابلِ یقین کارنامہ انجام دیا اور پاکستان کی اس تاریخی فتح میں عبدالقادر کی جادوئی گیند بازی نے کلیدی کردار ادا کیا۔ پاکستان نے اس میچ میں ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا لیکن ویسٹ انڈیز کے فاسٹ باؤلرز کے آگے پاکستان کی بلے بازی ریت کی دیوار ثابت ہوئی اور پوری ٹیم صرف 159 بنا سکی۔ پاکستان کے قلیل اسکور کے جواب میں ویسٹ انڈیز نے اپنی اننگز کا پُراعتماد آغاز کیا اور صرف ایک وکٹ کے نقصان پر اسکور کو 100 رنز سے آگے پہنچا دیا۔

اس موقعے پر پاکستانی باؤلرز کو ریورس سوئنگ حاصل ہونا شروع ہوئی اور پھر وقفے وقفے سے وکٹیں گرنے لگیں۔ پاکستان نے وسیم اکرم کی شاندار بائلنگ کی بدولت ویسٹ انڈیز کی اننگز کو 248رنز کے اسکور پر محدود کردیا۔ اس اننگز میں وسیم اکرم نے 6 وکٹیں حاصل کی تھیں۔

عبدالقادر نے عمران خان کے اصرار پر فرینچ طرز کی ڈارھی رکھی—تصویر ڈان/فائل
عبدالقادر نے عمران خان کے اصرار پر فرینچ طرز کی ڈارھی رکھی—تصویر ڈان/فائل

عبدالقادر اس اننگز میں بجھے بجھے رہے اور صرف ایک وکٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ 89 رنز کے خسارے سے اپنی دوسری اننگز شروع کرنے والی پاکستان کی ٹیم کا آغاز ایک مرتبہ پھر مایوس کن تھا جب ان کے دو کھلاڑی صرف 19 رنز کے اسکور پر آؤٹ ہوگئے۔ ابتدائی نقصان کے بعد پاکستان نے سنبھلنا شروع کیا اور آہستہ آہستہ اسکور میں اضافہ ہونے لگا۔

پاکستان کی اس دوسری اننگز میں وکٹ کیپر سلیم یوسف نے 61 رنز بنائے لیکن سب سے شاندار اننگز اپنا نواں ٹیسٹ میچ کھیلنے والے کھلاڑی وسیم اکرم نے کھیلی جنہوں نے صرف 82 گیندوں پر 66 رنز بنائے۔ پاکستان کی پہلی اننگز میں سلیم ملک بیٹنگ کرتے ہوئے گیند لگنے کے باعث اپنا ہاتھ تڑوا بیٹھے تھے لیکن جب 296 کے اسکور پر نویں وکٹ گری تو سلیم ملک نے گیارہویں نمبر پر بیٹنگ کے لیے آکر سب کو حیران کردیا۔

آخری وکٹ پر ملک اور وسیم اکرم نے 32 رنز کا اضافہ کیا۔ پاکستان کی ٹیم دوسری اننگز میں 328 رنز بنا کر آؤٹ ہوئی اور ویسٹ انڈیز کو جیت کے لیے 240 رنز کا ہدف دیا۔ ویسٹ انڈیز نے ہدف کے تعاقب کا آغاز کیا تو پورے پاکستان میں کرکٹ کے شائقین کسی معجزے کی امید لگائے بیٹھے تھے۔ ویسٹ انڈیز کی اس دوسری اننگز میں ایک مرتبہ جب وکٹیں گرنے کا سلسلہ شروع ہوا اور بلا تعطل جاری رہا۔

ویسٹ انڈیز کی دوسری اننگز میں گرنے والی پہلی 2 وکٹیں کپتان عمران خان نے حاصل کیں۔ اس کے بعد عبدالقادر کا جادو شروع ہوا جنہوں نے یکے بعد دیگرے ویسٹ انڈیز کے کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھا کر پاکستان کی فتح کی راہ ہموار کردی۔

پاکستان کی شاندار باؤلنگ کی بدولت ویسٹ انڈیز کی ٹیم اپنی دوسری اننگز میں صرف 53 رنز پر ڈھیر ہو گئی اور پاکستان نے یہ میچ 186 رنز سے جیت لیا۔ ویسٹ انڈیز کا یہ اسکور اب بھی پاکستان کی سرزمین پر کھیلے گئے ٹیسٹ میچوں میں کسی بھی اننگز کا سب سے کم اسکور ہے۔ 80ء کی دہائی میں کھیلے گئے 82 ٹیسٹ میچوں میں یہ ویسٹ انڈیز کی صرف آٹھویں شکست تھی۔ عبدالقادر نے اس اننگز میں 16رنز دے کر 6 کھلاڑیوں کو میدان بدر کیا اور پاکستان کو سیریز میں 1-0 کی برتری دلوادی۔ اس سیریز کا لاہور میں کھیلا جانے والا ٹیسٹ میچ ویسٹ انڈیز نے جیتا جبکہ کراچی میں کھیلا جانے والا ٹیسٹ میچ ہار جیت کے فیصلے کے بغیر ختم ہوا۔

عبدالقادر نے پاکستان کے لیے متعدد میچوں میں شاندار کارکردگی پیش کی ہے—شٹراسٹاک
عبدالقادر نے پاکستان کے لیے متعدد میچوں میں شاندار کارکردگی پیش کی ہے—شٹراسٹاک

یہ سیریز کرکٹ کی تاریخ میں اس لیے بھی یاد رکھی جائے گی کیونکہ کرکٹ کی تاریخ میں نیوٹرل امپائرز کو سب سے پہلے اسی سیریز میں متعارف کروایا گیا تھا۔ فیصل آباد میں کھیلے گئے میچ میں تو پاکستان کے امپائرز نے میچ سپروائز کیا تھا لیکن لاہور اور کراچی میں کھیلے گئے ٹیسٹ میچوں میں امپائرنگ کے فرائض بھارت سے تعلق رکھنے والے وی کے راما سوامی اور پیلورپورٹر نے انجام دیے۔

پاکستان بمقابلہ انگلینڈ

1987ء کے عالمی کپ کے فوراََ بعد انگلینڈ کی ٹیم نے 3 ٹیسٹ میچوں کی سیریز کھیلنے کے لیے پاکستان کا دورہ کیا۔ اس 3 ٹیسٹ میچوں پر مشتمل سیریز میں عبدالقادر نے مجموعی طور پر 30 وکٹیں حاصل کیں۔ اس سیریز کا اولین ٹیسٹ لاہور میں کھیلا گیا۔ اس ٹیسٹ میچ میں انگلینڈ نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔ ٹیسٹ میچ کے پہلے دن ہی عبدالقادر نے اپنی اسپن باؤلنگ کا ایسا جادو جگایا کہ مخالفین ششد رہ گئے۔

انگلینڈ کی اس اننگز میں گرنے والی ابتدائی 5 وکٹیں عبدالقادر کے حصے میں آئیں۔ اس اننگز میں انہوں نے 56 رنز دے کر 9 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ آج بھی اسے پاکستان کی طرف سے ٹیسٹ کرکٹ کی کسی بھی اننگز کی بہترین باؤلنگ پرفارمنس قرار دی جاتی ہے۔ انگلینڈ کے کپتان گراہم گوچ جنہوں نے اپنے کرکٹ کیریئر کے دوران عبدالقادر اور شین وارن دونوں کو سامنا کیا ہے، وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اس دن لاہور میں عبدالقادر نے جو باؤلنگ کی تھی وہ شین وارن سے بھی کئی درجے بہتر تھی۔

عبدالقادر کے ریکارڈ پر نظر ڈالیں تو انگلینڈ کے خلاف باؤلنگ کرنا ان کو پسند تھا۔ انگلینڈ کے لیے ان کی پسندیدگی کا اندازہ اس بات سے ہی لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے اس حریف کے خلاف صرف 16 ٹیسٹ میچوں میں 82 وکٹیں حاصل کی ہیں۔

عبدالقادر نے اپنا آخری ٹیسٹ میچ لاہور میں 1990ء میں ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلا۔ یہ ایک بڑی ہی دلچسپ بات ہے کہ نامور کرکٹ کھلاڑی عبدالقادر کا یہ آخری ٹیسٹ میچ دنیائے کرکٹ کے ایک دوسرے معروف نام برائن لارا کا اولین ٹیسٹ میچ تھا۔

عبدالقادر کا آخری ٹیسٹ برائن لارا کا اولین ٹیسٹ میچ تھا۔

آج عبدالقادر ہم میں نہیں رہے لیکن ان کی یادیں اور کرکٹ کے میدان میں پاکستان کے لیے پیش کی گئی کارکردگی و کامیابیاں اس کھیل کے چاہنے والوں کو ہمیشہ یاد رہیں گی۔