براہ راست نشریات کے دوران خاتون رپورٹر کو بوسہ دینے والے کے خلاف مقدمہ دائر

28 ستمبر 2019

ای میل

خاتون کو بوسہ دینے والے شخص کی شناخت ہوگئی—اسکرین شاٹ
خاتون کو بوسہ دینے والے شخص کی شناخت ہوگئی—اسکرین شاٹ

رواں برس 17 ستمبر کو امریکی ٹی وی چینل کی ایک خاتون رپورٹر کی ویڈیو اس وقت وائرل ہوئی تھی جب اس نے رپورٹنگ کے دوران کہا تھا کہ وہ ایک مرے ہوئے شخص سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

تاہم اب امریکا کی ہی ایک اور خاتون رپورٹر کی ویڈیو وائرل ہوئی ہے، جس میں ایک راہ چلتے شخص کو خاتون رپورٹر کا بوسہ لیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

وائرل ہونے والی ویڈیو میں امریکا کے مقامی نیوز چینل ’ویو‘ کی خاتون رپورٹر سارہ رویسٹ کوریاست کینٹکی کے شہر لوئی ویل میں ایک میوزک فیسٹیول کی براہ راست رپورٹنگ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک راہ چلتا شخص خاتون رپورٹر کو دیکھ کر پہلے تو عجب انداز میں اسے دیکھتا ہے اور بعد ازاں وہ کیمرا سے اوجھل ہونے کے بعد واپس خاتون رپورٹر کے پاس آکر انہیں گال پر بوسہ دیتا ہے۔

خاتون رپورٹر میوزک فیسٹیول کی رپورٹنگ کر رہی تھیں—فوٹو: ٹوئٹر
خاتون رپورٹر میوزک فیسٹیول کی رپورٹنگ کر رہی تھیں—فوٹو: ٹوئٹر

دلچسپ بات یہ ہے کہ براہ راست نشریات کے دوران خاتون رپورٹر اس عمل کو نامناسب قرار نہیں دیتیں اور ان کی ہنسی نکل جاتی ہے۔

راہ چلتے شخص کی جانب سے بوسہ دیے جانے کی کوشش سے قبل ہی خاتون رپورٹر کے آگے سے ایک اور شخص بھی گزرتا ہے اور اس دوران بھی خاتون رپورٹر ہنس پڑتی ہیں اور وہ انتہائی مزے سے رپورٹنگ کرتی دکھائی دیتی ہیں۔

ویڈیو میں خاتون رپورٹر بوسہ دینے والے شخص کے عمل پر ہنستی ہوئی دکھائی دیتی ہیں—اسکرین شاٹ
ویڈیو میں خاتون رپورٹر بوسہ دینے والے شخص کے عمل پر ہنستی ہوئی دکھائی دیتی ہیں—اسکرین شاٹ

راہ چلتے شخص کی جانب سے بوسہ دیے جانے کے بعد نیوز اسٹوڈیو میں موجود مرد اینکر خاتون رپورٹر سے پوچھتے ہیں کہ وہ راہ چلتے شخص کی جانب سے بوسہ لیے جانے پر خود کو غیر محفوظ تو محسوس نہیں کر رہیں؟ اور ساتھ ہی وہ انہیں بتاتے ہیں کہ اگر ایسا ہے تو وہ مدد کے لیے پولیس کو طلب کر سکتے ہیں۔

اسٹوڈیو اینکر کی جانب سے سوال پوچھے جانے پر خاتون رپورٹر ایک بار پھر ہنس پڑتی ہیں اور بولتی ہیں انہیں مدد کی ضرورت ہے، جس پر مرد اینکر قریب میں ہی کھڑے پولیس اہلکاروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ خاتون رپورٹر کی مدد کی جائے۔

بعد ازاں سی این این نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ خاتون رپورٹر کو بوسہ دینے والے شخص کو پولیس نے شناخت کے بعد تحویل میں لے کر ان کے خلاف جنسی ہراساں کے الزامات عائد کردیے۔

رپورٹ کے مطابق خاتون رپورٹر کو بوسہ دینے والے شخص کے خلاف خاتون کو جسمانی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات عائد کیے گئے۔

بعد ازاں خاتون رپورٹر نے واقعے کی ویڈیو کو اپنی ٹوئٹ پر شیئر بھی کیا اور لکھا کہ چند سیکنڈز کی ویڈیو سے شہرت حاصل کرنے والا شخص، ساتھ انہوں نے خود کو بوسہ دینے والے شخص کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ ’اگر وہ انہیں بوسہ نہ دیتے تو کیا ہوتا؟

سارہ رویسٹ مقامی چینل ویو 3 سے وابستہ ہیں—فوٹو: ٹوئٹر
سارہ رویسٹ مقامی چینل ویو 3 سے وابستہ ہیں—فوٹو: ٹوئٹر