ای میل

شاہ شجاع، سندھ اور کوہ نور ہیرا!

ابوبکر شیخ

ہم جب گزرے زمانوں کا احوال جاننے کے لیے تاریخ کی کتابیں پڑھتے ہیں تو حیرت کی نہ جانے کتنی دنیائیں تحاریر کی صورت میں ان لفظوں اور جملوں میں بسی ملتی ہیں۔

سوچ کے بے شمار قوی گھوڑے تخیل کی زمین پر ہمیں سَرپٹ دوڑتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ حاکموں کے محلاتوں میں آزادی اور سکون کی سانسوں کے پھول کم ہی کِھلتے ہیں۔ اگر کچھ اُگتا بھی ہے تو ریشہ دوانیوں اور خوف کی وہ جھڑ بیریاں اُگتی ہیں جن کے وجود کی پہچان ان نوکدار کانٹوں سے ہی ممکن ہو پاتی ہے جن سے دامن کا بچنا ممکن ہی نہیں۔ یہ سب اس طاقت کا کھیل ہے جس کے لیے انسان ارتقا سے اب تک مرتا مارتا چلا آیا ہے۔

خیر آج کا یہ سفر کوئی اتنا قدیم بھی نہیں ہے۔ فقط 200 برس ہی پیچھے جانا ہے مگر زمانہءِ حال میں زمانہءِ ماضی کا یہ سفر نہایت اہمیت رکھتا ہے کیونکہ ہم جن گلی کوچوں، شہروں اور بستیوں میں جیتے، گھومتے پھرتے اور مرجاتے ہیں وہیں پر ماضی کے واقعات وقوع پذیر ہوئے۔ آج بھی وہاں کی مٹی میں میدانِ جنگ میں اڑتی دھول سمائی ہوئی ہے اور فضائیں لشکروں کی یلغاروں کے شور کی گواہ ہیں کہ ہمارے آباؤ اجداد ان بادشاہوں کی جنگوں میں کسی ایندھن کے طور پر جلادیے گئے۔

اس سفر کی شروعات ہم 18ویں صدی کے آخری برسوں سے کرتے ہیں جب 1782ء میں کلہوڑا اور میروں کے درمیان جنگ ہوئی۔ (اس جنگ کو ’ہالانی واری جنگ‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے)۔ یہ مقام موجودہ ضلع نوشہرو فیروز میں واقع ہے جس میں کلہوڑوں کی 82 سالہ حکومت کا خاتمہ اور ’تالپوروں‘ کی حکمرانی آغاز ہوا۔

چونکہ سندھ اس وقت افغانستان کے تابع تھا اس لیے جب تک وہاں سے ’حکم شاہی‘ موصول نہ ہوتا تب تک یہاں حکومت کا قیام ممکن ہی نہیں ہوتا۔ میاں عبدالنبی کلہوڑو میدانِ جنگ میں شکست کھانے کے بعد بھی یہ نہیں چاہتے تھے کہ حکومت تالپوروں کو ملے اس لیے وہ افغان بادشاہ ’تیمور شاہ‘ سے اپنے سفیروں کے ذریعے رابطے میں رہے۔ بہرکیف ایک طویل خط و کتابت اور کابل سرکار میں سندھ کے وکیلوں کی حاضریوں کے بعد میر فتح علی خان کو سندھ پر حکمرانی کرنے کا پروانہ موصول ہو ہی گیا لیکن اگلے 6 برس کے عرصہ میں میر صاحبان کی آپس میں نہیں بنی اور آپسی اختلافات کی دراڑیں گہری ہوتی چلی گئیں جس کی وجہ سے سندھ کو 3 حصوں میں بانٹ دیا گیا۔ مگر ان کا مرکز حیدرآباد ہی رہا۔

1788ء میں جب میر صاحبان نے سالانہ خراج دینے میں کچھ کاہلی برتی تو کابل سرکار نے میاں عبدالنبی کی پیٹھ تھپتھپائی اور ’احمد خان نورزئی‘ کی کمان میں سندھ پر لشکر کشی کی۔ جنگ ہوئی اور تالپور جیت گئے۔

تالپور حکمران
تالپور حکمران

طاقت، پیسہ اور جیت کی کیفیات پر کم ہی لوگ قابو رکھ پاتے ہیں، لیکن ایسے بے شمار لوگ مل جائیں گے جو یہ 3 کامیابیاں حاصل کرنے کے بعد بہت کچھ بھول جاتے ہیں۔ نہ گزرے وقتوں کی کوئی تپتی دھوپ یاد رہتی ہے نہ وہ پگڈنڈیاں جن پر سے وہ چل کر تخت و تاج پانے نکلے تھے۔ تخت و تاج کی منزل پانے کے بعد حالات کا درست تجزیہ کرنے کی ان کی صلاحیت کسی نمک کی ڈلی کی طرح صلاحکاروں کے صلاح مشوروں کے پانی میں گھل سی جاتی ہے۔ ایشیا میں تو اکثر تخت و تاج والوں کے ساتھ بظاہر یہی معاملہ رہا ہے۔

تیمور شاہ نے 18 مئی 1793ء میں یہ جہان فانی چھوڑا لیکن اس سے 2 برس قبل یعنی 1791ء میں سندھ کی طرف پھر اپنی فوجیں بھیجیں اور سزا کے طور پر ان کی سخت شرائط پر تالپور راضی ہوگئے اور معاہدہ ہوا کہ ’میر صاحبان جو چاہے کتنے بھی حصوں میں بٹے ہوں مگر کابل حکومت کو خراج کی رقم وقت پر ادا کریں گے۔ سزا کے طور پر اس وقت یکمشت 60 لاکھ روپے ادا کریں اور آئندہ مقررہ وقت پر ٹھیک ویسے ہی خراج ادا کیا جائے گا جیسے کلہوڑا حاکم احمد شاہ ابدالی کو وقت پر ادا کرتے تھے‘۔ پیسے (60 لاکھ روپے) ادا کردیے گئے۔ ان پیسوں کے بدلے میں جو ملا اس کے بارے میں ہمیں تاریخ کے صفحات بتاتے ہیں۔

’اس معاہدے کے بعد تیمور شاہ نے ایلچیوں کے ذریعے میر فتح علی خان کے لیے خلعت فاخرہ (یہ کم از کم 3 پارچوں پر مشتمل ہوتا تھا یعنی دستار، جامہ اور کمربند)، جڑاؤ تلوار، مرصع مُقیشی تاج، تازی گھوڑے اور دیگر تحائف بھیجے اور ساتھ میں ’شاہ ویردی خان‘ کا خطاب بھی دیا۔ میر فتح علی خان نے بادشاہ کی نوازشوں کو تسلیم کرنے کے لیے فوری طور پر دیوان جسپت رائے کو قیمتی سوغاتوں کے ساتھ کابل بھیجا۔‘

پیسوں کے بدلے ملے ہوئے ان اعزازوں کی خوشی میں 3 دن تک حیدرآباد میں چراغاں کیا گیا۔ بادشاہ ہاتھی پر سوار تھا اور جسم پر خلعت فاخرہ غرور کے ساتھ دیپکوں اور مشعلوں کی روشنی میں چمکتی تھی۔

19ویں صدی کی ابتدا جو جمعرات کے دن سے ہوئی تھی، اس کے ابتدائی سال اس خطے کے لیے کچھ اچھے ثابت نہیں ہونے والے تھے، کیونکہ آنے والے شب و روز میں بڑی اُتھل پُتھل ہونے والی تھی۔ اس زمانے کی سیاسی صورتحال جاننے کے لیے ہمیں محترم ایم ایچ پنھور صاحب کا تجزیہ ضرور پڑھنا چاہیے کیونکہ انہی حالات کی وجہ سے یہ سب کچھ ہونے والا تھا۔

وہ لکھتے ہیں، ’برطانیہ کی اوّلین خواہش یہ تھی کہ وہ روس کو ’دریائے آموں‘ (Oxus River) کی دوسری طرف تک ہی محدود رکھے۔ گزرے واقعات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ روس کا اس خطے میں آنے کا پورا یقین ہوگیا تھا اس لیے برٹش سرکار نے اس خیال کو ترجیح دی کہ افغانستان کو بفر اسٹیٹ (حائلی ریاست) کی حیثیت دے کر ہندوستان کا سرحدی بیلٹ، چمن، زاہدان اور خیبر لک تک اپنا اثر و رسوخ قائم کرے تاکہ روس کو آگے بڑھنے سے روکا جاسکے۔ اس سرحد کو قائم رکھنے کے لیے برٹش سرکار کو معاشی اور نفسیاتی اعتبار سے کڑی محنت و مشقت کرنا پڑی‘۔

پنھور صاحب کا یہ ایک زبردست حقیقی تجزیہ ہے۔ ہمارے سفر میں آگے جن حالات و واقعات کا سمانا ہوگا ان کو ہمیں اسی تجزیے کے پس منظر میں دیکھنے اور پرکھنے کی ضرورت پڑے گی۔

دربار شاہ شجاع کابل
دربار شاہ شجاع کابل

1800ء میں ’ناتھن کرو‘ (Nathan Crow) سندھ میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے بیوپار کی برانچ کھولنے کے بہانے کراچی پہنچے تھے۔ چونکہ اس وقت کابل پر ’زمان شاہ‘ کی حکومت تھی جو انگریز سرکار کے سخت خلاف تھے اس لیے میروں نے ناتھن کرو کو یہاں سے واپس بھیج دیا۔

1802ء میں میر فتح علی خان دنیا سے رخصت ہوگئے تھے۔ اب کچھ احوال خراسان (افغانستان) کا جہاں تیمور شاہ کی اولاد تخت و تاج کے لیے سرگردان ہے۔ تیمور کے بعد شاہ شجاع کے بڑے بھائی ’زمان شاہ‘ اپنے والد کی تاریخِ وفات یعنی بروز ہفتہ 18 مئی 1793ء کو تخت پر بیٹھے۔ ان کی حکمرانی 2 برس تک قائم رہی اور 25 جولائی 1801ء کو ان کے بھائی ’محمود شاہ‘ نے انہیں معزول کرکے آنکھوں میں گرم سلائی پھیر کر اندھا کردیا۔ اتفاق دیکھیے کہ محمود شاہ بھی 2 برس کے قریب ہی حکومت کرسکے۔ انہیں ان کے بھائی شاہ شجاع نے 13 جولائی 1803ء میں معزول کرکے خود تخت پر بیٹھے۔ 5 سے 6 برس کی حکومت کے بعد مکافاتِ عمل کا قدرتی قانون تحرک میں آیا اور محمود شاہ نے شاہ شجاع کو 3 مئی 1809ء میں معزول کرکے تخت حاصل کرلیا اور تقریباً 9 برس تک حکومت کی۔ ان کے بعد 2 اور دُرانی حاکم آئے، 1823ء تک درانی حکومت قائم رہی جس کے بعد ’بارکزئی‘ قبیلے کے امیر دوست محمد خان تخت پر براجمان ہوئے۔

شاہ شجاع پہلی بار شاید 1806ء میں اپنے وزیر شیر محمد کے ساتھ، خراج کی وصولی کے لیے شکارپور آئے تھے۔ شکارپور چونکہ افغان سرکار کے ماتحت تھا اس لیے شکارپور کا گورنر وہیں سے مقرر ہوکر آتے تھے۔ شاہ شجاع بڑے طمطراق سے آئے اور شاہی باغ میں آکر ڈیرہ ڈالا۔ اس دوران جب شجاع کے بیٹے تیمور کی ولادت ہوئی تو شکارپور میں 3 روز تک جشن منایا گیا اور چراغاں کی روشنی میں ڈوبا رہا۔ 3 ماہ تک سندھ کے حکمرانوں نے خراج کی ادائیگی کے ساتھ تحفے تحائف دے کر انہیں واپس بھیجا۔ شاہ شجاع کو یہ سب اچھا لگا۔ واپسی پر انہوں نے اپنے بھائی کی جانب سے شکارپور کے مقرر کردہ گورنر ’سُکو سنگھ‘ کو معطل کرکے ان کی جگہ اپنے آدمی ’نواب مدد خان پوپلزئی‘ کو مقرر کیا اور بنوں کے راستے کابل روانہ ہوگئے۔

دوسری بار وہ 1810ء میں شکارپور آئے۔ ان کے ہمراہ شیر محمد اور سردار فتح خان نامی وزراء بھی تھے۔ کابل میں محمود شاہ تخت نشین تھے مگر چند قبائل کی مدد سے شجاع نے اپنا الگ لشکر تیار کرلیا تھا۔ طاقت اور خراسان سلطنت سے منسوبی کے باعث وہ ہر جگہ دندناتے پھرتے تھے۔ وہ خراج کے سلسلے میں شکارپور آئے تھے۔ سندھ کے حکمرانوں نے پیسے نہ دینے کے لاکھ بہانے کیے، مگر وہ کوئی بات ماننے کے لیے تیار ہی نہیں تھے۔ جب خراج نہیں ملی تو انہوں نے سندھ کے وزیرِاعظم نواب ولی محمد لغاری کو یرغمال بنا کر اپنے ساتھ لے گئے۔

جب شجاع کا قافلہ ڈیرہ غازی خان پہنچا تب میروں نے مکمل خراج (20 لاکھ روپے) دے کر ولی محمد لغاری کو آزاد کروایا۔ ایسا لگتا ہے کہ ان مشکل حالات میں شاید ولی محمد لغاری کے دل سے نکلی بددُعا اثر کر گئی تھی یہی وجہ ہے کہ واپسی پر شجاع شاہ کی اپنے ہی امیر ’فتح محمد‘ سے لڑائی ہوگی اور بعدازاں دوسرے امیر ’شیر محمد‘ سے بھی پھوٹ پڑگئی۔ شجاع جب ’نملی‘ (کابل سے 16 میل مشرق میں جلال آباد کی طرف) پہنچے تو فتح محمد اور شاہ شجاع کے لشکر میں جنگ ہوگئی۔

شجاع شاہ درانی (1839ء)
شجاع شاہ درانی (1839ء)

منشی عطا محمد لکھتے ہیں کہ ’دونوں کی لڑائی میں شاہ شجاع ہار کر بھاگ کھڑا ہوا اور اٹک قلعہ والا گھاٹ پار کرکے لاہور کی طرف بڑھ گیا جہاں رنجیت سنگھ کے پاس جاکر پناہ لی۔ رنجیت سنگھ نے ان کی بڑی آؤ بھگت کی۔ ان دنوں میں کشمیر کے ناظم سردار عطا محمد خان الکوزئی تھے جن کے والد کو شاہ شجاع نے قتل کروایا تھا۔ انہوں نے شجاع کے نام ایک خط تحریر کیا جس میں ان کو بڑے سبز باغ دکھائے گئے تھے۔ اس خوش فہمی کی بنیاد پر وہ پشاور کے لیے نکل پڑے جہاں کے حاکم ’سمندر خان‘ اور جہانداد خان‘ تھے جو ’الکوزئی‘ کے آدمی تھے۔ ان کو یہ بتایا جاچکا تھا کہ کسی بھی حالت میں شاہ شجاع کو پکڑ کر کشمیر لے آنا ہے۔ اس حکم پر عمل کرنے کے لیے شاہ شجاع کو شاہی عشائیے کی دعوت دی گئی۔ وہ جب دعوت پر آئے تو شاہ شجاع کی خربوزوں سے تواضع ہونے لگی۔ محفل میں شامل جو بھی خربوزے کی پھانک کھاکر ختم کرتا تو ایک دوسرے کو مارنے لگتا۔ اس تماشے میں اچانک شاہ شجاع کو پکڑ کر رسیوں سے باندھ کر کشمیر بھیج دیا گیا، جہاں انہیں قلعے میں قید کردیا گیا۔ کچھ عرصے بعد فتح محمد نے کشمیر پر قبضہ کیا اور شاہ شجاع کو آزاد کروالیا۔ آزاد ہوتے ہی وہ لاہور بھاگ گئے کہ رنجیت سنگھ کے پاس جاکر سکون سے رہ سکیں۔ مگر ایسا کچھ نہیں ہونے والا تھا۔

شاہ شجاع جیسے ہی لاہور پہنچے تو رنجیت سنگھ نے انہیں قید کردیا اور ’کوہِ نور‘ ہیرا دینے کے لیے کہا۔ شاہ شجاع نے فیصلہ کرلیا تھا کہ کچھ ہوجائے وہ یہ ہیرا نہیں دے گا۔ دوسری طرف رنجیت سنگھ نے بھی ٹھان لی تھی کہ کچھ بھی ہوجائے وہ ہیرا لے کر ہی رہے گا۔ شاہ شجاع کو اس وقت یہ حقیقت سمجھ لینی چاہیے تھی کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس لیکن چونکہ وہ خود بھی لاٹھی والے تھے اس لیے انہیں یہ حقیقت کہاں سمجھ آنی تھی۔ ہیرا حاصل کرنے کے لیے جب باتوں سے کام نہیں بنا تو تپتی دو پہروں میں شاہ شجاع کو کھڑا کردیا جاتا اور ہیرے کا تقاضا کیا جاتا مگر وہ سب برداشت کرتے رہے۔

کتاب ’تازہ نوائے معارک‘ کے مصنف لکھتے ہیں کہ ’آخر میں رنجیت سنگھ نے یہ کیا کہ شاہ شجاع کے کمسن شہزادے ’تیمور‘ کو تپتے دنوں میں ایک عمارت کی لمبی سیڑھی پر چڑھنے اور اترنے کا حکم دے دیا۔ کچھ وقت کے بعد وہ مرنے جیسا ہوگیا اور رونے اور چیخ و پکار کرنے لگا۔ یہ حال دیکھ کر شاہ شجاع نے مجبوراً کوہِ نور ہیرا رنجیت سنگھ کے حوالے کردیا‘۔ اس روداد کے بعد شاہ شجاع کا دل لاہور اور رنجیت سنگھ سے بھر گیا۔

کوہ نور—
کوہ نور—

لاہور سے شاہ شجاع کا چھپ کر بھاگنا، فیروزپور سے لدھیانہ پہنچنا ایک ایسا واقعہ ہے جس میں گوری سرکار کا ہاتھ تھا کیونکہ اس خطے میں آنے والے دنوں میں جو شطرنج کی بازی بچھنے والی تھی اس کے لیے فقط مہرے تیار کرنے تھے۔ ’شاہ شجاع‘ کی صورت میں انہیں ایک اہم مہرہ ہاتھ لگ گیا تھا۔ تخت و تاج کی بھی ایک عجیب دیوانگی ہے۔ جس نے بھی اس کے غرور اور حاکمیت کا ذائقہ چکھا وہ اپنی آخری سانس تک اس دیوانگی میں مبتلا رہتا ہے۔

یہاں اتفاق یہ ہوا کہ اس دیوانگی کو حیات دینے کے لیے سندھ کے وسائل کی آمدنی نے مدد کی یا زبردستی مدد لی گئی۔ تخت چھن جانے کے بعد شاہ شجاع پورے 30 برس لاہور، شکارپور، حیدرآباد، خیرپور اور لدھیانہ تک سفر کرتے رہے۔ میر صاحبوں کی نااتفاقی اور ایک دوسرے سے زیادہ حاصلات کی جنگ میں سندھ کے وسائل لٹتے رہے۔ گزرے وقتوں اور حادثوں سے میر صاحبوں نے کچھ سیکھنے کی شاید کوشش ہی نہیں کی۔

1818ء میں شاہ شجاع اور ان کے بیٹے رستم ہمیں شکارپور میں نظر آتے ہیں۔ شامیانے لگے ہوئے ہیں۔ موسیقی کے سُر بکھرتے ہیں اور رقاصاؤں کا رقص جاری ہے۔ بکرے اور ہرن ذبح کیے جا رہے ہیں۔ شاندار اور لذیذ پکوان تیار ہو رہے ہیں۔ ان رنگین راتوں کا اختتام تب ہوتا ہے جب رات جوان ہونے کے بعد ڈھلنے لگتی ہے کہ ساری طاقتیں ان فضولیات اور ذہنی خرافات پر ضایع ہو رہی ہیں۔ مزدور غریب عوام گھروں میں دبکی بیٹھی ہے کہ نہ جانے شہنشاہی طبیعت کب رنگ بدل لے اور وہ تماشا بن جائیں۔ بیوپاری اس لیے سورج ڈوبتے کے ساتھ ہی اپنے گھروں کو چلے جاتے ہیں کہ نظروں میں آنے پر کہیں زیادہ ٹیکس دینے کے احکامات جاری نہ کردیے جائیں۔

1820ء میں جب پیسے کم پڑنے لگتے ہیں تو شاہ شجاع، درگاہ شہباز قلندر پر حاضری دینے کے بہانے یہاں پہنچ جاتے ہیں، پھر کہتے ہیں کہ سیہون تک آئے ہیں تو حیدرآباد کتنی دور ہے! اور حیدرآباد آجاتے ہیں۔ حیدرآباد آمد سے پہلے سیاسی حوالے سے جھوٹی خبریں پھیلائی جاتی ہیں کہ کچھ ہی وقت میں خراسان کے سردار، سردار محمد عظیم خان اور سردار دوست محمد خان اپنے بھائیوں کے ساتھ، شاہ شجاع کو حکومت دینے کا سوچ رہے ہیں، اس لیے شاہ شجاع جیسے ہی حیدرآباد دریائے سندھ کے پھلیلی بہاؤ کے کنارے شامیانے لگاتے ہیں تو میر صاحبان ان کی خدمت میں جُٹ جاتے ہیں کہ میزبانی میں کوئی کسر نہ رہ جائے۔

تالپوروں نے اس چھُپے ہوئے ڈر کا کبھی تدارک نہیں کیا۔ شاہ شجاع میروں سے ایک معاہدہ کرنے چاہتے تھے کہ ’میر اور وہ ایک طاقت ہوں گے۔ جب بھی ان پر مشکل وقت آئے گا تو میر فوری طور پر ان کی مدد لیے آگے بڑھیں گے۔‘ حیدرآباد کے میر تو یہ معاہدہ کرنے پر آمادہ تھے لیکن خیرپور کے میروں میں سے میر سہراب خان نے اس کی شدید مخالف کی اور یہ معاہدہ نہ ہوسکا۔ یقیناً شاہ شجاع کے لیے وہ مایوس کُن صورتحال تھی۔ وہ 2 برس تک شکارپور میں رہتے ہیں اور فوج و جنگی سامان کی تیاری میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ ان وقتوں میں شکارپور کے ’ہزاری دروازے‘ کے باہر ہفتے میں 2 بار فوجی پریڈ ہوتی تھی اور توپیں چلائی جاتی تھیں۔

پرانے وقتوں میں شہر حیدرآباد کا ایک نظارہ
پرانے وقتوں میں شہر حیدرآباد کا ایک نظارہ

میر صاحبان ان حالات سے تنگ ہو کر اس مصیبت سے جان چھڑانے کے لیے ایک نئی مصیبت کو خوشی خوشی اپنے گلے میں ڈال دیتے ہیں۔ وہ خراسان کے بادشاہ ’سردار محمد عظیم خان‘ کے پاس اپنے ایلچی سید کاظم علی شاہ کو ایک خط کے ساتھ بھیجا، خط کا آخری جملہ کچھ اس طرح تحریر کیا گیا تھا، ’ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ، آپ اپنی فوج سمیت شکارپور آجائیں تو ہم دونوں مل کر اس شاہ شجاع سے جان چھڑائیں اور وہیں بھگادیں جہاں سے یہ آیا ہے۔ آپ کو سفر کے اخراجات کے علاوہ خراج بھی دیا جائے گا، جس کی آپ بالکل بھی پریشانی نہ لیں۔‘

میروں کی جانب سے سفیر کو خراساں بھیجنا شاہ شجاع کو بالکل بھی اچھا نہ لگا کیونکہ خط موصول ہونے کے ساتھ ہی سردار عظیم خان اس طرف نکل پڑے تھے۔ یہ سال 1821ء کی بات ہے۔ شاہ شجاع جیسلمیر کے راستے لدھیانہ چلے گئے مگر شکارپور کے نصیب میں سُکھ لکھا ہی نہیں تھا۔ شجاع شاہ گئے تو شاہی باغ میں آکر سردار عظیم نے شامیانے لگائے۔ ایک بار پھر تھکان دور کردینے والی مطرباؤں کی کانوں میں رس گھولتی آوازیں فضا میں گونجنے لگتی ہیں۔ تھکان اُتری تو خراج لے کر سردار جیکب آباد اور سبی کے راستے خراسان روانہ ہوئے اور روانگی سے پہلے شکارپور میں ’سردار شیر خان‘ کو اپنی طرف سے گورنر مقرر کرگئے۔

1832ء میں جب وزیر مشیر نواب ولی محمد خان لغاری نے وفات پائی اور 1833ء میں میر مراد تالپور نے یہ جہان چھوڑا۔ ایسے میں شاہ شجاع پھر آ دھمکا کہ پیسے چاہئیں۔ حالات تیزی سے بدل رہے تھے اور میر صاحبان کے ہاتھوں سے پھسلتے جاتے تھے۔ گوری سرکار نے رنجیت سنگھ کو سندھ کے حاکموں کے لیے ایک پریشر کے طور پر استعمال کیا۔ انگریزوں کی یہ منصوبہ بندی تھی کہ رنجیت سنگھ کے حملے کے ڈر سے تالپور مدد کے لیے ان کے پاس آئیں گے جس کے بعد وہ دریائے سندھ کے راستے افغانستان پہنچ کر وہاں حملہ آور ہوں گے اور افغانستان کو ایک بفرزون بنانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

انگریزوں نے رنجیت سنگھ کے ڈر کا خوب استعمال کیا۔ وہ تالپوروں سے اپنی مرضی کی شرائط کے ساتھ معاہدے کرتے اور جب چاہتے اُن سے مُکر جاتے اور نیا معاہدہ کرتے۔ شاہ شجاع شکارپور میں سیاہ و سفید کے مالک بن کر بیٹھ گئے۔ حالات ایسے تھے کہ سب غُبار میں لپٹا نظر آتا تھا۔

رنجیت سنگھ
رنجیت سنگھ

انسانی ساختہ دفاعی نظام کچھ مخصوص حالات میں زیادہ دیر تک دباؤ برداشت نہیں کرسکتا کیونکہ جہاں ہر مسئلے کا حل، تازے سُرخ خون کی دھار ہو، اُس معاشرے میں بارود اور تلواروں کو کوکھ کی اولاد سے بھی زیادہ اہمیت دی جاتی ہے اور جنگ کے میدان اَنا کے کھیت کے سوا کُچھ نہیں جنہیں سینچنے کے لیے سر قلم کیے جاتے ہیں اور پھر بہتا خُون اِن اناؤں کی جڑوں کو تقویت پہنچاتا ہے۔ یہ کیسی زمین ہوئی جہاں فقط نفرت ہی اُگتی ہے کہ جنگ کے میدانوں میں وجود مٹ جاتے ہیں اور فقط نام رہ جاتے ہیں۔ یہاں بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ میں اس دردناک جنگ کا مختصر احوال رحیمداد مولائی شیدائی کے لفظوں میں آپ کو سُناتا ہوں۔ وہ لکھتے ہیں، ’کھرڑی والی جنگ، شکارپور سے 24 میل کے فاصلے پر سکھر میں لڑی گئی۔ تالپوروں کے ہزارہا سپاہیوں پر مشتمل لشکر کو شاہ شجاع کی 3 ہزار فوجیوں نے شکست دی۔‘ یہ سندھ کے لیے بڑاالمیہ تھا۔ اس جنگ پر ہم پھر کبھی تفصیلی بات کریں گے۔

آخرکار پیر میاں نظام الدین اور پیر میاں غلام محی الدین سرہندی نے بطور ثالث اپنا کردار ادا کرتے ہوئے اس تنازع کا فیصلہ کیا۔ بات وہیں پر ختم ہوئی جہاں سے شروع ہوئی یعنی ’زر‘۔ فیصلہ ہوا کہ میروں کو 5 لاکھ روپے اور 500 اُونٹ دینے پڑیں گے اور میروں کا خاص آدمی (بہادر خان کھوکھر) شاہ شجاع کے ساتھ خراسان تک چلے گا اور بہادر خان کے ساتھ میروں کے 100 لوگ بھی ساتھ ہوں گے۔‘

شاہ شجاع جب خراسان پہنچے تو امیر دوست محمد خان نے اُنہیں کہیں ٹکنے نہیں دیا۔ شجاع ’سالور‘ کے قلعے پہنچے تو وہاں شہزادے کامران کے ڈر سے وہ ’قلات‘ کی طرف بھاگے مگر وہاں بھی قدم نہ جما سکے۔ پھر گنجابہ (بھاگناڑہ) سے گزرتے ہوئے سندھ آئے اور گھومتے گھامتے 29 رمضان 1250ھ (بمطابق 29 جنوری 1835ء بروز جمعرات) حیدرآباد پہنچے۔ حیدرآباد میں میروں نے ان کی مہمان نوازی میں تو کوئی کمی نہیں چھوڑی لیکن انہوں نے پیسے نہیں دیے اور جان چھڑانے کے لیے صلاح دی کہ ’فی الوقت آپ اپنے لشکر سمیت لدھیانہ چلے جائیں کچھ وقت کے بعد آپ جو کہیں گے وہی کیا جائے گا۔‘ اس بارے میں شاہ شجاع لکھتے ہیں کہ، ’میں جیسلمیر اور بیکانیر سے سفر کرتا ہوا، 17 ذوالقعد 1250ھ (بمطابق 17 مارچ 1835ء بروز منگل) لدھیانہ پہنچا۔‘

حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے تھے۔ ہم اگر صحیح اور غلط کے بحث میں نہ پڑیں تو یہ ایک حقیقت ہے کہ گوری سرکار اپنا ہر کام ایک منظم منصوبہ بندی اور حالات کو مد نظر رکھ کر کرتی تھی۔ وہاں جذبات نہیں ہوتے تھے۔ بس ایک ٹارگیٹ ہوتا تھا اور اُس پر عمل کرنے کے لیے روڈ میپ تشکیل دے کر ہدف پانے کی جدوجہد شروع ہوجاتی۔ گوری سرکار اپنے پلان کے مطابق حالات کو اپنے لیے موافق بنانے میں کامیاب رہی۔

گوری سرکار کی فوج نے سکھر کو مرکزی مقام کے طور پر منتخب کیا۔ یہاں دونوں راستوں سے آنے والی فوج کو جمع ہونا تھا اور پھر یہیں سے خراسان کی طرف سفر شروع ہوتا۔ 3 نومبر 1839ء اتوار کے دن گوری سرکار کے سپاہیوں کا ایک جتھا دہلی سے افغانستان کے لیے روانہ ہوا جس میں شامل ترک گھڑ سواروں میں سے ایک سید فدا حسین بھی تھے۔ اُن صاحب قلم نے اپنی اس جنگی مہم پر ایک شاندار کتاب بھی لکھی۔ ہم ’شاہ شجاع‘ کے آخری دنوں کے لیے کچھ دن ان کے ساتھ ہی چلتے ہیں کہ اُنہوں نے یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ شاہ شجاع بھی اپنی فوجوں کے ساتھ اس لشکر کے ساتھ روانہ ہوا تھا۔

سید فدا حسین تحریر کرتے ہیں، ’ہم جب قندھار پہنچے تو حالات کٹھن تھے۔ 10ویں دن اعلیٰ افسران نے پتھروں اور مٹی سے تخت جیسا ایک چبوترہ تیار کروایا اور اُس پر بادشاہی رسومات کے ساتھ شاہ شجاع کو ایک بادشاہ کی حیثیت سے بٹھایا گیا۔ پوری فوج کی طرف سے توپوں اور بندوقوں کی سلامی دی گئی اور حکومت قائم کرنے کا اعلان کیا گیا۔ یہ 7 اگست 1840ء بروز جمعہ کا واقعہ تھا۔ شاہ شجاع کے بارے میں سید فدا حسین تحریر کرتے ہیں کہ وہ ’امیر دوست محمد خان‘ کا نام سُن کر سہم جاتا اور خوف اُس کی آنکھوں میں اُتر آتا۔‘ کُچھ بھی تھا مگر تخت و تاج تو تھا اُن کے پاس۔ یہ ایک الگ بات ہے کہ اس بار تخت و تاج میں ان کی موت گھات لگائے بیٹھی تھی۔

1842ء میں جب، گوری سرکار کو کابل چھوڑنے کے لیے مجبور کیا گیا اس وقت شاہ شجاع اپنے مختصر لشکر کے ساتھ ’بالاحصار‘ کے قلعے میں موجود تھے۔ کابل میں نواب محمد زمان خان ولد نواب اسد خان امیری، حکومت کے دعویدار ہوئے اور انہوں نے اپنے بیٹے ’شجاع‘ اور دیگر برکزئیوں کے ساتھ مل کر ’شاہ شجاع الملک‘ کے قتل کا منصوبہ تیار کیا۔

شاہ شجاع الملک
شاہ شجاع الملک

5 اپریل 1842ء بروز منگل شاہ شجاع ’سنگ سیاہ‘ کے مقام پر لشکر کو دیکھنے کے لیے پالکی میں جا رہے تھے، اُن کے ساتھ قیمتی جواہروں کی وہ چھوٹی سی تھیلی بھی تھی جس کی مالیت 50 لاکھ روپے تھی۔ ’شجاع ‘، شاہ شجاع کو قتل کرنے کے لیے گھات لگائے بیٹھا تھا، جیسے ہی شجاع کی شاہ شجاع کی شاہی پالکی پر نظر پڑی، اسی وقت اُس نے شاہ شجاع پر فائرنگ کردی۔ یہ دیکھ کر پالکی اٹھانے والے بھاگ کھڑے ہوئے۔ شاہ شجاع زخمی ہوکر ڈولی سے باہر گرے، شجاع اور ان کے ساتھی ’جعفر قزلباش‘ نے اُنہیں اُسی جگہ پر قتل کردیا، اور اُسی دن جب سورج یہ سب کچھ دیکھ کر غروب ہوا تو 57 برس کے شاہ شجاع کو کابل میں اُن کے والد تیمور شاہ کی قبر کے نزدیک دفن کردیا گیا کہ جنگوں میں انسان نہیں بلکہ صرف نام ہی باقی رہ جاتے ہیں۔

کبھی کبھی قسمت آپ کو ایسا دھوکہ دے جاتی ہے کہ اس سے شکوے کا بھی موقع نہیں ملتا۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ جیسے کوئی شدید پیاسا میٹھے پانی کی تلاش میں ریگزاروں کو پار کرنے کے بعد کسی نخلستان کے قریب پہنچنے اور مرجائے۔

شاہ شجاع کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ وہ اگر تخت و تاج کے سحر میں غلطان نہ ہوتا اور ہوش سے کام لیتا تو لدھیانہ رہنے کے لیے کوئی بُری جگہ نہیں تھی وہ بھی خاص کر ایسے حالات میں جب گوری سرکار کی شفقت کا ہاتھ بھی اُن پر تھا۔ مگر اُن پوشیدہ حقائق کا کیا جن کو دیکھنے کی قدرت ابھی انسان کو حاصل نہیں۔ 2 برس کی شدید ذہنی دباؤ والی حاکمیت کے بدلے اپنی جان کی بازی لگا کر شاہ شجاع نے غلط چال چل گئے۔

حوالہ جات:

۔ ’پشتونوں کی تاریخ‘۔ جیمس ڈبلیو اسپن۔ مترجم۔پروفیسر انور رومان۔ گوشہ ادب۔ کوئٹہ

۔ ’تازہ نواء معارک‘ ۔ منشی عطا محمد شکارپوری۔ مترجم: نیاز ہمایونی۔ سندھی ادبی بورڈ۔ حیدآباد

۔ ’تاریخ سندھ و افغانستان‘۔ مرتب:میر اشرف علی گلشن آبادی۔ 184۔ بمبئی

۔ ’جنت السندھ‘ ۔ رحیمداد مولائی شیدائی ۔ سندھیکا اکیڈمی۔ کراچی

۔ ’تاریخ شکارپور‘ ۔ ڈاکٹر عبدالخالق راز سومرو۔ پیکاک پبلشر۔ کراچی

۔ ’تاریخ سندھ ٹالپور دور (جلد اول) میرزا عباس علی بیگ ۔ میر مراد علی پبلیکیشن۔ حیدرآباد

*. ‘’An account of the kingdom of Caubul’’- Mountstuart Elphinstone . London 1815. *. ‘’James Atkinsin’s Sketches in Afghanistan’’. Landon 1842.


ابوبکر شیخ آرکیولاجی اور ماحولیات پر لکھتے ہیں۔ انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر کے لیے فوٹوگرافی اور ریسرچ اسٹڈیز بھی کر چکے ہیں۔ ان کا ای میل ایڈریس [email protected] ہے۔