نواز شریف سے انویسٹی گیشن، شہباز شریف کے خلاف نیب انکوائری کی منظوری

اپ ڈیٹ 14 جولائ 2020

ای میل

جسٹس (ر) جاوید اقبال کی صدارت میں نیب ایگزیکٹیو بورڈ کااجلاس ہوا — فائل/فوٹو:رائٹرز
جسٹس (ر) جاوید اقبال کی صدارت میں نیب ایگزیکٹیو بورڈ کااجلاس ہوا — فائل/فوٹو:رائٹرز

قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف ایک اور انویسٹی گیشن جبکہ مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور دیگر کے خلاف انکوائری کی منظوری دے دی۔

نیب سےجاری بیان کے مطابق اسلام آباد میں نیب کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس چئیرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال کی زیرصدارت ہوا۔

ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے کے الزام پر سی ای او میسرز ای آر پی ایل ارشد وحید، اور دیگر کے خلاف بدعنوانی کا ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دے دی گئی۔

مزید پڑھیں:توشہ خانہ ریفرنس: لندن میں بھی نواز شریف کی طلبی کا اشتہار چسپاں کیے جانے کا امکان

نیب کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں سابق وزیراعظم نواز شریف دیگر کے خلاف انویسٹی گیشن کی منظوری دے دی گئی۔

اعلامیے کے مطابق اجلاس میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، سابق سینیٹرسرتاج عزیز اور سابق ڈی آئی جی ٹریفک پولیس پنجاب رانا محمد اقبال خان کے خلاف انکوائری کی منظوری دی گئی ہے۔

چیئرمین نیبب کی جانب سے دیگرجن افراد کے خلاف انکوائری کی منظوری دی گئی ان میں رکن صوبائی اسمبلی پنجاب مہرحامد رشید، مہرعبد الرؤف، ہیون ولاز فیصل آباد کے مالکان، ڈویلپرانتظامیہ اور دیگر، عتیق الرحمٰن، سابق رکن صوبائی اسمبلی شیخ اعجاز احمد اور دیگراور یونیورسٹی آف پنجاب کے پی ایچ ڈی ڈیفالٹنگ اسکالرزشامل ہیں۔

نیب نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب کے خلاف انوسٹی گیشن کی بھی منظوری دی، جس میں ان کے ساتھ سابق سیکریٹری وزیر اعلیٰ پنجاب جاوید، سابق ڈی جی ایل ڈی اے احد خان چیمہ اور دیگرشامل ہیں۔

نیب کے ایگزیکٹو بورڈ میں ایف آئی ای ڈی ایم سی انوائرنمنٹ منیجمنٹ کمپنی فیصل آباد کی انتظامیہ، افسران، اہلکاروں، پنجاب انڈسٹریل اسٹیٹ ڈیولپمنٹ اور منیجمنٹ کمپنی، لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی، پنجاب میونسپل ڈیولپمنٹ فنڈ کمپنی، گجرانوالا ویسٹ منیجمنٹ کمپنی کی انتظامیہ، افسران، اہلکاروں اور دیگرکے خلاف انکوائریز اب تک عدم شواہد کی بنیاد پرقانون کے مطابق بند کرنے کی منظوری دے دی گئی۔

قومی احتساب بیورو کے چئیرمین جنا ب جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ اور کرپشن فری پاکستان کے لیے نیب سنجیدہ کوششیں کر رہا ہے اور نیب کی اولین ترجیح ہے کہ میگا کرپشن کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیب نے احتساب سب کےلیے کی پالیسی کے تحت 466 ارب روپے بالواسطہ اور بلا واسطہ طور پر بدعنوان عناصر سے برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کروائے جو ایک ریکارڈ کامیابی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:احسن اقبال نے وزیر اعظم کے خلاف ریفرنس کے لیے نیب میں درخواست دائر کردی

چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ ادارے کی کارکردگی کو معتبر قومی اور بین الا قوامی اداروں نے سراہا ہے جو نیب کےلیے اعزاز کی بات ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نیب کا تعلق کسی سیاسی جماعت، گروہ اور فرد سے نہیں بلکہ صرف اور صرف ریاست پاکستان سے ہے اور قانون کے مطابق بدعنوان عناصر سے قوم کی لوٹی گئی دولت برآمد کرنے کے لیے ہر ممکن وسائل بروئے کار لارہا ہے۔

جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ مفرور اور اشتہاری ملزمان کی گرفتاری کے لیے قانو ن کے مطابق اقدامات کیے جائیں گے تاکہ بدعنوان عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جاسکے جہاں قانون اپنا راستہ خودبنائے گا۔

انہوں نے نیب کے تمام ڈائریکٹرجنرل کو ہدایت کی کہ شکایات کی جانچ پڑتال، انکوائریاں اور انویسٹی گیشنز مقررہ وقت کے اندر قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچائی جائیں اور تمام انویسٹی گیشن آفیسرز اور پراسیکیوٹرز پوری تیاری، ٹھوس شواہد اور قانون کے مطابق معزز عدالتوں میں نیب کے مقدمات کی پیروی کریں تاکہ بدعنوان عناصر کو قانون کے مطابق سزا دلوائی جاسکے۔