ای میل

پاکستان میں کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے ویکسین مہم کا ملک گیر آغاز

پاکستان میں کورونا وائرس کی ویکسین مہم کا ملک گیر آغاز



پاکستان میں کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے ویکسین لگانے کا عمل 2 فروری کو وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں شروع کیا اور 3 فروری کو ملک بھر میں اس کا آغاز ہوگیا۔

ویکسینیشن کے پہلے مرحلے کے دوران طبی عملے کو چین کی کمپنی سائنو فارم کی تیار کردہ کووڈ 19 ویکسین لگائی جارہی ہے۔

پشاور میں ایک فرد کو ویکسین لگائی جارہی ہے — رائٹرز فوٹو
پشاور میں ایک فرد کو ویکسین لگائی جارہی ہے — رائٹرز فوٹو

چین کی جانب سے اس ویکسین کی 5 لاکھ خوراکیں تحفے کے طور پر پاکستان کو دی گئی تھیں۔

یہ ویکسین ایک فرد کو 2 خوراکوں میں استعمال کرائی جائیں گی۔

اسلام آباد میں 2 فروری کو ویکسینیشن کا آغاز ہوا — اے ایف پی فوٹو
اسلام آباد میں 2 فروری کو ویکسینیشن کا آغاز ہوا — اے ایف پی فوٹو

جنوری کے دوسرے عشرے کے دوران پاکستان نے چین کی اس ویکسین کو ہنگامی استعمال کے لیے منظوری دی تھی۔

پاکستان کی جانب سے اس ویکسین کی 11 لاکھ خوراکوں کی بکنگ کرائی جاچکی ہے۔

اے پی فوٹو
اے پی فوٹو

اس سے قبل 16 جنوری کو ڈریپ نے برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی اور دوا ساز کمپنی ایسٹرا زینیکا کی کووڈ 19 ویکسین کی پاکستان میں استعمال کی منظوری دی تھی، تاہم اس کی آمد مارچ تک متوقع ہے۔

2020 کے آغاز میں چین میں کورونا وائرس کی وبا کے ساتھ اس ویکسین کے ٹرائلز کا آغاز ہوا تھا اور جنوری کے شروع میں چین میں اس کے استعمال کی منظوری دی گئی۔

بحرین، مصر اور متحدہ عرب امارات میں بھی اس کے استعمال کی منظوری دی جاچکی ہے اور استعمال بھی کیا جارہا ہے۔

کراچی میں ویکسین لگانے کے عمل سے قبل تیاری کی جارہی ہے — اے ایف پی فوٹو
کراچی میں ویکسین لگانے کے عمل سے قبل تیاری کی جارہی ہے — اے ایف پی فوٹو

یہ ویکسین مدافعتی نظام کو نئے کورونا وائرس کے خلاف اینٹی باڈیز تیار کرنے کی تربیت دیتی ہے، یہ اینٹی باڈیز وائرل پروٹینز یعنی اسپائیک پروٹینز سے منسلک ہوتی ہیں۔

اسپائیک پروٹینز ہی کورونا وائرس کو انسانی خلیات میں داخلے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

ویکسین کو تیار کرنے کے لیے بیجنگ انسٹیٹوٹ کے محققین نے چین کے ہسپتالوں میں زیرعلاج مریضوں سے کورونا وائرس کی 3 اقسام کو حاصل کیا تھا اور اس میں سے اس قسم کا انتخاب کیا جو بندر کے گردوں کے خلیات میں بہت تیزی سے اپنی تعداد بڑھانے میں کامیاب ہوئی۔

اے ایف پی فوٹو
اے ایف پی فوٹو

ویکسین کے لیے اس وائرس کی ناکارہ قسم کا استعمال کیا گیا ہے جو بیمار نہیں کرتی بلکہ مدافعتی نظام کی تربیت میں مدد فراہم کرتی ہے۔

ایک بار جب محققین نے کورونا وائرسز کے ذخائر بڑھانے میں کامیاب ہوگئے، تو اس کے بعد انہوں نے اس کو ایک کیمیکل بیٹا پرو پائیولیکٹون میں ڈبو دیا۔

یہ مرکب کورونا وائرسز کے جینز کو آپس میں جوڑ کر غیرفعال کردیتا ہے، جس کے بعد وہ اپنی نقول نہیں بناپاتے، مگر ان کے پروٹینز بشمول اسپائیک پروٹینز موجود رہتے ہیں۔

اے ایف پی فوٹو
اے ایف پی فوٹو

اس کے بعد محققین نے ان غیرفعال وائرسز کو اکٹھا کیا اور انہیں المونیم پر مبنی ایک مرکب ایڈجونٹ میں مکس کردیا۔

یہ مرکب مدافعتی نظام کو متحرک کرکے ایک ویکسین کے لیے اس کے ردعمل کو مضبوط بناتا ہے۔

ویکسینز کی تیاری کے لیے غیرفعال وائرسز کا استعمال عرصے سے کیا جارہا ہے، 1950 کی دہائی میں اسی طریقے سے پولیو ویکسین تیار ہوئی تھی اور ہیپاٹائٹس اے اور دیگر ویکسینز بھی اس طریقہ کار کے تحت تیار کی گئیں۔

اے پی فوٹو
اے پی فوٹو

چونکہ اس ویکسین میں موجود کورونا وائرسز ناکارہ ہوتے ہیں، تو ان کو جسم میں داخل کرنے سے کووڈ 19 کا سامنا نہیں ہوتا۔

مگر جسم کے اندر جانے کے بعد ان میں سے کچھ غیرفعال وائرسز کو ایک قسم کے مدافعتی خلیات نگل لیتے ہیں جن کو اینٹی جن سیل بھی کہا جاتا ہے۔

یہ خلیات کورونا وائرس کے ٹکڑے کردیتے ہیں اور اس کے کچھ ذرات اپنی سطح پر چھوڑ دیتے ہیں، جس کے بعد مددگار ٹی سیل ان ذرات کو شناخت کرتا ہے۔

اگر یہ ذرات اس کی سطح کے پروٹینز میں کسی ایک سے مطابقت رکھتا ہو تو وہ متحرک ہوتا ہے اور دیگر مدافعتی خلیات کو اکٹھا کرکے ویکسین کے لیے ردعمل کو بناتا ہے۔

اے ایف پی فوٹو
اے ایف پی فوٹو

ایک اور قسم کے مدافعتی خلیات بی سیل کا بھی سامنا اس غیرفعال کورونا وائرس سے ہوسکتا ہے۔

بی سیلز کی سطح میں مختلف ساخت کے پروٹینز ہوتے ہیں اور ان میں سے کچھ کورونا وائرس کو اپنی جانب للچا سکتے ہیں۔

جب بی سیل کورونا وائرس کو جکڑ لیتا ہے تو وہ وائرس کو اپنے اندر کھینچ کر کورونا وائرس کے ذرات کو اپنی سطح پر پھیلا دیتا ہے۔

رائٹرز فوٹو
رائٹرز فوٹو

مددگار ٹی سیل کورونا وائرس کے خلاف متحرک ہوکر انہیں ان ذرات کی جانب کھینچتا ہے، جب ایسا ہوتا ہے تو بی سیلز بھی متحرک ہوجاتے ہیں۔

اس کے نتیجے میں اینٹی باڈیز کا جسم میں اخراج ہوتا ہے جو وائرس کے خلاف لڑتی ہیں۔

اے ایف پی فوٹو
اے ایف پی فوٹو

اس ویکسین کے استعمال کے بعد مدافعتی نظام زندہ کورونا وائرسز سے ہونے والی بیماری کے خلاف ردعمل ظاہر کرتا ہے، بی سیلز اینٹی باڈیز بناتے ہیں جو حملہ آور وائرس سے چپک جاتی ہیں۔

اینٹی باڈیز اسپائیک پروٹین کو ہدف بناکر وائرس کو خلیات میں داخلے سے روکتی ہیں، دیگر اقسام کی اینٹی باڈیز ممکنہ طور پر وائرس کو دیگر طریقوں سے بلاک کرسکتی ہیں۔

اے پی فوٹو
اے پی فوٹو

اس ویکسین کے کلینیکل ٹرائلز میں دریافت کیا گیا کہ اس کے استعمال سے لوگوں کو کووڈ 19 کے خلاف تحفظ ملتا ہے، تاہم یہ ابھی کہنا ممکن نہیں کہ یہ تحفظ کتنے عرصے تک برقرار رہ سکتا ہے۔

ایسا ممکن ہے کہ چند ماہ بعد اینٹی باڈیز کی سطح میں کمی آجائے، مگر مدافعتی نظام میں ایسسے خصوصی خلیات بھی ہوتے ہیں جن کو میموری بی سیلز کہا جاتا ہے، جو ممکنہ طور پر برسوں یا دہائیوں تک کورونا وائرس سے متعلق معلومات کو اپنے اندر محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

اے ایف پی فوٹو
اے ایف پی فوٹو

چین میں اس ویکسین کے ٹرائل کے نتائج میں بتایا گیا تھا کہ یہ کووڈ 19 سے تحفظ فراہم کرنے میں 79.34 فیصد مؤثر ہے۔

تجزیے میں بتایا گیا کہ یہ ویکسین محفوظ ہے اور جن افراد کو اس کے 2 ڈوز استعمال کرائے گئے، ان میں وائرس کے خلاف 99.52 فیصد اینٹی باڈیز کی سطح پیدا ہوئی۔

9 دسمبر کو متحدہ عرب امارات کے حکام نے بتایا تھا کہ یہ ویکسین آخری مرحلے کے ابتدائی تجزیے میں بیماری کو روکنے میں 86 فیصد تک مؤثر ہے۔

چین میں اس ویکسین کا استعمال جولائی 2020 سے ہنگامی استعمال کے پروگرام کے تحت ہورہا ہے۔